نوال السعدوی جن سے جیلر نے کہا تھا-آپ کی سیل میں بندوق کا ملنا کاغذ قلم کے ملنے سے کم خطرناک ہے…

نوال السعدوی جدوجہد کے لیے لکھائی کو سب سے بڑا ہتھیار تصور کرتی تھیں۔شاید اسی لیے اُنھوں نے کہا تھا کہ،موت کی طرح لکھائی کو بھی کوئی ہرا نہیں سکتا۔انہوں نے پوری زندگی موت کی دھمکیوں کا سامنا کیا۔

نوال السعدوی جدوجہد کے لیے لکھائی کو سب سے بڑا ہتھیار تصور کرتی تھیں۔شاید اسی لیے اُنھوں نے کہا تھا کہ،موت کی طرح لکھائی کو بھی کوئی ہرا نہیں سکتا۔انہوں نے پوری زندگی موت کی دھمکیوں کا سامنا کیا۔

نوال السعدوی، فائل فوٹو: رائٹرس

نوال السعدوی، فائل فوٹو: رائٹرس

نوال السعدوی(1931-2021) مصر سے تعلق رکھنے والی حقوق نسواں کی علم بردار،سماجی کارکن،ڈاکٹر، ماہر نفسیات اورکامیاب ادیبہ ہیں جنھوں نے جرأت مندی کے ساتھ عرب خواتین پر ہورہے جنسی تشدداور اُن کے سماجی اور سیاسی استحصال کے خلاف قلم اُٹھایا۔

اُنھوں نے دیہی عورتوں کے ساتھ رسم و رواج یا مذہب کی آڑ میں ہونے والے استحصال کے خلاف بھی بے باکی سے لکھا۔اُنھیں عورتوں کے مساوی حقوق کی جدوجہد میں جو مصیبتیں اُٹھانا پڑیں،اُن سے نہ صرف اُن کی ذاتی زندگی متاثر ہوئی بلکہ پیشہ ورانہ زندگی میں ان کو کافی دُشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اُنھیں دُنیائے عرب کی سمن دی بوائرکے نام سے بھی جانا اور پہچانا گیا۔

نوال سعدوی مصر کے ایک صوبے قلیوبہ کے ایک گاؤں کفر طحلہ میں 27اکتوبر 1931 کو پیدا ہو ئیں۔ اُن کے والدین نے اُس دور کے ایک عام چلن سے بغاوت کرکے اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیج دیا تھا۔کیوں کہ اُس دور میں صرف لڑکوں کی تعلیم کو اہمیت حاصل تھی جب کہ لڑکیوں کو اسکول بھیجنے پر ممانعت تھی یا یوں کہیے کہ معیوب سمجھا جاتا تھا۔اتنا ہی نہیں بلکہ لڑکیوں کو لڑکوں سے کم تر تصور کیا جاتا تھا جیسا کہ اُنھوں نے اپنی خود نوشت کے پہلے حصے”اے ڈاؤٹر آف آئی ایس آئی ایس“میں بھی لکھا ہے کہ اُن کی دادی اکثر کہا کرتی تھیں کہ؛

ایک بیٹا پندرہ بیٹیوں کے برابر ہے یعنی بیٹی ایک طرح کی بیماری ہوتی ہے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب عرب اور مصر کی کم سن بچیوں کا بھی ختنہ کیا جاتا تھا۔ اگر چہ نوال کے والدین نے ایک طرف عام رسم ورواج کے خلاف اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیج دیا تھا وہیں دوسری طرف اُن سے قدامت پسندی کا دامن پوری طرح چھوٹ نہیں پایا اور 6 سال کی عمر میں نوال کا ختنہ کرا دیا، جس کا ذکر اُنھوں نے اپنے ناول ”دی فیس آف ایو“ میں درد کے پُر اثر بیانیہ کے ساتھ کیا۔مثال کے طور پر اُنھوں نے لکھا ہے کہ؛

جب تیز دھار بلیڈ میرے عضو پر چلائی گئی تو خون کی ندی  بہنے لگی اور درد کی انتہا یہ تھی کہ اگر دیگر اعضاء بھی کاٹ دیے جاتے تو مجھے محسوس ہی نہیں ہوتا۔

چوں کہ نوال خود ایک ڈاکٹر تھی لہذا اُنھوں نے نسوانی ختنے اور اُس سے پیدا شدہ خرابیوں کے حوالے سے نڈر ہوکر لکھا۔نوال نے1955 میں یونی ورسٹی آف قاہرہ سے ڈاکٹر آف میڈیسن مکمل کیا جب کہ یونی ورسٹی آف کولمبیا، نیو یارک سے 1966 میں ماسٹر آف پبلک ہیلتھ میں کامیابی حاصل کی۔ نوال نے1955سے 1965 تک یونی ورسٹی آف قاہرہ اسپتال،دیہاتی طبی مرکز،طحلہ اور طبی وزارت میں بہ حیثیت ڈاکٹر کام کیا۔

اس دوران اُنھوں نے اپنا ایک رسالہ”ہیلتھ“ بھی جاری کیا۔ وہ 1966سے1972 تک وزارت صحت میں پبلک ہیلتھ ایجوکیشن کی ڈائریکٹر جنرل بھی رہی ہیں اور مصری میڈیکل ایسوسی ایشن کی اسسٹنٹ جنرل بھی رہ چکی ہیں۔1973 سے1976 تک اُنھوں نے عین شمس یونی ورسٹی کے فیکلٹی آف میڈیسن میں کام کیا اور اس دوران”عورت اور عصبانیت“ پر تحقیق کرکے قاہرہ کے آرٹس اور سوشل سائنس میں 1974سے1978 تک ایک مصنفہ کے عہدے پر فائز رہیں۔وہ 1978 سے1979 تک اقوام متحدہ میں افریقہ اور مشرق وسطی کی مشیر بھی رہی ہیں۔

نوال کی ادبی، سائنسی اور سماجی خدمات سے اس بات کابہ خوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ اُنھوں نے کس طرح قلیل عرصے میں ادب اور سائنس میں شہرت حاصل کر لی لیکن جس رفتار سے اُنھوں نے ترقی کے زینے طے کیے؛اُتنی ہی جلدی  وہ مصر اور عرب کی ایک متنازعہ شخصیت بھی بن گئیں۔ وزارت صحت سے اُن کی کتاب”وومن اینڈ سیکس“ کی اشاعت کے فوراً بعد نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔

کیوں کہ مذکورہ کتاب ممنوعہ موضوعات جیسے لڑکیوں کا ختنہ، سیکس اور مذہب وغیرہ کا احاطہ کرتی تھی۔ الازہر، قاہرہ نے اُن کے ناول”دی فال آف امام“پر پابندی بھی عائد کر دی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اُن کے رسالے ”ہیلتھ“ کے ساتھ ساتھ اُن کی طبی خدمات پر بھی روک لگا دی گئی۔ اس کے باوجود اُنھوں نے جنسیت، تزویج محرم،طوائفیت،کنواریت کی رسم اور دیگر سماجی مسائل یعنی پدر شاہی، رشوت، طبقاتی جبراور بنیاد پرستی وغیرہ جیسے موضوعات پر لکھنے کا عمل جاری رکھا۔

واضح رہے نوال مصر کی پہلی خاتون ہے جسے ارتداد کے لیے مورد الزام ٹھہرایا گیااورمذاہب کا احترام نہ کرنے کی صورت میں زندقہ(ملحد)قرار دے دیا گیا۔ مزید بر آں اُنھیں اسلام کی توہین کے لیے جبری طلاق کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔جب 1981ء میں نوال نے صدر انور سادات کی یک جماعتی حکومت پر تنقید کی تو اُنھیں دو ماہ قید کی سزا دی گئی۔اُن کا ماننا تھا کہ اُنھیں حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔

نوال نے 1982میں ”ایسوسی ایشن برائے یک جہتی عرب خواتین“کی بنیاد ڈالی لیکن 1991میں سرکاری حکم نامے کے مطابق اُس پر بھی روک لگا دی گئی۔ 1992میں نوال کا نام سزائے موت کی فہرست میں بھی شامل کر لیا گیا تھا جو ایک سعودی اخبار میں شائع بھی ہوئی تھی۔

اُنھوں نے ریکھل کوک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جو ”دی گارڈین“ میں 11اکتوبر2015کو شائع ہوا تھا؛ کہا ہے کہ”ایک دفعہ میں نے مؤذن سے اذان دیتے وقت یہ اعلان سنا کہ نوال سعدوی کو قتل کیا جانا چاہیے۔“ جس کے بہ موجب اُنھیں ملک بدر ہونا پڑا تھا۔ملک بدر ہوجانے کے باوجود بھی اُن کا ماننا تھا کہ ”موت کی دھمکی نے اُن کی زندگی کو ایک نئی اہمیت سے روشناس کرایا ہے۔“

جس عرصے کے لیے وہ مصر سے باہر رہیں اُس دوران وہ کئی یونی ورسٹیوں اور کالجوں جیسے ڈیوک یونی ورسٹی،واشنگٹن یونی ورسٹی، شکاگو یونی ورسٹی وغیرہ میں بہ حیثیت وزیٹنگ پروفیسر کام کرتی رہیں۔ مصر میں کئی دشواریوں کا سامنا کرنے کے باوجود  وہ ہمیشہ کے لیے بیرون مصر رہنا پسند نہیں کرتی تھیں بلکہ وہ مصر میں ہی رہنا چاہتی تھیں۔

نوال نے جو کام کیا ہے اُس کا اعتراف نہ صرف مصر اور عرب میں کیا گیا ہے بلکہ بیرونی ممالک میں بھی اُسے لائق ستائش تصور کیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود  اُنھیں  وہ مقام اور رتبہ نہیں ملا جس کی وہ حق دار تھیں۔جس کی شکایت اُنھیں خود بھی رہی ہے کہ ؛

مجھے اپنے ہی ملک نے دھوکہ دے دیا۔ مجھے مصر کا سب سے بڑا عزاز ملنا چاہیے کیوں کہ میں نے عورتوں اور بچوں کے ساتھ ہورہی ناانصافی کے خلاف کافی جدوجہد کی تھی۔

حالاں کہ اُنھوں نے اس کی وجہ نہیں بتائی لیکن کشور ناہید نے نوال کو اُن کا جائز مقام نہ ملنے کی وجہ ضرور بتائی ہےکہ؛عرب عورتوں میں نوا ل سعدوی نے کس قدر کام کیا، جیل کاٹی، کتابیں لکھیں، عورتوں کی مساوات کی جدوجہد کی؛چوں کہ کبھی امریکہ کی حمایت نہیں کی، اس لیے قابل توجہ نہیں مانی گئیں۔“

نوال السعدوی اپنے شوہر شریف ہتاتا کے ہمراہ ،فائل فوٹو: رائٹرس

نوال السعدوی اپنے شوہر شریف ہتاتا کے ہمراہ ،فائل فوٹو: رائٹرس

نوال کی تین شادیاں ہوئیں۔ پہلی شادی احمد حلمی سے ہوئی لیکن بعد میں جب وہ منشیات کے عادی ہوگئے اور ایک دفعہ نوال کو مارڈالنے کی کوشش کی تو  اُن کی طلاق ہوگئی۔ دوسری شادی ایک وکیل سے ہوئی لیکن اُنھیں نوال کے لکھنے سے کافی چڑ تھی اور ایک دفعہ جب نوال کو اپنے شوہر اور لکھائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے لیے کہا گیا تو اُنھوں نے اپنی لکھائی کا انتخاب کیا اور اس طرح دوسرے شوہر نے بھی طلاق دے دی۔

تیسری شادی شیرف ہتاتا سے ہوئی جو ایک ڈاکٹر اور ناول نگار کے ساتھ ساتھ نوال کی کئی کتابوں کے انگریزی مترجم بھی تھے۔ بہ قول نوال ”ہتاتا دنیا کا واحد فیمنسٹ مرد ہے۔“لیکن نوال نے اُنھیں بھی طلاق دے دی کیوں کہ اُنھوں نے کئی عورتوں سے تعلقات بنائے ہوئے تھے۔جس پر نوال نے ایک جگہ لکھا ہے کہ”اُس نے صنفی مساوات پر کئی کتابیں تو لکھ ڈالیں لیکن اپنی ہی بیوی کے ساتھ دھوکہ کیا۔“

نوال جب جیل میں تھیں تو لکھنے کا جنوں اس حد تک تھا کہ ایک خاتون قیدی سے کہیں سے”آئی پنسل“چوری کروا لی تھی اور”ٹوائلٹ پیپر“پر لکھنا شروع کیا تھا۔کیوں کہ وہ جدوجہد کے لیے لکھائی کو سب سے بڑا ہتھیار تصور کرتی تھیں۔شاید اسی لیے اُنھوں نے کہا تھا کہ”موت کی طرح لکھائی کو بھی کوئی ہرا نہیں سکتا“۔وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ”دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے میری لکھائی چھین نہیں سکتی ہے۔“ جب وہ جیل میں تھی تو جیلر نے اُن سے کہا تھا کہ”اگر مجھے آپ کی سیل میں کاغذ اور قلم مل جائے تو اُس سے کم خطرنک یہ ہے کہ مجھے آپ کی سیل میں بندوق مل جائے۔“

نوال اس بات کا بھی اعتراف کرتی ہیں کہ اُن میں غصہ بہت ہے اور یہ غصہ تقریباً پوری زندگی اُن کے ساتھ رہا ہے۔حیران کردینے والی بات یہ ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اُن کا غصہ کم نہیں ہوپایا۔ اُنھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ”میں نے اکثر دیکھا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ادیبوں کے برتاؤ میں نرمی آجاتی ہے لیکن میرا معاملہ بالکل اس کے بر خلاف ہے۔میرا غصہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے۔“

نوال نے اپنی زندگی میں کبھی سمجھوتہ نہیں کیا؛چاہے وہ اپنی ذاتی زندگی کا معاملہ ہو یا پھر عورتوں کے حق اور انصافی کی لڑائی ہو۔اُن کے دل میں کبھی بھی موقع پرست بننے کی خواہش نہیں جاگی،اُنھوں نے انعام و اکرام کی خاطر مظلوم اور متشدد خواتین سے منہ نہیں پھیرا اور اُنھوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر عورتوں کے حقوق کے لیے کام کیا۔

اس تناظر میں اُنھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا:”جب میں جیل سے واپس آئی تو میرے سامنے دو ہی راستے تھے۔ ایک وہ راستہ جو مجھے حکومتی اداروں کا غلام بنادیتی،سیکورٹی حاصل ہوتی،جعلی کامیابی ہاتھ آجاتی،حکومت کی طرف سے انعامات مل جاتے،بہترین ادیبہ کے خطاب سے نوازا جاتا۔یہ ایک ایسا راستہ تھا جہاں میں اخباروں اور ٹیلی وژن پر چھا جاتی۔دوسرا راستہ جو بہت کٹھن تھا اور مجھے جیل تک لے جاسکتا تھا۔جب سے میں نے قلم ہاتھ میں لیا اور لکھنا شروع کیا تب سے خطرہ میری زندگی کا جزولاینفک بن گیا۔“

نوال کو اُن کی ادبی، سائنسی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزات و انعامات سے نوازا گیا۔ اُنھیں یونی ورسٹی آف یورک، یوکے، یونی ورسٹی آف النوئس، شکاگو، یونی ورسٹی آف اینڈریوز، اسکاٹ لینڈ اور یونی ورسٹی آف ٹرمسو، ناروے سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں تفویض ہوئیں۔اس کے علاوہ اُنھیں کئی ادبی انعامات سے بھی نوازا گیا ہے۔

نوال نے ناول، افسانے، ڈراما،غیر افسانوی تحریریں اورمضامین کے ساتھ ساتھ ایک خود نوشت بھی یاد گار چھوڑی ہے۔اُن کی جملہ تصانیف عربی زبان میں ہیں۔جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں تبدیلی لانے کی خواہاں تھی۔

اُن کا ماننا تھا کہ تبدیلی کا آغاز مقامی سطح سے ہونا چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ اُنھیں اپنے ذریعہ اظہار کے لیے عربی زبان کا ہی انتخاب کرنا پڑا۔ اُن کی کتابوں کا ترجمہ تقریباً تیس زبانوں جیسے انگریزی، فرانسیسی،جرمنی، ہسپانوی، پرتگالی، سویڈن،ڈینش،اطالوی،جاپانی، ترکی، اردو وغیرہ میں ہوا ہے۔