پیرمحمد مونس: قصہ تو سنتے ہو اوروں کا، آج میری داستاں سنو

05:29 PM Sep 23, 2022 | رویش کمار

ہندو مسلم یکجہتی کے حمایتی مونس نے اپنے وقت کے دنگوں کی رپورٹنگ کرتے وقت پنڈت اور مولویوں کی  کرتوتوں کو خوب اجاگر کیا ہے۔

 “پیر محمدمونس اپنے مشکوک لٹریچر کے ذریعے چمپارن جیسے بہار کے پسماندہ علاقے سے ملک اور دنیا کو واقف کرانے والا اورمسٹر گاندھی کو چمپارن آنے کی  ترغیب دینے والا خطرناک اور بدمعاش صحافی تھا۔”(برٹش دستاویز)

لکھنے پڑھنے کے دور میں کچھ پل ایسے تمام پڑھنے والوں کی زندگی میں آتے ہیں،جب وہ پڑھتے پڑھتے اس کا حصہ ہونے لگتے ہیں۔اس کے روئیں کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس دور میں لوٹ جاتا ہے یا کسی طرح اس وراثت کی زمین کا ایک حصہ ہونے پر فخر محسوس کرنے لگتا ہے۔شکریہ شری کانت جی پیر محمد مونس سے ملوانے کے لئے۔

آپ کی قلم کے ذریعے ہی چمپارن ستیہ گرہ کی اس بےحد اہم کڑی کے بارے میں جان سکا اور پڑھ سکا۔مونس کو جانے بغیر چمپارن کی سیاسی زمین پر کھڑا کوئی بھی آدمی ایم ایل اےاورایم پی  تو ہو سکتا ہے مگر چمپارن کے بارے میں جاننے کا دعوے داریا جانشین نہیں۔

 میں چمپارن کا ہوں اور پیر محمد مونس کو نہیں جانتا تھا۔ یقینی طور پر چمپارن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ لیکن مونس کو جاننا چمپارن کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔تاریخ نے اس شخص کے ساتھ بہت ناانصافی کی جس نے دنیا کے سامنے چمپارن کو لا کھڑا کیا۔

” بہار ریاست میں چمپارن ایک ضلع ہے۔اس کے شمال میں نیپال،جنوب میں سارن،مغرب میں گورکھ پور اور مشرق میں دربھنگہ واقع ہے۔ضلع کا رقبہ 3515مربع میل اور انسانوں کی تعداد 18 لاکھ ہے۔یہ ضلع نیپال کی ترائی میں ہے۔اس میں دو زمین دار ہیں جس میں سب سے بااثرآنجہانی مہاراج بتیاکی  زمینداری ہےجس کاویونیو3200000روپے سالانہ ہے۔ مہاراج کا کوئی جانشین نہیں رہنے کی وجہ سے ریاست کورٹ آف وارڈس کے ماتحت ہے۔ بتیاریاست کے تحت 50-60 نیل کی کوٹھیاں ہیں جو یوروپین گوروں کی ہےاور یہی لوگ بالخصوص ریاست کے گاؤں کے ٹھیکے دار ہیں۔یہ لوگ اپنے ماتحت رعایا کے کھیتوں میں سے بگہہ تین کٹھہ زمین اپنے لیے رکھتے ہیں۔ جس سے وہاں کی رعایا اس کو تین کٹھیا لگان کے نام سے پکارتی ہے۔ فی بیگھا تین کٹھہ زمین نیلہے گوروں کی موروثی زمین سمجھی جاتی تھی۔مگر اس تین کٹھے زمین کو جوتنا،کوڑنا اور آباد کرنا وغیرہ رعایا کے سر پر ہے۔ “(چمپارن میں اندھیر-13 مارچ 1916 میں دکھی نام سے پرتاپ میں شائع)

 ” چمپارن میں نیلہے گوروں کی بھرمارہے۔ یوں سمجھیے کہ رعایا کے بھاگیہ ودھاتا و ہی ہیں۔ان لوگوں نے سرہ بیسی نام کا ایک ٹیکس رعایا پر لگایا ہے یعنی مقررہ ٹیکس سے اکثر دوگنا ٹیکس لینے کی روایت جاری کی ہے۔”(پرتاپ-16اپریل 1917 )

مونس پرتاپ میں نامہ نگارکے طور پر کام کر رہے تھے۔جس کے مدیر گنیش شنکر ودیارتھی تھے۔مونس کے مضامین کی وجہ سے پرتاپ  کو بھی زدوکوب کیا جا رہا تھا۔مونس نے چمپارن کی اس غلامی کو سامنے لانے کے لیے جیل کی سزا کاٹی۔ اپنی نوکری سے برخاست ہوئے اور جائیداد تک ضبط ہو گئی۔ پھر بھی مونس کے چمپارن کے لئے لڑنا نہیں تھا۔ وہ بتیاکے تھے اور بتیاسرکاری اسکول میں نوکری کرتے تھے۔پرتاپ اور مونس نہ ہوتے تو دنیا کو پتا چلنے تک نیلہے گورے وہاں کےاٹھارہ لاکھ عوام پر نہ جانے کتنے قہر برپاکر چکے ہوتے۔

ہندو مسلم یکجہتی کے حمایتی مونس نے اپنے وقت کے دنگوں کی رپورٹنگ کرتے وقت پنڈت اور مولویوں کی  کرتوتوں کو خوب اجاگر کیا ہے۔ ہندی کی ترقی میں ان کی خدمات قابل ذکرہیں۔ وہ بہار ہندی ساہتیہ سمیلن کے پندرہویں صدر بنائے گئے۔ آچاریہ شیوپوجن سہائے نے پیر محمد مونس کی شخصیت اور کارنامے کا ذکر کرتے ہوئےایک مضمون بھی لکھا ہے۔

شری کانت نے “پیر محمد مونس قلم کا ستیہ گرہی” ایک کتاب لکھی ہے،جس کو پربھات پرکاشن نے شائع کیا ہے۔صحافت کے طلبا کو مونس کے بارے میں معلومات رکھنی چاہیے۔ شری کانت لکھتے ہیں کہ مونس بہار میں تحریکی صحافت کے موجد تھے۔ چمپارن میں  کسانوں کے رہنما شیخ گلاب وغیرہ کے مشورے پر راج کمار شکل اور پیر محمد مونس لکھنؤ گئے اور گاندھی جی سے چمپارن چلنے کی التجا کی۔ لکھنؤ پہنچنے کے بعد راج کمار شکل نے پیر محمدمونس سے گاندھی جی‌کے نام خط لکھوایا تھا۔مگر تاریخ اس ستیہ گرہی کو بھول گئی۔ یہی وہ خط ہے جس کو پڑھ‌کر گاندھی نے چمپارن آنے کا من بنایا اور وہاں سے ہندوستان کے مستقبل کی تاریخ بدلنے کی سمت میں رفتار پکڑ لیتا ہے۔

گاندھی کو لکھے خط میں مونس لکھتے ہیں کہ “قصّہ تو سنتے ہو اوروں کا، آج میری داستاں سنو۔جس طرح بھگوان شری رام چندرجی کے قدم بوسی سے اہلیا سیراب ہوگئی اسی طرح جناب کے چمپارن میں پیر رکھتے ہی ہم 19 لاکھ رعایا کو نجات مل جائے‌گی۔”

مونس عربی لفظ ہے ،جس کا مطلب ہے مددگار، دوست، کامریڈ۔ مونس،پیر محمد انصاری کا تخلص تھا۔ان کی پیدائش 1882میں ہوئی اوروفات 1949 کو ہوئی۔تحقیقی مطالعے اور کتابوں کے فٹ نوٹس میں زیادہ سے زیادہ ایک لائن لکھ‌کر مونس کو دفنا دیا جاتا ہے۔ شیوپوجن سہائے نے لکھا ہے کہ اب تو لوگ سوراج مل جانے کے خوشی میں سوراج کی سنگ  بنیاد  کو ہی بھول گئے ہیں۔

آج مونس جی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں،لیکن ہندی ماتا کی آنکھوں میں مدت مدید تک بسے رہیں‌گے۔آچاریہ شیوپوجن سہائے نے مونس پر کئی مضامین لکھے تھے جس کو مجموعے کی صورت میں شائع کرنے کے لئے کسی ناشر کو بھیجے بھی مگر 1934 کے زلزلے میں سب تباہ ہو گیا۔

چمپارن ستیہ گرہ ہندوستان کی آزادی کی لڑائی کے لمبے سفر کا یہ ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے۔

یقین مانیے اس مضمون کو لکھتے وقت بے حد خوشی ہو رہی ہے ۔پیر محمد مونس زندہ باد،زندہ باد!

(رویش کمار کا یہ مضمون تین سال پہلے ان کے بلاگ پر شائع ہوا تھا،جس کو بہت معمولی ترمیم کے ساتھ یہاں نقل کر کیا جارہا ہے۔)

یہ مضمون 2017میں شائع کیا گیا تھا۔