اناؤ ریپ کیس: کلیدی ملزم سینگر اشتہارات میں پی ایم مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی کے ساتھ نظر آئے

بی جے پی نے اس پورے معاملے سے دوری بنالی ہے ۔ پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ، سینگر کا اخبار میں فوٹو شائع کروانا کسی کی ذاتی پسند یا خواہش ہو سکتی ہے ۔ پارٹی یا ریاستی حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

بی جے پی نے اس پورے معاملے سے دوری بنالی ہے ۔ پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ، سینگر کا اخبار میں فوٹو شائع کروانا کسی کی ذاتی پسند یا خواہش ہو سکتی ہے ۔ پارٹی یا ریاستی حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

فوٹو بہ شکریہ، اے این آئی

فوٹو بہ شکریہ، اے این آئی

نئی دہلی : 15 اگست کے موقع پر اناؤ ریپ کیس کے کلیدی ملزم اور بی جے پی سے نکالے گئے ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر  کا ایک فل سائز اشتہار مقامی اخبارات میں شائع ہوا ۔ جس میں ان کی طرف سے رکشا بندھن ، جنم اشٹمی اور یوم آزادی کی مبارکباد پیش کی گئی ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ  پہلے صفحے پر شائع ہونے والے اس اشتہار میں وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ  ، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ  یوگی آدتیہ ناتھ اور ریاست کے بی جے پی چیف سوتنتر دیو سنگھ کی تصویریں بھی ساتھ میں شائع کی گئی ہیں ۔اس اشتہار میں کئی دوسرے  لوگوں کے ساتھ سینگر کی بیوی کی تصویر بھی ہے۔خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، اخبار میں یہ تہنیتی پیغام اوگو پنچایت کے چیئرمین ایڈووکیٹ انج کمار دکشت کی جانب سے شائع کرائے گئے ہیں ۔

دکشت نے اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اے این آئی کو بتایا کہ ، وہ ہمارے حلقے کے ایم ایل اے ہیں ، اس لیے اخبارات میں ان کی بھی تصویر آئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینگر جب تک ہمارے ایم ایل اے رہیں گے تب تک ان کی تصویریں شائع ہوتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ، میں نے اشتہار میں کسی بھی پارٹی کے نام کا ذکر نہیں کیا ہے۔دریں اثنا بی جے پی نے اس تنازعے سے دوری بنالی ہے ۔ پارٹی کے ترجمان شلبھ منی ترپاٹھی نے کہا کہ ، سینگر کا اخبار میں فوٹو شائع کروانا کسی کی ذاتی پسند یا خواہش ہو سکتی ہے ۔ پارٹی یا ریاستی حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کو انہوں نے بتایا کہ ، پارٹی یا پھر ریاستی حکومت کو جو کرنا تھا کر چکی ہے۔ ہماری سینگر سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ سینگر پر نابالغ کے ساتھ اپنی رہائش گاہ پر 2017 میں ریپ کرنے کا الزام ہے ۔رپورٹ کے مطابق سینگر کی رہائش گاہ پر وہ لڑکی نوکری کے سلسلے میں ملنے آئی تھی ۔ فی الحال سینگر کو اس معاملے میں دہلی واقع تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے۔

غور طلب ہے کہ گزشتہ ہفتے عدالت نے ایم ایل اے سینگر کے خلاف ریپ کے الزام طے کئے ہیں ۔عدالت نے آئی پی سی کی دفعات 120 بی (مجرمانہ سازش)، 363 (اغوا)، 366 (اغوا اور خاتون پر شادی کے لئے دباؤ ڈالنا)، 376 (ریپ) اورپاکسو کی متعلقہ دفعات کے تحت الزام طے کئے تھے۔اس سے پہلے سی بی آئی نے دہلی کی تیس ہزاری کورٹ کو بتایا تھا  کہ جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ ملزم کلدیپ سینگر کے ذریعے جون 2017 میں متاثرہ کے ساتھ ریپ اور ششی سنگھ کے ساتھ سازش میں شامل ہونے کے الزام صحیح ہیں۔ اس معاملے کی شنوائی تیس ہزاری کورٹ میں ہو رہی ہے۔ سی بی آئی نے یہ بھی کہا تھا  کہ 4 جون 2017 کو متاثرہ کے ساتھ رات 8 بجے ریپ ہوا۔ اس وقت متاثرہ کی عمر 18 سال سے کم تھی۔اس سے پہلے سپریم کورٹ کے حکم پر ایم ایل اے کلدیپ سینگر کو تہاڑ جیل میں شفٹ کر دیا گیاتھا۔حالانکہ سینگر خود کو بے قصور بتاتے رہے ہیں۔اس سے پہلے متاثرہ اور ان کے وکیل کو دہلی کے ایمس لایا گیا۔وہیں 28 جولائی کو  رائےبریلی میں ایک کار اور ٹرک کی ٹکر میں ریپ متاثرہ اور اس کے وکیل کے شدیدطور پر زخمی ہونے کے بعد سینگر اور نو دیگر لوگوں کے خلاف سی بی آئی نے قتل کا معاملہ درج کیا تھا۔حادثے میں متاثرہ کی دو خاتون رشتہ داروں کی موت ہو گئی تھی۔ اس کی فیملی نے اس میں سازش کا الزام لگایا۔