رام مندر چڑھاوا چوری: سادھوؤں کا چمپت رائے و دیگر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، احتجاج کی دھمکی

ایودھیا میں سادھوؤں کے ایک گروپ نے رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے کے ساتھ ساتھ ٹرسٹ کے سابق ارکان انل مشرا اور گوپال راؤ کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ اب تک یوپی سرکار کی ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں صرف نچلی سطح کے لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جبکہ بڑے لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

ایودھیا میں سادھوؤں کے ایک گروپ نے رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے کے ساتھ ساتھ ٹرسٹ کے سابق ارکان انل مشرا اور گوپال راؤ کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ اب تک یوپی سرکار کی ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں صرف نچلی سطح کے لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جبکہ بڑے لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

’کمپیوٹر بابا‘ (درمیان میں سفید کپڑوں میں) کے ساتھ بیٹھ میں شامل سنت۔(تصویر بہ شکریہ: فیس بک /کمپیوٹر بابا لائیو)

نئی دہلی: ایودھیا میں منگل (25 اگست) کو سادھوؤں نے رام مندر کے فنڈ میں مبینہ ہیرا پھیری کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

دی فری پریس جرنل کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے کے ساتھ ساتھ ٹرسٹ کے سابق ارکان انل مشرا اور گوپال راؤ کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مدھیہ پردیش حکومت میں وزیر رہے ’کمپیوٹر بابا‘ کی صدارت میں سادھو سماج کی بیٹھک کے دوران اس وقت کافی ہنگامہ ہوا جب پولیس اور مقامی انٹلی جنس محکمے کے اہلکار وہاں پہنچ گئے۔ سادھوؤں نے الزام لگایا کہ اس معاملے پر ان کی بیٹھک اور بات چیت میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں کے لیے منعقدبیٹھک میں پولیس اور خفیہ اہلکاروں کی موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب میڈیا اہلکاروں سے وہاں سے چلے جانے کو کہا گیا اور سادھوؤں نے اس پر اعتراض کیا۔

سادھوؤں نے الزام لگایا کہ اب تک اتر پردیش حکومت کی ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں صرف نچلی سطح کے لوگوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے، جبکہ بڑے لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے بھی اتر پردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)حکومت پر یہی الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

واضح ہو کہ حال ہی میں ایودھیا میں واقع رام مندر میں مبینہ چڑھاوا چوری کی تحقیقات کے لیے اتر پردیش حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ میں ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹ کے ایک اور رکن انل مشرا کا نام شامل نہیں ہے۔

بیٹھک کے بعد ’کمپیوٹر بابا‘ نے کہا کہ سادھو سماج غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کے مطالبے کو لے کر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ شروع کرے گا۔ انہوں نے کہا،’اگر ضرورت پڑی تو ہم ایک لاکھ سادھوؤں کے ساتھ ایودھیا آئیں گے اور احتجاج شروع کریں گے۔‘

سادھوؤں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں ایودھیا میں اس معاملے پر بولنے سے روکا جا رہا ہے اور وہ وزیر اعلیٰ کو ایک میمورنڈم سونپنے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ رام للا کے درشن کریں گے اور مندر سے مبینہ چڑھاوے کی چوری کے لیے بھگوان رام سے معافی مانگیں گے۔

معلوم ہو کہ مندر میں چڑھاوا چوری کا تنازعہ 7 جون کو سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد 13 جون کوایس آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ 26 جون کو مندر میں چڑھائے گئے نقدی اور قیمتی سامان کی چوری اور غبن کے معاملے میں آٹھ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ایس آئی ٹی کی ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر رام مندر میں چڑھاوے کی گنتی سے وابستہ آٹھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔

یہ تنازعہ کے لیے شدید شرمندگی کی وجہ  بنا ہوا ہے۔

اس سے پہلے فیض آباد بار ایسوسی ایشن نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر رام مندر ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے، سابق ٹرسٹی انل مشرا اور مندر کے عہدیدار گوپال راؤ کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، تو وکیلوں کی تنظیم دوبارہ احتجاج کرے گی۔