رام مندر چڑھاوا ’گھوٹالے‘ کا انکشاف کرنے والے صحافی کو گرفتاری سے عبوری راحت

سپریم کورٹ نے ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کے مبینہ غبن کا انکشاف کرنے والے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو گرفتاری سے عبوری تحفظ دے دیا ہے اور غازی آباد پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے صحافی کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی پر  روک لگا دی ہے۔

سپریم کورٹ نے ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کے مبینہ غبن کا انکشاف کرنے والے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو گرفتاری سے عبوری تحفظ دے دیا ہے اور غازی آباد پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے صحافی کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی پر  روک لگا دی ہے۔

ابھشیک اپادھیائے۔ (تصویر: ویڈیو سے لیا گیا اسکرین گریب)

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل (25 اگست) کو رام مندر میں چڑھاوا چوری کی خبر سامنے لانے والے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو گرفتاری سے عبوری تحفظ دے دیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ابھیشیک اپادھیائے کا الزام ہے کہ ایودھیا کے رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے چڑھاوے کے مبینہ غبن کا انکشاف کرنے کے بعد غازی آباد پولیس نے ایک مبینہ روڈ ریج کے معاملے میں انتقامی کارروائی کے طور پر ان کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔

اپادھیائے کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پردیپ رائے نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کو بتایا کہ ان کے موکل ایک وہسل بلور ہیں اور ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کے مبینہ غلط استعمال کا معاملہ سب سے پہلے انہوں نے ہی اٹھایا تھا۔

اس سلسلے میں رائے نے الزام لگایا کہ اتر پردیش پولیس انتقامی جذبے کے تحت کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مبینہ سڑک حادثے اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت درج معاملے کی تحقیقات کسی آزاد ایجنسی، مثلاً سی بی آئی یا دہلی پولیس کو سونپی جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے اب تک ابھیشیک اپادھیائے کو ایف آئی آر کی کاپی اور مبینہ حادثے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم نہیں کی ہے۔ اپادھیائے پر الزام ہے کہ ان کی کار اور ایک دو پہیہ گاڑی کے درمیان مبینہ ٹکر کے بعد انہوں نے دو پہیہ گاڑی سوار کے خلاف ذات پات سے متعلق توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔

بنچ نے غازی آباد پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ اندراپورم تھانے میں درج ایف آئی آر یا ان الزامات کے سلسلے میں مستقبل میں درج کی جانے والی کسی بھی ایف آئی آر میں درخواست گزار کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے پولیس کو اپادھیائے کو ایف آئی آر کی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی، تاکہ وہ قانون کے تحت دستیاب قانونی راستہ اختیار کر سکیں۔

عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر کی کاپی  ملنے کے بعد درخواست گزار متعلقہ ہائی کورٹ سے مناسب راحت حاصل کرنے کے لیے رجوع کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔

غور طلب ہے کہ اپادھیائے ان چندصحافیوں میں ہیں، جو ایودھیا رام مندر میں بدعنوانی اور چڑھاوا چوری کے الزامات کو سامنے لائے تھے۔ ان کی خبروں پر خوب باتیں ہوئی تھیں۔ اس کے بعد یہ معاملہ ملک بھر کی سرخیوں میں آیا، استعفے ہوئے اور ایس آئی ٹی نے معاملے کی جانچ شروع کی۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران اپادھیائے کے یوٹیوب چینل ٹاپ سیکریٹ پر بااثر سیاسی اور مذہبی شخصیات، خصوصی طور پر اتر پردیش سے متعلق کئی رپورٹس شائع ہوئی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی رقم کے انتظام میں مبینہ چوری اور بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹس تھیں۔

انہوں نے مندر میں چڑھاوے کی رقم کی گنتی سے وابستہ سابق ملازمین کے انٹرویوز بھی کیے تھے۔ ان کی رپورٹس میں لگائے گئے الزامات کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع ہوئیں اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

اپادھیائے نے اپنے چینل کے ذریعے  سیاسی طور پر بااثر افراد اور اداروں کی بھی تحقیقات کی ہیں۔ ان میں اتر پردیش پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ(پی ڈبلیو ڈی) اور دیگر سرکاری محکموں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹس شامل ہیں، جن پر کافی باتیں ہوئیں اور سوال اٹھے۔

اپادھیائے نے اگست 2024 میں اپنا یوٹیوب چینل شروع کیا تھا۔ ستمبر 2024 میں انہیں پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت انہوں نے ایک رپورٹ اور متعدد پوسٹ شائع کیے تھیے،جن میں آدتیہ ناتھ حکومت میں اتر پردیش حکومت کے اہم عہدوں پر ٹھاکر افسران کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر سوال اٹھائے گئے تھے۔