پلواما حملہ: پونے میں کشمیری صحافی کو پیٹا،کہا؛ تمھیں کشمیر بھیج دیں گے

05:13 PM Feb 23, 2019 | دی وائر اسٹاف

24 سالہ جبران نظیر کا الزام ہے کہ ٹریفک سگنل پر تنازعہ ہونے کے دوران جب انھوں نے بتایا کہ وہ جموں و کشمیر کے ہیں تب دو لوگون نے مل کر ان کی پٹائی کر دی۔

جبران نظیر/ فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

نئی دہلی:پلواما دہشت گردانہ حملے کو لے کر کشمیریوں پر تشددکرنے کے معاملے میں سپریم کورٹ کے ذریعے مرکز اور 10 ریاستوں کو نوٹس جاری کرنے کے بعد بھی کشمیریوں پر تشدد کے معاملے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق؛جمعرات کو مہاراشٹر کے پونے میں جموں و کشمیر کے ایک 24 سالہ صحافی جبران نظیر کی پٹائی کر دی گئی۔ شروعات میں معاملے کو روڑویز کا واقعہ بتانے والی مقامی پولیس نے جمعہ کی شام کو دو مشکوک حملہ آوروں کے خلاف ایک معاملہ درج کیا اور ان میں سے ایک کو گرفتار کر لیا۔

جمعرات کی رات ٹریفک سگنل پر ایک جھگڑے کے دوران دونوں ملزمین نے صحافی کی پٹائی کی۔ پونے میں ایک اخبار کے ساتھ کام کرنے والے نظیر نے کہا کہ انھوں نے ان کو واپس کشمیر بھیجنے کی بات کہی۔ حالانکہ نظیر نے  کہا کہ یہ کوئی منصوبہ بند حملہ نہیں تھا۔ انھوں نے بتایا کی بعد میں حملہ آوروں نے ان سے پولیس اسٹیشن میں معافی مانگ لی۔

ایک پولیس افسر نے کہا،’ یہ روڈ ویز کا واقعہ تھا اور اس کو پلواما حملے سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ ‘ غور طلب ہے کہ اس واقعہ سے ایک دن پہلے ہی مہاراشٹرکے یوتما ل  میں شیو سینا کی یوتھ ونگ ،یوا سیناکے ممبروں نے  ایک کالج میں پڑھ رہے کشمیری طلبا پر حملہ کیا اور ان کو دھمکی دی تھی ۔

نظیر نے کہا،’ موٹر بائیک سے گھر واپس جانے کے دوران رات کے تقریباً 10:45بجے پونے کے تلک روڈ پر ان پر حملہ کیا گیا۔ ایک ٹریفک سگنل پر جب وہ رکےتب ایک موٹر بائیک پر سوار دو نوجوانوں نے پیچھے سے ہارن بجانا شروع کر دیا اور ان سے آگے بڑھنے کو کہا جس کی وجہ سے جھگڑا شروع ہو گیا۔ یہ دیکھنے پر کہ اس کی بائیک پر ایچ پی لکھا ہے انھوں نے کہا کہ وہ اس کو ہماچل پردیش بھیج دیں گے۔

اس پر نظیر نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے ایک صحافی ہیں تب ان دونوں نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور کہا کہ ‘ ہم تمھیں کشمیر بھیج دیں گے اور تم وہاں جاکر صحافت کرنا۔’اس دوران انھوں نے نظیر کا موبائل فون بھی چھین لیا، بائیک کو نقصان پہنچایا اور بھاگ گئے۔ نظیر نے کہا کہ انھوں نے معاملے کو آگے نہیں بڑھانے کا فیصلہ کیا اور معاملے کو واپس لے لیا ہے۔

اس کے بعد جمعہ کی شام کو پونے پولیس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے 32 سالہ اظہرالدین اور 35 سالہ دتاتریہ لواتے کے خلاف کیس درج کیا۔ پولیس اظہرالدین کو گرفتار کر چکی ہے جبکہ دتاتریہ لواتےکی تلاش کر رہی ہے۔