گجرات کے سورت کے صلابت پورہ علاقے میں بی جے پی کارپوریٹر پر فارم-7 کا غلط استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں مسلمان ووٹروں کو ’مردہ‘ قرار دے کر ان کے نام حذف کر وانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے پولیس میں شکایت درج کر کے کارروائی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

وکرم پوپٹ پاٹل لمبائیت-ادھنا یارڈ سے بی جے پی کارپوریٹر ہیں۔ (السٹریشن: دی وائر )
نئی دہلی: سورت کے صلابت پورہ علاقے میں ووٹر لسٹ کو لے کر بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ سینکڑوں رہائشیوں نے مقامی پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت دی ہے، جس میں مقامی بی جے پی کارپوریٹر وکرم پوپٹ پاٹل پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ووٹر لسٹ سے ان کا نام ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں ۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فارم نمبر 7 (جو ووٹر کے نام کو حذف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے) کا غلط استعمال کرتے ہوئے اور کئی زندہ ووٹروں کو ‘مردہ’ قرار دے کر ان کا نام حذف کرنے کے لیے درخواست دی گئی ہیں۔
درخواست کرنے والے فارم پر بی جے پی کارپوریٹر وکرم پوپٹ پاٹل کا نام اور موبائل نمبر درج ہے۔ دی وائر نے پاٹل سے فون پر رابطہ کرنے اور ان کا موقف جاننے کی کوشش کی ہے، لیکن انہوں نے ‘ایسا کچھ بھی نہیں ہے’ کہتے ہوئے فون کاٹ دیا۔
اس کے بعد انہوں نے فون کا جواب دینا بند کر دیا۔ انہیں پیغامات بھیجے گئے، لیکن خبرکی اشاعت تک ان کاکوئی جواب نہیں آیا۔
بی جے پی کارپوریٹر نے بھلے ہی ‘ایسا کچھ نہیں ہے’ بول کر ان الزامات کی تردید کی ہے، لیکن فارم 7 پر دستخط ،ان کے انتخابی حلف نامے پر دستخط سے میل کھاتا ہے، یہ حلف نامہ انہوں نے 2021 کے سورت میونسپل کارپوریشن انتخابات کے دوران داخل کیا تھا۔

وکرم پوپٹ پاٹل نے آٹھویں جماعت تک ہی تعلیم حاصل کی ہے۔
یہ جاننے کے لیے کہ پولیس شکایتوں پر کیا کارروائی کر رہی ہے، صلابت پور پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کے ڈی جڈیجہ سے رابطہ کیا گیا، لیکن انھوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
شکایت کرنے والوں میں شامل انور نگر محلہ کے رہنے والے عبدالرزاق وزیر شاہ (69) نے دی وائر کو بتایا، ‘بی جے پی ہمیں اس لیے نشانہ بنا رہی ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ جان بوجھ کر ہمارے ووٹ کاٹے جا رہے ہیں۔’
بتادیں کہ تمام شکایت کنندگان مسلمان ہیں۔
کیسے کھلا راز ؟
یہ تنازعہ 19 دسمبر 2025 کو ایس آئی آر کے ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے جاری ہونے کے بعد پیدا ہوا۔ ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے 73 لاکھ سے زیادہ ناموں کو ہٹائے جانے کے باوجود، شکایت کنندگان کے نام مسودہ فہرست میں تقریباً 4 کروڑ 34 لاکھ ووٹروں کے ساتھ درج ہیں۔
ڈرافٹ لسٹ جاری ہونے کے بعد 18جنوری 2026 تک دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی کارپوریٹر نے فارم -7 کا غلط استعمال کیا۔
شکایت کنندگان میں سے ایک عبدالرزاق وزیر شاہ کہتے ہیں، ‘ایس آئی آر کے دوران ہم نے اپنے ووٹر ہونے کا ثبوت دے دیا تھا۔ ڈرافٹ لسٹ میں ہمارا نام بھی آ گیا۔ اس کے بعدہمارے علاقے کے بی جے پی کارپوریٹر وکرم پوپٹ پاٹل نے فارم 7 بھر کرہمیں مردہ قرار دے دیا۔ ہمیں اس کے بارے میں بی ایل او(بلاک لیول آفیسر) سے جانکاری ملی۔ اسی نے ہمیں فارم7 دکھایا۔’
عبدالرزاق کے علاوہ ان کے بیٹے اور ان کی اہلیہ کو بھی فارم 7 پر مردہ قرار دیا گیا ہے۔ تینوں ہی فارم پر وکرم پوپٹ پاٹل کا نام اور نمبر درج ہے۔

جب تیزی سے یہ خبر مسلم اکثریتی علاقے صلابت پورہ میں پھیلی، تو لوگوں نے چھان بین شروع کی کہ فارم 7 کس نے بھرا ہے۔ دی وائر کوتقریباً 118 لوگوں کے نام اور ای پی آئی سی نمبر ملے، جنہیں، مردہ قرار دے کر فارم 7 بھرا گیا ہے۔
ایک میڈیا رپورٹ میں یہ تعداد 228 ہے۔ ہم نے تصدیق کے لیے بی ایل او سلمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے ضابطے کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
گزشتہ 22جنوری 2026 کو ایسے ووٹروں کی ایک بڑی تعداد، جن کے ناموں کو مردہ قرار دے کرہٹانے کی کوشش کی گئی ہے ، صلابت پورہ تھانہ پہنچے تھے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام فارم لمبائت-ادھنا یارڈ کے بی جے پی کارپوریٹر وکرم پوپٹ پاٹل نے بھرے ہیں۔

نوساری (گجرات) ایم پی اور مرکزی جل شکتی وزیر سی آر پاٹل (دائیں) کے ساتھ وکرم پوپٹ پاٹل (بائیں) | تصویر بہ شکریہ: انسٹا گرام/ وکرم پوپٹ ڈاٹ پاٹل
متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی جائے، متعلقہ بی جے پی کارپوریٹر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ووٹر لسٹ کی آزادانہ جانچ کرائی جائے۔
مقامی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ وہ نہ صرف زندہ ہیں، بلکہ برسوں سے ایک ہی پتے پر رہ رہے ہیں اور باقاعدہ ووٹر ہیں، اس کے باوجود انہیں ‘مردہ’ قرار دے کر فہرست سے نکالنے کا عمل شروع کیا گیا۔
مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ یہ سارا معاملہ مذہبی شناخت اور سیاسی میلان کی بنیاد پر ووٹروں کو نشانہ بنانے سے متعلق ہے، جس سے آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔
فارم 7 کیا ہے؟
فارم 7، الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کو مخاطب ایک درخواست ہے، جس میں موجودہ ووٹر لسٹ میں کسی دوسرے شخص کے نام کو شامل کرنے پر یا اپنے نام کو حذف کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ یہ رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، 1960 کے قواعد 13(2) اور 26 کے تحت چلتا ہے۔
صرف وہی شخص فارم 7 بھر سکتا ہے جو ایک ہی انتخابی حلقے اور ڈویژن میں رجسٹرڈ ووٹر ہو ۔ درخواست گزار کو اپنا نام، ای پی آئی سی نمبر اور وجوہات کے علاوہ ثبوت فراہم کرنے ہوتے ہیں، اورجھوٹا اعلان کرنے پرعوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 31 کے تحت ایک سال تک قید یا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

فارم 7 کا غلط استعمال قابل سزا جرم ہے، اس کے باوجود بی جے پی پر نہ صرف غلط استعمال کے الزامات لگ رہے ہیں، بلکہ آسام کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر ہمنتا بسوا شرما نے خود عوامی طور پر کہا ہے؛
جتنی بھی شکایتیں ہوئی ہیں وہ میرے حکم پر ہوئی ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر بی جے پی ممبران کو ہدایت دی کہ وہ میاں کمیونٹی کے خلاف شکایات کرتے رہیں۔اس میں چھپانے جیسا کچھ نہیں ہے۔ میں نے میٹنگ کی ہیں، ویڈیو کانفرنس کی ہیں، اور جہاں بھی ممکن ہو لوگوں سے فارم 7 بھرنے کو کہا ہے، تاکہ انہیں تھوڑاادھر ادھر بھاگنا پڑے اورانہیں پریشانی ہو…
گجرات کے مختلف حصوں میں جس طرح فارم 7 کے غلط استعمال کے الزامات لگ رہے ہیں ، اس پر حکمران پارٹی کا موقف جاننے کے لیے گجرات بی جے پی کے ترجمان انل پٹیل سے رابطہ کیا، لیکن ابھی تک ان کاکوئی جواب نہیں ملا ہے۔ جواب آنے پررپورٹ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
کانگریس کا الزام
گجرات میں بی جے پی کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اس پورے معاملے کو ‘انتخابی دھوکہ دہی’ قرار دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کرکے انتخابی ایکوئیشن کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
گجرات کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اسلم سائیکل والا نے دی وائر سے بات کرتے ہوئے کہا، ‘سب سے پہلے تو فارم 7 ثبوت کے ساتھ نہیں دیا گیا۔ اس کے باوجود ایسی درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسی درخواستوں کو مسترد کر دیا جائے۔ صرف ان درخواستوں پر غور کیا جائے جن کے پاس ثبوت ہوں اور یہ تصدیق کے لیے بی ایل او کو بھیجے جائیں۔’
بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے سائیکل والا کہتے ہیں، ‘مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی شہریت اور آئینی حقوق چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم انصاف اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے آخری دم تک لڑیں گے۔’
گجرات ایس آئی آر
بہار میں ایس آئی آرکی تکمیل کے بعد، اس عمل کے دوسرے مرحلے میں گجرات سمیت نو ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا احاطہ کیا گیا، ان تمام 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 4 نومبر 2025 کو ایس آئی آر کا عمل شروع ہوا ۔
گجرات میں 19 دسمبر 2025 کو ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کی گئی۔ اس فہرست میں تقریباً 4 کروڑ 34 لاکھ ووٹر درج کیے گئے ہیں، جبکہ نظر ثانی سے پہلے یہ تعداد 5.08 کروڑتھی۔ اس کا مطلب ہے کہ اس عمل کے دوران ووٹر لسٹ سے 73 لاکھ 73 ہزار سے زیادہ نام ہٹائے گئے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، ہٹائے گئے ناموں میں متوفی ووٹر، نقل مکانی کرچکے ووٹر اور ڈپلیکیٹ اندراجات شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سورت، احمد آباد اور وڈودرا جیسے شہری مراکز میں نام حذف کیے جانے کا زیادہ امکان ہے۔ ضلعی سطح کا تجزیہ بتاتا ہے کہ شہری اضلاع میں ممکنہ حذف ہونے کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔ جن اضلاع میں ووٹر لسٹ گراوٹ کا تناسب سب سے زیادہ بتایا گیا ہے ، ان میں سورت (25.7 فیصد)، احمد آباد (23.2 فیصد)، وڈودرا (18.7 فیصد)، بھروچ (16.4 فیصد) اور ولساڈ (16.3 فیصد) شامل ہیں۔
تاہم الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ سارا عمل ووٹر ڈیٹا بیس کی درستگی اور اعتبار کو یقینی بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ ڈرافٹ لسٹ کے جاری ہونے کے بعد شہریوں کو 18 جنوری 2026 تک اپنے دعوے اور اعتراضات جمع کرانے کا موقع دیا گیا تھا۔سرکاری شیڈول کے مطابق تمام دعوے اور اعتراضات 10 فروری 2026 تک حل کر لیے جائیں گے، جس کے بعد حتمی ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی۔