یوٹیوب چینل 4پی ایم نیوز نیٹ ورک کی دو خاتون صحافیوں نے الزام لگایا ہے کہ دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے سوال پوچھنے اور مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ دہلی پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ وہیں متعددمیڈیا تنظیموں نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یوٹیوب ویڈیو کے اسکرین شاٹ میں 3 ستمبر 2026 کو ساکیت پولیس اسٹیشن میں شاہین خان۔
نئی دہلی: پریس کلب آف انڈیا (پی سی آئی) اور دیگر میڈیا تنظیموں نے جمعرات (3 ستمبر) کو ساکیت پولیس تھانے میں دہلی پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے صحافیوں -شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کی سخت مذمت کی اور اس میں شامل پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق، معروف یوٹیوب چینل 4پی ایم نیوز نیٹ ورک کی دونوں صحافی جمعرات کو ساکیت میں واقع میکس اسپتال میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے ہاتھوں نئے ونگ کے افتتاح کی کور کر رہی تھیں۔
خان کی ویڈیو رپورٹ میں دونوں خواتین کے جسم پر چوٹ کے نشان اور نفیسہ کی خراب حالت نظر آئی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ پر پڑے چوٹ کے نشان کیمرے کے سامنے دکھائے، جبکہ نفیسہ تقریباً بے ہوشی کی حالت میں نظر آئی۔ نفیسہ کی جانگھ پر، گھٹنے سے ٹھیک اوپر، سرخ نشان بھی دکھائی دے رہے تھے، جو صاف طور پر ڈنڈے سے مارے جانے کی وجہ سے بنے تھے۔
نفیسہ کو ایک صوفے پر بٹھاکر رکھا گیا تھا اور ان کے ساتھ موجود ایک تیسری خاتون انہیں تسلی دے رہی تھیں۔ خان کی ویڈیو میں کیمرہ مین نظر نہیں آ رہا ہے۔
4پی ایم نے خان کی یہ رپورٹ ایکس پر شیئر کی۔ اپنی رپورٹ میں خان نے کہا کہ ان سب کو صرف اس لیے پولیس تھانے گھسیٹ کر لے جایا گیا کہ انہوں نے ’ایک وزیر اعلیٰ اور ایک وزیر داخلہ سے ایک سوال پوچھا تھا۔‘ انہوں نے الزام لگایا کہ جب انہوں نے اپنا نام بتایا تو پولیس نے ان کے ساتھ اور بھی بری طرح مارپیٹ کی۔
क्या मुख्यमंत्री से सवाल पूछना अब इतना बड़ा अपराध हो गया है कि पत्रकार को पुलिस बेरहमी से पीटेगी?
आज दिल्ली में 4PM की पत्रकार शाहीन के साथ जो हुआ, वह बेहद गंभीर और डराने वाला है.
शाहीन दिल्ली की मुख्यमंत्री रेखा गुप्ता से सवाल पूछने की कोशिश कर रही थीं. शाहीन का आरोप है कि इसी… pic.twitter.com/KB3p3kGKDK
— 4PM News Network (@4pmnews_network) September 3, 2026
جب خان ساکیت تھانے سے اپنی رپورٹ ریکارڈ کر رہی تھیں تو کیمرے کے فریم میں ایک پولیس اہلکار اور دو دیگر افراد بھی نظر آ رہے تھے۔ ان کا چہرہ لال تھا اور وہ لگ بھگ رو رہی تھیں۔
وہ کیمرے کے سامنے ایک پولیس افسر کی جانب دیکھتے ہوئے کہتی ہیں،’پوری طرح سےذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کرنے کے بعد اب میرا نام پوچھا جا رہا ہے، اور میں بتا رہی ہوں، میرا نام خان ہے، میرے نام میں ’خان‘ آتا ہے، میں محمد ہوں… میں مسلمان ہوں۔ اور اسی لیے دہلی پولیس کے ایک افسر نے ہمیں ڈنڈوں سے مارا، تھپڑ مارے۔‘
اس دوران ہیلپ ڈیسک پر بیٹھے پولیس افسر نے کچھ کہا، جو زیادہ تر سنائی نہیں دیتا۔ اس کے جواب میں خان کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی ہیں،’ہوگی — بالکل ہوگی کارروائی (ہاں، جانچ ہو گی)۔‘
انہوں نے کہا،’مسلمان ہونے کے نام پر آج جس طرح کی نفرت ہمارے ساتھ دکھائی گئی ہے، اس کا حساب اور جواب دہلی پولیس آپ کو دینا پڑے گا۔‘
اس کے بعد وہ اور کیمرہ مین ساتھ والے ایک کمرے میں جاتے ہیں، جہاں کچھ صوفے رکھے ہوئے ہیں۔ وہاں نفیسہ درد سے کراہ رہی تھیں اور تقریباً بے ہوش ہو چکی تھیں۔ ویٹنگ روم میں کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔

سوشل میڈیا ویڈیو کے اسکرین شاٹ میں 3 ستمبر 2026 کو ساکیت پولیس اسٹیشن میں مبینہ حملے کے بعد شاہین ۔
سوشل میڈیا پر سامنے آئی تصویروں سے پتہ چلا کہ بعد میں نفیسہ کو ان کے جاننے والے لوگ پولیس تھانے سے اٹھا کر باہر لے گئے، کیونکہ وہ چلنے کی حالت میں نہیں لگ رہی تھیں۔ خان کے ویڈیو بھی آن لائن نشر ہوئے، جن میں وہ پولیس تھانے کے فرش پر بے ہوش پڑی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔
4پی ایم نیوز نیٹ ورک کے چیف ایڈیٹر سنجے شرما نے تھانے سے شیئر کیے گئے ویڈیو رپورٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے کہا،’حالیہ دنوں میں 4پی ایم مسلسل دہلی حکومت اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے متعلق معاملوں پر گمبھیرسوال اٹھا رہا تھا اور رپورٹ شائع کر رہا تھا۔ ایسے میں یہ سوچنا فطری ہے کہ کیا آج کی کارروائی کسی بھی طرح ان رپورٹس اور سوالات سے جڑی ہے؟‘
انہوں نے ایکس پر لکھا،’وزیر اعلیٰ سے سوال پوچھنا کب سے جرم ہو گیا ہے؟ ایک صحافی کا سوال اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے لیے کب سے اتنا خطرناک ہو گیا ہے؟ اور کیا کسی صحافی کے نام میں ’خان‘ ہونا اس پر حملہ کرنے کی وجہ بن سکتا ہے؟‘
میڈیا تنظیموں نے دہلی پولیس کی کارروائی کی مذمت کی
ڈی جی پب نے ایک بیان میں صحافیوں کے اکاؤنٹ اور شرما کا ذکر کرتے ہوئے دہلی پولیس کی کارروائی کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کہ ان کے چینل کو حکومت بار بار نشانہ بنارہی ہے۔
بیان میں کہا گیا،’اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال کرنا صحافت اور جمہوری جوابدہی کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ صحافیوں کو بغیر کسی خوف، دھمکی یا امتیاز کے اپنا کام کرنے کا اہل ہونا چاہیے۔‘
بیان میں آزادانہ تحقیقات کرانے، سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے اور اس کارروائی کے ذمہ دار لوگوں کی جوابدہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
وہیں، پریس کلب آف انڈیا (پی سی آئی)، انڈین ویمنز پریس کورپس(آئی ڈبلیو پی سی)، دہلی یونین آف جرنلسٹس (ڈی یو جے)، پریس ایسوسی ایشن اور کیرل یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے 3 ستمبر کی دوپہر پیش آنے والے اس واقعہ میں صحافیوں کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کی مذمت کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے مطابق، دو رہنماؤں سے سوال پوچھنے پر پولیس نے نہ صرف ان کے ساتھ مارپیٹ کرتے ہوئے انہیں وہاں سے گھسیٹ کر لے گئی، بلکہ جب ان کی مذہبی پہچان کا پتہ چلا تو پولیس کی مارپیٹ اور بڑھ گئی۔
بیان میں کہا گیا،’پولیس تھانے میں داخل ہونے کے بعد تھانہ انچارج (ایس ایچ او)نے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو دونوں صحافیوں کو ایک کمرے میں لے جانے کی ہدایت دی، جہاں خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہو گئیں اور شاہین اور نفیسہ کو پیٹنا شروع کر دیا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں صحافیوں کو ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دی گئی اور ان کی مذہبی پہچان کو لے کر ہیٹ اسپیچ کے ساتھ گالی گلوچ کی گئی۔
میڈیا تنظیموں کے بیان میں دہلی پولیس کے کمشنر انوراگ کمار سے مطالبہ کیا گیا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ مارپیٹ کی ’آزادانہ اور منصفانہ جانچ‘ کا حکم دیا جائے۔ انہوں نے پریس کونسل آف انڈیا سے بھی واقعہ کا ازخود نوٹس لینے اور معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرانے کی اپیل کی ہے۔
ان الزامات پر شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا۔ اپوزیشن جماعت کانگریس اور عام آدمی پارٹی (عآپ) نے بی جے پی کی قیادت والی دہلی حکومت کو نشانہ بنایا اور واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
شاہین کا ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں سوال پوچھنا جرم بن گیا ہے۔ پارٹی نے کہا، ’ایک صحافی کے ساتھ ایسا برتاؤقطعی صحیح نہیں ہے، قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔‘
عام آدمی پارٹی نے بھی مبینہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے سوال پوچھنے کی وجہ سے وزیر داخلہ امت شاہ کے ماتحت پولیس نے ایک خاتون صحافی کو بے رحمی سے پیٹا۔ ایسی صورت میں یہ سوال بالکل جائز ہے؛ کیا مودی حکومت میں بیٹیوں کی آواز ہمیشہ اسی طرح دبائی جاتی رہے گی؟‘
پولیس نے الزامات سے انکار کیا
دریں اثنا، دہلی پولیس نے صحافیوں کو حراست میں لینے اور ان کے ساتھ مارپیٹ کے الزامات کو ’حقائق کی رو سے غلط‘اور ’گمراہ کن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے کہا کہ خواتین کو سیاسی رہنماؤں سے سوال پوچھنے کی کوشش کرنے کی وجہ سے حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق، دونوں خواتین نے پروگرام کے مقام کے قریب اپنا اسکوٹر کھڑا کر دیا تھا، جس کی وجہ سے مقررہ وی وی آئی پی راستہ متاثر ہو رہا تھا۔ پولیس نے کہا کہ انہوں نے صحافیوں سے بار بار گاڑی ہٹا کر راستہ خالی کرنے کو کہا، لیکن انہوں نے اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔
پولیس نے کہا، ’وی وی آئی پی راستے کی سکیورٹی اور پروٹوکول کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں خواتین کو مزید پوچھ گچھ کے لیے مقامی پولیس تھانے لے جایا گیا۔‘
ایک بیان میں جنوبی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس(ڈی سی پی) اننت متل نے کہا کہ صحافیوں کے وزیر اعلیٰ سے سوال پوچھنے کی وجہ سے ان کے ساتھ مارپیٹ کیے جانے کے الزامات ’پوری طرح سے جھوٹے، گمراہ کن اور بے بنیاد‘ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، ’شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔‘