صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے نربھیا کے مجرم مکیش سنگھ کی رحم کی عرضی خارج کی

05:10 PM Jan 17, 2020 | دی وائر اسٹاف

وزارت داخلہ نے جمعرات کی رات کو مکیش سنگھ کی رحم کی عرضی کو پارلیامنٹ ہاؤس بھیجا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے جمعہ کو 2012 کے نربھیا گینگ ریپ اور قتل کے مجرم مکیش سنگھ کی رحم کی عرضی خارج کر دی۔نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق، ذرائع  نے بتایا ہے کہ وزارت داخلہ کی اس بارے میں خط وکتابت ہوئی ہے، جس میں 2012 کے نربھیا گینگ ریپ اور قتل کے مجرم مکیش سنگھ کی رحم کی عرضی صدر جمہوریہ کووند نے خارج کر دی ہے۔

وزارت داخلہ نے جمعرات کی رات کو مکیش سنگھ کی رحم کی عرضی کو پارلیامنٹ ہاؤس بھیجا تھا۔اس سے پہلے 2012 کے نربھیا گینگ ریپ اور قتل کے ایک مجرم مکیش سنگھ نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ان کی رحم کی عرضی  ڈپٹی گورنراور صدر جمہوریہ کے پاس زیر التوا ہے اس لئے رحم کی عرضی خارج ہونے اور پھانسی دینے کی تاریخ کے بیچ 14 دن کا وقت  دیا جانا چاہیے۔

حالانکہ دہلی ہائی کورٹ نے ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کے نچلی عدالت کے حکم کو خارج کرنے سے منع کر دیا۔ کورٹ نے مجرم کے وکیل کو کہا کہ آپ ٹرائل کورٹ جائیے اور وہاں بتائیے کہ آپ کی رحم کی عرضی زیر التوا ہے۔وہیں سپریم کورٹ نے مکیش سنگھ سمیت دو لوگوں کی کیوریٹو عرضی پہلے ہی خارج کر دی تھی۔ دہلی کی ایک عدالت کے ذریعے  ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کے بعد ونئے شرما اور مکیش سنگھ نے سپریم کورٹ  میں کیوریٹو عرضی دائر کی تھی۔

ونئے شرما اور مکیش سنگھ کے علاوہ پون اور اکشے کو 22 جنوری کے دن دہلی کے تہاڑ جیل میں صبح سات بجے پھانسی دی جانی ہے۔چاروں مجرموں  کو ستمبر 2013 میں ہی پھانسی کی سزا دی گئی تھی اور دہلی  ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھا ہے۔

غور طلب ہے کہ سال 2012 میں 16 دسمبر کی رات راجدھانی دہلی میں 23 سالہ پیرامیڈکل طالبہ سے ایک چلتی بس میں چھ لوگوں نے گینگ ریپ کیا تھا اور اس کو سڑک پر پھینکنے سے پہلے بری طرح سے زخمی کر دیا تھا۔ دو ہفتے بعد29 دسمبر کو سنگاپور کے ایک ہاسپٹل میں علاج کے دوران متاثرہ کی موت ہو گئی تھی۔

اس واقعہ کی مخالفت میں ملک بھر میں زبردست احتجاج  ہوا تھا اور خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ریپ کے لئے سخت سزا کااہتمام کرنے کی مانگ اٹھی تھی۔ لوگوں کے غصے کے دیکھتے ہوئے حکومت نے ریپ کےخلاف نیا قانون نافذ کیا تھا۔