لیکس فریڈمین کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں پی ایم مودی نے کہا – تنقید جمہوریت کی روح ہے

لیکس فریڈمین کے پوڈ کاسٹ میں پی ایم مودی نے 2002 کے گجرات فسادات، آر ایس ایس کے نظریے اور دہشت گردی سے متاثرہ پاکستان پر تبادلہ خیال کیا۔ جمہوریت میں تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اپنی سوچ اور عمل میں جمہوریت پسند ہیں تو آپ کو تنقید کو گلے لگانا چاہیے۔

لیکس فریڈمین کے پوڈ کاسٹ میں پی ایم مودی نے 2002 کے گجرات فسادات، آر ایس ایس کے نظریے اور دہشت گردی سے متاثرہ پاکستان پر تبادلہ خیال کیا۔ جمہوریت میں تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اپنی سوچ اور عمل میں جمہوریت پسند ہیں تو آپ کو تنقید کو گلے لگانا چاہیے۔

 (اسکرین گریب /لیکس فریڈمین  یوٹیوب چینل)

(اسکرین گریب /لیکس فریڈمین  یوٹیوب چینل)

نئی دہلی: امریکی کمپیوٹر سائنسداں اور پوڈ کاسٹر لیکس فریڈمین کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کا تین گھنٹےکا پوڈ کاسٹ اتوار (16 مارچ) کی شام کو جاری کیا گیا۔ اس بات چیت  میں وزیر اعظم نے ہندوستان اور بیرون ملک کے مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پی ایم مودی نے 2002 کے گجرات فسادات، جمہوریت میں تنقید کی اہمیت اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) جیسے موضوعات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، جس کی بنیاد پر انہیں  اکثر تنقید کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔

سال 2002 کے گجرات فسادات پر کیا کہا؟

سال 2002 کے گجرات فسادات پر وضاحت پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس طرح کے فرقہ وارانہ تشدد گجرات میں پہلے بھی کئی بار ہو چکے تھے اور یہ کوئی نیا واقعہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2002 کے فسادات سے قبل ملک اور دنیا میں دہشت گردی کے کئی واقعات رونما ہوچکے تھے، جن  کی وجہ سے حالات انتہائی حساس تھے۔ ان میں 1999 کا قندھار طیارہ ہائی جیک، امریکہ میں 9/11 کا حملہ اور دسمبر 2001 میں ہندوستانی  پارلیامنٹ پر حملہ شامل تھا۔ ان واقعات سے پورے ملک میں کشیدگی بڑھ گئی تھی، خصوصی طور پر گجرات میں، جہاں 27 فروری 2002 کو گودھرا ٹرین جلانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

‘یہ ایک انتہائی افسوسناک اور خوفناک واقعہ تھا۔ لوگوں کو زندہ جلایا دیاگیا تھا۔ ماحول پہلے ہی کشیدہ تھا اور حالات مزید خراب ہوتے گئے۔’ مودی نے کہا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 2002 کے فسادات گجرات کی تاریخ میں سب سے بڑے فسادات نہیں تھے، بلکہ اس سے پہلے بھی ریاست میں 250 سے زیادہ فسادات ہو چکے تھے۔ انہوں نے 1969 کے فسادات کا حوالہ دیا جو تقریباً چھ ماہ تک جاری رہا تھا۔

‘یہ کہنا غلط ہے کہ 2002 کے فسادات گجرات کے سب سے بڑے فسادات تھے۔ اس سے پہلے بھی پتنگ بازی یا سائیکل کی ٹکر جیسی معمولی باتوں پر فسادات ہوجاتے تھے۔ گجرات میں نے پہلے بھی کافی عرصےتک  فرقہ وارانہ تشدد کا مشاہدہ کیا ہے۔’ اس نے کہا۔

مودی نے یہ بھی کہا کہ ان کے اور ان کی حکومت کے خلاف الزامات کی عدالتی طور پر کئی بار چھان بین کی گئی اور انہیں  کسی  بھی طرح کی سازش کا مجرم نہیں پایا گیا۔

‘عدلیہ نے اس معاملے کی مکمل چھان بین کی۔ اس وقت ہماری اپوزیشن جماعتیں مرکز میں برسراقتدار تھیں، لیکن وہ ہم پر لگائے گئے الزامات کو ثابت نہیں کر سکیں۔ عدالتوں نے دو بار تفتیش کی اور ہمیں مکمل طور پر بے قصور پایا۔’ انہوں نے  کہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گجرات میں گزشتہ 22 سالوں میں کوئی بڑا فساد نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے اس کا سہرااپنی حکومت کی ترقیاتی پالیسی کو دیا۔

بتادیں کہ گجرات فسادات کے دوران نریندر مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے، ان پر فسادات پر قابو پانے میں ناکامی اور تشدد کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

جمہوریت اور تنقید

جب پی ایم مودی سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی تنقید کو کیسے دیکھتے ہیں اور ان سے کیسےنمٹتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ تنقید کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ‘میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ تنقید جمہوریت کی روح ہے۔ اگر جمہوریت واقعی آپ کی سوچ اور عمل میں سمائی ہوئی ہے، تو آپ کو تنقید کو اپنانا چاہیے۔’ انہوں  نے کہا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تنقید زیادہ ہونی چاہیے اور یہ ‘تیز اور حقائق پر مبنی’ ہونی چاہیے۔ ‘ہمارے صحیفوں میں کہا گیا ہے کہ تنقید کرنے والوں کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہیے۔ تنقید کرنے والوں کو آپ کا قریبی ساتھی ہونا چاہیے، کیونکہ سچی تنقید آپ کو جلد بہتر بنانے اور جمہوری طریقے سے بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔’

پی ایم مودی نے کہا، ‘دراصل، مجھے لگتا ہے کہ تنقید زیادہ ہونی چاہیے، اور یہ تیز اور حقائق پر مبنی ہونی چاہیے۔ لیکن میری اصل شکایت یہ ہے کہ ہمیں ان دنوں حقیقی تنقید دیکھنے کو نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ ‘سچی تنقید کے لیے گہرے مطالعے، تحقیق اور محتاط تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیےسچ اور  جھوٹ  کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ لیکن آج لوگ شارٹ کٹس لیتے ہیں، بغیر تحقیق کے کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں… وہ اصل کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کے بجائے براہ راست الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں۔’

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ‘مضبوط جمہوریت کے لیے حقیقی تنقید ضروری ہے۔ الزامات سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا، یہ صرف غیر ضروری تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔ اس لیے میں ہمیشہ کھلے دل سے تنقید کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ اور جب بھی مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں، میں خاموشی سے اپنے ملک کی خدمت پر توجہ دیتا ہوں۔’

کانگریس نے مودی کے اس دعوے کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری (مواصلات) جئے رام رمیش نے مودی پر ان اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا، جو ان کی  حکومت کو جوابدہ بنانے کے لیے بنائے گئےتھے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی نے اپنے ناقدین کے خلاف انتقامی کارروائی کی ہے۔

رمیش نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا، ‘وہ شخص جو میڈیا کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے، اس نے خود کو ایک غیر ملکی پوڈ کاسٹر کے ساتھ آرام دہ محسوس کیا، جو دائیں بازو کے نظریاتی نیٹ ورک سے منسلک ہے۔’

سنگھ پر مودی نے کیا کہا؟

جب مودی سے پوچھا گیا کہ وہ آر ایس ایس میں کیسے شامل ہوئے تو انہوں نے کہا ، ‘مجھے بچپن سے ہی کچھ نہ کچھ کرنے کی عادت تھی۔ مجھے ماکوشی نام کا ایک آدمی یاد ہے۔ مجھے ان  کا پورا نام ٹھیک سے یاد نہیں، شاید  وہ سروس گروپ  (سیوا سموہ) سے  تھے—ماکوشی سونی یا کچھ ایسا۔وہ  ڈھول جیسا ایک چھوٹا سا ساز جسے ٹیمبرین  کہتےہیں ، لے کر چلتے تھے اور اپنی بھاری آواز میں حب الوطنی کے گیت گاتے تھے۔ وہ جب بھی ہمارے گاؤں آتے، مختلف جگہوں پر پرپروگرام کرتے۔ میں ان کے گیت سننے کے لیے ان کے پیچھے بھاگتا۔ میں رات بھر ان کے حب الوطنی کے گیت سنتا رہتا۔ مجھے یہ اچھا لگتا تھا۔ میں خود نہیں جانتا کیوں، لیکن مجھے یہ سب پسند تھا۔ ہمارے گاؤں میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی ایک شاکھا تھی، جہاں ہم مختلف کھیل کھیلتے تھے اور حب الوطنی کے گیت گاتے تھے۔ ان گیتوں نے مجھے گہرائی سے چھولیا۔ ان گیتوں نے میرے اندر ہلچل پیدا کی ، اور اس طرح میں آہستہ آہستہ آر ایس ایس کا حصہ بن گیا۔’

مودی نے کہا کہ ‘دنیا میں شاید آر ایس ایس جیسی منفرد کوئی اور تنظیم نہیں ہے۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘لاکھوں لوگ اس سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن آر ایس ایس کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لیے کوشش کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ آر ایس ایس آپ کو زندگی کی ایک واضح سمت دیتا ہے، جسے صحیح معنوں میں ایک مقصد کہا جا سکتا ہے۔ دوسری بات ملک ہی سب کچھ ہے، اور عوام کی خدمت کرنا خدا کی خدمت کے مترادف ہے… میرے علم کے مطابق، وہ تقریباً 125000 خدمت کے منصوبے بغیر کسی سرکاری امداد کے چلاتے ہیں، جو مکمل طور پر کمیونٹی کے تعاون پر مبنی ہیں۔ 125000 سماجی خدمت کے منصوبے چلانا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔’

جب مودی سے پوچھا گیا کہ آر ایس ایس کا ان پر کیا اثر پڑا تو انہوں نے کہا، ‘آر ایس ایس کے ذریعے مجھے بامقصد زندگی ملی۔ پھر مجھے سنیاسیوں(راہب) کے درمیان کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا جس سے مجھے ایک روحانی بنیاد ملی۔ میں نے نظم و ضبط اور بامقصد زندگی حاصل کی۔ سنتوں  کی رہنمائی سے مجھے روحانی رہنمائی ملی۔ سوامی آتم استھانند اور ان جیسے دوسرے سنتوں نے میرے سفر میں میری رہنمائی کی اور ہر قدم پر میرا ساتھ دیا۔ رام کرشنا مشن کی تعلیمات، سوامی وویکانند کے افکار اور آر ایس ایس کے خدمت پر مبنی نظریہ نے مجھے تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔’

ٹرمپ کی دوسری مدت

پوڈ کاسٹ میں وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری میعاد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اس بار زیادہ تیار ہیں اور ان کے پاس واضح روڈ میپ ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی ‘امریکہ فرسٹ’ پالیسی کا اپنی ‘انڈیا فرسٹ’ پالیسی سے موازنہ کیا، جو دونوں رہنماؤں کے درمیان مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان پر

اس بات چیت میں وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی کو فروغ دینے میں پاکستان کے کردار کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب دنیا کو اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ دہشت گردی کی جڑیں کہاں ہیں۔ پی ایم مودی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بار بار دہشت گردی کا مرکز بنتا رہاہے، جس سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کو بہت شدید نقصان پہنچا ہے۔

مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ ہندوستان نے امن قائم کرنے کے لیے بہت مخلصانہ کوششیں کیں۔ ان کا دورہ لاہور ہو یا ان کی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کو مدعو کرنا، ہر بار ہندوستان  کی صلح کی کوششوں کو پاکستان کی طرف سے دشمنی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ پاکستانی عوام ایک ایسے مستقبل کے مستحق ہیں جو تشدد اور خوف سےآزاد ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اپنی غلطیوں سے سبق سیکھے گا اور صحیح راستے کا انتخاب کرے گا۔