خبروں کے مطابق، لاہور کے محلوں کے نام تقسیم ہند سے قبل کے ناموں پر رکھنے کی اس پہل کا مقصد شہر کی تاریخی شناخت کو بحال کرنا اور اس کے کثیرثقافتی ماضی کو تسلیم کرنا ہے ۔

لاہور میں واقع ایچیسن کالج کے احاطے میں موجود ایک گردوارہ۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)
نئی دہلی: پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے لاہور کی متعدد سڑکوں اور محلوں کے نام تقسیم ہند سے قبل کے ناموں پر رکھنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ یہ قدم شہر کے تاریخی ورثے کے تحفظ کی کوششوں کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ مریم نواز کی سربراہی میں صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ یہ منصوبہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے پیش کیا تھا، جو’ لاہور ہیریٹیج ایریاز ریوائیول ‘ منصوبے کے سربراہ ہیں۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ پچھلے وقتوں میں لاہور کی کئی سڑکوں، گلیوں اور علاقوں کے نام تبدیل کر دیے گئے تھے۔ برطانوی دور اور ہندو شناخت سے جڑے ناموں کی جگہ اسلامی، پاکستانی یا مقامی شخصیات سے منسوب نام رکھے گئے۔
رپورٹ کے مطابق، جن علاقوں اور سڑکوں کے پرانے نام بحال کرنے کی تجویز ہے ان میں کوئینز روڈ، لارنس روڈ، ایمپریس روڈ، کرشن نگر، سنت نگر، دھرم پورہ، لکشمی چوک، سنت نگر جین مندر روڈ، موہن لال بازار، بھگوان پورہ اور شانتی نگر شامل ہیں۔
فی الحال، مثال کے طور پر کوئینز روڈ کو فاطمہ جناح روڈ، لارنس روڈ کو باغ جناح روڈ، ایمپریس روڈ کو شاہراہ عبدالحمید بن بادیس اور کرشن نگر کو اسلام پورہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس اقدام کا مقصد لاہور کی تاریخی شناخت کو دوبارہ قائم کرنا اور اس کے کثیرثقافتی ماضی کو تسلیم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ نواز شریف نے منٹو پارک (جسے اب گریٹر اقبال پارک کہا جاتا ہے) میں تین کرکٹ گراؤنڈز اور ایک روایتی کشتی اکھاڑے کو دوبارہ بحال کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے 2015 میں پنجاب کے وزیراعلیٰ رہنے کے دوران ان کی انہدامی کارروائیوں پر تنقید ہو رہی ہے۔