پاکستان: مسعود اظہر کے رشتہ دار سمیت 44 افراد گرفتار

09:10 PM Mar 06, 2019 | دی وائر اسٹاف

پاکستان نے کہا ہے کہ ،ان کی حکومت کی پالیسی یہی ہے کہ پاکستان کی زمین پر کسی کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

علامتی تصویر، فوٹو بہ شکریہ، ڈی ڈبلیو اردو

نئی دہلی: پاکستان میں ، پلواما میں دہشت گردانہ حملے کے لیے مبینہ طور پر ذمہ دار جیش محمد کے چیف مسعود اظہر کے بھائی سمیت مختلف کالعدم  تنظیموں کے 44 ممبروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اکستان نے اپنی زمین پرفعال دہشت گرد تنظیموں پر روک لگانے اور ان کو ملنے والی رقم پر پابندی لگانے کے لیے یہ کارروائی کی ہے۔اس سلسلے میں اسٹیٹ ہوم منسٹر شہر یار خان آفریدی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ  اس کارروائی میں گرفتار کیے گئے 44 لوگوں  میں اظہر کا بھائی مفتی عبدالرؤف اور ایک دوسراشخص حماد اظہر شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ذریعے گزشتہ ہفتے پاکستان کو سونپے گئے ڈوزیئر میں مفتی عبدالرؤف اور حماد اظہر کے نام شامل تھے ۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہند و پاک کے بیچ کشیدگی کا ماحول ہے ۔دراصل 14 فروری کو مبینہ طور پر جیش محمد کے خو دکش حملے میں 40 سے زیادہ جوان ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے بعد  ہندوستان نے جیش محمد کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پاکستان کو ایک ڈوزیئر سونپا تھا ۔کہا جارہا ہے کہ پاکستان پر کارروائی کرنے کو لے کر دباؤ تھا۔حالاں کہ وزیر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ کارروائی کسی طرح کے دباؤ میں نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل ایکسن پلان کے تحت سبھی کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔انہوں نے بتا یا کہ دو ہفتے تک مہم جاری رہے گی اور شواہد کی بنیاد پر گرفتار لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔وزیر نے کہا کہ ان کی حکومت کی پالیسی یہی ہے کہ پاکستان کی زمین پر کسی کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

غور طلب ہے کہ اس سے پہلے پاکستان میں سوموار کو مشتبہ افراد اور تنظیموں کے خلاف یواین کی پابندیوں کو نافذ کرنے کے لیے کارروائی کو تیز بنانے کے لیے ایک قانون لایا گیا تھا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت نے ملک میں فعال کالعدم تنظیموں کو اپنے اختیار میں لے لیا ہے۔دریں اثنا ڈی ڈبلیو اردو کے مطابق، پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ملک کے نجی ٹیلی وژن چینل ڈان نیوز کو بتایا کہ حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ تمام کالعدم تنظیموں سے منسلک خیراتی اداروں اور ان تنظیموں کی طبی ٹیموں پر بھی پابندی عائد کر دی جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کارروائی کا مقصد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے۔پاکستانی حکام کی جانب سے پیر کو ہی شدت پسند مذہبی تنظیموں کے مالی معاملات کی چھان بین بھی شروع کر دی گئی اور ان کے بینک کھاتے  اور تمام تر اثاثے منجمد کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔ یہ تمام وہ تنظیمیں ہیں، جنہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ’شدت پسندی اور عسکریت پسندی‘ کے خاتمے پر زرو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنے یرغمال بنائے جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ پیر کو ہی ملکی وزارت داخلہ  میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ہوا، جس میں تمام صوبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں 2014ء میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تیار کیے گئے ’نیشنل ایکشن پلان‘ پر عمل مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ساتھ ہی اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر ایک پاکستانی اہلکار نے اس تاثر کو بھی کلی طور پر مسترد کر دیا کہ یہ کارروائیاں بھارتی دباؤ کی وجہ سے کی جا رہی ہیں،یہ فیصلے کشمیر میں حملے سے پہلے ہی کر لیے گئے تھے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)