دہلی تشدد: مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہوئی، این ایس اے اجیت ڈوبھال نے حالات قابو میں بتایا

نیشنل سکیورٹی ایدوائزر اجیت ڈوبھال نے دہلی پولیس کے سینئر افسروں  کے ساتھ میٹنگ کرنے کے بعد بدھ کو کہا کہ شمال مشرقی دہلی میں حالات قابو میں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بدھ کی دوپہر کچھ متاثرہ علاقوں  کا دورہ بھی کیا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیم قانون (سی اے اے) کو لےکر ہوئے فرقہ وارانہ تشدد میں مارے گئے لوگوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی ہے۔یہ تعداد بدھ تک 27 تھی، جس میں سے 25 لوگوں کی موت دلشاد گارڈن کے جی ٹی بی ہاسپٹل میں ہوئی تھی۔

دہلی کے محکمہ صحت کے ایک سینئر افسر نے کہا، ‘جی ٹی بی ہاسپٹل میں پانچ اور ایل این جے پی میں ایک اور شخص  کی موت ہو گئی۔ جگ پرویش چندر ہاسپٹل  میں بھی جمعرات  کو ایک شخص نے دم توڑ دیا، جس سے کل مرنے والوں کی تعداد 34 تک پہنچ گئی۔’لوک نایک جئے پرکاش نارائن ہاسپٹل (ایل این جے پی) میں بدھ کو ایک شخص کی موت علاج کے دوران ہو گئی تھی اور ایک کو وہاں لاتے ہی ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا تھا۔

ہاسپٹل میں موجود افسروں  نے بتایا کہ ایل این جے پی میں تشدد کے بعد شمال مشرقی دہلی کے مختلف  حصوں سے 50 سے زیادہ  لوگوں کو لایا گیا تھا۔ شمال مشرقی دہلی  میں ہوئے تشدد میں 200 سے زیادہ  لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

وہیں، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال نے دہلی پولیس کے سینئر افسروں  کے ساتھ میٹنگ  کرنے کے بعد بدھ کو کہا کہ شمال مشرقی دہلی  میں حالات قابو میں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بدھ کی دوپہر کچھ متاثر علاقوں  کا دورہ بھی کیا۔جعفرآباد، موج پور، بابرپور، یمنا وہار، بھجن پورہ، چاند باغ، شیو وہار بنیادی طور پر فسادات  سے متاثرہ علاقے ہیں۔

ڈوبھال کو تشدد کو روکنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہوں نے سیلم پور میں ڈپٹی کمشنر (نارتھ ایسٹ) کے آفس میں دہلی پولیس کے اعلیٰ افسروں  کے ساتھ میٹنگ کی۔

ایڈیشنل پولیس کمشنر(کرائم) ندیپ سنگھ رندھاوا،اسپیشل پولیس کمشنر ایس این شریواستو، اسپیشل پولیس کمشنر(نظم ونسق) ستیش گولچہ، نارتھ-ایسٹ  دہلی کے ڈی ایس پی وید پرکاش آریہ بھی میٹنگ میں شامل تھے۔ یہ میٹنگ30 منٹ سے زیادہ  وقت تک چلی۔ڈوبھال نے منگل دیر رات بھی دہلی پولیس کے سینئرحکام کے ساتھ اسی طرح کی بیٹھک کی تھی۔

بیٹھک کے بعد ڈوبھال حالات کا جائزہ لینے کے لئے جعفرآباداور موج پور گئے۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے بات چیت کی اور علاقے میں امن وامان یقینی بنانے کے بارے میں انہیں مطمئن کیا۔انہوں نے صحافیوں سے کہا، ‘حالات قابو میں ہیں  اور لوگ مطمئن ہیں۔ ہمیں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر بھروسہ ہے۔ پولیس اپنا کام کر رہی ہے اور محتاط ہے۔’

تشددکو دیکھتے ہوئے کئی علاقوں میں دفعہ144 لگا دی گئی ہے۔ خاص طورپر موج پور، کردم پوری، چاند باغ، دیال پور جیسے علاقوں میں زیادہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ پتھربازی کی خبریں آنے کے بعد کھجوری خاص علاقے میں ریپڈ ایکشن فورس (آراے ایف)کو اتار دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے بدھ کو دہلی پولیس نے بتایا تھا کہ نارتھ-ایسٹ دہلی میں ہوئےتشدد کے دوران 11 لوگوں کی موت سے متعلق منگل کو 11 ایف آئی آر درج کی ہے۔ دہلی پولیس کے ترجمان مندیپ سنگھ رندھاوا نے کہا کہ نارتھ-ایسٹ دہلی میں حالات قابو میں ہیں۔

حالانکہ کچھ حصوں سے تشدد کی خبریں آ رہی ہیں۔ اب تک 20 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔تشدد کا شکار ہوئے 11 لوگوں میں دہلی پولیس کے کانسٹبل رتن لال بھی شامل ہیں ذرائع  نے بتایا کہ انہیں بائیں کندھے میں گولی لگی تھی۔ رندھاوا نے کہا کہ تشدد کے بارےمیں 11 ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔

گزشتہ اتوار سے ہی قومی راجدھانی دہلی میں شرپسندوں کی بھیڑ لاٹھی ڈنڈے، راڈ اور چھڑی لے کر گھوم رہی ہے اور مسلمانوں کے گھر اور دکانیں جلا رہی ہے۔ حالانکہ، جب شرپسندوں کی بھیڑ سڑکوں پر فساد کر رہی تھی اور لوگوں پر حملہ کر رہی تھی تب دہلی پولیس زیادہ تر تماشائی بنی رہی تھی۔

 (خبررساں ایجنسی  بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)