اتر پردیش پولیس نے نوئیڈا کی مزدور تحریک کو ’سازش‘ قرار دیتے ہوئے سینکڑوں گرفتاریاں کی ہیں۔ اب اس کی چار ایف آئی آر میں داخل کی گئی چارج شیٹوں میں گرفتاری کی تاریخ، ملزمین کی موجودگی، موبائل لوکیشن، گواہوں کے بیان اور مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کے حوالے سے کئی تضادات سامنے آئے ہیں، جو جانچ پر سوال اٹھاتے ہیں۔ پولیس نے بھگت سنگھ پر لکھی گئی ایک کتاب کو بھی ملزمین کے نظریات کو مشتبہ قرار دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔
(تصویر: ارینجمنٹ/السٹریشن: دی وائر)
نئی دہلی: اپریل میں نوئیڈا میں ہوئی مزدور تحریک کو اتر پردیش پولیس ایک منصوبہ بند سازش قرار دیتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں اس نے بڑی تعداد میں کارکنوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ تاہم، اب چارج شیٹ سامنے آنے کے بعد پولیس اپنے ہی دعووں میں الجھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
معاملے میں کلیدی ملزم بنائے گئے سینئر صحافی اور کارکن ستیم ورما کے بارے میں یوپی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ’وہ شہر میں نہیں تھے، لیکن سازش میں انہوں نے رول ادا کیا۔‘ اسی چارج شیٹ میں ایک گواہ کہتا ہے کہ اس نے ’ورما کو دیگر مظاہرین کے ساتھ پولیس کے ساتھ دھکا مکی، پتھراؤ اور نعرے بازی کرتے ہوئے‘ دیکھا تھا۔
غور طلب ہے کہ ورما کے اہل خانہ پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ وہ تقریباً دس سال سے نوئیڈا نہیں آئے ہیں۔
یہ کوئی اکلوتا عجیب و غریب معاملہ نہیں ہے۔ جولائی میں اس معاملے سے متعلق چار ایف آئی آر کے حوالے سے داخل کی گئی چارج شیٹوں میں کئی ایسی باتیں حقائق کے طور پر پیش کی گئی ہیں جو ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ گرفتاری کی تاریخوں سے لے کر تشدد کے مقام پر ملزمین کی موجودگی، موبائل فون کی برآمدگی، مبینہ اشتعال انگیز تقاریر اور گواہوں کے بیانوں تک میں، کئی ایسے تضادات ہیں جو پولیس جانچ کی صداقت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
واضح ہو کہ تقریباً چار ماہ قبل نوئیڈا میں کم از کم اجرت، اوور ٹائم کی ادائیگی اور کام کے بہتر حالات کے مطالبے کو لے کر مزدوروں کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ کچھ جگہوں پر یہ تحریک پرتشدد ہو گئی۔ مزدوروں اور کارکنوں کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ پولیس کی جانب سے بغیر کسی اشتعال کے کیا گیا طاقت کا استعمال تھا، جبکہ پولیس کا کہناہے کہ ہجوم بے قابو ہو گیا تھا، اسی لیے طاقت کا استعمال کیا گیا۔
اس کے بعد پولیس نے تحریک کو ایک ’سازش‘ قرار دیتے ہوئے متعدد مزدوروں اور طلبہ کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔ اس معاملے میں مجموعی طور پر 14 ایف آئی آر درج کی گئیں اور سینکڑوں گرفتاریاں ہوئیں۔ اب ان 14 میں سے 4 ایف آئی آر میں چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے۔
اتر پردیش پولیس نے ایف آئی آر نمبر 163/2026، 164/2026، 165/2026 اور 169/2026 میں چارج شیٹ داخل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ تحریک مزدوروں کا ازخود جمع ہونا نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے ایک ’منصوبہ بند سازش‘ تھی۔ پولیس کے مطابق، کچھ سماجی کارکنوں اور طلبہ رہنماؤں نے مزدوروں کو تشدد پر اکسایا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کی اور لاء اینڈ آرڈر کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔
چارج شیٹ کے مطابق، کارکنوں نے وہاٹس ایپ گروپ، منصوبہ بند ملاقاتوں اور نظریاتی بنیادوں پر بھیڑ کو تحریک کے لیے جمع کیا۔
دی وائر نے ان چارج شیٹوں کا مطالعہ کیا ہے، جن میں کئی تضادات نظر آتے ہیں۔ اس معاملے میں گرفتار کارکنوں اور مزدوروں کی رہائی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’کیمپین فار ریلیز آف ورکرز اینڈ ایکٹیوسٹس آف نوئیڈا‘ (کارواں) نے پولیس پر چارج شیٹ میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام لگایا ہے۔
ریمانڈ شیٹ اور چارج شیٹ میں گرفتاری کی تاریخیں الگ -الگ
چارج شیٹ سے گرفتاریوں کی تاریخوں کے حوالے سے سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ ایف آئی آر 164 اور 165 کی چارج شیٹ میں آکرتی چودھری، سرشٹی گپتا اور منیشا چوہان کی گرفتاری کی تاریخ 27 اپریل درج کی گئی ہے۔ وہیں روپیش رائے کی گرفتاری 7 مئی دکھائی گئی ہے۔
تاہم، انہی ملزمین کے ریمانڈ دستاویزوں میں ان کی گرفتاری 17 اپریل بتائی گئی ہے۔
اسی طرح ایف آئی آر 163 میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں آکرتی چودھری کی گرفتاری کی تاریخ 22 اپریل درج ہے۔ سرشٹی گپتا اور منیشا چوہان کے لیے یہ تاریخ 24 اپریل ہے۔ لیکن ریمانڈ شیٹ میں ان سب کی گرفتاری کی تاریخ 15 اپریل درج ہے۔
تاہم، سرشٹی نے اپنی اور آکرتی، منیشا اور روپیش کی گرفتاری کے دوران فیس بک پر
لائیو ویڈیو شروع کر دی تھی، جس سے ان کی گرفتاری کی تاریخ 11 اپریل معلوم ہوتی ہے۔
چارج شیٹ میں صحافی ستیم ورما کے معاملے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں 19 اپریل کو فیز-2 تھانے سے گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ تحریک سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق انہیں 17 اپریل کی رات لکھنؤ میں ان کے گھر سے اٹھایا گیا تھا۔
وہیں، ہمانشو ٹھاکر کے معاملے میں ایک ہی چارج شیٹ کے اندر کئی تضادات نظر آتے ہیں۔ کیس ڈائری کے ایک حصے میں انہیں 18 اپریل کو دہلی کے شالیمار باغ سے گرفتار کیے جانے کا ذکر ہے، جبکہ دوسرے حصے میں گرفتاری 19 اپریل کو فیز-3 تھانے سے بتائی گئی ہے۔
جو جیل میں تھے، وہ تشدد کیسے کر رہے تھے؟
ایف آئی آر نمبر 164/26 میں دائر چارج شیٹ میں ایک اور اہم دعویٰ کیا گیا ہے کہ 13 اپریل کو آکرتی چودھری، سرشٹی گپتا، منیشا چوہان، روپیش رائے، آدتیہ آنند اور ہمانشو ٹھاکر موقع پر موجود تھے، اشتعال انگیز تقاریر کیں اور تشدد میں کردار ادا کیا۔
اس دعوے پر تحریک سے وابستہ لوگ سنگین سوال اٹھاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آکرتی، سرشٹی، منیشا اور روپیش کو 11 اپریل کی شام نوئیڈا کے بوٹینیکل گارڈن میٹرو اسٹیشن کے قریب سے حراست میں لے لیا گیا تھا اور اگلے ہی دن انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ تو پھر 13 اپریل کو ان کے جائے وقوعہ پر موجود ہونے کا پولیس کا دعویٰ سچ کیسے ہو سکتا ہے؟
اسی طرح ہمانشو ٹھاکر کے بارے میں دعویٰ ہے کہ پولیس کی جانب سے منسلک موبائل لوکیشن ریکارڈ ہی ان کی موجودگی کسی اور جگہ ظاہر کرتے ہیں۔
ایف آئی آر 169 کی چارج شیٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ 10 اپریل 2026 کو ہمانشو ٹھاکر نوئیڈا میں موجود تھے۔ تاہم، اسی چارج شیٹ کی کیس ڈائری-21 میں منسلک ان کے موبائل فون کی لوکیشن انہیں دہلی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ظاہر کرتی ہے۔ یعنی چارج شیٹ میں ان کی موجودگی کے حوالے سے کیا گیا دعویٰ اسی تفتیش کے دوران جمع کیے گئے ڈیجیٹل شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔
13 اپریل کو نوئیڈا میں تنخواہ میں اضافے کے مطالبے کے لیے پرامن احتجاج کرتے فیکٹری مزدور۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
چارج شیٹ میں ایک اور اہم تضاد صحافی ستیم ورما اور آکرتی چودھری کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ(این ایس اے) لگانے کی بنیاد کے طور پر پیش کیے گئے دستاویزوں سے متعلق ہے۔
ستیم ورماکے خلاف این ایس اےلگانے کے لیے ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے گئے دستاویزوں میں اتر پردیش پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 10، 11 اور 13 اپریل 2026 کو نوئیڈا میں موجود تھے۔ تاہم، بعد میں انہی واقعات سے متعلق دائر کی گئی چارج شیٹ میں پولیس کا دعویٰ اس سے الگ ہے۔
چارج شیٹ کے مطابق، ستیم ان دنوں نوئیڈا میں موجود نہیں تھے۔ ایف آئی آر 163 کی چارج شیٹ میں یہ درج ہے کہ’ملزم ستیم ورما تحریک کے وقت موقع پر موجود نہیں تھے، لیکن مجرمانہ سازش کے ذریعے تحریک کو پرتشدد تحریک بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔‘
اس کے برعکس، چارج شیٹ میں ایک گواہ کا بیان درج ہے، جو کہہ رہا ہے کہ اس نے ستیم ورما کو آدتیہ اور ہمانشو کے ساتھ روڈ جام کرتے، پولیس پر پتھراؤ کرتے اور دھکا مکی کرتے دیکھا تھا۔ ساتھ ہی پولیس بھی یہ کہہ رہی ہے کہ اسے 10 اپریل کے واقعے کا ایک ویڈیو ملاہے، جس میں ملزم آدتیہ اور ہمانشو کے ساتھ ستیم ورما نعرے بازی کر رہے ہیں۔
وہیں ستیم ورما کے قریبی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ دس سال سے نوئیڈا نہیں آئے ہیں۔
موبائل فون کی برآمدگی بھی سوالوں کے گھیرے میں
ایف آئی آر 165 کی کیس ڈائری کے مطابق آکرتی چودھری کا موبائل فون 26 اپریل کو فیز-2 تھانے کے علاقے میں واقع نمی وہار کے ایک پارک میں رکھے بیگ سے برآمد کیا گیا۔
لیکن دوسری جانب ایف آئی آر 169 میں شامل موبائل لوکیشن ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 11 اپریل کی شام تک ان کا فون بوٹینیکل گارڈن میٹرو اسٹیشن کے آس پاس فعال تھا۔ اسی وقت انہیں حراست میں لیے جانے کے شواہد بھی موجود ہیں۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر گرفتاری کے بعد وہ پولیس کی حراست میں تھیں تو ان کا بیگ تقریباً دس کلومیٹر دور واقع پارک تک کیسے پہنچا؟ سرشٹی گپتا کے موبائل فون کی برآمدگی کے حوالے سے بھی ایسا ہی سوال اٹھایا گیا ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان کا فون 26 اپریل کو ایس این سی کمپنی کے قریب سے برآمد ہوا تھا۔ لیکن چارج شیٹ میں دیے گئے سرشٹی کے کال ڈیٹیل ریکارڈ(سی ڈی آر) کے مطابق، 11 اپریل کی شام ان کا فون بوٹینیکل گارڈن میٹرو اسٹیشن کے آس پاس ایکٹو تھا۔ گرفتاری کے دوران اپنے لائیو ویڈیو میں سرشٹی یہ دعویٰ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ پولیس نے ان کا فون چھین لیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جاری کیے گئے سی ڈی آر میں ان کے فون کی لوکیشن گرفتاری کے بعد بھی بدل رہی تھی۔
تقاریر کا الزام، لیکن ثبوت کہاں ہیں؟
چارج شیٹ کا بڑا حصہ اس دعوے پر مبنی ہے کہ کئی ملزمین نے مزدوروں کو تشدد پر اکسایا۔ ایف آئی آر 164 میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ 11 اور 13 اپریل کو آدتیہ آنند، روپیش رائے سمیت دیگر ملزمین نے اشتعال انگیز تقاریر کیں۔
لیکن کارکنوں کا الزام ہے کہ چارج شیٹ میں ان مبینہ تقاریر کی نہ تو ویڈیو ریکارڈنگ منسلک کی گئی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی براہ راست ثبوت موجود ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ انہوں نے واقعی تشدد پر اکسایا تھا۔
اس کے برعکس، تحریک سے وابستہ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ عوامی طور پر دستیاب کئی ویڈیو میں یہی لوگ مزدوروں سے احتجاج کو پرامن بنائے رکھنے کی
اپیل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ایف آئی آر 169 میں یوگیش مینا کے خلاف بھی وہاٹس ایپ گروپ میں اشتعال انگیز پیغامات بھیجنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم چارج شیٹ میں جن پیغامات کے اسکرین شاٹس لگائے گئے ہیں، ان میں کہیں بھی براہ راست تشدد پر اکسانے والی زبان دکھائی نہیں دیتی۔
جس وہاٹس ایپ گروپ میں اشتعال انگیز پیغام بھیجے جانے کا پولیس دعویٰ کرتی ہے، اس کے بارے میں معاملے میں درخواست گزار کیشو آنند اور اس گروپ میں سرگرم رہے دیگر ارکان کا کہنا ہے کہ یوگیش نے کبھی بھی گروپ میں کوئی
اشتعال انگیز پیغام نہیں بھیجا، بلکہ ارکان سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی۔
کیشو نے دی وائر کو یہ بھی بتایا کہ دستیاب چیٹ ریکارڈ سے واضح ہے کہ یوگیش نے انل کمار کی جانب سے بھیجے گئے مبینہ اشتعال انگیز پیغامات کی حمایت نہیں کی تھی بلکہ ان پر سوال اٹھائے تھے۔ بتادیں کہ انل کمار وزارت داخلہ میں کانٹریکٹ پر کام کرتے تھے۔ ان کے اوپر مظاہرین کا الزام ہے کہ انہوں نے گروپ میں اشتعال انگیز پیغام بھیجے تھے اور وہ پولیس کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔
رچا گلوبل وہاٹس ایپ گروپ میں یوگیش کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات۔
ایف آئی آر 163/2026 کی چارج شیٹ میں پولیس نے 10 اور 11 اپریل کو بھی پرتشدد واقعات پیش آنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن اس دعوے کی تصدیق کے لیے چارج شیٹ میں کوئی ویڈیو ثبوت یا دیگر براہ راست شواہد فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔
مبینہ سازش یا عوامی پروگرام؟
چارج شیٹ میں پولیس نے 22 مارچ کو دہلی کے کراول نگر میں ہوئی ایک بیٹھک کو مبینہ سازش کی ایک اہم کڑی قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق اسی بیٹھک میں تحریک کو پرتشدد بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔
تحریک سے وابستہ لوگ اس دعوے کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس روز کراول نگر میں کسی خفیہ میٹنگ کے بجائے ایک عوامی پروگرام منعقد ہوا تھا، جس میں بچوں کے لیے ایک لائبریری اور ’شہید بھگت سنگھ یوتھ سینٹر‘ کا افتتاح کیا گیا تھا۔ پروگرام کی تصویریں اور ویڈیو
عوامی طور پر دستیاب ہیں۔
گواہوں کے بیان بھی ایک جیسے
چارج شیٹوں میں درج گواہوں کے بیانوں کے حوالے سے بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔
کئی گواہوں کے بیان لفظ بہ لفظ ایک جیسے ہیں۔ کچھ معاملوں میں درجنوں گواہوں نے تقریباً ایک جیسی زبان میں بیان دیے ہیں۔
کئی گواہوں کے بیان ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں۔
تحریک سے وابستہ لوگ پولیس کی تفتیش کے طریقہ کار پر سنگین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا بیان آزادانہ طور پر درج کیے گئے تھے یا پہلے سے تیار کردہ فارمیٹ کی بنیاد پر لکھے گئے ہیں۔
مارکسی نظریے کو بھی الزام کا حصہ بنایا گیا
ایف آئی آر 163 کی چارج شیٹ میں صحافی ستیم ورما کے حوالے سے ان کے ’مارکسی نظریات‘ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ اسی چارج شیٹ میں ملزمین کے مارکسی نظریے سے متاثر ہونے اور مختلف بائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ ہونے کا متعدد موقع پر ذکر کیا گیا ہے۔ ملزمین کے پاس سے ’بائیں بازو کا لٹریچر‘ برآمد ہونے کی بات بھی کہی گئی ہے اور اسے تحریک کے لیے کی گئی مبینہ سازش کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
ایف آئی آر نمبر 169 کی چارج شیٹ میں درج ہے کہ ’ملزم کے گھر سے انقلاب سے متعلق کتاب برآمد ہوئی تھی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزم کا نظریہ انقلابی ہے۔‘
یہاں ان کتابوں پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہو جاتا ہے جنہیں پولیس نے سنگین جرائم سے متعلق ایف آئی آر کی چارج شیٹ میں اہم سمجھا ہے۔
لٹریچر کی فہرست میں درج دوسری ہی کتاب بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں پر لکھی گئی تاریخ دان ایس عرفان حبیب کی کتاب ’بہروں کو سنانے کے لیے‘ ہے۔ اس فہرست میں مارکسی نظریات پر تحقیق اور ڈسکورس شائع کرنے والے ’دشا سندھان‘ کے کتابچے بھی شامل ہیں، سماجی برائیوں پر لکھی گئی دتا بھارتی کی کتاب ’ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے‘ بھی اس میں شامل ہے۔ ایک معروف کتاب ’درشن کوئی رہسیہ نہیں‘،جو چینی انقلاب کے دوران کسانوں کو آسان زبان میں فلسفے کی تعلیم دیے جانے کے موضوع پر ہے۔
اس کے علاوہ ’جن چیتنا‘ اور ’مزدور بگل‘ جیسے رسالوں کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔ مارکسزم، لینن ازم، نیپال انقلاب، فاشزم وغیرہ پر کتابیں بھی موجود ہیں۔ کئی کتابوں کے نام واضح طور پر نہیں لکھے گئے اور کئی کے نام ممکنہ طور پر نامکمل ہیں۔ لیکن اس فہرست میں شامل زیادہ تر کتابیں، (جو پڑھنے میں آ رہی ہیں) کسی بھی عوامی کتب خانے یا یونیورسٹی کی لائبریری میں مل سکتی ہیں۔
پولیس کے مطابق، گرفتار کیے گئے کارکنوں کے پاس ماؤ نواز ادب سے متعلق کتابیں یا ممنوعہ کتابیں برآمد ہوئی ہیں۔
یہاں دھیان دینا ضروری ہے کہ پولیس دو طرح کی فہرست پیش کرتی ہے۔ ایک فہرست میں ان کتابوں کے نام ہیں جو ملزمین کے گھروں سے ملی ہیں۔ (اوپر اسی کا ذکر کیا گیا ہے۔) دوسری فہرست میں ایسی کتابیں ہیں جو گھر سے نہیں بلکہ کہیں باہر سے ملی ہیں، جن کے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ ملزمین سے متعلق ہیں۔ تاہم تحریک سے وابستہ لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس نے یہ مواد ’پلانٹ‘ کیا ہے۔
پولیس کا الزام ہے کہ سرشٹی کے بیگ سے سی پی آئی (ماؤسٹ) کی ایک ممنوعہ کتاب برآمد ہوئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پولیس خود تسلیم کرتی ہے کہ یہ بیگ سرشٹی کے پاس سے نہیں بلکہ ایک پارک سے ملا۔ پولیس نے منیشا کے پاس سے بھی ممنوعہ ماؤ نواز ادب کی ایک کاپی ملنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ہمانشو کے کمرے، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے بائیں بازو/ماؤ نواز نظریے سے متعلق مواد برآمد ہونے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔
(تمام تصویریں بہ شکریہ: ستیم ورما، رہائی منچ)
چارج شیٹ میں ملزمین کی مبینہ نظریاتی وابستگی اور ان کے پاس سے برآمد ہونے والی کتابوں کا ذکر کیے جانے پر سپریم کورٹ کی وکیل اور اس معاملے میں کئی ملزمین کا کیس دیکھ رہی وکیل کنول پریت کور کہتی ہیں کہ قانون اس معاملے میں بالکل واضح ہے۔ کسی شخص کے پاس کسی نظریے سے متعلق کتابوں کا ہونا یا کسی سیاسی یا نظریاتی سوچ سے اتفاق کرنا، بذات خود نہ تو مجرمانہ نیت ثابت کرتا ہے اور نہ ہی کسی پرتشدد سازش میں اس کی شمولیت ثابت کرتا ہے۔
وہ مزید کہتی ہیں؛
ہمارا آئین ہر شہری کو سوچنے، پڑھنے، بحث کرنے اور اپنی سیاسی رائے رکھنے کی آزادی دیتا ہے، چاہے وہ نظریہ کتنا ہی غیر مقبول کیوں نہ ہو۔ ایک جمہوری معاشرے میں طلبہ، ریسرچ اسکالر، وکیل اور سیاسی کارکن مختلف سیاسی اور فلسفیانہ نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ مارکس، امبیڈکر، گاندھی یا ماؤ کو پڑھنا بذات خود کسی مجرمانہ فعل کا ثبوت نہیں ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں
ورنان گونجالوس بنام ریاست مہاراشٹر کے معاملے میں بھی سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ صرف کسی لٹریچر کو اپنے پاس رکھنا یا کسی نظریے سے وابستگی رکھنا، جب تک اس کے ساتھ تشدد پر اکسانے، پرتشدد سرگرمیوں میں شرکت یا کسی غیر قانونی فعل کا ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو، جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔
چارج شیٹ میں ملزمین کی مبینہ نظریاتی وابستگی پر دیے گئے زور کو کنول پریت نے قانونی طور پر گمراہ کن قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہیں اور جمہوری عمل میں حصہ لیتی ہیں۔ ایسے میں صرف کسی بائیں بازو یا ریڈیکل سیاسی نظریے سے اتفاق کرنا جرم نہیں ہو سکتا۔
اس معاملے میں سی پی آئی (ایم) کی رہنما اور سابق رکن پارلیامنٹ برندا کرات کہتی ہیں،’یہ تو بے حد غلط ہے۔ کیا ہمارے ملک میں صرف (آر ایس ایس )کی نظریاتی سوچ ہی چلے گی؟ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ مارکسی نظریے کو ماننے کی بنیاد پر کسی شخص کے خلاف این ایس اے لگایا گیا ہے۔‘
مزدوروں کے مطالبےبھی ’نامناسب‘
ایف آئی آر 163 کی چارج شیٹ میں پولیس نے مزدوروں کے مطالبے کو ’نامناسب مطالبات‘ قرار دیا ہے۔ ان مطالبات میں کم از کم اجرت میں اضافہ، اوور ٹائم کی دگنی ادائیگی، ہفتہ وار تعطیل اور کام کے بہتر حالات شامل تھے۔
چارج شیٹ میں لکھا گیا ہے کہ،’مورخہ 10/4/26 کو صبح 9 بجے فیز 2 تھانہ حلقہ میں کئی کمپنیوں کے ملازمین نے اپنے ’نامناسب مطالبات‘ کے سلسلے میں مختلف مقامات پر راستے اور مرکزی سڑکیں جام کیں۔‘
پولیس کی چارج شیٹ پر کی گئی پریس کانفرنس کے دوران کارکنوں نے کہا کہ یہ تمام مطالبے مزدور قوانین اور مزدوروں کے حقوق سے متعلق ہیں، انہیں ’نامناسب‘ قرار دینا بذات خود کئی سوال پیدا کرتا ہے۔
یہ بھی بتا دیں کہ تحریک کے بعد اتر پردیش حکومت نے کم از کم اجرت میں ترمیم کا اعلان بھی کیا تھا اور اسے تقریباً 2500 روپے بڑھایا تھا۔ تاہم، اس اضافے کو لے کر بھی
سوال اٹھائے گئے ہیں۔ یعنی ایک طرف حکومت مزدوروں کے جن مطالبات پر غور کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف پولیس ان مطالبات کو ’نامناسب‘ قرار دے رہی ہے۔
پولیس کے سامنے دیے گئے مبینہ بیان
چارج شیٹ میں پولیس نے ملزمین کے مبینہ بیان کو بھی تحقیقات کی ایک اہم بنیاد بنایا ہے۔
دستاویز کے مطابق، سرشٹی گپتا اور منیشا چوہان نے مبینہ طور پر مارکسی اور ماؤ نواز نظریے سے متاثر ہونے کی بات کہی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ سرشٹی نے پُرتشدد تحریک کی منصوبہ بندی میں شامل ہونے، آدتیہ آنند کی جانب سے بھیڑ کو تشدد پر اکسانے کی حکمت عملی طے کرنے، ویڈیو کے ذریعے مزدوروں کو بھڑکانے، انتظامیہ کے خلاف ماحول بنانے اور تشدد میں استعمال ہونے والا سامان جائے وقوعہ تک پہنچانے کی بات قبول کی۔
ہمانشو ٹھاکر کے مبینہ بیان کے مطابق، انہوں نے احتجاج کو پرتشدد بنانے کی منصوبہ بندی، 10 اپریل کو آدتیہ آنند اور روپیش رائے کے ان کے گھر پر قیام، اور 11 اپریل کے احتجاج کو پرتشدد بنانے کی تیاری کا ذکر کیا۔ پولیس کے مطابق، انہوں نے پتھر، ڈنڈے اور آتش گیر مواد فراہم کرنے کی بات بھی قبول کی اور خود کو مارکسی نظریے سے متاثر بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا ’پوشیدہ ایجنڈا ماؤ ازم‘ ہے۔
پولیس کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے وکیل کنول پریت کہتی ہیں کہ سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں یہ تسلیم کر چکی ہے کہ پولیس حراست میں تشدد ایک سنگین اور وسیع مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کے سامنے دیے گئے مبینہ اعترافی بیانات کو عدالتیں کمزور ترین شواہد میں شمار کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روپیش رائے کے مبینہ بیان کو جس طرح چارج شیٹ میں پیش کیا گیا ہے، اس سے اس کی صداقت پر سنگین سوال کھڑےہوتے ہیں۔
ان کے مطابق، یہ بیان استغاثہ کے مؤقف کو مضبوط کرنے کے لیے بڑھا چڑھا کر تیار کیا گیا معلوم ہوتا ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ دباؤ کے تحت درج کرایا گیا ہو۔
کنول پریت نے مزید کہا کہ اس خدشے کو روپیش رائے اور آدتیہ آنند کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست بھی تقویت دیتی ہے، جس میں دونوں نے نوئیڈا پولیس پر حراست کے دوران تشدد اور اذیت دینے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست کے ساتھ منسلک آدتیہ آنند کی میڈیکل رپورٹ میں بھی پولیس حراست کے دوران انہیں پہنچنے والی چوٹوں کا ذکر موجود ہے۔
غیر ملکی اور فلسطین حامی تنظیموں سے تعلق آکرتی کے بیان کا ایک اہم نکتہ
چارج شیٹ میں آکرتی چودھری کے مبینہ بیان کی بنیاد پر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے انٹرنیشنل پیپلز سالیڈیریٹی فار فلسطین(آئی پی ایس پی)اور بائیکاٹ، ڈی ویسٹمنٹ اینڈ سینکشنز (بی ڈی ایس) جیسے فلسطین حامی گروہوں سے وابستگی کا اعتراف کیا۔
چارج شیٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے غیر ملکی رابطوں سے ٹیلی گرام اور فیس ٹائم جیسے ذرائع کے ذریعے بات چیت کرنے کا ذکر کیا، تاکہ کال ریکارڈ نہ ہو سکے۔
پولیس کے مطابق، ان کے موبائل فون سے غزہ کے حامی بتائے جانے والے تین غیر ملکی رابطوں کے نمبر بھی ملے ہیں۔ اس کے علاوہ، چارج شیٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ آکرتی نے ان ذرائع کو ’اینٹی انڈیا پروپیگنڈا‘ پھیلانے اور مزدوروں کی ناراضگی سے فائدہ اٹھا کر پرتشدد تحریک کھڑی کرنے کی منصوبہ بندی سے متعلق مبینہ حقائق کو قبول کیا۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ چارج شیٹ میں کسی شخص کے فلسطین حامی گروہوں سے مبینہ تعلق کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے، اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا صرف فلسطین کی حمایت یا ایسے گروہوں سے رابطے کو ہی جرم کی بنیاد تصور کیا گیا ہے؟
فلسطین کے معاملے پر ہندوستان کی حمایت طویل عرصے سے اس کی سرکاری خارجہ پالیسی کا حصہ رہی ہے۔ ہندوستان نے 1974 میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کو فلسطینی عوام کا واحد اور قانونی نمائندہ تسلیم کرنے والے پہلے غیر عرب ملک کے طور پر کردار ادا کیا تھا، اور 1988 میں فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں بھی شامل تھا۔
اس سے پہلے 1981 میں ہندوستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے والا ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا۔
(بہ شکریہ: وکی میڈیا کامنز/اسٹیمپس آف انڈیا)
فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے سفارتی تعلقات صرف رسمی بیانات تک محدود نہیں رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے فروری 2018 میں فلسطین کا دورہ کیا تھا، جو کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا اس طرح کا پہلا دورہ تھا۔ اس سے قبل اس وقت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے جنوری 2016 میں اور اس وقت کے وزیر مملکت برائے خارجہ ایم جے اکبر نے نومبر 2016 میں فلسطین کا دورہ کیا تھا۔ دسمبر 2023 میں وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے بھی اس وقت کے فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ سے فون پر بات چیت کرکے فلسطینی عوام کے لیے ہندوستان کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
ہندوستان نے گزشتہ برسوں کے دوران فلسطین کو ترقیاتی تعاون اور بجٹ میں مالی معاونت بھی فراہم کی ہے۔ ایسے میں محض فلسطین کی حمایت کرنا، فلسطین کے حامی خیالات رکھنا یا فلسطین سے وابستہ کسی تنظیم سے رابطے میں ہونا، بذات خود کسی مجرمانہ سرگرمی کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
تاہم، اگر پولیس کا الزام یہ ہے کہ کسی تنظیم یا غیر ملکی رابطے کے ذریعے ہندوستان میں تشدد بھڑکانے، غیر قانونی سرگرمی انجام دینے یا کسی دوسرے جرم کی منصوبہ بندی کی گئی، تو اس الزام کے حق میں مخصوص اور آزادانہ شواہد کی ضرورت ہوگی۔ چارج شیٹ میں مبینہ اعتراف جرم کا ذکر ہونا اور اس مبینہ اعتراف کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا، دو الگ الگ باتیں ہیں۔
ٹیلی گرام اور فیس ٹائم کے استعمال کے حوالے سے پولیس کی دلیل پر بھی اسی طرح سوال اٹھتا ہے۔ دونوں عام ڈیجیٹل مواصلاتی ذرائع ہیں اور کسی شخص کا کسی مخصوص ایپ کا استعمال کرنا، بذات خود مجرمانہ سرگرمی کی علامت نہیں ہے۔ اگر پولیس کا دعویٰ ہے کہ آکرتی نے ٹیلی گرام اور فیس ٹائم کا استعمال اس لیے کیا تاکہ ان کی بات چیت کا کال ریکارڈ دستیاب نہ ہو سکے، تب بھی صرف اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ بات چیت کا مقصد مجرمانہ تھا۔ نجی مواصلات کی رازداری ہندوستانی آئین کے تحت محفوظ حق ہے۔
آکرتی چودھری کے مبینہ پولیس بیان کے حوالے سے بھی چارج شیٹ کے دعووں اور آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ پولیس نے ان کے حوالے سے جن سرگرمیوں اور مبینہ عزائم کا ذکر کیا ہے، ان کی آزادانہ تصدیق کس حد تک ہوئی ہے اور کیا چارج شیٹ میں ان دعووں کے حق میں پیغامات، دستاویز، مالی لین دین، عینی گواہوں یا دیگر آزادانہ شواہد پیش کیے گئے ہیں-یہ اہم سوال ہے۔
آکرتی کے جاننے والوں اور دستیاب پس منظر کے مطابق وہ تھیٹر سے وابستہ رہی ہیں اور سماجی مسائل پر عوامی طور پر اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ان کے خلاف ماضی میں کسی مجرمانہ مقدمے یا ایف آئی آر کا ریکارڈ ہونے کی اطلاع بھی سامنے نہیں آئی ہے۔
’چارج شیٹ میں موجود واضح خامیاں استغاثہ کے پورے معاملے کی ساکھ پر سنگین سوال اٹھاتی ہیں‘
وکیل کنول پریت کور نے دی وائر سے کہا کہ ’اگر ان معاملوں میں اتر پردیش پولیس کی جانب سے دائر کی گئی چاروں چارج شیٹوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان میں ملزمین کے خلاف نہ تو جسمانی تشدد اور نہ ہی اشتعال انگیز تقاریر کی ایسی ٹھوس مثالیں موجود ہیں جو استغاثہ کے دعووں کو ثابت کر سکیں۔ اس کے بجائے، چارج شیٹ میں بار بار ملزمین کی مبینہ مارکسی نظریاتی وابستگی کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مزدوروں کی تنظیم سازی، ٹریڈ یونین تحریکوں، جمہوری اختلاف رائے اور پرامن احتجاج جیسے آئینی حقوق کو ہی جرم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
کئی معاملوں میں ضمانت، پھر بھی جیل میں
تحریک کے دوران گرفتار کیے گئے کارکنوں کے خلاف درج 11 ایف آئی آر میں کئی ملزمین کو الگ الگ معاملوں میں ضمانت مل چکی ہے، لیکن کچھ معاملوں میں ضمانت نہ ملنے کے باعث وہ اب بھی جیل میں ہیں۔
ایف آئی آر 116، 117 اور 157 میں تقریباً تمام ملزمین کو ضمانت مل گئی ہے۔ ایف آئی آر 165 میں 5، ایف آئی آر 164 میں 5، ایف آئی آر 151 میں 5 اور ایف آئی آر 149 میں 2 ملزمان کو ضمانت ملی ہے۔ وہیں، ایف آئی آر 163، 158 اور 172 میں روپیش کے بھائی مدھوریش کے علاوہ کسی کو ضمانت نہیں ملی ہے۔
مجموعی طور پر، منیشا کو 11 میں سے 8، یوگیش اور روپیش کو 6-6، ہمانشو کو 7، آدتیہ اور سرشٹی کو 5-5، ستیم ورما کو 4 اور آکرتی کو 3 معاملوں میں ضمانت مل چکی ہے۔
دی وائر نے معاملے سے متعلق سوال پولیس کو بھیجے ہیں۔ جواب موصول ہونے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔