بہار: بی جے پی کے کہنے پر وی آئی پی سربراہ مکیش سہنی کو وزیر کے عہدے سے ہٹایا گیا

ریاستی محکمہ اطلاعات اور تعلقات عامہ نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بی جے پی کی جانب سے مکیش سہنی کو وزیر کے عہدے سے ہٹانے کی گزارش کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے راج بھون کو اس کی سفارش کی تھی۔ بی جے پی کا کہنا تھاکہ سہنی اب این ڈی اے اتحاد کا حصہ نہیں ہیں، اس لیے انہیں وزیر کے عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے۔

ریاستی محکمہ اطلاعات اور تعلقات عامہ نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بی جے پی کی جانب سے مکیش سہنی کو وزیر کے عہدے سے ہٹانے کی گزارش کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے راج بھون کو اس کی سفارش کی تھی۔ بی جے پی کا کہنا تھاکہ سہنی اب این ڈی اے اتحاد کا حصہ نہیں ہیں، اس لیے انہیں وزیر کے عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے۔

مکیش سہنی۔ (فوٹو بہ شکریہ: Facebook/@sonofmallah)

مکیش سہنی۔ (فوٹو بہ شکریہ: Facebook/@sonofmallah)

نئی دہلی: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اتوار کو کابینہ وزیر اور وکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے بانی سربراہ مکیش سہنی کو کابینہ سے برخاست کردیا۔

سہنی کو گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) میں شامل کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق، بی جے پی کی ایک تحریری درخواست کے بعد وزیر اعلیٰ نے گورنر سے ماہی پروری اور حیوانات کے وزیر سہنی کو کابینہ سے ہٹانے کی سفارش کی۔

ریاستی بی جے پی کے ترجمان اروند کمار سنگھ نے ایک بیان میں کہا، ریاستی بی جے پی سربراہ نے سہنی سے کہا تھا کہ وہ اپنے طریقے کو ٹھیک کریں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا،جس نے ‘ماہی گیر’ برادری کو بہت زیادہ ناراض کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے ذریعے وہ سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر بار بار حملہ کرنے پر بی جے پی بالی ووڈ کے سابق سیٹ ڈیزائنر سہنی سے بہت ناراض تھی۔ سہنی کی پارٹی نے اتر پردیش میں 50 سے زیادہ سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا، لیکن اس میں انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔

سہنی، جو اپنے آپ کو ‘سن آف ملاح’ کہتے ہیں، کو گزشتہ ہفتے اس وقت بڑا جھٹکا لگاتھا جب تینوں وی آئی پی ایم ایل اے نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ تب سہنی نے کہا تھا کہ وہ وزیر کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گے، وزیر اعلیٰ نتیش کمار چاہیں تو انہیں برخاست کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا، یہ وزیر اعلیٰ کا اختیار ہے کہ وہ مجھے اپنی کابینہ میں رکھیں۔ مجھے انہوں نے شامل کیا تھا اور یہ فیصلہ انہی کو کرنا چاہیے کہ میں رہوں یا چھوڑوں۔ جب تک وہ چاہیں گے میں عوام کے لیے کام کرتا رہوں گا۔

بتادیں کہ 2020 کے بہار انتخابات میں بی جے پی نے اپنے این ڈی اے اتحاد کے کوٹے سے سہنی کی پارٹی وی آئی پی کو 11 سیٹیں دی تھیں، جن میں سے اس نے چار سیٹوں پرجیت درج کی تھی۔ بوچہاں اسمبلی سیٹ کے وی آئی پی ایم ایل اے کی موت ہوچکی ہے۔ جلد ہی اس سیٹ پر ضمنی انتخاب ہونے والے ہیں۔

سہنی، جو پہلے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے زیرقیادت مہا گٹھ بندھن کے ساتھ تھے، نے 2020 کے اسمبلی انتخابات کے اعلان کے بعد اپوزیشن خیمہ چھوڑ دیا تھا۔ دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کے بعد سہنی کی پارٹی این ڈی اے میں شامل ہوئی تھی۔

بہار کے اسمبلی انتخابات میں سہنی کی پارٹی کو چار سیٹوں پر کامیابی ملی لیکن وہ خود الیکشن ہار گئے، لیکن سہنی کو وزیر بنایا گیا۔ وہیں، وی آئی پی ایم ایل اے کی موت کے بعد خالی ہوئی بوچہاں سیٹ پر ضمنی انتخاب میں بی جے پی نے اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے۔

حال ہی میں بی جے پی کے ریاستی صدر سنجے جیسوال نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ سہنی کو 2020 کے انتخابات کے چھ ماہ کے اندر ان کی پارٹی کو بی جے پی میں ضم کرنے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن وی آئی پی سربراہ اس وعدے سے مکر گئے۔

تاہم، سہنی نے ایسے کسی بھی معاہدے سے انکار کیا تھا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق،  ریاست کے انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشن ڈپارٹمنٹ نے اپنے آفیشل وہاٹس ایپ گروپ میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا، بی جے پی کی جانب سے مکیش سہنی کو وزیر کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست کے بعد وزیر اعلیٰ نے راج بھون کو اس کی سفارش کی۔ وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے اپنے خط میں بی جے پی نے لکھا کہ سہنی اب این ڈی اے اتحاد کا حصہ نہیں ہیں، اس لیے انہیں وزیر کے عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے۔

اس سے پہلے،سہنی نے کہا تھا کہ 2020 کے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی قیادت والے اتحاد کو چھوڑ کر این ڈی اے میں شامل ہونا ان کی  غلطی تھی۔

سہنی کو برخاست کرنے سے پہلے بی جے پی کے سربراہ جیسوال نے اتوار کو الزام لگایا تھا کہ سہنی نے ماہی گیر برادری کو اس مہینے کے شروع میں ایک آرڈر کے ذریعے رجسٹرڈ سوسائٹی ‘پرکھنڈ متسیا جیوی سہیوگ سمیتی’ کے تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ کھلواڑ کرکے بہت نقصان پہنچایاتھا۔

جس آرڈر کی بات کی ہو رہی ہے وہ ماہی گیروں کی 13 رکنی بلاک لیول باڈی کے بجائے بیوروکریٹس کو زیادہ اختیارات دیتا ہے۔

نئے حکم نامے میں بلاک لیول کوآپریٹو سوسائٹی کا انتخاب کرنے والے ماہی گیروں کو آن لائن ممبر بنانے کا بھی اہتمام ہے، لیکن ‘ماہی گیر’ کون ہوگا، اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

بی جے پی کے ماہی گیر سیل کے ریاستی کنوینر للن سہنی نے کہا، ہم نے سہنی سے کہا کہ وہ بتائیں کہ رجسٹرڈ ماہی گیر کون ہیں۔ انہیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ کون کوآپریٹو سوسائٹی کا ممبر بن سکتا ہے۔ کوآپریٹو ڈیارٹمنٹ نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

بہرحال بہار قانون ساز کونسل کے رکن کے طور پر سہنی کی میعاد اس سال جولائی میں ختم ہو رہی ہے۔ بی جے پی نےہی انہیں اپنےایک ممبر کی خالی کردہ سیٹ سے منتخب ہونے میں مدد کی تھی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)