مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے پیپر لیک سے متعلق اس بیان پر اپوزیشن اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کچھ طلبہ نے پیپر لیک کے واقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ محنت کی اور ان کی کارکردگی بہتر ہوئی۔ اپوزیشن نے اس بیان کو غیر حساس اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

نرملا سیتارمن۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی:پیپر لیک اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف دارالحکومت نئی دہلی سمیت ملک بھر کے مختلف شہروں میں نوجوانوں کا احتجاج جاری ہے۔ اس بیچ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ایک بیان نے سیاسی تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بھی اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات (23 جولائی) کو سیتارمن نے کہا تھا کہ کچھ طلبہ نے پیپر لیک کے واقعہ کا فائدہ اٹھاکر زیادہ محنت کی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سیتارمن نے کہا،’اگر حکومت نے وقت پر کارروائی نہ کی ہوتی، وقت پر گرفتاریاں نہ کی ہوتیں، وقت پر دوبارہ امتحان نہ کرایا ہوتا اور واقعہ کے بعد وقت پرنتائج کا اعلان نہ کیا ہوتا، تو آج نوجوان ان اداروں میں داخلہ لینے کی پوزیشن میں نہ ہوتے،جہاں انہیں اپنی آگے کی پڑھائی کرنی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا،’یہ سب ہو رہا ہے، اور کچھ نوجوان خود سامنے آ کر کہہ رہے ہیں کہ جب پیپر لیک ہوا تو مجھے بہت افسوس ہوا، لیکن بعد میں میں نے اس کا فائدہ اٹھایا اور زیادہ محنت سے تیاری کی۔ میری کارکردگی بہتر ہوئی اور میں نے اچھا نتیجہ حاصل کیا۔ ایسے بھی نوجوان ہیں جنہوں نے اس چیلنج کا سامنا کیا اور کامیابی حاصل کی۔‘
#WATCH | Delhi: On the Cockroach Janta Party protest, Union Finance Minister Nirmala Sitharaman says, “… If this response is not come from the government of making sure the arrests are done in time re-exam happen on time and on time post the incident, an announcement of the… pic.twitter.com/l1AfCMrcvT
— ANI (@ANI) July 23, 2026
وزیر خزانہ کے اس بیان کے بعد کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر حساس اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
کانگریس نے اپنی پوسٹ میں لکھا،’جس پیپر لیک نے 21 سے زیادہ بچوں کی جان لے لی، جس کے خلاف لاکھوں نوجوان احتجاج کر رہے ہیں، اسی کے فائدے حکومت گنوا رہی ہے۔ یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی حکومت پیپر لیک روکنے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ ان لوگوں نے ملک کے تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔‘
मोदी सरकार में वित्त मंत्री निर्मला सीतारमण ‘पेपर लीक’ के फ़ायदे गिना रही हैं।
जिस ‘पेपर लीक’ ने 21 से ज़्यादा बच्चों की जान ले ली, जिसके ख़िलाफ़ लाखों युवा आंदोलन कर रहे हैं- ये सरकार उसके भी फायदे समझा रही है।
ये असंवेदनशील और ग़ैर-ज़िम्मेदाराना बयान सबूत है कि मोदी सरकार… pic.twitter.com/X2WXLz1trD
— Congress (@INCIndia) July 24, 2026
کانگریس رہنما سپریا شرینیت نے بھی سوشل میڈیا پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا جی اب پیپر لیک کے فائدے گنوا رہی ہیں۔
वित्त मंत्री निर्मला जी पेपर लीक के फायदे गिना रही हैं
“पेपर लीक होने से बच्चों को पढ़ने का और ज़्यादा वक़्त मिल गया जिससे वह बेहतर कर सके”
चलिए मैडम, अब लगे हाथ जिन 22 बच्चों ने अपनी जान दे दी उसके फ़ायदे भी गिना दीजिए
हद होती है – How brazenly insensitive are you? pic.twitter.com/UQPDImFtWS
— Supriya Shrinate (@SupriyaShrinate) July 24, 2026
وہیں، عام آدمی پارٹی نے کہا،’میڈیم وزیر خزانہ کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ پھر سے لوٹ آئی ہیں، اس بار پیپر لیک کے فائدے کے بارے میں بتا رہی ہیں۔‘
Madam FM needs no introduction.
She’s back again- this time explaining the “benefits” of paper leaks.
Do watch. pic.twitter.com/RXmk6hkbVA
— AAP (@AamAadmiParty) July 24, 2026
سیاسی جماعت جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے بھی سیتارمن کے بیان پر تنقید کی۔
پارٹی نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا،’پیپر لیک ایک ایسا کینسر بن چکا ہے جو خوفناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ جھارکھنڈ کی ہیمنت حکومت اس کینسر کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہے، مگر بی جے پی کہتی ہے کہ پیپر لیک کے اپنے فائدے ہیں۔‘
पेपर लीक एक विकराल रूप धारण किया हुआ कैंसर है।
झारखंड की हेमंत सरकार इस कैंसर का सर्वनाश कर रही है, मगर भाजपा कहती है पेपर लीक के अपने फायदे हैं।@yourBabulal जी, निर्मला जी आपके मन की बात कह रही हैं इसलिए जब झारखंड सरकार पेपर लीक से निपटने वाला कड़ा कानून लेकर आई थी तक आप और… pic.twitter.com/uitH8oVDj3
— Jharkhand Mukti Morcha (@JmmJharkhand) July 24, 2026
اس سلسلے میں گزشتہ ایک ماہ سے دہلی کے جنتر منتر پر نوجوانوں کے احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی نیٹ پیپر لیک معاملے پر سیتارمن کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے متاثرہ طلبہ کے لیے’غیر حساس‘قرار دیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے طنزیہ انداز میں کہا،’اگر اسی منطق کو مان لیا جائے تو پھر ملک میں تمام امتحانات کے پیپر لیک ہونے چاہیے۔‘
By this logic every paper in this country should get leaked. https://t.co/kSrVyZ9HMr
— Ashutosh Ranka (@AshutoshRanka) July 24, 2026
پارٹی نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت امتحان کے نظام کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے’پیپر لیک کے فائدے گن گان‘ کر رہی ہے؟‘
قابل ذکر ہے کہ سنیچر (25 جولائی) کو سی جے پی اور حکومت کے درمیان تیسرے دور کی بات چیت متوقع ہے۔ اس سے قبل ہونے والے دو بار کی بات چیت میں بعض مطالبات پر رضامندی کی بات سامنے آئی ہیں۔
تاہم، سی جے پی نے تیسرے دور کی بات چیت سے پہلے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو’نان نیگوشی ایبل‘ قرار دیا ہے۔
پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے تو احتجاج کو مزید شدت دی جائے گی، اور ملک بھر میں ایک نئی احتجاجی تحریک شروع کرنے کی بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔