این آئی اے کے متاثر کن کنوکشن ریٹ یعنی سزا یابی کی اعلیٰ شرح کے تناظر میں ملزمین، ان کے وکیل اور ایجنسی سے وابستہ رہے ایک شخص نے دی وائر کو بتایا کہ آخر کیوں این آئی اے کے اتنے سارے معاملے ملزمین کے اقرار جرم کی درخواستوں کے بعد انہیں قصوروار تسلیم کرلینے کے ساتھ ہی انجام کو پہنچتے ہیں۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر

(یہ رپورٹ پلتجر سینٹر آن کرائسس رپورٹنگ کے تعاون سے کی جا رہی دی وائر کی’دی فورسڈ گلٹ پروجیکٹ’ سیریز کا دوسرا حصہ ہے۔ پہلے حصے کو یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔)
قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) فخر کےساتھ سزایابی کی اعلیٰ شرح کے اعدادوشمارپیش کرتی ہے۔ سزایابی کے ان معاملوں میں ملزمان کی جانب سے دائر کی گئی اقرار جرم کی درخواستوں کا کلیدی رول رہا ہے۔ این آئی اے کے اتنے سارے معاملوں میں اقرار جرم کی درخواست دائر کرنے کی وجوہات کو سمجھنے کی سعی میں دی وائر نے ملزمان، ان کے وکیل اور این آئی اے کے سابق پراسکیوٹرز سے بات کی۔
یہ اسٹوری الاپوژا، بیلگاوی، بنگلورو، کوچی، کولکاتہ، مالدہ، ممبئی، ناندیڑ، نئی دہلی اور پربھنی کی رپورٹنگ پر مبنی ہے۔
…
پٹنہ (بہار): یہ 2019 کی سردی تھی۔ راکیش چودھری، جن کی عمر اس وقت 24 سال تھی، نے اپنےدوستوں اور رشتہ داروں سے معمولی سا قرض لے کر بہار کے مغربی چمپارن ضلع کے بیتیا گاؤں میں مچھلی اور سبزیوں کا چھوٹا موٹا کاروبار شروع کیا تھا۔ کاروبار چل نکلا اور گھر والوں کو یقین ہوگیا کہ چودھری کی عمر اب اتنی ہوگئی ہے اور وہ اتنے ذمہ دار بھی ہوچکے ہیں کہ ان کی شادی کر دینی چاہیے۔
لیکن منصوبے کے مطابق کچھ بھی نہیں ہوپایا۔ گونے کی رسم جس کے بعد لڑکی اپنے شوہر کے گھر آتی ہے، سے چند دن پہلے چودھری کو گرفتار کر لیا گیا۔
این آئی اے نے انہیں جعلی کرنسی کے لین دین کے ایک معاملے میں پانچویں ملزم کے طور پر نامزد کیا تھا۔
پریشانی اس وقت شروع ہوئی، جب کولکاتہ کے پریذیڈنسی اصلاح خانہ میں جعلی کرنسی کے ایک دوسرےمعاملے میں بند چودھری کے ماموں منا لال نے انہیں جلد از جلد ملنے کے لیے بلایا۔ چودھری اس کے لیے تیار ہوگئے۔
تاہم، 2019 میں، جب چودھری ان سے ملاقات کے بعد بیتیاواپس آئے، این آئی اے نے ان پر جعلی ہندوستانی کرنسی کیس میں کورئیر (قاصد)کے طور پر کام کرنے کا الزام لگا دیا۔ لال کو جلد ہی پٹنہ کے آدرش سینٹرل جیل بیور منتقل کر دیا گیا۔ جعلی انڈین کرنسی کیس کے تین دیگر ملزمان شاہنواز شیخ، سلیم ایس کے اور قمر الزماں کو بھی چوہدری کے ساتھ وہاں بند کیا گیا تھا۔
چودھری کہتے ہیں،ْجیل کے اندر میں صرف اپنے ماموں کو جانتا تھا۔ اور چونکہ میں اپنے ماموں کو ہی اس مصیبت کے لیے ذمہ دارمانتاتھا، اس لیے جیل کے اندر میں ان سے دور دور رہتا تھا۔ باقی تینوں کا رویہ میرے ساتھ مخاصمانہ تھا۔’
مئی 2019 (جب انہیں گرفتار کیا گیا تھا) سے جنوری 2022 تک، یہ مقدمہ شنوائی کی سطح پر آنے کامنتظر رہا۔ ْان دنوں، ایسکارٹ پارٹی دستیاب ہونے پر ہمیں کچہری لے جایا جاتا تھا۔ وہاں جج کچھ نہیں کرتے تھے ، بس (شنوائی کی) اگلی تاریخ مقرر کردیتے تھے اور ہمیں واپس جیل بھیج دیا جاتا تھا۔
واصف خان، جو اس وقت چودھری کا مقدمہ لڑ رہے تھے، اس سماعت کو ‘مشینی عمل’ بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ‘جج شاذ و نادر ہی سر اٹھاکر یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے سامنے کس کو پیش کیا گیا ہے۔ کوئی یہ معائنہ نہیں کرتا کہ (گرفتار شخص) اچھی حالت میں ہے یا نہیں، یا اس کی کوئی شکایت ہے، یا وہ کوئی درخواست کرنا چاہتے ہیں، یا ان کے پاس ان کی نمائندگی کے لیے کوئی وکیل موجود ہے یا نہیں۔ کچھ بھی نہیں ۔’
لیکن جنوری 2022 میں چیزیں تیزی سے بدلنا شروع ہوئیں۔ چودھری اور ان کے ساتھ دوسرے شریک ملزمان کو جیلر کے دفتر میں طلب کیا گیا، جہاں عام طور پر قیدیوں کی رسائی نہیں ہوتی۔ یہاں، ان سب کو فرش پر ایک قطار میں بیٹھنے کو کہا گیا۔ چودھری یاد کرتے ہیں،’اس کے بعد تین آدمی کمرے میں داخل ہوئے۔ میں جانتا تھا کہ یہ تینوں این آئی اے کے افسر ہیں – میں نے انہیں اپنی گرفتاری کے وقت اور کچہری میں کئی دفعہ دیکھا تھا۔ لیکن ان سے کبھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔’
ان کے ہاتھ میں کورے کاغذتھے۔ چودھری کہتے ہیں، ‘انہوں نے ہم سے پوچھا کہ کیا ہم ہندی پڑھ لکھ سکتے ہیں۔ہم نے اثبات میں سر ہلایا۔ چودھری کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد ان تینوں نےانہیں ان کے کیس کے بارے میں تفصیل سے سمجھایا اور ان پر لگائے گئے الزامات کی ممکنہ سزا کے بارے میں بتایا۔
چودھری نے کہا،ْانہوں نے ہمیں کہا کہ ہمیں کم از کم 10 سال جیل میں گزارنے ہوں گے۔’ان کے ساتھ لائے گئے کورے کاغذ اپنے اپنےجرم کے مختصر اعترافات لکھنے اور دستخط کرنے کے لیے تھے۔
اس کے بعد این آئی اے کے ایک افسر نے ایک تجویز پیش کی؛ْاپنا گناہ قبول کرلو اور ہم عدالت میں تمہاری سزا کو کم کرانے کی کوشش کریں گے۔ کل ملاکر پانچ سال کی سزا پر بات بن سکتی ہے۔ْ
چودھری کہتے ہیں،یہ کوئی دوستانہ پیشکش نہیں تھی۔ ْیہ ایک درپردہ دھمکی تھی۔ْ چونکہ ان سب نے پہلے ہی تین سال سے زیادہ جیل میں گزارے لیے تھے، اس لیے پانچ میں سے چار ملزمان فوراً یہ اقرارنامہ لکھنے پر راضی ہوگئے۔ صرف چودھری نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔
چودھری کہتے ہیں،ْانہوں نے مجھ سےکہا کہ میں کبھی ضمانت پر باہر نہیں نکل پاؤں گا اور میں دہائیوں تک جیل میں سڑتا رہوں گا۔’ لیکن جیسا کہ چودھری کہتے ہیں،ْمیں پہلے ہی اس کیس میں تین سال جیل میں گزار چکا تھا،جس میں میں ملوث نہیں تھا۔ اس سے بدتر حالت اور کیا ہو سکتی تھی؟’
آخر کار جب چودھری اپنے فیصلے پر قائم رہے تو انہیں دوسرے شریک ملزم سے الگ کر دیا گیا۔ 22 جنوری 2022 کو دیگر ملزمان کو ہاتھ سے ایک جیسی سطریں لکھنے کو کہا گیا۔ مبینہ طور پر ان سب کے دوران آدرش سنٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ بھی موجود تھے۔ چودھری کو ان کا نام یاد نہیں ہے۔ ْان کی درخواست کا مضمون کچھ اس طرح تھا؛ ہم نے جو جرم کیا ہے اس کے لیے معافی مانگتا ہوں۔ براہ کرم اقرار جرم کی میری درخواست (گلٹی پلی)پر غور کیا جائے اور سزا کا فیصلہ کرتے وقت نرمی کا مظاہرہ کیاجائے۔’
ملزمان نے اپنی گرفتاری کے تین سال بعد درخواست دائر کی تھی۔ اس وقت تک ان کے کیس میں کوئی ٹرائل نہیں ہوا تھا۔ حتیٰ کہ عدالت نے ان کے خلاف الزامات بھی طے نہیں کیے تھے- اس مرحلے کے بعد ہی اصل ٹرائل شروع ہوتا ہے۔ این آئی اے کے جج گروندر سنگھ ملہوترا نے فوری طور پر ان کی اقرار جرم کی درخواستوں کو قبول کر لیا۔ درخواست دائر کرنے والوں میں تین مسلمان تھے۔
اپنے فیصلے میں جسٹس ملہوترا نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 229 میں استعمال ہونے والی اصطلاح ‘کرسکتا ہے’ پر زور دیا۔ اس دفعہ میں کہا گیا ہے،’اگر ملزم جرم کا اقرار کرتا ہے، تو جج اس کی درخواست کو ریکارڈ کرے گا اور اپنی صوابدید سے اسے مجرم قرار دے سکتا ہے۔’

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر
اپنے اس فیصلے میں ملہوترا نے کہا، ‘کر سکتا ہے(لفظ) کا مطلب ہے کہ بھلے ہی ملزم اپنا جرم تسلیم کر رہا ہے،پھر بھی بھی عدالت کو مطمئن ہونا چاہیے کہ ملزم بغیر کسی شک و شبہ کے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اور بغیر کسی لالچ، دھمکی یا کسی وعدے کے اقرار جرم کی درخواست دے رہے ہیں۔’
اس کے باوجود جج نے اس بات کی کوئی تفتیش نہیں کی کہ آخرچاروں ملزمان نے متفقہ طور پر اور ایک جیسی زبان میں درخواستیں کیوں داخل کیں؟ مزید برآں، درخواست داخل کرنے میں این آئی اے حکام کے کردار کی بھی کوئی تحقیقات نہیں ہوئی ۔ اور نہ ہی جج نے یہ استفسار کیا کہ آخر چودھری نے اپنے شریک ملزم کی طرح یہ راستہ کیوں نہیں اپنایا۔
این آئی اے کی پیشکش کو ٹھکرا نے والے چودھری کو بالآخر 12 اپریل 2023 کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
اس کیس سے متعلق دی وائر کے سوالات کے جواب میں این آئی اے کے ترجمان نے جیل میں ملزمین اور این آئی اے افسران کے درمیان کسی بھی ملاقات کی بات سے واضح لفظوں میں انکار کیا۔ ایجنسی کے ترجمان نے جواب دیا کہ،’ ہمارے افسران عدالتی حکم کے بغیر جیل میں ملزم سے ملاقات نہیں کرتے۔’
رہائی کے چھ ماہ بعد پٹنہ میں چودھری کی ملاقات اس رپورٹر سے ہوئی۔ ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے چودھری کا کہنا تھا،ْ وہ نہیں جانتے کہ این آئی اے کے دباؤ میں نہیں آنے کے فیصلے پر ان کے اندرفخر کا جذبہ ہے یا اب وہ فیصلہ احمقانہ تھا۔ ‘ جو چھوٹا موٹا کاروبار میں نے اتنی محنت سے کھڑا کیا تھا، وہ پوری طرح سے چوپٹ ہوگیا ہے۔ کیس ابھی بھی زیر سماعت ہے۔ میری بیوی اپنے والدین کے پاس واپس چلی گئی ہے اور کہتی ہے کہ وہ تب تک واپس نہیں آئے گی، جب تک میں ایک ٹھیک-ٹھاک گھر نہ لے لوں اور اس کی دیکھ بھال کر نے لائق آمدنی نہ ہوجائے۔’
◊◊◊
ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور، مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ کے پربھنی ضلع میں محمد رئیس الدین کو بھی این آئی اے کے ساتھ اسی طرح کی لڑائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ضلع پریشد (مقامی خود مختار ادارہ) اسکول کے ٹیچر رئیس الدین کو 7 اگست 2016 کو کالعدم تنظیم اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا(آئی ایس آئی ایس)میں مبینہ رول کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر 37 سال تھی۔
رئیس الدین ان چار لوگوں میں تھے، جنہیں مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس) نے گرفتار کیا تھا۔
اے ٹی ایس نے اسے انتہائی ‘سوفیسٹیکیٹڈ ٹیرر ماڈیول’ قرار دیا تھا۔ اس معاملے کو اتنا سنگین مانا گیا کہ تحقیقات کے دو ماہ کے اندر اسے ریاستی ایجنسی سے لے کر مرکزی ایجنسی این آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔
رئیس الدین یاد کرتے ہیں،’اے ٹی ایس سے این آئی اے کو کیس کی منتقلی ’عجیب‘ تھی۔ ’ اے ٹی ایس نے ہمیں ان کےپاس بند سب سے خطرناک لوگوں کے طور پر پیش کیا تھا۔
گرفتار کیے گئے ایک شخص کے پاس دھماکہ خیز مواد رکھنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔ لیکن ایک بار جب کیس این آئی اے کو سونپ دیا گیا تو ایجنسی کی اس کیس کی پیروی میں دلچسپی ختم ہوگئی۔ اس کے بجائے وہ اقرار جرم کی درخواست دینے پر ہمیں ہونے والی سزا کو کم کرانے کی پیش کش کرنے لگے۔ چھ سال تک جیل میں بند رہنے کے بعد چار میں سے دو -ناصربن یافائی اور محمد شاہد خان نے ان کی پیش کش قبول کر لی۔ ‘
باقی دو، رئیس الدین اور اقبال احمد، ان کی تجویز کو مسترد کرنے کے اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
این آئی اے نے چار افراد پر دہشت گردی کی کارروائی میں مختلف درجات کے رول کا الزام لگایا تھا – یافائی پر عراق اور شام میں مقیم ہینڈلرز کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھنے کا الزام تھا، جبکہ خان پر امپرووائزڈ ایکسپلوزیو ڈیوائس (آئی ای ڈی) بنانے کے لیے سامان خریدنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
رئیس الدین پر آئی ایس آئی ایس میں شمولیت میں ’ دلچسپی کا اظہار‘ کرنے کا الزام تھا۔ این آئی اے کے مطابق، رئیس الدین نے عربی زبان میں آئی ایس آئی ایس کے خلیفہ کو ہاتھ سے لکھا ہوا حلف بھیج کر دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے میں ’دلچسپی کا اظہار‘ کیا تھا۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر
جب یافائی اور خان اقرار جرم کی درخواست دینے پر راضی ہوگئے، تو اس وقت تک یہ کوئی نامعلوم اصطلاح نہیں رہ گئی تھی۔ یافائی اور خان نے آخر کار 2022 کے وسط میں درخواستیں داخل کیں۔ دونوں نے ایک جیسی چار سطری درخواستیں لکھیں۔ ان کی عرضی میں ایک سطر میں لکھا تھا، ’این آئی اے نے جس جرم کے لیے مجھے ملزم بنایا ہے، میں خود کو اس کا قصوروار مانتا ہوں۔ ‘
اس وقت تک ان کی پیروی کرنے والے وکیل خان عشرت علی اظہر نے کیس سے خود کو الگ کر لیا۔ وکیل خان کہتے ہیں،یافائی اور خان نے اقرار جرم کی درخواست داخل کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے انہیں مطلع نہیں کیا۔ اگر وہ اس کے بارے میں جانتے تو وہ انہیں ایسا کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کرتے۔‘
خان نے کہا،’ مجھے جمعیۃ علماء ہند، جو ایک این جی او ہے، نے اس کیس کی پیروی کے لیے رکھا تھا۔ چونکہ یہ این جی او صرف ان بے قصور لوگوں کی پیروی کرتا ہے جن پر جھوٹا الزام لگایا گیا ہے، لہذا میرے لیے اس کیس سے مزید وابستہ رہنا ممکن نہیں تھا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ یافائی اور خان کےکیس کے بارے میں وہ حقیقت میں کیا سوچتے ہیں اور کیا وہ یقین رکھتے ہیں کہ یافائی اور خان اس جرم میں ملوث تھے، وکیل خان نے جواب میں سوال کردیا،’کیا یہ دلچسپ نہیں ہے کہ ضمیر کی آواز صرف این آئی اے کے ملزمین کو ہی سنائی پڑتی ہے اور وہ اپنا جرم قبول کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ ملک کی کسی اور ایجنسی کے ساتھ بھی اسی تسلسل کے ساتھ ایسا ہوتے دیکھتے ہیں؟‘
وکیل خان کے کیس سے دستبردار ہونے کے بعد وسنت پربھو نامی وکیل کو فوری طور پر مقرر کیا گیا۔ وکیل خان کا کہنا ہے کہ پربھو کی تقرری این آئی اے کی سفارش پر کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پربھو کو عدالت کو یہ بتانے کا’محدود کام‘ سونپا گیا کہ دو ملزمین نے اقرار جرم کی درخواستیں داخل کرنے کی بات کہی ہے۔ ایک دن کے اندر فیصلہ بھی سنا دیا گیا۔
جج دنیش کوٹھالیکر کے ماتحت ایک خصوصی این آئی اے عدالت نے انہیں قصوروار ٹھہرایا اور انہیں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 18 بی، 20، 28، 39، 13 اور 16 اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت سات سال قید کی سزا سنائی۔ ان میں سے کچھ دفعات میں عمر قید کی سزا کا اہتمام ہے۔ تاہم، یافائی اور خان، جو پہلے ہی چھ سال سے زیادہ قید کی سزا کاٹ چکے تھے، انہیں اپنی سات سال کی سزا پوری کرنے کے لیے صرف ایک سال مزید جیل میں رہنا تھا۔ دونوں کو 2023 کے وسط میں رہا کر دیاگیا۔
یافائی اور خان این آئی اے کی عدالتوں کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بہ مشکل ایک ہفتہ بعد رئیس الدین کو بامبے ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی۔ یہ ضمانت کسی تکنیکی وجہ سے نہیں بلکہ کیس کے میرٹ پر دی گئی۔ بامبے ہائی کورٹ نے آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے کے لیے مبینہ طور پر رئیس الدین کےخط کی صداقت پر سوال اٹھایا۔
قابل ذکر ہے کہ 37 صفحات پر مشتمل ضمانت کےاپنے فیصلے میں جسٹس وی جی بشٹ اور جسٹس ریوتی موہتے ڈیرے نے لکھا، ‘درخواست گزار ملزم کے حوالے سے تفتیشی ایجنسی کی جانب سے جمع کیا گیا مواد اور ہمارے سامنے پیش کیا گیا موادپہلی نظر میں مذکورہ جرائم میں اپیل کنندہ کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ نہیں کرتا ہے۔ ‘
اس کیس کے بارے میں پوچھے جانے پرکہ آخر دو افراد کو کیسے کیس کے میرٹ پر ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جبکہ دیگر ملزمان پر بھی یکساں الزام عائد کیے گئے تھے اور انہوں نے پہلے ہی اقرار جرم کی درخواستیں دائر کر دی ہیں اور ان پر فیصلہ بھی سنایا جا چکا ہے، این آئی اے کے ترجمان نے کہا،’عدالت نے ضرور انہیں رہا کر دیاہے، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان کے مقدمات ابھی بھی زیرسماعت ہیں۔ ہائی کورٹ، ٹرائل کورٹس کواپنی ڈیوٹی نبھانے سے نہیں روکتے ہیں (جو کہ اس معاملے میں مقدمے کی شنوائی کو مکمل کرنا ہے)۔ ‘
مقدمہ درج ہوئے نو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ہر ماہ کے پہلے منگل کو رئیس الدین اور احمد کو پربھنی سے ممبئی تک 600 کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے اور ضمانت کی شرائط کو پورا کرنے کے لیےاین آئی آےکے دفتر میں حاضری دینی ہوتی ہے۔
رئیس الدین کہتے ہیں،’ہماری معاشی حالت کے مد نظر این آئی اے کورٹ، این آئی آے حکام کے سامنے پیش ہونے والی نے ہماری حاضری والے دن ہی ہمارے کیس کی سماعت کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ماہ صرف ایک یا زیادہ سے زیادہ، دو گواہوں سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔‘ اب تک استغاثہ کے 40 گواہوں میں سے صرف 14 سے ہی پوچھ گچھ کی جاسکی ہے۔اس رفتار سے اس کیس کی شنوائی مزید دو تین سال تک چلتی رہے گی۔
اس وقت تک رئیس الدین، جنہیں اس کیس میں اپنے بری ہونے کا یقین ہے، اپنی تدریسی ملازمت کو جوائن نہیں کر سکتے ۔ دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے والے سرکاری ملازم ہونے کے ناطے وہ فی الحال معطل ہیں۔ اپنے خاندان کی کفالت کے لیے یہاں وہاں کام کرنے والے احمدکومستقل روزگار تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اور وہ کمیونٹی کے عطیات پر گزر بسر کر رہے ہیں۔
احمد کا کہنا ہے کہ این آئی اے ابھی بھی اسےاقرار جرم کی عرضی داخل کرنے کی پیشکش کرتی رہتی ہے۔ ’وہ کہتے ہیں کہ رئیس الدین کے پاس سرکاری نوکری کا سہارا ہے۔ اس کے تمام بہن بھائی پڑھے لکھے ہیں اور ان کے پاس اچھی نوکریاں ہیں۔ اس لیے وہ اس لڑائی کابار اٹھاسکتے ہیں۔ وہ مجھ سے پوچھتے ہیں، ’لیکن تم کیوں یہ لڑائی لڑ رہے ہو؟ ‘
لیکن رئیس الدین کی طرح احمد کے لیے بھی یہ لڑائی صرف روزی روٹی کی لڑائی نہیں ہے۔ وہ پوچھتے ہیں،’میرے دو چھوٹے بچے ہیں۔ اگر میں ان کے (این آئی اے ) کے مطالبات مان لیتا ہوں تو میں اپنے بچوں کا سامنا کیسے کر پاؤں گا؟‘
◊◊◊
چودھری، رئیس الدین اور احمد کے معاملے استثنیٰ نہیں ہیں۔ پچھلے ایک سال میں دی وائر نےاین آئی اےکے ڈیٹا کا جائزہ لیا ہے، آٹھ ریاستوں کے 17 اضلاع کا سفر کیا ہےاور ایجنسی کی جانب سے ملزم بنائے گئے لوگوں، ان کے وکیلوں اوراین آئی اےکے کئی عہدیداروں سے گفت وشنید کی ہے۔اور اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اقبال جرم منصوبہ بند ہیں اورحتیاط سے تیار کیے گئےاس پیٹرن کو تشکیل دینے کی ذمہ دار یہ ایجنسی یعنی این آئی اے ہے۔
دی وائر نے جن لوگوں کے ساتھ بات کی اور جن لوگوں نے اقبال جرم کا فیصلہ کیا، ان میں سے اکثر نے دعویٰ کیا کہ ان کے مقدمات میں برسوں سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ کچھ معاملات میں یہ تقریباً ایک دہائی کا عرصہ ہے۔ ان کے مطابق، این آئی اے حکام نے ان سے رابطہ کیا اور ممکنہ سزا کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی تجویز پیش کی، جبکہ سزا کا تعین صرف جج ہی کر سکتے ہیں۔
اگر ملزمین اس پیش کش پر راضی ہو گئے تو این آئی اے نے اقرار جرم کی درخواست تیار کرنے میں ان کی مدد کی۔ ملزمین کی جانب سے اچانک اقرار جرم کی درخواست دائر کرنے پران کے وکیلوں کے کیس سے خود کو الگ کر لینے کی صورت میں این آئی اے نے انہیں نئے وکیل دلانے میں بھی مدد کی۔ تاہم، این آئی اے کی جانب سےیہ ساری کارروائی پردے کے پیچھےسے کی گئی، تاکہ ملزمین کایہ فیصلہ خودمختار نظر آئے۔
اس سیریز کے لیے دی وائر نے 2009 میں این آئی اے کی تشکیل کے وقت سے لے کر ستمبر 2025 کے اواخر تک کے مقدمات کا جائزہ لیا۔ گزشتہ 15 سالوں میں این آئی اے نے 633 مقدمات درج کیے۔ ستمبر 2025 کے آخر تک ایجنسی نے 133 مقدمات میں جزوی یا مکمل طور پر ٹرائل مکمل کیے ۔ یہ 15 برسوں میں درج ہونے والے کل مقدمات کا صرف پانچواں حصہ ہے۔
ان مقدمات میں این آئی اے نے صرف 79 مقدمات میں مکمل ٹرائل کے اصولوں کی پیروی کی – یعنی گواہوں سے پوچھ گچھ اور عدالت میں ثبوت پیش کرنا۔ ان میں کچھ مقدمات میں سزائیں ہوئیں، جبکہ دیگر میں ملزمین کو رہا کر دیا گیا۔
چونکہ دہشت گردی کے مقدمات میں عام طور پر ایک سے زیادہ ملزم شامل ہوتے ہیں، اس لیے ان میں سے کچھ مقدمات کی سماعت جزوی طور پر مکمل ہوئی ہے، کیونکہ کچھ ملزم کا ٹرائل ابھی جاری ہے۔ بقیہ 54 مقدمات میں ملزمان نے اعتراف جرم کا سہارا لیا۔ اس کا مطلب ہے کہ این آئی اے نے ہر پانچ میں سے دو معاملوں میں اقرار جرم کی درخواستوں کے سہارے کنوکشن حاصل کی۔
این آئی اےکےاس پیٹرن کا اندازہ جیل میں بند لوگوں اور ان کے وکیلوں کو ہوچکاہے۔ دہلی میں مقیم انسانی حقوق کے وکیل اکرم خان کہتے ہیں کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد پہلے چار سے پانچ سال ’ویٹ اینڈ واچ‘ (انتظار) کا عرصہ ہوتا ہے۔
این آئی اے کے مقدمات کو سنبھالنے کے اپنے تقریباً 10 سال کے تجربے کی بنیاد پر خان کہتے ہیں،’اس دوران مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوتی۔‘ ان کا دعویٰ ہے،’اس نکتے پر این آئی اے کی حکمت عملی بدل جاتی ہے۔ مقدمے کی سماعت شروع ہونے کا انتظار کرنے والے اور جیل میں چار سے پانچ سال گزار چکے ملزمان کو اقرار جرم کی درخواست داخل کرنے کی پیش کش کی جاتی ہے۔ یہ پیش کش عام طور پر صرف مسلم کمیونٹی کے ملزمین کو ہی دی جاتی ہے۔‘
دی وائر نے کئی ایسے معاملوں کا جائزہ لیا، جہاں ملزمان نے اقرار جرم کی درخواستیں داخل کیں، اور اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خان کی بات صداقت پر مبنی ہے۔ 54 میں سے 49 مقدمات میں جہاں ملزمان نے اقرارجرم کی درخواستیں داخل کیں، مدعا علیہان کا تعلق مسلم کمیونٹی سے تھا۔
تاہم، این آئی اے اپنے کام میں کسی بھی قسم کے فرقہ وارانہ تعصب کے پہلو سے انکار کرتی ہے۔ این آئی اے کے ایک ترجمان نے دی وائر کو بتایا،’ہم ملزمین کو کمیونٹی کے چشمے سے نہیں دیکھتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا،’ہم ان کے شخصی کردار کی چھان بین کرتے ہیں اور عدالت میں ثبوت پیش کرتے ہیں۔اقرار جرم کی درخواست داخل کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر ملزم کا ہوتاہے، اور اس پر فیصلہ بھی پوری طرح سے عدالت کی صوابدیدپر ہوتا ہے۔ ہمارا اس پر کوئی اختیار نہیں ہے، اور نہ ہی ہم یہ سمجھاسکتے ہیں کہ کسی مخصوص کمیونٹی کے افراد یہ راستہ کیوں منتخب کرتے ہیں۔‘
جن لوگوں نے یہ درخواستیں داخل کیں، ان پر یا تو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا جعلی ہندوستانی کرنسی کا کاروبار کرنے کا الزام تھا۔ ان میں دہشت گردی کے معاملے خاصے سنگین تھے، اور زیادہ تر معاملوں میں ملزمان پریو اے پی اےکی دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے، جن میں عمر قید تک کی سزا ہے۔
لیکن ایک بار جب ملزمین نے اقرار جرم کی درخواست داخل کر دی تو این آئی اےنے زیادہ سے زیادہ سزا کے لیے دباؤ نہیں ڈالا اور عدالتوں کی جانب سے بھی عام طور پر پانچ سے آٹھ سال تک کی سزا دی گئی۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر
این آئی اے کے قیام کے شروعاتی دنوں میں اقرار جرم کی درخواستیں صرف شمالی ریاستوں میں بروئے کار لائی جاتی تھیں، لیکن آہستہ آہستہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی یہ پیٹرن نظر آنے لگا۔
دہلی کی عدالتوں میں پریکٹس کرنے والے وکیلوں کا کہنا ہے کہ جب وہ این آئی اے کا کوئی کیس لیتے ہیں، تو انہیں اس بات کی خاطرخواہ سمجھ ہوتی ہے کہ این آئی اے کب ملزمین سے رابطہ کرے گی اور ان کے ساتھ ’ڈیل‘کرے گی۔
وکیل صارم نوید کہتے ہیں،’یہ اتنا عام ہو گیا ہے کہ جب ہم ان مقدمات کو لڑنے کی تیاری کرتے ہیں تو ہم اپنے مؤکلوں کو قانونی صلاح کے طور پر یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ کیس سالوں تک چلے گا اور این آئی اے اقرار جرم کی درخواست کے بدلے رہائی کا لالچ دے گی۔‘
بعض معاملوں میں وکلاء اپنے مؤکلوں کا اعتماد جیتنے میں کامیاب رہے ہیں اور آخری دم تک مقدمہ لڑتے رہے ہیں، لیکن بعض مقدمات میں ملزمان ان کی بات مان لیتے ہیں ۔
دی وائر نے جن وکیلوں سے بات کی،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ صرف تفتیشی ایجنسی کے کردار پر سوال نہیں ہے، بلکہ ان مقدمات میں عدالت کے کام کرنے کے طریقے کو بھی جانچ کے دائرے میں لانا چاہیے۔
دی وائر نے چار سال تک این آئی اے کے مقدمات میں اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر رہے ایس عبدالخادر کنجو سے بات کی۔ کنجو یو اے پی اےمعاملوں میں ٹرائل کے جلد شروع نہ ہونے کو ’پریشان کن رجحان‘ قرار دیتے ہیں۔
یو اے پی اے قانون میں پولیس کو اپنی تحقیقات مکمل کرنے اور چارج شیٹ داخل کرنے کے لیے صرف 180 دن کا وقت دیا گیاہے۔ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد بھی، عدالتیں اکثر سالوں تک مقدمے کی سماعت میں تاخیر کرتی ہیں، حتیٰ کہ اعلیٰ عدالتیں بھی اس اہم پہلو کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔
کنجو کا کہنا ہے کہ یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ این آئی اے ایکٹ کی دفعہ 19 کے تحت خصوصی عدالتوں کو تمامورکنگ ڈے میں روزانہ سماعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
کنجو کا خیال ہے کہ عدالتوں نے اب اقرار جرم کی درخواستوں کو ’شارٹ کٹ‘ کے طور پر قبول کر لیا ہے، حالانکہ سی آر پی سی(ضابطہ فوجداری) واضح طور پر کہتا ہے کہ اقرارجرم کی درخواستوں کا فیصلہ کرتے وقت ججوں کو صوابدید کا استعمال کرنا چاہیے۔
ان کی کتاب کمنٹری آن لاء فل اکٹویٹیز (پریونشن) ایکٹ، 1967، دی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ایکٹ، 2008، اینڈ ادر الائیڈایکٹ(ود ماڈل چارجز) این آئی اے اور خصوصی عدالتوں کےطرز عمل پر روشنی ڈالنے والی چند اہم تحقیقی کتابوں میں ہے ۔
اس اختیار کو اپنانا ہمیشہ ملزمین کے حق میں نہیں رہا ہے، جنہیں یہ امید تھی کہ ایسا کرنے سے وہ جلدی رہائی حاصل کر لیں گے یا قانونی لڑائی لڑنے کے بعد رہائی پانے کےمقابلے میں انہیں جلد رہائی مل جائے گی۔
سال 2019 کے ایک معاملے میں این آئی اے نے چھ کشمیریوں- سجاد احمد خان، بلال احمد میر، مظفر احمد بھٹ، اشفاق احمد بھٹ، معراج الدین چوپن اور تنویر احمدغنی کو گرفتار کیا اور ان پر’ہندوستان میں کئی دہشت گردانہ کارروائی کو انجام دینے والی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم جیش محمد(جے ای ایم)کے انتہائی شدت پسند اوور زمینی کارکن ہونے کا الزام لگایا۔ ‘ تین سال سے زیادہ جیل میں گزارنے کے بعد اور مقدمے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے بعد انہوں نے اقرار جرم کی درخواستیں دائر کی تھیں۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر
اس وقت تک، اقرار جرم کی درخواستیں دینا، ایک مقبول فیشن بن گیا تھا اور ان کا مشاہدہ تھا کہ کئی لوگوں نے یہ درخواستیں دی ہیں اور انہیں بدلے میں کم مدت کی سزائیں ملی ہیں۔ ان میں سےایک ملزم نے کہا، ’ہمیں اس کی صلاح دی گئی… اور ہم بھی تیار ہوگئے۔‘ لیکن ان کی توقعات کے برعکس، خصوصی عدالت کے جج نے ان میں سے پانچ، سب پہلی بار کے مجر، کو عمر قید کی سزا سنائی، ان میں سے ایک کو پانچ سال کی سخت قید کی سزا سنائی گئی۔
’ہم نے سوچا تھا کہ عدالت ہماری سزا کی مدت کا فیصلہ کرتے وقت ہمارے ساتھ ہمدردی کا معاملہ کرے گی۔‘ایک بار اقرارجرم کی درخواست دینےکے بعد واپس لوٹنا ممکن نہیں تھا کیونکہ انہیں سنائی گئی سزا کی نوعیت سی آر پی سی کی دفعہ 375 کے تحت آتی ہے ، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’اگر کوئی ملزم اقرارجرم کی درخواست دیتا ہے اور اس درخواست کی بنیاد پر اسے سزا سنائی جاتی ہے، تو سزا کی مدت اور قانونی حیثیت کے علاوہ کوئی اور اپیل نہیں کی جاسکے گی۔‘
اس کے ٹھیک بعد پانچ عمر قید کے مجرموں نے دہلی ہائی کورٹ میں سزا کی مدت کے خلاف اپیل کی۔ 20 مئی 2024 کو ہائی کورٹ نے پہلےدستیاب موقع پر اپنے جرم کے’ایماندارانہ اعتراف‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی سزا کو کم کر کے 10 سال کر دیا ۔ وہ اس وقت یہ سزا کاٹ رہے ہیں۔
اس کیس کے مدعا علیہان، جو سبھی کشمیری ہیں، اپنے گھروں سے ایک ہزار کلومیٹر دور دہلی کی جیل میں بند ہیں۔ اگرچہ این آئی اےنے حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر اپنی توسیع کی ہے، جموں اور گوہاٹی میں دو علاقائی دفاتر اور ملک بھر میں 21 برانچ دفاتر کے ساتھ، زیادہ تر معاملات نئی دہلی میں ایجنسی کے ہیڈکوارٹر سے ہینڈل کیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زبان کی رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے باوجود اکثر دوسری ریاستوں کے ملزمان کودہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا جا تا ہے۔
مقدمات میں طویل تاخیر اور پلی بارگین کے حربے نہ صرف ملزمان کو متاثر کرتے ہیں، بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ متعدد مدعا علیہان پسماندہ طبقے سے آتے ہیں اور ان کے جیل میں ہونے سے ان کے خاندانوں میں کوئی کمانے والا نہیں رہ جاتا۔ ان خاندانوں کو سماجی بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جن میں دہشت گردی کے الزامات شامل ہیں۔ یہ بائیکاٹ اور امتیازی سلوک کی وجہ بھی بن جاتا ہے۔
یہ صورتحال ایک ملزم کو اقرار جرم کی درخواست داخل کرنے پر آمادہ کرنے کی کامیاب کوششوں کے لیے انتہائی سازگار ہے۔ یہ حالات ان کے اہل خانہ کو بھی اس اختیار کا انتخاب کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
ایک کشمیری مدعا علیہ کے اہل خانہ نے دی وائر کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہا کہ انہوں نے اقرار جرم کے لیے درخواست دینے میں اس کی مدد کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔ والد نے کہا،’آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے کشمیر میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ ان حالات میں دہشت گردی کے قوانین کے تحت ملزم بیٹے سے اتنی دورملنے جانا ہمارے لیے اور زیادہ مشکل ہو گیا۔ اس لیے جب این آئی اے نے اقرارجرم دائرکرنے کے لیے میرے بیٹے سے رابطہ کیا تو میں نے اس سےاس پیشکش کو قبول کرنے کو کہا۔ ‘
کئی لوگوں کے لیے اقرار جرم کی درخواست کی پیشکش کو قبول کرنے کے دباؤ کی وجہ صرف یہ نہیں کہ وہ تھک چکے ہوتے ہیں، بلکہ اپنے خاندانوں کی تکلیف کو کم کرنے کی فکربھی انہیں یہ کرنے کو مجبور کرتی ہے۔بھلے ہی اس کے لیے انہیں ان الزامات کوقبول کرنا پڑے جو وہ کسی اور صورت میں قبول نہیں کرتے۔
این آئی اے کے استغاثہ میں اقرار جرم کی درخواستیں اتنی عام ہو گئی ہیں کہ کئی بار خاندان کے لوگ بھی این آئی اے سے ایسا کرنے کو کہتے ہیں۔ 7 اگست 2023 کو پٹنہ کےاین آئی اے کی خصوصی عدالت کے باہر دی وائر کی ملاقات سیف الدین احمد سے ہوئی۔
ان کے 25 سالہ بیٹے مرغوب احمد دانش کو ایجنسی نے اگست 2022 میں پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم غزوہ ہند سے متعلق ایک کیس میں گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق، دانش نے ایک وہاٹس ایپ گروپ بنایا تھا اور اس میں اپنے علاقے کے کئی مسلم ارکان کو شامل کیا تھا۔ ایجنسی نے اس پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے مقصد سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعے معصوم نوجوانوں کو شدت پسند بنانے کا الزام لگایا تھا۔
اس سلسلے میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے اور دانش کو اس مقدمے میں کلیدی ملزم ظاہر کیا گیا۔ ایسا کرتے ہوئےاین آئی اےنے ایک اہم پہلو یعنی دانش کی ذہنی صحت اور فکری صلاحیت کو نظر انداز کر دیا تھا۔
اس رپورٹر کی عدالت کے باہر دانش سے مختصر ملاقات ہوئی۔ وہ اس بات پر ناراض تھا کہ اسے اور کئی دیگر ملزمین کو پٹنہ جیل سے عدالت لے جانے والی ایسکارٹ پولیس بیت الخلاء استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔خود پرقابو رکھنے ناکام دانش نے اپنے کپڑے گندے کر لیے تھے۔
والد کا کہنا ہے کہ دانش اپنی گرفتاری کے وقت کافی مقدار میں نفسیاتی ادویات لے رہا تھا۔ ان کے وکیل واصف خان نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل میں کئی بار اس بات کی نشاندہی کی تھی۔ جس دن دی وائر کی احمد سے ملاقات ہوئی، اس دن وہ دانش کے میڈیکل کاغذات لے کر عدالت جا رہے تھے۔اس میں دانش کے آئی کیو اسسمنٹ پیپرز بھی تھے، جو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، پٹنہ میں کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، دانش کا آئی کیو 70 سے 75 پوائنٹس کے درمیان ہے اور ڈاکٹروں نے اسے ’یقینی طور پر بہت کم‘قرار دیا ہے۔ معیاری ٹیسٹ بتاتے ہیں کہ اتنے کم آئی کیووالے شخص کو طبی لحاظ سے’ذہنی طور پر معذور‘ کہا جاتا ہے۔
ایک دہائی سے زائد عرصے تک دبئی میں مزدور کے طور پر کام کرنے والے احمدکو اس کیس کو سنبھالنے کے لیے اپنی نوکری چھوڑ کر ہندوستان واپس آنا پڑا۔
احمد نے دی وائر کو بتایا کہ وہ این آئی اے سے دانش سےاقرار جرم کی درخواست دلوانے کی اپیل کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں،’میں جانتا ہوں کہ ایسے بچے کے ساتھ ایسا کرنا درست نہیں ہے جو بہ مشکل سمجھ سکتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن ایک باپ کے طور پر، میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ میرا بچہ حفاظت کے ساتھ گھر واپس آ جائے۔ ‘
ستمبر 2025 میں اس کی طویل قید اور اس کی بگڑتی ہوئی ذہنی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے دانش کے وکیل واصف خان نے اقرار جرم کی درخواست دائر کی۔ اس کی درخواست میں لکھا گیا ہے،’اپنی ذہنی حالت کی وجہ سے اپنے کاموں کی سنگینی اوراس کے نتائج کو سمجھنے کی صلاحیت محدود ہے۔ اس لیے اس کا کام مجرمانہ ارادے کی بجائے ناپختگی اور اکسانے کی عکاسی کرتے ہیں۔‘اس میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دانش کے اعترافی بیان کو قبول کرتے ہوئے اس کے لیے’اصلاحی اور انسانی رویہ ‘اپنائے۔
تاہم، 10 اکتوبر کو دانش نے اچانک اپنی درخواست واپس لے لی۔ عدالت کو واپسی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
وکیل واصف خان نے کہا،’اس معاملے میں مقدمے کی سماعت میں تیزی لائی گئی ہے اور 19 گواہوں سے پوچھ گچھ ہوچکی ہے۔ 45 گواہوں کی جانچ کے پہلے فیصلے کے برعکس این آئی اے نے اب صرف 22 لوگوں کی فہرست رکھی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اگلے دو ماہ کے اندر ٹرائل مکمل ہوجائے گا۔‘
تاہم، انہوں نے پہلے اقرار جرم کی عرضی داخل کرنے اور پھر اسے واپس لینے کے پیچھے کی وجہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر
حالیہ برسوں میں کیرالہ میں بھی این آئی اے نے اقرار جرم کی درخواست کے ماڈل کو کامیابی سے اپنایا ہے۔ یہاں تک کہ بدنام زمانہ آئی ایس آئی ایس کیس میں بھی، جس کی بنیاد پر پروپیگنڈہ فلم کیرالہ اسٹوری بنائی گئی، این آئی اے کچھ ملزمین کے خلاف کنوکشن اقرار جرم کی درخواستیں دائر کرنے کے بعد ہی حاصل کر سکی ہے۔
کوچی میں مقیم انسانی حقوق کے وکیل تشار نرمل این آئی اے کو’کنوکشن کی مینوفیکچرنگ یونٹ ‘ قرار دیتے ہیں۔ نرمل کہتے ہیں،’این آئی اے کے جرائم کے اعداد و شمار کو ہندوستان میں جرائم کا حقیقی اعداد و شمار نہیں سمجھا جا سکتا؛ اسی طرح سے، این آئی اے کی طرف سے حاصل کی گئی سزایابی کی اعلیٰ شرح کے اعداد و شمار اس نام نہاد پریمیم ایجنسی کے حقیقی کام کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔ ‘
کوچی میں نرمل کے دفتر میں کافی بھیڑ رہتی ہے۔ ایک اچھی پریکٹس والے وکیل سے کوئی بھی یہ امید کرے گا۔ لیکن اس کے مؤکل، جن میں اکثر لوگ ان کے سیاسی نظریات کی وجہ سے گرفتار کیے گئے ہیں، ان کے لیے محقق اور معاون وکیل کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔
جب اس رپورٹر نے اپریل 2025 میں ان سے ملاقات کی تو ایلن شعیب، جو کہ یو اے پی اےکے الزامات کا سامنا کررہے قانون کے طالبعلم تھے، بھی ان کے دفتر میں تھے۔ شعیب کواین آئی اےنے 2019 میں ماؤنوازوں سے مبینہ تعلق کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے 10 ماہ جیل میں گزارے ،جن میں سے کچھ قید تنہائی میں تھے۔
شعیب کچھ دن ویور ہائی سکیورٹی جیل میں قید تنہائی میں تھے۔ رہائی کے بعد شعیب نے اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کی اور تب سے وہ یو اے پی اے کے معاملات میں نرمل کو اسسٹ کر رہے ہیں۔
اپنے قیام کے چند سالوں کے اندر ہی ایجنسی نے کوچی میں بھی ایک یونٹ کھولا۔ اس سے پہلے این آئی اے کے حیدرآباد دفتر سے معاملات کو نمٹایا جاتا تھا۔ تاہم، جیسے جیسے ریاست میں کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، کئی نئے افسران کی تقرری کی گئی اور کوچی میں ایک نیا دفتر کھولا گیا۔
این آئی اے کی کیرالہ یونٹ نے مختلف قسم کے معاملات کو سنبھالا ہے، جس میں آئی ایس آئی ایس کے معاملات بے حد عام ہیں۔ ان کے ساتھ ہی ایجنسی یکساں تعداد میں مبینہ ماؤنوازوں کے خلاف مقدمات بھی سنبھال رہی ہے۔
دی وائر نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ اقرار جرم کی درخواست کا ماڈل سب سے زیادہ دہشت گردی کے مقدمات میں،جن میں مسلم ملزمان شامل ہوتے ہیں اور جعلی کرنسی کے مقدمات کے ملزمین کے لیےاختیار کیا جاتا ہے۔ ماؤنوازوں سے متعلق مقدمات میں ملزم ایک بھی فرد نے ابھی تک اقرار جرم کی درخواست داخل نہیں کی ہے – نہ کیرالہ میں، نہ ہی ملک میں کہیں اور۔
اگرچہ اس کاکوئی آسان جواب نہیں ہو سکتا، نرمل قیاس لگاتے ہیں کہ کم از کم کیرالہ میں این آئی اے کسی بھی ماؤ نواز ملزم سے درخواست کی پیش کش کے ساتھ رجوع نہیں کرتی۔ نرمل کا کہنا ہے،’یہ یا تو محکمہ داخلہ کی جانب سے لیا گیا غیر تحریری فیصلہ ہو سکتا ہے یا اس کے پس پردہ منصوبہ بند سیاسی وجہ ہو سکتی ہے۔‘
ان کا استدلال ہے کہ چونکہ ماؤنواز کمیونٹی کی سطح پر قریب سے کام کرتے ہیں، ان کی ایک بنی بنائی بنیاد ہے اور وہ ایک سیاسی عزم کے ساتھ کام کرتے ہیں، اس لیے شاید اقرار جرم کی درخواستیں ان کے لیے ممکنہ متبادل نہیں ہیں۔
ممبئی میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن اس سلسلے میں ایک سوال پوچھتے ہیں۔ یو اے پی اے کے تحت مقدمے کا سامنا کر رہے اس سماجی کارکن کا سوال ہے کہ اگر سیاسی عقائد مبینہ ماؤ نوازوں کو جرم کی درخواستیں دائر کرنے سے روکنے کی واحد وجہ ہیں، تو کیا یہی منطق کشمیر اور شمال-مشرق میں سیاسی کارکنوں پر لاگو نہیں ہونی چاہیے؟
دی وائر کی تفتیش سے بھی انکشاف ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں کئی معاملات میں کشمیری مرد و خواتین اور منی پور اور آسام کے کچھ ملزمین نے اقرار جرم کی درخواستوں کا انتخاب کیا ہے۔ کشمیری علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک، اس کی ایک مثال ہیں۔ 2022 میں ملک نے مجرمانہ سازش اور ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزامات پر اقرار جرم کی درخواست دائر کی اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
جب این آئی اے سے اس تضاد کی وضاحت کرنے کو کہا گیا، تواین آئی اے نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ این آئی اے کے ترجمان نے دی وائر کو بتایا،’جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، اقرار جرم کی درخواست دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ملزم کا ہوتاہے، اور ہم اس طرح کا کوئی ڈیٹا نہیں رکھتے ہیں۔ ‘
◊◊◊
اگرچہ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ خصوصی عدالتیں این آئی اے کے منصوبے کے مطابق کام کرتی ہیں، لیکن کچھ معاملات میں عدالتوں نے دھارا کے خلاف جا کراقرار جرم کی درخواستوں کو مسترد بھی کر دیا ہے۔
سال 2017 میں پانچ افراد — محمد اکرم، محمد الیاس، محمد صادق، محمد مزمل اور محمد عرفان — نے اقرار جرم کی درخواستیں دائر کرکے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا حصہ ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم، این آئی اے عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ یہ آزادانہ فیصلہ نہیں لگتا۔
مہاراشٹر میں اس طرح کی یہ پہلی درخواست تھی جسے مسترد کیا گیا تھا۔ سینئر وکیل نتیا رام کرشنا، جو دہشت گردی کے مقدمات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، کہتے ہیں،’عدالت نے درست نکتہ اٹھایا۔ اگر یہ درخواست آزادانہ طور پر دائر نہیں کی گئی، تو آخر کس دباؤ میں کوئی زیر سماعت قیدی اپنا جرم قبول کرنے کا انتخاب کرتا ہے؟ لیکن بدقسمتی سے، بہت کم عدالتیں یہ سوال پوچھ رہی ہیں۔ ‘
آخر کار، 2021 میں، ممبئی کی این آئی اے عدالت نے اکرم، صادق اور مزمل کو مجرم ٹھہرایا اور انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی۔ الیاس اور عرفان کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔ وہ اس وقت تک نو سال جیل میں گزار چکے تھے۔
حالاں کہ، یہ ممبئی کی این آئی اے عدالت کے لیے نئی بات تھی، لیکن اکرم پہلے ہی بنگلورو میں این آئی اے کے ذریعہ چلائے جا رہے ایک مقدمے میں کامیابی کے ساتھ اقرار جرم کی درخواست داخل کر چکا تھا، جس میں اس نے لشکر طیبہ کا’رکن‘ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ 2015 میں عدالت نے اکرم سمیت 13 دیگر افراد کی درخواستوں کو قبول کرتے ہوئے انہیں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اسی طرح، جب میسور کورٹ بلاسٹ کیس کے کچھ ملزمان نے اگست 2016 میں اقرار جرم کی عرضی داخل کی تھی، تو بنگلورو کی این آئی اے عدالت نے ان کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ ملزمان نے ’سنگین جرم‘ کیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ کوئی نرمی نہیں دکھائی جا سکتی ہے اور انہیں اس معاملے میں اقرار جرم کی درخواست دائر کرنے کا موقع نہیں دیا جا سکتا ہے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر
سال 2018کے بودھ گیا سیریل بم بلاسٹ معاملے میں 10 دسمبر 2021 کو ٹرائل کورٹ کے سامنے اقرار جرم کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست دہندگان-پیغمبر شیخ، احمد علی، اور نور عالم مومن نے کہا کہ انہوں نے اقرار جرم کی درخواست داخل کرنےکے بارے میں سوچا ہے تاکہ وہ ’ایک صحت مند زندگی گزار سکیں اور سماج کے مرکزی دھارے میں واپس آ سکیں۔‘ اپنے جرائم کا اعتراف کرنے کے علاوہ ملزمان نے انسانی بنیادوں پر رحم کی درخواست بھی کی تھی۔
یہ درخواست دوپہر سے پہلے دائر کی گئی تھی، اور عدالت نے اسی دوپہر کو فیصلہ سناتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی ۔ اس معاملے میں ملزم نے جرم کی درخواست داخل کی، لیکن شاید انہیں اس بات کاعلم نہیں تھا کہ آئی پی سی کی دفعہ 121 کے تحت عائد کردہ الزامات میں عمر قید کی لازمی سزا ہے۔
اس کے فوراً بعد انہوں نے اس سزا کے خلاف پٹنہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔
ہائی کورٹ نے اقرار جرم کی درخواست کی رضاکارانہ نوعیت اور ٹرائل کورٹ کے مجموعی کام کاج کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے اور اس پورے عمل کو ’انصاف کی خرابی‘ قرار دیا۔ راجیو رنجن پرساد اور شیلیندر سنگھ کی ڈویژن بنچ نے اس درخواست کواقرار جرم کی درخواست سے زیادہ رحم کی درخواست قرار دیا۔
ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے بھیج دیا،’ٹرائل کورٹ کو ملزمان کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے اور اپنے وکلاء سے مشورہ کرنے اور اپنے جرم کو تسلیم کرنے کے نتائج کو سمجھنے کے لیے خاطر خواہ وقت دینا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یہ سارا عمل ایک دن میں مکمل کیا گیا – صبح اور دوپہر کے دو سیشن میں۔ ‘
جون 2025 میں ان تینوں افراد نے دوبارہ اقرار جرم کی درخواستیں داخل کیں۔ اس بار انہیں اپنے فیصلے پر غور کرنے اور عدالت کو یہ مطلع کرنے کے لیے ایک دن کا وقت دیا گیا کہ انہوں نے یہ درخواست رضاکارانہ طور پر دی ہے۔ اس کے بعد انہیں آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔
اقرار جرم کی درخواستوں پراین آئی اےکے ضرورت سے زیادہ انحصار نے سزایابی کی شرح کو بڑھانے میں مدد کی ہے، لیکن اس اعدادوشمار کے پیچھے طویل قید، بالواسطہ دھمکیوں اور اقرار جرم کی درخواستوں کی سودے بازی کی بے شمار کہانیاں پوشیدہ ہیں۔ اپنی کامیابی کے پردے میں ایجنسی نے اپنےقیام کے بعد سے ڈیڑھ دہائی کے دوران عدالتی نگرانی کو بھی نظرانداز کیا ہے اور ملزمین کے جرم کو ثابت کرنے کی کوشش کرنا بھی اس نے گوارہ نہیں کیا ہے۔
(سارنگا اوگل مگلے کے ان پٹ کے ساتھ۔)
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔