اپوروانند کی ماسٹر کلاس: 1984 معاملے میں سجن کمارکو سزا ،2002 کے ملزموں کو وارننگ؟

دہلی ہائی کورٹ نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں 34 سال بعد کانگریس رہنما سجن کمار کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ لیکن انصاف ایک ہی خاندان کو ملا ہے ۔ کیوں انصاف کے لیے غیر معمولی کوشش کرنی پڑتی ہے اور ایک جمہوریت میں انصاف ملنا عام بات نہیں ہے ۔ کیاہم قاتل کے ساتھ رہنے کے عادی ہوگئے ہیں ؟ پروفیسر اپوروانند کی پہلی ماسٹر کلاس۔ The post اپوروانند کی ماسٹر کلاس: 1984 معاملے میں سجن کمارکو سزا ،2002 کے ملزموں کو وارننگ؟ appeared first on The Wire - Urdu.

ویڈیو: دہلی ہائی کورٹ نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں 34 سال بعد کانگریس رہنما سجن کمار کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ لیکن انصاف ایک ہی خاندان کو ملا ہے ۔ کیوں انصاف کے لیے غیر معمولی کوشش کرنی پڑتی ہے اور ایک جمہوریت میں انصاف ملنا عام بات نہیں ہے ۔ کیاہم قاتل کے ساتھ رہنے کے عادی ہوگئے ہیں ؟ پروفیسر اپوروانند کی پہلی ماسٹر کلاس۔

 

The post اپوروانند کی ماسٹر کلاس: 1984 معاملے میں سجن کمارکو سزا ،2002 کے ملزموں کو وارننگ؟ appeared first on The Wire - Urdu.

Next Article

’شہری جھگیوں میں سیاست کی سمجھ کہیں زیادہ گہری ہے‘

خیال کیا جاتا ہے کہ شہری جھگیوں میں رہنے والے سیاست کو کم سمجھتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ نقل مکانی اور شہری جھگیوں  پر کتاب لکھنے والے اسکالر طارق تھیچل کہتے ہیں کہ جھگی –جھونپڑی میں رہنے والے سیاستدانوں کے مہرے محض نہیں ہیں۔ ان سے دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج کی بات چیت۔

Next Article

مودی آر ایس ایس کے حقیقی ’سپوت‘ ہیں اور سنگھ مودی سے سب سے زیادہ فیض اٹھانے والا

آر ایس ایس کے جن خیالات کو پردے میں رکھ کر اٹل بہاری یا لال کرشن اڈوانی پیش کیا کرتے تھے، ان کو مودی کے منہ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سنا جا سکتا ہے۔ اور مودی کی وجہ سے بہت سے دانشور اور صنعتکار آر ایس ایس کی سلامی بجاتے ہیں۔ آر ایس ایس  کواور کیا چاہیے؟

نریندر مودی اور سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت۔(تصویر بہ شکریہ: YouTube/narendra modi)

نریندر مودی اور سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت۔(تصویر بہ شکریہ: YouTube/narendra modi)

یہ مضمون، 15 جون 2024 کو شائع کیا گیا تھا، وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی کے آر ایس ایس ہیڈ کوارٹر کے پہلے دورے کے تناظر میں اس کودوبارہ شائع کیا گیا ہے۔

‘کیا آپ نے تقریر سنی؟’، میرا دوست پر جوش تھا۔ کون سی تقریر، کس کی تقریر، یہ بتانا بھی انہوں نے ضروری نہیں سمجھا۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا محض اتناکہہ دینا کافی ہے اور میں سمجھ جاؤں  گا کہ وہ کس تقریر کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ میں بھی سمجھ ہی گیا تھا، حالانکہ میں نے نہ سمجھنے کا ناٹک کیا۔ دیر تک یہ ناٹک نہیں کیا جا سکتا تھا؛ دراصل  ملک میں ان دنوں  ایک ہی تقریر کا چرچہ ہے! اور وہ موہن بھاگوت کا تازہ ترین پروچن تھا۔

بھاگوت نے کہا کہ ابھی حال ہی میں ہوئے انتخابات میں قدرومنزلت اور تعظیم  کا خیال نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن یا حزب اختلاف کا بھی اتنا ہی اہم درجہ ہے جتنا کہ حکمراں جماعت کا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منی پور ایک سال سے امن  کی راہ دیکھ  رہا ہے۔ وہاں آگ لگی  ہوئی ہے یا لگائی  گئی ہے۔

تقریر لمبی ہے۔ اس میں وہ عورتوں کے شراب پی کر  گاڑی چلانے اور اس کی وجہ سے ہونے والے حادثات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اس ملک کی اخلاقی قدریں  کہاں گم ہو گئی ہیں؟ خیال رہے کہ وہ عورت کے شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے کی مذمت کر رہے تھے، اور اسی وقت پونے کے ایک امیر نابالغ لڑکے کے ذریعے گاڑی سے دو لوگوں کو کچل کر مار دیے جانے اور پھر اس معاملے کو پولیس اور عدالت کے ذریعےرفع دفع کرنے کا تذکرہ  بھی ہو رہا تھا۔لیکن بھاگوت نے خواتین کے شراب پی کر گاڑی چلانے کو ہی مثال بناکر پیش کیا!

اس تقریر میں بھاگوت نے گزشتہ برسوں میں ہر پیرامیٹر پر ہندوستان کی ترقی کے حوالے سےقصیدہ خوانی  کی۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ مودی حکومت اور بی جے پی پچھلے 10 سالوں سے اسی جھوٹ کو دہرا رہے ہیں۔

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ تقریر لمبی ہے اور ہمارے دوست کے ساتھ ہی  ہر ایک شخص  اس کے ایک چھوٹے سے حصے کے پیش نظر پرجوش ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بھاگوت نے نریندر مودی کی سرزنش کی ہے۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ اگرچہ بھاگوت نے مودی کا نام نہیں لیا، لیکن اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ انہوں نے اخلاقی قدروں کی پامالی کے لیے مودی کی ہی سرزنش کی ہے۔

بھاگوت نے اپنی تقریر میں کہا کہ انتخابات میں جو کچھ ہوتا ہے اس میں آر ایس ایس کے لوگ نہیں پڑتے۔ لیکن انتخابی مہم کے دوران وہ لوگوں کے خیال اور نظریے کی تطہیر کرتے ہیں۔ تو اس الیکشن میں وہ کس طرح کی تطہیر کر رہے تھے؟

جب ان کے ایک سابق پرچارک اور تاحیات سویم سیوک نریندر مودی نفرت کاپرنالابہا رہے تھے، تب آر ایس ایس کس قسم کی تطہیر کر رہا تھا؟ صرف مودی ہی نہیں پوری بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی مہم کو فحش اور نفرت انگیز پروپیگنڈے میں بدل دیا تھا۔ مودی اور ان کی حامی بی جے پی نے پورے ملک کو غلاظت میں نہلا دیا۔ اب لوٹے میں پانی لے کر بھاگوت حاضر  ہوئے ہیں!

سوال قدرومنزلت، تعظیم و تکریم یا اس کی خلاف ورزی کا نہیں ہے، صرف اپوزیشن کی قدرومنزلت کا  نہیں۔اصل سوال ہےاس ملک میں انسانیت کی تعظیم و تکریم  کا، اس کے تحفظ کا، اور وہ اس ملک کا سیکولرازم ہے۔ اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور ان کی قدرومنزلت کا سوال اس میں سرفہرست ہے۔ ان کے مساوی حقوق کا سوال اس ملک میں سرفہرست ہے۔

کیا بھاگوت یا آر ایس ایس کا نظریہ اس بارے میں مودی سے مختلف ہے؟ کیا صرف ایک سال قبل آر ایس ایس نے ایک قرارداد پاس نہیں کی تھی، جس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ مسلمان سازش کے تحت اسٹیٹ مشینری میں داخل ہو رہے ہیں؟ کیا آر ایس ایس نے یہ خدشہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کے باعث  ہندوستان کی آبادی کی نوعیت اورفطرت بدل جائے گی؟

مودی جس بات کو بڑے کھلے اور بیہودہ انداز میں کہہ رہے تھے، کیا وہ آر ایس ایس کا ہی خیال نہیں ہے؟ پھر مسلمانوں کے خلاف مودی کے نفرت انگیز پروپیگنڈے پر حیرانی کیوں؟

منی پور میں آگ کس نے لگائی؟ منی پور کے سب سے طاقتور ہتھیار بند گروہ آرم بائی تینگول کے ساتھ آر ایس ایس کے تعلقات کے بارے میں منی پور میں جو کچھ کہا جا رہا ہے، کیا اس میں کوئی صداقت نہیں؟ اگر وہ جھوٹ بھی ہے تو پھر خود آر ایس ایس نے پچھلے ایک سال میں اپنے سویم سیوکوں کی حکومت کو اس بارے میں کب اور کیا کہا؟

پچھلے ایک سال میں آر ایس ایس کے سربراہ کئی ‘پر وچن’  دے چکےہیں۔ انہوں نے ایک بار بھی منی پور کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ خیال رہے کہ شمال-مشرقی ہندوستان میں آر ایس ایس کی سرگرمی بہت پرانی ہے۔ بذات خوداس نے منی پور میں امن کی بحالی کے لیے کیا کوششیں کیں؟

اگر ہم اپنے آپ کو ان باتوں تک محدود رکھیں تو بھی موہن بھاگوت کے اس ‘پروچن ‘ کا دکھاوا اور کھوکھلا پن اجاگر ہو جاتا ہے۔ اس پروچن کا کوئی مطلب نہیں کیونکہ آر ایس ایس بذات خود مسلمان اور عیسائی مخالف نفرت پیدا کرنے والا کارخانہ ہے۔

بھاگوت نے درست کہا کہ شاکھامیں کچھ سال گزارنے کے بعد آدمی بدل جاتا ہے۔یہ تو پوچھنا ہی پڑے گا کہ کیوں آر ایس ایس کے تمام کارکنان مسلمانوں اور عیسائیوں سے نفرت کرتے ہیں یا ان کے تئیں  مشکوک رویہ رکھتے ہیں۔ کیوں وہ مسلسل گاندھی سے نفرت  کرتے ہیں؟ کیوں آر ایس ایس کے لوگ، اپنے تمام تر دکھاوے کے بعد بھی ذات پات کے نظام میں کامل یقین رکھتے ہیں؟

جس نریندر مودی کے سلسلے میں اب افسوس کیا جا رہا ہے، کیا آر ایس ایس نے اپنی پوری طاقت اسی مودی کو بلندی تک پہنچانے میں نہیں لگا دی تھی؟ کیا 2002 کے سویم سیوک مودی اور 2024 کے مودی میں کوئی فرق ہے؟ اور کیا خود آر ایس ایس کا پورا وجود جھوٹ اور آدھے سچ پر مبنی نہیں ہے؟ کیا آر ایس ایس اس آئین پر پورے دل سے یقین رکھتی ہے جس کی وہ تعریف کرتا ہے؟ کیا جس  گاندھی کو اس نے یادگار بنا رکھا ہے،اسے مارنے والےگوڈسے اور اس قتل کی سازش میں ملوث ساورکر کے تئیں آر ایس ایس کے لوگوں  میں عقیدت  کا جذبہ نہیں ہے؟

یہ سوال آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں کو پوچھنا چاہیے، اس کے ناقدین کو نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آر ایس ایس کے تمام لوگوں میں خود شناسی کا مادہ ختم نہیں ہو گیا  ہے۔ وہ اب بھی اپنے آپ سے کچھ سخت سوال پوچھ کر خود کو آر ایس ایس کے جال سے آزاد کر سکتے ہیں۔

سال 2013 میں، جب نریندر مودی کو پہلی بار بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بنایا گیا تھا، تو میں نے آر ایس ایس کے ایک سینئر عہدیدار سے پوچھا تھا کہ گجرات میں مودی  نے ان کی تنظیم کے ساتھ جو سلوک کیا تھا،  کیااس کے بعد بھی وہ مودی کی حمایت کریں گے۔ انہوں نےمسکراتے ہوئے کہا، ‘ہم دو طرح سے اپنی اہمیت کھو سکتے ہیں۔ ایک مودی کی ماتحتی میں اور دوسرا کانگریس کی حکومت میں۔ آپ بتائیے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

دوسری بات یہ کہ مودی کے وزیر اعظم بننے کے کچھ عرصہ بعد آر ایس ایس کے ایک رکن نے مجھ سے کہا، ‘اگر آپ میں سے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آر ایس ایس کبھی مودی کو ڈسپلن کرے گا، تو یہ آپ کی خوش فہمی ہے۔ آپ بتائیے کہ آر ایس ایس کے  کس چیف کو زیڈ سکیورٹی ملی تھی، کس چیف کی تقریر ہر ٹی وی چینل نے چلائی، کون سوچ سکتا تھا کہ ہر کوئی اسے اتنی اہمیت دے گا؟ یہی نہیں، آر ایس ایس کے چُھٹ بَھیّے کو بھی اب جو اہمیت وزارتوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک  میں مل رہی ہے، وہ اور کب ملی تھی۔ یہ سب کس کی مہربانی ہے؟’

نریندر مودی آر ایس ایس کےحقیقی ‘سپوت’ ہیں۔ اور آر ایس ایس مودی کا سب سے بڑا ‘لابھارتھی’ ہے۔ آر ایس ایس کے جن خیالات کو پردے میں  رکھ کر اٹل بہاری یا لال کرشن اڈوانی پیش کیا کرتے تھے ان کو  مودی کے منہ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سنا جا سکتا ہے۔ اور مودی کی وجہ سے بہت سے دانشور اور صنعت کار آر ایس ایس کی سلامی بجاتے ہیں۔ آر ایس ایس  کواور کیا چاہیے؟

Next Article
Next Article

سنگھ بی جے پی تعلقات میں نئی ​​گرمجوشی؟

سنگھ اور بی جے پی کے رشتوں میں پچھلے ایک سال میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی کھل کر سنگھ کی تعریف کرتی نظر آ رہی ہے۔ حال ہی میں نریندر مودی وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی بار سنگھ ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ کیا سنگھ بدل رہا ہے؟ سنگھ-بی جے پی کے رشتوں پر سینئر صحافیوں – راہل دیو اور دھیریندر جھا کے ساتھ آشوتوش بھاردواج کی بات  چیت۔

جون 2024 میں ریکارڈ کیے گئے اور شائع کیے گئے اس ویڈیو کو وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی کے سنگھ ہیڈ کوارٹر کے پہلے دورے کے تناظر میں دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔

Next Article

سوغات مودی: خون سے لتھڑا ہاتھ اپنے شکار کے منہ میں مٹھائی ٹھونس رہا ہے

مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہندو سماج کے مزاج کا لازمی عنصر بنانے کی مہم نریندر مودی کی قیادت میں کامیاب رہی ہے۔ قاتل کو مقتول کا سرپرست بناکر پیش کرنے سے بڑھ کر بے شرمی بھلا اور کیا ہو سکتی ہے۔

(پوسٹر بہ شکریہ: بی جے پی)

(پوسٹر بہ شکریہ: بی جے پی)

جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ بے حیائی اور گھنونے پن  کی ساری حدیں پار کی جا چکی ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ ہمیں اس حد کے بارے میں سوچنے کو مجبور کر دیتی ہے۔ نفرت اور تشدد بے شرمی ہیں یا نہیں؟ یہ سوال دوسرے ذہنوں  میں بھی پیدا ہوئے جب خبر آئی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی عید کے موقع پر 3200000 مسجدوں میں 32 لاکھ مسلمانوں کے درمیان ‘سوغات مودی’ تقسیم کرے گی۔ ایک تصویرذہن میں ابھری خون میں لتھڑا ہاتھ اپنے شکار کے منہ میں مٹھائی ٹھونس رہا ہے۔

سوغات دینے کا کام اس کا اقلیتی مورچہ کرے گا۔ یعنی راشٹر وادی یا ہندوہردیہ والے مسلمان چہرے۔مورچے کا کہنا ہے کہ رمضان میں ضرورت مندوں اور غریبوں کی مدد کرنے کی روایت ہے، اس لیے اس بار بی جے پی نے یہ مقدس کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صرف اسلام میں  نہیں، ہندو دھرم میں بھی مانا جاتا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا، خاص طور پر کمزوروں کی مدد کرنے سے  نیکی ملتی ہے۔ لہٰذا، اس امداد سے ضرورت مندوں  کو جتنا  فائدہ پہنچتا ہے، اسے دینے والے کو بھی تقریباً اتنا ہی یا زیادہ فائدہ ملتا ہے۔ ایک طرح سے وہ اپنی بعد کی زندگی کو بہتر بنا رہا ہوتا ہے۔

لیکن نیکی صرف اس عمل سے حاصل ہوتی ہے جس کے بدلے کسی چیز کی خواہش کیے بغیر دوسروں کی مدد کی جائے۔ تقریباً ہر کلچر میں کہا گیا ہے کہ اصل صدقہ وہی ہے جس میں بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا دیا ہے۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کسی روحانی مقصد کے ساتھ ایسا نہیں کر رہی ہے۔ اس کا مقصد بالکل دنیاوی ہے۔

لوگ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ ایسا کرنے سے وہ مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کر سکے گی اور ان کے کچھ ووٹ حاصل کر سکے گی۔ وہ ہندوستانی رائے دہندگان میں اپنی بنیاد بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ علاقہ مسلمانوں کا ہے جہاں اس کی رسائی نہیں ہے۔ اب اس طرح ہاتھ بڑھا کر وہ اس علاقے میں قدم جمانا چاہتی ہے۔

یہ اس کے اقلیتی مورچہ کے عہدیدار کے بیان سے معلوم  ہوتا ہے؛’جمال صدیقی نے کہا کہ عید ملن کی تقریبات کا انعقاد ضلع سطح پر بھی کیا جائے گا۔ اقلیتی مورچہ  کے قومی میڈیا انچارج یاسر جیلانی نے کہا کہ ‘سوغات مودی’ اسکیم بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے مسلمانوں کے بیچ فلاحی اسکیموں کو فروغ دینے اور بی جے پی اور این ڈی اے  کی سیاسی حمایت کے لیےشروع کی گئی مہم ہے۔’

خبر پڑھنے کے بعد پہلی چیز جس نے میری توجہ مبذول کرائی وہ یہ تھی کہ بی جے پی نے ایک اقلیتی مورچہ کھول رکھا ہے۔ یعنی وہ ہندوستان میں اقلیت کے تصور کو درست تسلیم کرتا ہے۔ یہ اس کے نظریاتی موقف سے مختلف ہے کیونکہ اس کی مربی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ ہندوستان میں اقلیت جیسی کوئی آبادی ہے۔ اگر ہے بھی تو وہ مسلمانوں کو اقلیت نہیں مانتی کیونکہ ان کی تعداد کروڑوں میں ہے۔

جس مودی کے نام کی سوغات بے چارے مسلمانوں کو دی جا رہی  ہے، انہوں نے بھی مسلمانوں کی جگہ پارسیوں کا نام لیا تھا ان کو مائیکرو اقلیت کہہ کر تاکہ مسلمانوں کے اقلیت ہونے کے دعوے کا مذاق اڑایا جا سکے۔ آپ بی جے پی کے کسی بھی شخص سے بات کریں تو وہ کہے گا کہ مسلمان اقلیت کیسے ہوسکتے ہیں!

یہ بھی یاد رکھیے کہ بی جے پی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اقلیتی حیثیت کو ختم کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ وہ اسکول اور اعلیٰ تعلیمی سطحوں پر اقلیتوں کے وظائف کو ختم کر رہی ہے۔ مدارس کو بند کر رہی ہے اور مختلف مقامات پر مختلف بہانوں سے انہیں چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کر رہی ہے۔

مجھے اپنا ابتدائی زمانہ یاد ہے، جب آر ایس ایس کے  میرے ایک جاننے والے کہتے تھے کہ مسلمانوں کو محمدیہ ہندو کہا جانا چاہیے، انہیں بھی اپنے آپ کو یہی کہنا چاہیے۔ اب معلوم ہوا کہ بی جے پی مسلمانوں کو مسلمان مانتی  ہے اور اقلیت بھی۔ لیکن ان کے بیان سے ہی  واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی لالچی نگاہ  میں وہ محض ایک ممکنہ ووٹر ہیں، جنہیں اس سوغات سےرجھانےکی کوشش کی جا رہی  ہے۔

یہ سوچتے ہوئے کہ غریب اور ضرورت مند مسلمان عید اچھی طرح منا سکیں، بی جے پی نے ایک عیدکی تھیلی  تیار کی ہے، جس کی مالیت 500-600 روپے ہے۔اس میں چینی ہے، کچھ خشک میوہ جات اور کپڑا بھی ہے!

بی جے پی کو یقین ہے کہ مسلمان اس کی سخاوت کا کچھ تو لحاظ کریں گے اور ووٹوں سے اس کی جھولی  بھر دیں گے۔ بی جے پی کے پاس پیسہ ہے، مسلمانوں کے پاس ابھی صرف ووٹ رہ گیا ہے۔ اس سے اس کے تمام حقوق چھین لیے گئے ہیں۔ بس، یہ بچا رہ گیا ہے۔ وہ بھی  بی جے پی کو چاہیے۔

لیکن پہلے ہم اس سوغات کے نام کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس نے اسے سوغات بھاجپا  نہیں کہا، حالانکہ یہ ملک گیر سوغات دینے  کا کام بی جے پی ہی  کرے گی۔ اس کا نام نریندر مودی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی نے خود کو مودی کے ساتھ مکمل طور پر ضم کر لیا ہے اور اسے اس میں کوئی شرم نہیں ہے۔ اتحاد کی  حکومت کو این ڈی اے حکومت تو چھوڑیے،بی جے پی کی حکومت بھی نہیں کہا جاتا۔ وہ مودی حکومت ہے۔ بی جے پی کی یہ قابل رحم حالت تاریخ میں پہلے ہی درج ہو چکی ہے۔


یہ سوغات اسی نریندر مودی کے نام پرہے جو صرف ایک سال پہلے ہندوؤں کو یہ کہہ کر ڈرا رہا تھا کہ اگر انہوں نے بی جے پی کو ووٹ نہ دیا تو مسلمان ہندوؤں کا حصہ چھین لیں گے۔

مودی-بی جے پی کے لوگ  کیا غریب مسلمانوں کی  لائن لگوائیں گے اور انہیں یہ تھیلیاں  دیں گے؟ یا وہ گھر گھر جائیں گےاورعید مبارک کہتے ہوئے یہ تحفہ دیں گے؟ کیا وہ فیضان کے گھر جائیں گے جسے ان کی حکومت کی پولیس نے قومی ترانہ گانے کے لیے  مارااور وہ مر گیا؟ کیا وہ پہلو خان کے گھر بھی جائیں گے یا علیم الدین کے؟


ہم انہیں مشورہ دیں گے کہ وہ دہلی میں حمزہ، امین، بھورے لال، مرسلین، آس محمد، عقیل احمد، ہاشم علی اور عامر خان کے گھر جائیں،جنہیں  5 سال قبل دہلی تشدد کے دوران جئے شری رام نہ کہنے پر ماردیا گیا تھا۔

وہ  دادری کے محمد اخلاق، ادھم پور کے زاہد رسول بھٹ، لاتیہار کے محمد مظلوم اور آزاد خان، آسام کے ابو حنیفہ اور ریاض الدین کے گھر بھی جائیں، جنہیں گزشتہ سالوں میں گئو رکشا کے نام پر مار ڈالا گیا۔

یہ ان ڈھیر سارے ناموں میں سے چند نام ہیں جنہیں  بی جے پی کی سیاست نے قتل کر دیا۔ ان سینکڑوں خاندانوں کا نام نہیں لیا جا رہا،جن کے گھر بی جے پی حکومتوں نے بلڈوزر سے منہدم کر دیے ہیں۔ وہ اس سوغات کو کہاں سنبھال کر رکھیں گے؟

مودی کی بی جے پی کے لوگوں کو ان لوگوں سے بھی ملنا چاہیے جن کی روزی روٹی تباہ ہو چکی ہے کیونکہ ہر ہندو تہوار پر ان کی دکانیں بی جے پی والوں نے بند کروائی ہیں۔

یہ سوغات نریندر مودی نامی  اسی بی جے پی لیڈر کے نام  پرہے جو صرف ایک سال پہلے ہندوؤں کو یہ کہہ کر ڈرا رہا تھا کہ اگر انہوں نے بی جے پی کو ووٹ نہ دیا تو مسلمان ہندوؤں کا حصہ غصب کر لیں گے۔


نریندر مودی بی جے پی کی سیاست کا سب سے کامیاب چہرہ ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی گزشتہ کئی دہائیوں سے جس کی تلاش میں تھی، وہ انہیں نریندر مودی میں مل گیا۔ جو اینٹی مسلم سوچ کی  مجسم صورت ہے۔ جو منہ کھولے  نہ کھولے، مسلمانوں کے خلاف نفرت، ان کے وجود کے تئیں حقارت خود بخود ظاہر ہو جاتی ہے۔ مودی نے ثابت کیا ہے کہ مسلمانوں کے وجود سے مکمل انکار ہی اصل ہندوتوا ہے۔


مودی حکومت نے 2002 کے تشدد کے بعد مسلمانوں کے ریلیف کیمپوں کو زبردستی بند کروا  دیا تھا۔ مودی نے یہ کہہ کر ان کا مذاق اڑایا تھا کہ کیا دہشت گردوں کو پیدا کرنے کی  فیکٹری چلنےدینی چاہیے؟

مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہندو سماج کے مزاج  کا لازمی عنصر بنانے کی آر ایس ایس کی مہم اگر کسی کی قیادت میں کامیاب ہوئی ہے تو اس شخص کا نام نریندر مودی ہے۔

قاتل کو مقتول کا سرپرست بنا کر پیش کرنے سے بڑھ کر بے حیائی بھلا اور کیا ہو سکتی ہے؟ طلاق ثلاثہ قانون کے بعد بی جے پی کے ایسے پوسٹر دیکھے گئے جن میں مودی کو مسلمان  عورتوں  کا بھائی بتایا گیا تھا۔ مسلمان عورتوں کا بھائی جو ان کو مسلمان مردوں کے ظلم سے بچائے گا۔اس پبلسٹی کو دیکھ کر  بھی گھن پیدا ہوئی تھی۔

مسلمانوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ دوستی کی  مدد کی۔ جیل میں قید مسلمانوں کے  لیے وکیل،  ضمانت، جومسلمان مار ڈالے گئے ان کے خاندانوں کی کفالت، جن کے گھر، مکان ، دکان گرادیے گئے ان کے لیےچھت کی مدد۔ یہ سوغات نہیں ہوگی۔ مسلمان جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ مساوی حقوق اور انصاف ہے۔ وہ عیدی نہیں مانگ رہے ہیں۔ مساوات اور انصاف سوغات کے طور پر نہیں ملتے۔ انہیں حق کی طرح حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مسلمان صبر اور استقامت کے ساتھ اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ کیا اس عید پر ہندو یہ عہد کر سکتے ہیں کہ وہ اس جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں گے؟

اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔