انصاف کے لیے لڑنے والے جسٹس سچر تاریخ میں امر رہیں گے

جسٹس سچر اب ا س دنیا میں نہیں رہے مگر انصاف کے لیے جنگ اور بے باکی کے لیے دہلی میں لاہور کا دل رکھنے والا یہ شخص تاریخ میں امر رہےگا۔ The post انصاف کے لیے لڑنے والے جسٹس سچر تاریخ میں امر رہیں گے appeared first on The Wire - Urdu.

جسٹس سچر اب ا س دنیا میں نہیں رہے مگر انصاف کے لیے جنگ اور بے باکی کے لیے  دہلی میں لاہور کا دل رکھنے والا یہ شخص تاریخ میں امر رہےگا۔

Photo courtesy: Kamal Mitra Chenoy

Photo courtesy: Kamal Mitra Chenoy

داتا گنج بخش کی نگری لاہور اور حضرت نظام الدین اولیاء کے شہر دہلی میں کئی مماثلتیں ہیں۔بھلے ہی پچھلے 70 سالوں کے دوران سرحدوں نے سیاسی، سماجی اور ذہنی فاصلے کوسوں بڑھادئے ہوں، مگر موسم، مزاج، زبان اور قدم قدم پر افغان ، مغل و برطانوی دور کی یکساں نشانیاں برصغیر کے ان دو اہم شہروں کوابھی بھی مطابقت بخشتی ہیں ۔ اگر زندہ نشانیوں کی بات کریں تو دو لاہوریوں معروف کالم نگار کلدیپ نیئر اور جسٹس راجندر سچر نے برصغیر کے ان دو شہروں کے درمیان کشیدگی کی انتہا کے باوجود روابط قائم رکھنے میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ اس  کی ایک اہم کڑی پچھلے ہفتہ اس وقت ٹوٹ گئی جب راجندر سچر کا دہلی کے ایک پرائیویٹ ہاسپٹل میں انتقال ہوگیا۔ وہ 94 برس کے تھے۔ جسٹس سچر 1985 میں دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔

انہوں نے 1946 میں پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لے کر اپنے کیریئر کی شروعات لاہورمیں ایک وکیل کے طور پرکی تھی۔ریٹائرمنٹ کے بعد وہ معروف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن ،پی یو سی ایل (Peoples’ Union for Civil Liberties) سے وابستہ رہے۔ان کے والد بھیم سین سچر 1949 میں متحدہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے اور نانا لاہور کے نامہ گرامی فوجداری وکیل تھے۔ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھنے اور دہلی کی ایک پاش کالونی میں رہائش کے باوجود ان کا مزاج قلندرانہ تھا۔ جہاں ان کو چھیڑا تو لاہور کی گلیوں کی روداد کا ایک سیلاب امنڈ آتا تھا۔ کشمیر ان کا خاص موضوع تھا۔ حالات جس طرح وادی میں کروٹ لے رہے تھے وہ خاصے دلبرداشتہ تھے۔ اپریل 1990میں جسٹس وی ایم تارکنڈے کی قیادت میں جب پہلی بار انسانی حقوق کی تنظیموں کے ایک چھ رکنی وفد نے کشمیر کا دور ہ کیا وہ اس کے ایک کلیدی رکن تھے۔ اسی رپورٹ کی بدولت ہی گاؤ کدل، ذکورہ، سونہ وار، نادر گنج، چھانہ پورہ، بسنت باغ، چوٹہ بازار،زینہ کدل، زیرو برج مسجد، بٹہ مالو اور کھریو میں ہوئے قتل عام کے واقعات منظر عام پر آئے۔

حتیٰ کہ اس وقت تک پاکستان بھی گراؤنڈ پر انسانی حقوق کی اس حد تک ہورہی بدترین خلاف ورزیوں سے نا آشنا تھا۔کیونکہ بعد میں پاکستانی مندوب نے عالمی فورمز پر اسی رپورٹ کا حوالہ دیکر ہندوستان کو ایک طرح سے کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا۔ اسی رپورٹ نے کشمیری پنڈتوں کے انخلاء کی پول بھی کھول کر رکھ دی تھی اور کئی ہندو اور کشمیری پنڈتوں کے بیانات کے حوالے سے یہ ثابت کردیا کہ اسکے پیچھے حکومتی مشینری کی ایک سازش کام کر رہی تھی، تاکہ کشمیر میں جاری جدوجہد کو ایک فرقہ وارانہ رنگ دیکر ہندوستان میں ہندوؤ ں کو خوف زدہ کیا جائے ۔ جب یہ ٹیم کشمیر پہنچی تو دیکھا کہ پچھلے تین ماہ سے سری نگر اور وادی کے بڑے شہروں میں مسلسل کرفیو نافذ تھا۔ جسٹس سچر کے بقول انہوں نے پنجاب میں 80کی دہائی میں اس سے بھی بد تر حالات دیکھے تھے، مگر مسلسل کرفیو کا نفاذ اور شہریوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے کا رجحان کشمیر کے علاوہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملا۔

اسی طرح جنوری 1993میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر یٰسین ملک کا دوران حراست دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں دل کا بائی پاس آپریشن ہوا۔ آپریشن کے فوراً بعد ہی انہوں نے اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں ہی کشمیر میں ابتر ہوتی ہوئی صورت حال کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل،انڈیا کو کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کی جانچ کرنے کی اجازت دے۔ ان کی حالت روز بہ روز بگڑ رہی تھی۔ آخر ان کے ایک دست راست اور معروف کشمیری معالج ڈاکٹر عبد الاحد گورو کی وساطت سے جسٹس سچر اور کلدیپ نیئر نے چنندہ شخصیات پر مشتمل وفد ترتیب دیکر کشمیر جانے پر حامی بھر لی۔ سچر خود یٰسین ملک سے ملنے ہسپتال پہنچے اور ان کو یقین دلایا کہ ان کی رپورٹ ایمنسٹی کی رپورٹ کی ہی طرح غیر جانبدار ا، معروضی اور معتبر ہوگی۔ مگر اسی دوران ڈاکٹر گورو کو سرینگر میں قتل کیا گیا، جو ایک الگ کہانی ہے۔ اس کی تفصیلات پھر کبھی۔ جسٹس سچر کی قیادت میں یہ وفد آخر کار مئی 1993کو کشمیر میں وارد ہوا۔

اس وفدنے کشمیر میں انٹروگیشن سینٹروں میں اذیتوں اورحراستی اموات پر ایک مفصل رپورٹ جاری کی۔ اسی وقت سرینگر میں جموں و کشمیر پولیس نے اپنے ایک ساتھی ریاض احمد، جو ایک فٹبالر بھی تھا ، کی موت کے خلاف اسٹرائیک کی تھی۔ ریاض ، جموں سے سرینگر آرہا تھا، کہ فوج نے تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران اس کو ہلاک کیا ۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کا شناختی کارڈ بھی اسکو بچا نہیں پایا۔ تقریباً1500پولیس اہلکاروں اور افسران نے اقوام متحدہ کے دفتر تک مارچ کرکے ، پولیس کنٹرول روم پر قبضہ کیا۔ گفت و شنید کے بعد با لآخر فوج نے کنٹرول روم کو اپنی تحویل میں لے کر کئی پولیس اہلکاروں کو حراست میں لیا۔ پولیس کے سربراہ نے جسٹس سچر کو بتایا کہ جب اہلکاروں سے ہتھیار رکھوائے جا رہے تھے اور ان کو منتشر کیا جا رہا تھا، تو بی ایس ایف نے فائرنگ کرکے تین اہلکاروں کو ہلاک کرکے معاملہ اور پیچیدہ کروایا۔دہلی ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی حثیت سے ان کا ایک فیصلہ نذیرہے۔ یہ کیس دہلی میں ایک دلت اور ایک برہمن کے درمیان زمین کے الاٹمنٹ کے حوالے سے تھا۔

دلت ایک کھاتا پیتا اور سرکاری نوکر تھا، جبکہ برہمن بے روزگار اور غریب تھا۔ برہمن نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ غریب ہونے کے ناطے وہ اس زمین کا مستحق ہے، جبکہ دلت کے پاس پہلے ہی وسائل ہیں۔ انہوں نے بھری عدالت میں برہمن سے سوال کیا کہ کیا وہ دلت کے ہاتھوں پانی پینا قبول کرے گا ، جب اس کا جواب نفی میں تھا تو انہوں نے ایک معرکتہ الآرا فیصلہ صادر کرکے کہا کہ دلت چاہے کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، صدیوں سے جس طرح اس کے ساتھ برتاؤ کیا گیا، جانوروں سے بھی بدتر سلوک ان کے ساتھ کیا گیا ، اس کا مداوا ان کو پورے ملک کے وسائل  دےکر بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس توضیح کے ساتھ انہوں نے زمیں دلت کے حوالے کی۔

مگر تاریخ میں ان کا نام ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی ،معاشی اور تعلیمی حالات کا جائزہ لینے اور اس پر پہلی بار ایک مفصل رپورٹ تیار کر نے کی وجہ سے زندہ و جاوید رہے گا۔ کانگریس کی قیادت والی پچھلی متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت نے 2005ء میں سب سے بڑی اقلیت، مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ان کی قیادت میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے تقریباً ایک سال کی عرق ریزی کے بعد17نومبر 2006ء کو 403 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ مع 76سفارشات کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو پیش کی۔ رپورٹ نے ہندو قوم پرستوں کے اس دعوے کی قلعی کھول دی کہ سیکولر جما عتیں ملک کے وسائل کا استعمال کرکے مسلمانوں کی نا ز برداری کرتی ہیں۔ رپورٹ نے بتایا کہ مسلمانوں کو بیک وقت’ وطن دشمن‘ ہونے اور’ ناز برداری’ کا دہرا الزام سہنا پڑتا ہے۔ اس میں بھی کہا گیا کہ مسلمان احساس کمتری سے دوچار ہیں اور کئی مقامات پر سماجی بائیکاٹ کی وجہ سے ان کو ان مقامات سے نکلنے پر مجبور کردیا گیا ہے جہاںوہ صدیوں سے رہ رہے تھے۔

 سرکاری نوکریوں میں مسلمان محض 5فیصد ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد جیلوں اور بھکاریوں میں ان کی آبادی کی شرح کے حساب سے زیادہ دیکھی گئی، جبکہ بقیہ تمام معاشی اور تعلیمی اشاریوں میں ان کی حالت ہندو کے انتہائی پسماندہ طبقوں سے بھی بد تر پائی گئی۔مجھے یاد ہے کہ رپورٹ پیش کرنے کی تقریب وزیر اعظم ہاوٰس میں منعقد ہورہی تھی۔ وزیر اعظم کے دفتر کے سبھی افسر اور قومی سلامتی کے مشیر موجود تھے، البتہ کابینہ کے سیکرٹری بی کے چتر ویدی کی غیر حاضری سبھی کو کھٹک رہی تھی۔ بعد میں اکثر افسروں نے دبے لفظوں میں بتایا کہ بیوروکریسی کے سرتاج چتر ویدی اس رپورٹ کے مندرجات سے ناخوش ہیں۔ اس کا برملا اظہار انہوں نے اگلے روزکمیٹی کے آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی سید ظفر محمود کو بلا کر کیا۔

محمود صاحب جب انہیں پریزنٹیشن دے رہے تھے، تو وہ ہر نقطے پر کوئی اعتراض کر کے اسے رد کر دیتے اور آخر میں کہنے لگے ایک سیکولر ملک میں سرکاری وسائل کسی ایک فرقہ پر استعمال نہیں کیے جا سکتے۔2006ء میں ہی ہندوستان میں پہلی بار وزارت اقلیتی امور قائم ہوئی۔ وزارت کے پہلے سیکرٹری ایم این پرساد کا واسط کابینہ کے دو سیکرٹریوں بی کے چتر ویدی اور کے ایم چندر شیکھر سے پڑا۔ دونوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس رپورٹ کو نافذ کروانے کے لیے اپنا خون خشک نہ کریں چونکہ 2002کے گجرات فسادات سے خوف زدہ مسلمان یکجا ہوکر 2004میں کانگریس کو دوبارہ اقتدار میں لائے تھے، اس لئے دل بہلانے کے لئے ان کوکوئی کھلونا دینا ضروری تھا۔ سیکرٹری صاحب کو بتایا گیا کہ سچر کمیٹی، اس کی سفارشات اور ان کے نفاذ کا خوب ڈھول بجنا چاہیے، مگر چھوٹی موٹی اسکیموں کے سوا عملی نفاذ کی کوئی ضرورت نہیں۔

محمود صاحب کے بقول افسر شاہی نے من موہن سنگھ کی نیک نیتی اور مسلمانوں کی زندگی کو بہتر بنانے سے متعلق ان کی لگن کو ناکام بنادیا۔ خود کئی بار جسٹس سچر کہتے تھے کہ غیر ضروری پبلسٹی نے زمینی سطح پر حالات دگرگوں کر دیے ہیں۔ اس کا ادراک 2014 کے عام انتخابات اور بعد میں ہندوستان کے سب سے بڑے صوبہ اتر پردیش میں ہوا۔گزشتہ حکومت کی طرف سے اقلیتوں کی ترقی کی کاغذی سکیموں اور سچر کمیٹی کی سفارشات کی بے انتہا پبلسٹی نے ایک طرف ہندو اکثریتی طبقے میں یہ احساس پیدا کیا کہ مسلمانوں نے ان کے اور حکومتی وسائل پر قبصہ کر لیا ہے اور دوسری جانب مسلم بستیوں کی حالت زار اور کسمپرسی عیاں تھی۔

کانگریس یا دیگر ریاستی حکومتوں نے زبانی جمع خرچ اور مسلمانوں کو ہندو اکثریت کے نظروں میں مزید معتوب بنانے کے سوا کچھ نہیں کیا تھا۔ بریلی کے مسلم اکثریتی علاقہ شامت گنج کی تقریباً چار لاکھ آبادی کے لیے صرف ایک بینک اور چار اے ٹی ایم ہیں۔ یہ علاقہ زردوزی کے لئے مشہور ہے۔ علی گڑھ کے جو علاقے تالے بنانے کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں مگر ان میں کوئی بینک ہے نہ پوسٹ آفس۔ البتہ ان دونوں علاقوں میں تین چار پولیس اسٹیشن اورکئی درجن پولیس پوسٹ قائم ہیں مسلمانوں کی سیاسی حالت اس قدر ناگفتہ بہ تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما بتاتے تھے کہ مسلمان ان کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیتا اس لئے ان کو اقلیت کی کوئی پروا نہیں، اس کے لیڈران مسلم ووٹ کو تقسیم اور ہندو ووٹ یکجاکرنے کے فراق میں تھے۔

ادھر سیکولر پارٹیوں کو معلوم تھا کہ مسلمان کہاں جائے گا، ووٹ تو بہرحال انہی کو ملنا ہے، اس لئے وہ بھی ان کے سماجی اور اقتصادی مسائل کو حل نہیں کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے تھے۔ سچر کہتے تھے کہ مسلمانوں کی حالت صرف تعلیم پر توجہ دینے سے ہی بدل سکتی ہے، ان کا ماننا تھا کہ یہ واحد مذہب ہے جس کے صحیفوں میں علم حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مگر ابھی پچھلے ماہ اسپتال میں بھرتی ہونے سے قبل جب ان سے فون پر بات ہوئی تووہ مسلمانوں میں رو ز بروز بڑھتے عدم تحفظ کے احساس سے خائف تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک علامت ہے، جس کا حل ڈھونڈنا ضروری ہے۔ سچر اب ا س دنیا میں نہیں رہے مگر انصاف کے لیے جنگ اور بے باکی کے لیے  دہلی میں لاہور کا دل رکھنے والا یہ شخص تاریخ میں امر رہےگا۔

The post انصاف کے لیے لڑنے والے جسٹس سچر تاریخ میں امر رہیں گے appeared first on The Wire - Urdu.

Next Article

جے پور سینٹرل جیل میں گھٹن کے ساتھ سانس لینے کو مجبور قیدیوں کی کہانی، انہی کی زبانی

درجن بھر قیدیوں نے جیل میں بنیادی سہولیات سے محرومی اور غیر انسانی صورتحال کی بابت شکایت کرتے ہوئے اپنے خطوط دی وائر کے ساتھ شیئر کیے ہیں، جن سے کھچا کھچ بھری ہوئی جیل میں روزمرہ کی ذلت آمیز زندگی کا تصویری خاکہ سامنے آتا ہے۔

(تصویر: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

(تصویر: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

ممبئی: جے پور سینٹرل جیل کی ہائی سکیورٹی سیل میں رضوان* کو بہت سوچ سمجھ کر ان-بلٹ ٹوائلٹ یعنی کمرے کے اندر بنے بیت الخلاء کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ دراصل، جیل کی یہ تنگ و تاریک کوٹھری جو تقریباً تین سالوں سے ان کا ‘مسکن’ہے وینٹی لیشن اور ایگزاسٹ فین کی سہولیات سےیکسر محروم ہے۔ گویا ایک بار جب وہ بیت الخلاء کا استعمال کرلیتے ہیں تو بدبو کمرے سے باہر نہیں جاتی اور گھنٹوں یہاں سے تعفن اٹھتا رہتاہے۔

وہ کہتے ہیں،’یہ ناقابل برداشت ہے۔’

 رضوان  کو کئی بار دیر  تک سانسیں روکنی پڑتی ہیں، چوں کہ جیل کا یہ کمرہ  تیزی سے’ٹارچر چیمبر’ یا کسی اذیت گاہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

بتادیں کہ رضوان جے پور سینٹرل جیل میں بند 50 سے زیادہ ‘ہائی سکیورٹی قیدیوں’ میں سے ایک ہیں۔

غورطلب ہے کہ سزا یافتہ اور پری ٹرائل قیدی جیل حکام، ٹرائل کورٹ حتیٰ کہ راجستھان ہائی کورٹ سے اس نوع کی  بنیادی سہولیات کی بابت شکایت کرتے آئے ہیں۔ یہ شکایتیں، جن میں سے بعضے 2019سے پہلے کی ہیں،ان پر بھی اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔اور  اب درجن بھر قیدیوں نے جیل میں بنیادی سہولیات سے محرومی اور غیر انسانی صورتحال کی بابت شکایت کرتے ہوئےاپنے خطوط دی وائر کے ساتھ شیئر کیے ہیں،جن سےکھچاکھچ بھری  ہوئی اس جیل میں روزمرہ کی ذلت آمیز زندگی کاتصویری خاکہ سامنے آتاہے۔

ستمبر 2024 میں ریاستی محکمہ جیل خانہ جات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس جیل میں 1818 قیدی ہیں، جبکہ  اسے صرف 1173 قیدیوں کے لیے بنایا گیا تھا۔

یہ کافی بڑی سینٹرل جیل ہے، جس میں پری ٹرائل  اور سزا یافتہ قیدیوں کو رکھاجاتاہے،ایسے میں امید کی جاسکتی ہے کہ یہاں قیدیوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جاتی ہوں گی۔ تاہم،شکایتوں، درخواستوں اور خطوط  کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ قیدیوں کو  یہاں بے حد بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔

دی وائر کو موصولہ خطوط کے کچھ حصے ۔ تصویر: سکنیا شانتا

دی وائر کو موصولہ خطوط کے کچھ حصے ۔ تصویر: سکنیا شانتا

‘ایک مگ، ایک کمبل اور ایک کین’

چند سال قبل دہشت گردی سے متعلق ایک معاملے میں قصوروار ٹھہرائے گئے وسیم نئے قیدیوں کے لیے انڈکشن روٹین (شروعاتی روٹین) کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ قیدیوں کو ایک مگ، ایک کالا کمبل اور ایک کین  دیا جاتا ہے جس میں پانچ لیٹر پانی کی گنجائش ہوتی  ہے۔وہ لکھتے ہیں،’جیل کے اندر زندہ رہنے کے لیے آپ کی کل کائنات یہی ہے۔’ نہانے، باتھ روم کا استعمال  کرنے حتیٰ  کہ پینے کا پانی رکھنے کے لیےبھی- ہر ضرورت کے لیے-یہی چھوٹا سا کین دیا جاتا ہے۔

وسیم نے  12 صفحے پر مشتمل اپنے  خط میں لکھا ہے کہ جے پورمیں بہت سردی پڑتی ہے، اور قیدیوں کوصرف ایک  موٹا کمبل دیا جاتا ہے،جس کوفرش پر بچھانا ہوتا اور اسی سے خود کو ڈھانپنا بھی ہوتا ہے۔ خستہ حال دیوار، بدحال چھت اور کئی  سیلوں میں لیک ہونے کی وجہ سے قیدیوں کومسلسل اس خوف کے ساتھ  جینا پڑتا ہے کہ اگرچھت گرگئی  تو وہ دب کر مرجائیں گے۔ ہندی میں لکھے گئے اپنے خط میں وہ کہتے ہیں کہ،’ہمارے کھانے میں پلاسٹر کا گرنا عام سا واقعہ ہے۔’

دی وائر کو خط لکھنے والے اکثرسزا یافتہ قیدی راجستھان کی دوسری جیلوں میں بھی  رہ چکے ہیں۔ بعض قیدیوں کے دیگر ریاستوں میں بھی مقدمے زیر التوا  ہیں۔ اپنے خطوط میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں بنیادی سہولیات کا اندازہ ہے ۔ مثال کے طور پر،کئی معاملوں کا سامنا کررہے پری ٹرائل قیدی مراری* لکھتے ہیں کہ راجستھان کی مختلف جیلوں میں کافی وقت گزارنے کے بعد وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ جے پور میں ‘بدترین سہولیات’ دی جا رہی  ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کھانا ‘انتہائی ناقص ‘ ہے اور دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے لیے پیش کی جانے والی واحد سبزی کھیرا ہے۔ وہ لکھتے ہیں،’ جب کبھی غلطی سے آلو اور بھنڈی (بھنڈی) دی  جاتی ہےتوقیدی خوش ہوجاتے ہیں۔’

اپنے خط میں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جے پور سینٹرل جیل شاید ملک کی واحد جیل ہے جو ‘گیلا راشن’ نہیں دیتی۔ زیادہ تر جیلوں میں کھانا اس قدر ناقص معیار کا ہوتا ہے کہ قیدی یہاں دستیاب کینٹین سروس پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن جے پور میں دیگر جیلوں کے برعکس، کوئی پکا ہوا کھانا (جسے’گیلا کینٹین’ کہا جاتا ہے) فراہم نہیں کیا جاتا ۔ متعدد قیدیوں کے مطابق، کینٹین میں ہلکا ناشتہ (اسنیکس) ہی ملتا ہے۔

کینٹین تک رسائی بھی ایک مہنگا سودا ہے اور صرف وہی لوگ یہ خدمات حاصل کر سکتے ہیں،جنہیں ریگولر منی آرڈر موصول ہوتے ہیں۔ بعض  قیدیوں نے اپنے خطوط میں الزام لگایا ہے کہ جب اہل خانہ ان کے لیےاسنیکس  اور گھر کا پکا ہوا کھانا لے کر آتے ہیں، تو اکثر جیل کے اندراس کو لانے کی  اجازت نہیں دی جاتی۔

‘اہل خانہ اور وکیل سے بات کرنے کے لیے بھی کوئی پرائیویسی نہیں’

جیلوں میں درپیش ایک اور عام مسئلہ یہ ہے کہ قیدیوں کو ان کی ریگولر شنوائی  کے لیے عدالت لے جانے کے لیے پولیس عملے کی کمی ہوتی  ہے۔ یہ عدالتی آمد ورفت ان قیدیوں کو کچھ دیر کو تازہ ہوا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے خاندان کے افراد سے زیادہ آزادانہ طور پر ملنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر قیدیوں کو ٹرائل کورٹ کے سامنےصرف ویڈیو کانفرنسنگ (وی سی) کے توسط سے ہی ‘پیش’ کیا جاتا ہے۔

جے پور کی جیلوں میں وی سی کے لیےصرف تین کمپیوٹر ہیں اورہر دن  تقریباً 200 افراد کی وی سی کے ذریعے پیشی ہوتی ہے۔ دیال*نام کےایک قیدی نے بتایا کہ وی سی کے ذریعے ان کی پیشی محض ضابطے کی کارروائی ہے اور انہیں کبھی بھی عدالت تک اپنی شکایت پہنچانے کا موقع نہیں ملتا۔وہ لکھتے ہیں،’آپ کا چہرہ جج کو دکھایا جاتا ہے اور آپ کو وہاں سے ہٹا  دیا جاتا ہے۔’

ہائی سکیورٹی سیل میں بند دیال بتاتے ہیں کہ  ان کے اہل خانہ ہفتہ وار ملاقات کے دوران  کس طرح کی توہین ، ذلت اور مشکلات کا سامنا کرتے  ہیں ۔ دیال کا خاندان ہر ہفتے دور دراز کےضلع کے ایک گاؤں سے ان سے ملنے آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں،’وہ صبح 8 بجے کے قریب جیل پہنچ جاتے ہیں، لیکن مجھ سے ملنے کے لیےانہیں شام  4 بجے تک اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ ملاقات بھی جیل کے عملے کی نگرانی میں 15 منٹ سے زیادہ نہیں چلتی۔’ اگر جیل میں کوئی وی آئی پی ملاقاتی ہوتا ہے تو گھر والوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

ایک اور زیر سماعت قیدی کے خط میں ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جیل میں ملاقات کے لیے آنے والے وکیلوں کو بھی اہل خانہ کی طرح ہی اس سسٹم  کے عذاب سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے قانونی حکمت عملیوں کے بارے میں بات چیت اور گفتگو محال ہے۔ وکیل دکشا دویدی، جو کبھی جے پور جیل میں بند ایک مؤکل کی نمائندگی کرتی تھیں اور بعد میں اجمیر چلی گئیں، خطوط میں کیے گئے ان دعووں کی تصدیق کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں،’عام لوگوں  اور وکیلوں کے لیے ملاقات کا کمرہ ایک ہی ہے۔ ہمیں کانچ  کی اسکرین کے پار کھڑے ہوکر اپنے مؤکل سے فون پر بات کرنی ہوتی ہے۔ کوئی پرائیویسی  نہیں ہوتی؛ مؤکل  اوروکیل کے استحقاق  کوبرقرار نہیں رکھا جا سکتا اور بعض اوقات دوسرے لوگ قیدی کے پیچھے کھڑے ہو کر سننے لگ جاتے ہیں کہ وہ اپنے وکیل سے کیا کہہ رہا ہے۔’

ایک طول طویل خط میں، جس کی ایک کاپی راجستھان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی ارسال کی گئی تھی، ایک قیدی نے شکایت کی ہے کہ اس کے خط مطلوبہ افراد تک نہیں پہنچتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خط کو جیل کی سطح پر ہی روک لیاجاتا ہے۔ جے پور سینٹرل جیل میں بند اپنے مؤکل کے نام ایک وکیل کی جانب سے لکھے گئے خط میں بھی اسی طرح کی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے،جس میں وہ لکھتے ہیں،’میرے پچھلے خط کے بعد سےآپ سےمیر اکوئی رابطہ نہیں ہوا۔ مجھے نہیں پتہ کہ یہ خط آپ تک پہنچا بھی یا نہیں۔‘

‘صرف تعلیم یافتہ قیدیوں کو ہی پریشانی ہے’: جیل حکام

کھچاکھچ بھری ہوئی جیل، ایک ایسا مسئلہ ہے جسے جیل سپرنٹنڈنٹ راکیش موہن شرما بھی تسلیم کرتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ  150-160فیصدکے درمیان تصرف کی شرح کے ساتھ یہاں قیدیوں  کوانتہائی  تنگ جگہوں میں رکھا جاتا ہے۔ ایسے میں ایک نوجوان قیدی نے دی وائر کو لکھے اپنے خط میں بتایا ہے کہ کس طرح اس کی بیرک میں 100 سے زیادہ لوگ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کمرے میں صرف ایک چھت والا پنکھا ہے۔ ‘اس بند جگہ میں سانس لینے کے لیے بھی ہوا نہیں ہے’،وہ  شکایت کرتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ گرمی اور مانسون  میں زندہ رہنا خصوصی طور پر مشکل ہوتا ہے۔غریب پس منظر سےتعلق رکھنے والے قیدی، جن کے پاس صابن یا بالٹی تک خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے، اکثر کئی دن بنا نہائے رہتے ہیں۔کمرے میں بدبو ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔ یہاں کئی لوگ جلد کی بیماریوں کی بھی شکایت کرتے ہیں۔’

متعدد قیدی جیل میں غیر انسانی صورتحال کے بارے میں شکایت کرنے پر پرتشدد حملے، الگ کیے جانے اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کے اپنے تجربے کا اشتراک کرتے ہیں۔ دی وائر کے ساتھ اپنی پریشانیوں کا اشتراک کرتے ہوئے  ان میں سے کئی  لوگ واضح طور پر ذکر کرتے ہیں کہ ان کے خطوط انہیں حکام کے غضب میں مبتلا کر دیں گے، لیکن وہ یہ خطرہ مول لینے کو تیار ہیں، بشرطیکہ ان کے مسائل کو عام کیا جائے اور ریاست ان پر کارروائی کرے۔

دی وائر نے مفصل  سوالنامے کے ساتھ شرما سے رابطہ کیا۔ قیدیوں کی جانب  سے لگائے گئے متعدد الزامات کے جواب میں شرما نے کہا کہ وہ کوئی تبصرہ نہیں کریں گے، لیکن انہوں نے قیدیوں کے ‘رویے’ کے بارے میں بات کی،’وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے خطوط ان کے وکلاء تک نہیں پہنچ رہے ہیں، لیکن آپ کو ان کا پیغام مل گیا۔لہذا، ایک بات تو واضح ہے: یہاں کے قیدی باہر کی دنیا سے رابطہ رکھنے میں کامیاب ہیں۔’ تاہم، یہ خطوط ڈاک سروس کے ذریعے دی وائر کو نہیں بھیجے گئے تھے –جو جیل میں اور جیل سے رابطے کا واحدقانونی ذریعہ ہے – اور  جو قیدیوں کے لیے دستیاب ہے۔ پوسٹل سروس کے ذریعے اپنے وکلاء اور اہل خانہ کو خطوط بھیجنے یا وصول کرنے میں ان کی ناکامی ایک مسئلہ بہر حال ہے۔

شرما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ شکایتیں صرف اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ قیدی ’بے کار‘ رہتے ہیں۔’جب آپ سارا دن مصروف ہوتے ہیں، تو آپ بہ مشکل اپنے کھانے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ یہاں کے قیدی ایسے مسائل کے بارے میں سوچنے کے لیے آزاد ہیں جن پر واقعتاً تشویش نہیں ہونی چاہیے،‘ انہوں نے کہا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قیدیوں کا ایک’عجیب وغریب طبقہ’ ہے جو جیل کی حالت کے بارے میں شکایت کرتا ہے۔ ‘یہ تعلیم یافتہ قیدی ہیں، جو ایک منظم سنڈیکیٹ کا حصہ ہیں اور ان میں قائدانہ صلاحیتیں ہیں۔’ تاہم، سپرنٹنڈنٹ نے خطوط میں اٹھائے گئے خدشات کے بارے میں یہ کہتے ہوئے کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ ، ‘[یہ] انکوائری کا معاملہ ہے۔’

تاہم، شرما نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کھچا کھچ بھری ہوئی جیل ایک سنگین مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا،’ اس تشویش کو دور کرنا  ریاست کا کام ہے ۔ میرے پاس محدود وسائل ہیں، اور ان وسائل کے ساتھ میں بہتر سے بہتر کرنے کی  کوشش کرتا ہوں۔’

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

* نام خفیہ رکھنے  کے لیے قیدیوں کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

Next Article

خاموش احتجاج: پدرشاہی پنچایتی نظام کے خلاف پڈوچیری کی ماہی گیر خواتین کی بغاوت

پڈوچیری کی غیر رسمی اُر (گرام) پنچایتیں ماہی گیروں کے کاروبار سے لے کر شادی اور دوسرے تنازعات تک کے معاملے طے کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ حالانکہ ان پنچایتوں میں عورتوں کی نمائندگی نہیں رہی ہے اور نہ ہی ان کی بات سنی جاتی رہی ہے۔ لیکن اب سست گام ہی سہی، تبدیلی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

پڈوچیری کے کرائیکل میں مچھلیاں فروخت کرتیں خواتین۔ (تمام تصاویر: شری رام وٹھل مورتی، شمشیر یوسف)

پڈوچیری کے کرائیکل میں مچھلیاں فروخت کرتیں خواتین۔ (تمام تصاویر: شری رام وٹھل مورتی، شمشیر یوسف)

(پلتزر سینٹر اور روہنی نیلے کنی پھلانتھراپیز کے تعاون سے تیار کی گئی یہ رپورٹ ہندوستان کی ماہی گیر خواتین کے حوالے سے کی جارہی ایک سیریز کا حصہ ہے۔ سیریز کا پہلا حصہ یہاں پڑھ سکتے ہیں ۔)

پندرہ سالہ کویتا*تھوڑی بے دھیان  لگ رہی ہے۔ اس کے پیچھے برآمدے میں ایک بچی  بار بار رو رہی ہے۔ وہ مسلسل نظریں چُراکر اسی سمت دیکھتی رہتی ہے۔ پھر اچانک کھڑی ہو جاتی ہے اور معذرت کے ساتھ کہتی ہے، ‘مجھے اسے دودھ پلانا ہے۔’

وہ واپس آتی ہے اور اپنی چار ماہ کی بیٹی کے بارے میں بتاتی ہے – اس کی پیدائش کا قصہ  اور کس طرح اس کی وجہ سے اس کی زندگی بدل گئی۔ زمین کو ایک ٹک گھورتےہوئے وہ سسکیوں کے درمیان ٹوٹے پھوٹے لفظوں  میں اپنی بیتی  سناتی ہے۔

کویتا پڈوچیری کے کرائیکل ضلع میں ماہی گیروں کے گاؤں سے تعلق رکھتی ہے۔ ایک رشتہ دار کی شادی میں اس کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی، جو ماہی گیروں کے دوسرے گاؤں سے تھا۔ بعد میں، وہ اس سے اپنے گاؤں کے قریب سمندر کے کنارے پر کئی بار ملی۔ ایک دن اسکول میں اس نے پیٹ میں درد کی شکایت کی اور اسے اسپتال لے جایا گیا، جہاں پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہے۔

‘چائلڈ میرج کو ذہن میں رکھتے ہوئے پنچایت نے فیصلہ کیا کہ جب کویتا 18 سال کی ہو جائے،’تب شادی کی رسم ادا کی جائے’، ویداولی کہتی ہیں، جو گاؤں میں خواتین کی یونین لیڈر ہیں۔

کویتا جس ماہی گیر برادری سے تعلق رکھتی  ہیں، وہاں پنچایت آپ کے لیے ایسے فیصلے لیتی ہے۔

کویتا*۔

کویتا*۔

کرائیکل گاؤں کی اُر (گرام) پنچایت نے پہلے بھی ایسی شادیوں کے احکامات  جاری کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ کامیاب نہیں ہوئیں جیسا کہ داوا چیلووی کے معاملے میں ہوا۔

سال 2002 میں 15 سالہ داوا چیلووی اپنے پڑوسی گاؤں کے ایک 30 سالہ شخص کے ساتھ شادی کے لیے گھر سےخاموشی سے نکل گئی تھی۔ 10 دنوں  میں وہ گھر واپس آگئی کیونکہ ویزاگ (وشاکھاپٹنم) میں اس کے ساتھ رہتے ہوئے اس کو اس شخص کا برتاؤ پسند نہیں آیا۔ چیلووی کہتی ہیں،’جب اس کے گاؤں کے لوگ ان سے ملنے آئے، تو اس نے مجھے ایک دوست کے گھر چھپا دیا۔’

چیلووی کے گھر واپس آنے تک لڑکے کے گاؤں کی پنچایت چیلووی کی پنچایت سے مل چکی تھی۔ چیلووی اور اس کی ماں دونوں پنچایتوں کی ایک مشترکہ بیٹھک کے سامنے پیش ہوئیں۔  جب پنچایت نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ اس شخص کو جانتی ہے تو چیلووی نے انہیں بتایا کہ وہ اس کے ساتھ گھر چھوڑ کر گئی تھی اور اواپس آنے تک اس کے ساتھ ہی رہ رہی تھی۔ لیکن لڑکے نے کہا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ پنچایت نے اپنے بیان کی سچائی ثابت کرنے کی ذمہ داری 15 سالہ چیلووی پر ڈال دی۔

چیلووی کہتی ہیں، ‘میں ویزاگ میں زیادہ تر اکیلی تھی اور کمرے کی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر توجہ دینے کے علاوہ میرے پاس اور کوئی کام  نہیں تھا۔ میں نے کیلنڈر پر اس کے (لڑکے کی) سالگرہ کی تاریخ  پرنشان لگایا تھا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن یہ ثبوت میں بدل جائے گا۔’

دونوں پنچایتوں کے دس لوگ چیلووی اور اس شخص کے ساتھ ویزاگ گئے۔ چیلووی نے اس گھر کا راستہ ڈھونڈ لیا، جہاں وہ ٹھہری تھی۔ کمرہ بالکل بدل گیا تھا – سالگرہ کا کیلنڈر غائب تھا، اور دیوار کے ساتھ لگے بڑے ڈرم بھی غائب تھے۔ تاہم پڑوسیوں نے پنچایت  کےممبران کو بتایا کہ چیلووی اس آدمی  کے ساتھ وہاں ٹھہری تھی اور اس آدمی نے کچھ دن پہلے چیزوں منتقل  کیاہے۔ پنچایت نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ چیلووی اس شخص کے دوست کے گھر ٹھہری تھی۔

کرائیکل واپس آنے پر پنچایت نے چیلووی کی شادی اس آدمی سےکروا دی۔ ‘میں نے اپنے شوہر کی بات ماننے کا فیصلہ کیا تھا اور جو کچھ وہ پسند کرتے ہیں وہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔’ چیلووی کہتی ہیں۔ایک بار اس نے مجھ سے نیند کی 15 گولیاں کھانے کو کہا تو میں نے کھا لی۔ اس نے مجھ سے اسقاط حمل کروانے کو کہا، میں نے وہ بھی کیا۔’

چیلووی پھر حاملہ ہو گئی اور اس کے شوہر نے اسے دوبارہ اسقاط حمل کروانے کو کہا۔ اس بار چیلووی نے انکار کر دیا۔  ‘اس دن میں نے اپنی تھالی (منگل سوتر جسے تمل عورتیں شادی کی نشانی کے طور پر پہنتی ہیں) اتار دی اور اس کے گھر سے نکل گئی،’ چیلووی کہتی ہیں۔

پنچایت کی طرف سے طے کی گئی  شادی کو ابھی دو سال ہی ہوئے تھے۔ اب چیلووی اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگی۔ اس نے ایک بیٹی کو جنم دیا اور گھر میں سلائی  کے کام سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اکیلے ہی اس کی پرورش کی۔ اس نے ابھی تک اپنے شوہر سے  باضابطہ طور پر طلاق نہیں لی ہے۔ اس کے باوجود اس شخص نے دوسری شادی کر لی ہے اور وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ قریبی گاؤں میں رہتا ہے۔

چیلووی کا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور وہ اپنی بیٹی کو، جو اب 17 سال کی ہے، محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔

چیلووی کہتی ہیں،’جب میری بیٹی چھوٹی تھی، میں نے اسے بتایا تھاکہ اس کے والد کا انتقال ہو گیا ہے۔ لیکن جب وہ بڑی ہوگئی تو میں نے اسے سچ بتا دیا۔ حال ہی میں اس نے اپنے والد کو کہیں دیکھا۔ اب وہ اپنے حقوق کی بات کرتی ہے کہ اس کے والد کو اس کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔’

ان کی علیحدگی کے بعد پنچایت نے اس آدمی کے اہل خانہ کو شادی اور دیگر سماجی کاموں کی اجازت دینا بند کر دی۔ اس سے پریشان ہو کر 2013 میں خاندان نے پنچایت کے ذریعے چیلووی سے رابطہ کیا۔ ‘انہوں نے مجھے 25000 روپے کی پیشکش کی اور وعدہ کیا کہ جب میری بیٹی کی شادی ہوگی تو مجھے پانچ سونے کے زیورات دیں گے۔ نو سال تک میں نے کڑی محنت کی اور اپنی بیٹی کو اکیلے پالا۔ پھرتذبذب کے ساتھ میں نے اپنی بیٹی کی خاطر اس پیشکش پر دستخط کر دیے،‘ چیلووی کہتی ہیں۔

داواچیلوی۔ وہ کہتی ہیں،'اگر پنچایت مجھے اس شخص سے شادی کرنے کو نہ کہتی جس کے ساتھ میں بھاگی تھی تو میری زندگی بہتر ہوتی۔ میں صرف 15 سال کی تھی… اب مجھے لگتا ہے کہ میں نوجوانی کی چھوٹی موٹی غلطیوں سے نکل  سکتی تھی۔ اگر کچی عمر میں غلط آدمی سے شادی نہ ہوئی  ہوتی تو میرے پاس زندگی جینے  کا ایک موقع ہوتا۔'

داواچیلوی۔ وہ کہتی ہیں،’اگر پنچایت مجھے اس شخص سے شادی کرنے کو نہ کہتی جس کے ساتھ میں بھاگی تھی تو میری زندگی بہتر ہوتی۔ میں صرف 15 سال کی تھی… اب مجھے لگتا ہے کہ میں نوجوانی کی چھوٹی موٹی غلطیوں سے نکل  سکتی تھی۔ اگر کچی عمر میں غلط آدمی سے شادی نہ ہوئی  ہوتی تو میرے پاس زندگی جینے  کا ایک موقع ہوتا۔’

ویسے بھی چیلووی ابھی اپنی بیٹی کی شادی پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اس کی بیٹی کا خواب ہے، جو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننا چاہتی ہے۔

اس کے خواب کے بارے میں پوچھنے پر چیلووی نے کچھ دیر سوچا، پھر کہا، ‘اگر پنچایت مجھے اس شخص سے شادی کرنے کو نہ کہتی جس کے ساتھ میں بھاگی تھی تو میری زندگی بہتر ہوتی۔ میری عمر صرف 15 سال تھی اور مجھے لگ رہا تھاکہ میں نے گھر سے بھاگ کر کوئی سنگین جرم کر دیا تھا۔ لیکن، اب مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی نوعمری کی چھوٹی موٹی غلطیوں سے نکل سکتی تھی۔ اگر اس کچی عمر میں غلط آدمی سے شادی نہ ہوئی ہوتی  تو میرے پاس زندگی جینے کا ایک موقع ہوتا۔’

پنچایت نے غلط فیصلہ کیا، وہ کہتی ہیں۔ ‘اگر مجھے پنچایت میں اس طرح کے معاملے سے نمٹنا پڑے تو میں کبھی اس چھوٹی سی لڑکی کی شادی نہ کرواؤں۔ میں پڑھائی کے لیے اس کی حوصلہ افزائی کرتی۔’

پڈوچیری کے کرائیکل ضلع کے ساحلی دیہاتوں میں اُر پنچایتیں بہت طاقتور ہیں۔ حالاں کہ ان ذات پنچایتوں کو قانونی منظوری نہیں ہے، لیکن ان کا سماجی دبدبہ قائم ہے۔

وہ ماہی گیروں کے دیہاتوں کے رہائشیوں کی اقتصادی اور سماجی زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اُر پنچایتیں ماہی گیری کے حقوق کا تعین کرتی ہیں- وہ مچھلی پکڑنے کے علاقے مختص کرتی ہیں، مچھلی کی تجارت (فروخت) کو کنٹرول کرتی ہیں اور مانسون میں ماہی گیری پر پابندیاں عائد کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ وہ خاندانی معاملات میں بھی کافی داخلت کرتے ہیں۔ ہر قسم کے ازدواجی تعلقات کے لیے ان  کی منظوری ضروری ہے۔ وہ گھریلو تشدد اور ازدواجی اختلافات میں بھی ثالثی کرتے ہیں۔ تمام قسم کے جھگڑے ان پنچایتوں سے طے ہوتے تھے اور سنگین جرائم کے معاملے میں بھی رہائشیوں نے کبھی پولیس یا عدالت سے رجوع نہیں کیا تھا، اب کچھ لوگوں نے قانونی راستہ اپنانا شروع کر دیا ہے،لیکن  اس کے لیے بھی انہیں پنچایت سے اجازت لینی پڑتی ہے۔

ایک اختیار جسے پنچایت اکثر استعمال کرتی ہے اور جس سے باشندے بہت ڈرتے ہیں وہ ہے سماجی (ذات) بائیکاٹ کا فرمان۔

اس طرح یہ غیر رسمی پنچایتیں ہر رہائشی کی زندگی کے تمام شعبوں کو کنٹرول کرتی ہیں، لیکن ان میں خواتین کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ پڈوچیری کے 51 گاؤں میں ایک بھی خاتون پنچایت ممبر نہیں ہے۔ تاریخی طور پر، پنچایتوں نے خواتین کو اپنی بیٹھکوں  میں شامل ہونے یا یہاں تک کہ ایک عرضی بھی  پیش کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ خواتین پنچایت میں نمائندگی کے لیے مرد رشتہ داروں پر انحصار کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خصوصی  طور پر گھریلو تشدد اور جہیز کے معاملات کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔

پڈوچیری  کے کرائیکل میں مچھلیاں فروخت کرتیں خواتین۔

پڈوچیری  کے کرائیکل میں مچھلیاں فروخت کرتیں خواتین۔

سن 1990 میں، کِلنجلمیڈو اور ایک پڑوسی گاؤں کی پنچایتوں نے مل کر مالنی کی شادی طے کر دی، جب وہ صرف 13 سال کی تھیں۔

‘میرے شوہر ہر روز میرے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔ ایک بار اس نے میرے پیٹ میں سنکی (ایک نوکیلے سرے والا دھار دار ہتھیار) سے وار کیا۔ میں مر سکتی تھی،’ مالنی کہتی ہیں۔

مالنی نے اپنے سسرال کی پنچایت کِلنجلمیڈو سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے اس کی شکایت کو نظر انداز کر دیا۔ بدسلوکی اس وقت تک نہیں رکی جب تک کہ اس کا شوہر اسے چھوڑ کر کیرالہ نہیں چلا گیا، جہاں اب اس کا ایک دوسرا خاندان ہے۔ اس کی دوسری شادی کے بعد پنچایت نے اسے سماج سے بے دخل کردیا۔

مالنی،وہ بتاتی ہیں کہ انہیں چار بیٹوں کے ساتھ چھوڑکر چلا گیا اس کا شوہرجب گاؤں آتا ہے، تو سب اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔'یہ کس طرح کا بائیکاٹ ہے؟،' مالنی کا سوال ہے۔

مالنی،وہ بتاتی ہیں کہ انہیں چار بیٹوں کے ساتھ چھوڑکر چلا گیا اس کا شوہرجب گاؤں آتا ہے، تو سب اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔’یہ کس طرح کا بائیکاٹ ہے؟،’ مالنی کا سوال ہے۔

مالنی نے بڑی مشکل سے اپنے چاروں بیٹوں کی پرورش کی۔ وہ کہتی ہیں، ‘اکثر میرے بچے اپنا مڈ ڈے مل گھر لے آتےاور ہم بانٹ کر کھاتے۔ یہی ہماری واحدخوراک  ہوتی تھی۔ ‘

سال 2004 کی سونامی کے بعد جب حکومت نے متاثرین کو گھر الاٹ کیے تو وہ گھر ان کے شوہر کو مل گیا۔ وہ سال میں ایک یا دو دن کے لیے گاؤں آتا ہے اور اسی گھر میں رہتا ہے۔ مالنی کہتی ہیں،’میں اور میرے چار بیٹے جو یہاں مستقل طور پر رہتے ہیں، ان کے پاس گھر نہیں ہے۔’

گھروں کا الاٹمنٹ اور تمام سرکاری مراعات کی تقسیم پنچایت کی مشاورت سے کی گئی تھی۔ جب اس کا شوہر گاؤں آتا ہے تو سب اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔’یہ کیسا بائیکاٹ ہے؟ ‘ مالنی سوال کرتی ہیں۔’مجھے اب پنچایت پر کوئی بھروسہ نہیں رہا۔’

مالنی کا کہنا ہے کہ ان  کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے، وہ پنچایت میں اپیل نہیں کریں گی۔ ‘وہ میری بات نہیں سنتے کیونکہ میں غریب ہوں اور اس پر  بھی ایک عورت ۔ پنچایت میں عورتیں نہیں ہیں اور مرد عورتوں کے درد کو نہیں سمجھتے۔’

پچھلی چار دہائیوں میں کرائیکل کی خواتین نے پنچایت کے ساتھ بات چیت کے لیے خود کو منظم کیا ہے۔ انہوں نے اس پیچیدہ سماجی نظام سے نمٹنے کا فن سیکھ لیا ہے۔ گنے چنے معاملات میں ہی  وہ کھلم کھلا پنچایت سے ٹکراتی ہیں، لیکن زیادہ تر وقت وہ تدبر اور گفت و شنید سے کام لیتی ہے۔

اُر پنچایت میں نمائندگی خواتین کے لیے اب بھی دور کا خواب ہے۔ لیکن،مرضی  کے خلاف ہی سہی، انہیں بیٹھکوں میں شرکت کرنے اور عرضیاں پیش کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ خواتین اب بھی فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ لیکن خواتین کے رضاکار گروپوں اور کوآپریٹو سوسائٹیوں نے ان کی سماجی حیثیت اور آواز کو مضبوط کیا ہے۔ اس سے بااختیار ہو کر کچھ خواتین اب پنچایت ممبر بننے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔

کرائیکلمیڈو کی خواتین فیڈریشن کی لیڈر اندرانی کہتی ہیں،’شروع میں جب ہم نے بیٹھکوں میں حصہ لینا شروع کیا، تو ہم ہاتھ جوڑ ے کھڑے رہتے تھے، کوئی ہمیں کرسی نہیں دیتا تھا۔ لیکن اب میں اس کا انتظار نہیں کرتی۔ میں کمرے میں داخل ہوتی ہوں اور اپنے لیے کرسی کھینچ کر بیٹھ جاتی ہوں۔’

کرائیکلمیڈو کی کوکیلا کہتی ہیں،’ خواتین کے لیے ایک بڑی جیت ہوئی تھی جب ہم نے کاروبار کرنے کا حق حاصل کیا۔ بڑے تاجر اور مرد ایجنٹ ساری مچھلیاں خرید لیتے تھے اور قلیل سرمایہ والی ماہی گیر خواتین ان کے سامنے ٹک  نہیں پا رہی تھیں۔ اس کے بعد 400 خواتین دکانداروں نے ایک ساتھ ہڑتال کی۔ مجبور  ہو کرپنچایت کوروایتی ماہی گیروں سے مچھلی خریدنے کا پہلا حق خواتین کو دینا پڑا۔ پنچایت نے گاؤں میں اس کا اعلان کیا۔’

کرائیکلمیڈو کی خواتین فیڈریشن کی لیڈر اندرانی کہتی ہیں،'شروع میں جب ہم نے بیٹھکوں میں حصہ لینا شروع کیا، تو ہم ہاتھ جوڑ ے کھڑے رہتے تھے، کوئی ہمیں کرسی نہیں دیتا تھا۔ لیکن اب میں اس کا انتظار نہیں کرتی۔ میں کمرے میں داخل ہوتی ہوں اور اپنے لیے کرسی کھینچ کر بیٹھ جاتی ہوں۔'

کرائیکلمیڈو کی خواتین فیڈریشن کی لیڈر اندرانی کہتی ہیں،’شروع میں جب ہم نے بیٹھکوں میں حصہ لینا شروع کیا، تو ہم ہاتھ جوڑ ے کھڑے رہتے تھے، کوئی ہمیں کرسی نہیں دیتا تھا۔ لیکن اب میں اس کا انتظار نہیں کرتی۔ میں کمرے میں داخل ہوتی ہوں اور اپنے لیے کرسی کھینچ کر بیٹھ جاتی ہوں۔’

اگرچہ کچھ جگہوں پر اس پر ڈھنگ سے عمل نہیں کیا جا رہا ہے، لیکن کئی گاؤں میں یہ نظام چل رہا ہے۔ تمام خواتین مچھلی فروش اپنے وسائل جمع کرتی ہیں اور خریداری اور نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے ایک ساتھ بولی لگاتی ہیں۔ اب ان کا مطالبہ ہے کہ مقامی مچھلی منڈیوں کو لیز پر خواتین کی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے حوالے کیا جائے۔

سماجی تبدیلی کی رفتار اب بھی سست گام ہے۔

پندرہ  سالہ کویتا* ایک ایسے شخص سے شادی کرنے والی ہے جس نے یہ ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اس کے بچے کا باپ ہے۔ وہ لڑکا کویتا کے دعووں کی تردید کرتا رہا اور اسے جھوٹا کہتا رہا۔ چیلووی کیس کی طرح اس بار بھی پنچایت نے ثبوت کا بوجھ کویتا پر ڈال دیا تھا، جب وہ صرف 14 سال کی تھی۔

کویتا کہتی ہیں،’میں نے پنچایت میں کہا کہ میں اپنی بیٹی کا ڈی این اے ٹیسٹ کرواؤں گی۔ تب کہیں جاکر لڑکے نے ہار مان لی اور باپ ہونے کی بات قبول کی۔ لیکن وہ اب تک لڑکی کے اخراجات کے لیے 4000 روپے ماہانہ دینے کی پنچایت کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہا ہے۔

وہ تو اپنی بیٹی سے ملنے بھی صرف ایک بار آیا ہے، کویتا کہتی ہیں۔’وہ لڑکی کو 500 روپے دے کر چلا گیا، تب سے وہ واپس نہیں آیا۔’

*(تبدیل شدہ نام)

(انگریزی میں ملٹی میڈیا رپورٹ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔) (ہندوستان کی ماہی گیر خواتین پر پانچ حصوں پر مشتمل ملٹی میڈیا سیریز دیکھنے کے لیےیہاں کلک کریں ۔)

(اس سیریز کے تمام مضامین اُردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

Next Article

’بلڈوزر جسٹس‘: شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی

قانونی ضابطہ اختیار کیے بغیر انسانوں کی رہائش کو اجاڑ دینا نہ صرف ملکی قانون بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: ایکس)

(علامتی تصویر بہ شکریہ: ایکس)

حالیہ برسوں میں ہندوستان میں ‘بلڈوزر جسٹس’ کا نظام  زور پکڑ رہا ہے۔ ریاست نے جرائم کے ملزموں  کی املاک کو سزا کے طور پر اور اکثر مناسب قانونی کارروائی کے بغیرمسمار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس چلن  نے بڑے پیمانے پر بحث اور قانونی چیلنجز کو جنم دیا ہے، اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جس میں اس کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے17 ستمبر 2023 کو  بلڈوزر ایکشن کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے عبوری فیصلہ سنایا  کہ ملک میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی انہدامی کارروائی  نہیں کی  جائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا اطلاق عوامی سڑکوں، فٹ پاتھ، ریلوے لائنوں یا پانی کے ذخائر پر کیے گئےتجاوزات پر نہیں ہوگا۔

عدالت نے اپنے خصوصی اختیارات آرٹیکل 142 کے تحت یہ فیصلہ سنایا۔ تاہم، اس کا اطلاق ان غیر مجاز تعمیرات پر نہیں ہوگا جو عوامی سڑکوں، فٹ پاتھ یا ریلوے لائنوں کے قریب تعمیر کی گئی ہیں۔

‘بلڈوزر جسٹس’ قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ کیوں ہے

قانون کی حکمرانی آئینی جمہوریت کا ایک بنیادی اصول ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے اور حکومت کا ہر عمل قانونی جانچ پڑتال کے تابع ہونا چاہیے۔ ہندوستان میں،یہ اصول آئین کے آرٹیکل13 میں درج ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ ریاست کے تمام اقدامات کو ملک کے قانون کے عین مطابق ہونا چاہیے۔

قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کی طرف سے کی جانے والی ہر کارروائی قانونی اور منصفانہ ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ عدلیہ کے پاس انتظامی کارروائیوں کی جانچ پڑتال کا اختیار ہونا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ قانونی حدود میں ہیں۔

چیف سیٹلمنٹ کمشنر، پنجاب بنام اوم پرکاش کے معاملے میں  ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اس اصول کی توثیق کی کہ قانون کی حکمرانی ہندوستان کے آئینی ڈھانچے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی بھی، حتیٰ کہ حکومت بھی، قانون سے ہٹ کر کام نہیں کر سکتی۔ ہر عمل کو قانونی ضابطوں کے خلاف پرکھا جانا چاہیے۔

تاہم ‘بلڈوزر جسٹس’ اس اصول کی خلاف ورزی کرتا نظر آتا ہے۔ بہت سے معاملات میں، مسماری مناسب کارروائی کے بغیر کی گئی ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ املاک کو منہدم کرنے سے پہلے اس کے مالک کو نوٹس دیا جائے۔ ہندوستان کے میونسپل قوانین کے مطابق، خلاف ورزی کرنے والے کو انہدامی کارروائی سے پہلے نوٹس دینا لازمی ہے۔

ہندوستان کے قوانین میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جو سزا کے طور پر مجرموں کی جائیدادوں کو مسمار کرنے کی اجازت دیتی ہو۔ سیاسی دعوے پر مبنی یہ انہدامی کارروائی  نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ یہ قانون کا چنندہ طریقے سے استعمال بھی ہے، جو آئینی تحفظات کی خلاف ورزی ہے۔

آئینی خلاف ورزیاں اور ‘بلڈوزر جسٹس’

سپریم کورٹ نے اپنے کئی اہم احکامات کے توسط سے کہا ہے کہ قانون کو کسی بھی حالت میں من مانی طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں تک کہ اگر کچھ انہدام کو قانونی طور پر جائز قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن جن  لوگوں کے خلاف چنندہ  طریقے سے اس کا  استعمال کیا جاتا ہے وہ آئین کے آرٹیکل 13، آرٹیکل 14 (مساوات کا حق)، آرٹیکل 21 (زندگی اور شخصی آزادی کا حق)، اور آرٹیکل 300اے (حق ملکیت) کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔

آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کے جائیداد کے حقوق سے صرف قانونی عمل کے تحت ہی محروم کیا جا سکتا ہے۔ ‘بلڈوزر جسٹس’ اکثر ان تحفظات کو نظر انداز کر دیتا ہے اور قانونی کارروائی کے بغیر جائیدادوں کو مسمار کر دیتا ہے۔

اگرچہ جائیداد کا حق بنیادی حق نہیں ہے، لیکن یہ آرٹیکل 300اےکے تحت ایک آئینی حق ہے، اور مناسب قانونی اختیار کے بغیر جائیدادوں کو مسمار کرنا اس حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انسانی حقوق اور بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزیاں

‘بلڈوزر جسٹس’ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس (یو ڈی ایچ آر) کے آرٹیکل 25(1) اور انٹرنیشنل کاوننٹ آن  اکانومی، سوشل اینڈ  کلچرل رائٹس (آئی سی ای ایس سی آر) کے آرٹیکل 11 کے تحت رہائش کے حق کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

قانونی اصولوں کے بغیر انسانوں کی رہائش کو اجاڑ دینا نہ صرف ملکی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

‘بلڈوزر جسٹس’ کا موازنہ ‘اجتماعی سزا’ سے کیا جا رہا ہے، جو جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 87 (3) کے تحت ممنوع ہے۔ اجتماعی سزا کا مطلب ہے جب کسی فرد کےجرم کے لیے اس کے  خاندان یا برادری کو بھی سزا دی جاتی ہے۔ اس معاملے میں ملزم کے اہل خانہ کو گھر سے بے دخل کر کے انہیں بے گھر کر دیا جاتا ہے۔

یہ عمل ان  جابرانہ حکومتوں کے مماثل  ہے جو تاریخ میں نازی جرمنی اور شمالی کوریا جیسی جگہوں پر اپنایا گیا تھا۔ اس طرح کی مسماری زندگی بسر کرنے اور رہائش کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہے، جو ایک باوقار زندگی کے لیے ضروری ہے۔

قانون کی حکمرانی سے متعلق سپریم کورٹ کے اہم فیصلے

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے بہت سے تاریخی فیصلوں میں قانون کی حکمرانی کی اہمیت کو برقرار رکھا ہے۔ سوم راج بنام ریاست ہریانہ کے معاملے میں  ، عدالت نے فیصلہ دیا کہ قانون کی حکمرانی کا مطلب من مانی طاقت کی عدم موجودگی ہے۔ اسی طرح مینکا گاندھی بنام یونین آف انڈیا کے مشہور کیس میں،  عدالت نے کہا کہ قانون منصفانہ، غیر جانبدار اور تعصب سے پاکہونا چاہیے۔ ان فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ریاستی اقدامات قانونی اصولوں پر مبنی ہوں۔

اولگا ٹیلس بنام بمبئی میونسپل کارپوریشن کے معاملے میں  سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ پناہ اور روزی  کمانے کا حق آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے حق کا حصہ ہے۔ اس فیصلے میں واضح کیا گیا کہ متبادل انتظامات کے بغیر مکانات گرانا اور روزی روٹی چھیننا ناانصافی ہے۔ ‘بلڈوزر جسٹس’، خاص طور پر اقلیتوں یا کمزور برادریوں کے خلاف، ان حقوق کو کمزور کرتا ہے اور لوگوں کو قانون کے مناسب عمل کے بغیر بے گھر کر دیتا ہے۔

پناہ کا حق اور بازہ آبادی کی ضرورت

آئین کے آرٹیکل 300اے کے تحت نجی جائیداد کے حق کو صرف درست قانون کے ذریعے ہی محدود کیا جا سکتا ہے۔ انتظامی احکامات یا من مانی فیصلوں کی بنیاد پر کسی کو اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے باوجود ‘بلڈوزر جسٹس’ کا استعمال بغیر کسی قانونی عمل کے گھروں کو گرانے کے لیے کیا جا رہا ہے، خاص طور پر فرقہ وارانہ تشدد سے متاثرہ علاقوں میں۔ جائیدادیں غیر قانونی ہونے کے باوجود ریاست کا آئینی فرض ہے کہ وہ متاثرہ افراد کی بازآبادی کو یقینی بنائے۔

یہ سچ  ہے کہ ریاست ہر شخص کے لیے رہائش فراہم کرنے کی پابند نہیں ہے، لیکن اسے پناہ کے بنیادی حق کا تحفظ کرنا چاہیے۔

عبدالمتین صدیقی بنام یونین آف انڈیا کے حالیہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے ہلدوانی میں ریلوے کی زمین سے 50000 لوگوں کو بے دخل کرنے کے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی تھی ۔

عدالت نے کہا کہ لوگ اس علاقے میں کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں اور ان کی بازآبادی کے بغیر بے دخل کرنا ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جہاں حقوق  موجود نہ ہوں وہاں بھی انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے بازآبادی کو یقینی بنایا جائے۔

Next Article

پولیس حراست میں اموات کے لیے کون ذمہ دار ہے؟

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پچھلے پانچ سالوں میں پولیس حراست میں سب سے زیادہ اموات کے معاملے میں مدھیہ پردیش تیسرے نمبر پر ہے۔ اگست 2023 میں حکومت نے بتایا تھا کہ 1 اپریل 2018 سے 31 مارچ 2023 تک اس طرح کی اموات کے معاملے میں گجرات پہلے اور مہاراشٹر دوسرے نمبر پر تھا۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

مدھیہ پردیش کے گنا میں 14 جولائی کوپولیس نے ایک دولہے کو اس کی شادی والے  دن پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا اور بعد میں اس کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ نوجوان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی، جبکہ اہل خانہ کا الزام ہے کہ حراست میں اس کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔ معاملے نے اس وقت طول پکڑ لیا جب  اہل خانہ نے کلکٹریٹ میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے کپڑے اتارنے شروع کردیے۔ مجسٹریٹ جانچ کی یقین دہانی کے بعد اس پر قابو پایا جا سکا۔

مدھیہ پردیش میں پولیس حراست میں موت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این ایچ آر سی) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پچھلے پانچ سالوں میں پولیس حراست میں سب سے زیادہ اموات کے معاملے میں مدھیہ پردیش تیسرے نمبر پر ہے۔

یکم اگست 2023 کو پارلیامنٹ میں ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے ملک بھر میں پولیس حراست میں ہونے والی اموات کا ڈیٹا پیش کیا تھا۔ یکم اپریل 2018 سے 31 مارچ 2023 تک پولیس حراست میں ہوئی اموات کے معاملے میں گجرات پہلے، مہاراشٹر دوسرے اور مدھیہ پردیش تیسرے نمبر پرتھا۔

ان پانچ سالوں کے دوران گجرات میں جہاں81 اموات پولیس حراست میں ہوئیں، مہاراشٹر میں 80 اور مدھیہ پردیش میں 50، بہار میں 47 اور اتر پردیش میں اسی عرصے میں41 اموات ہوئیں۔

دو سرکاری ایجنسیوں کے اعداد و شمار میں چار گنا سے زیادہ کا فرق

ملک میں پولیس حراست میں اموات کی اصل تصویر کا سامنے آنا بہت مشکل ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں فرق ہے۔

این ایچ آر سی کی2021-22 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، یکم اپریل 2021  سے 31 مارچ 2022 تک ملک بھر میں پولیس حراست میں موت کی 175 شکایتیں موصول ہوئیں۔ جبکہ این سی آر بی کی ‘کرائم ان انڈیا 2022’ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1 جنوری 2022 سے 31 دسمبر 2022 کے درمیان ملک بھر میں پولیس حراست میں 41 اموات ہوئیں اور حراستی موت کے صرف 9 معاملات میں ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اگرچہ دونوں رپورٹ کا وقت مختلف ہے، لیکن 12 مہینے میں اموات کے اعداد و شمار میں چار گنا سے زیادہ کا فرق ہے۔

حراست میں موت پر پولیس کو فوراً ایکشن لینا ہوتا ہے

تاہم، اس فرق کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ این ایچ آر سی حراست  میں ہونے والی ہر طرح کی موت کی شکایات کا نوٹس لیتا ہے، جبکہ پولیس اپنی حراست میں ہونے والی موت کے بہت سے معاملات کو خودکشی ، دل کا دورہ یا پرانی بیماری کی وجہ سے ہونے والی موت قرار دیتی ہے۔

پولیس پر مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور حراست میں ہونے والی اموات کے معاملوں کو چھپانے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ وقتاً فوقتاً، انسانی حقوق کمیشن، خواتین کمیشن، شیڈول کاسٹ-ٹرائب جیسے کمیشن اور عدالتیں بھی ان مسائل کا از خود نوٹس لیتے ہیں۔ لہذا، حراست میں موت کے معاملے میں پولیس کو کم از کم درج ذیل ہدایات پر عمل کرنا ہوتا ہے؛

حراست میں موت کے 24 گھنٹے کے اندر، متعلقہ تھانہ این ایچ آر سی کو اس کی جانکاری دے گا۔

پوسٹ مارٹم کی ویڈیو ریکارڈنگ، پوسٹ مارٹم رپورٹ، ویزرا کی جانچ کی رپورٹ این ایچ آر سی کو بھیجی جائے گی۔

واقعہ کی مجسٹریٹ  جانچ  کی رپورٹ دو ماہ کے اندر این ایچ آر سی کو بھیجی جائے گی۔

تیرہ کیمروں کی نگاہ میں ہونا چاہیے ایک تھانہ، لیکن کئی جگہوں پر ایک کیمرہ بھی نہیں

حراست میں مار پیٹ یا موت کے اسی طرح کے واقعات سے بچنے یا انہیں کم کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے اہم ہدایات دی ہیں۔ سپریم کورٹ نے  2 دسمبر 2020 کو ‘پرم ویر سینی بنام بلجیت سنگھ اور دیگر’ معاملے میں ملک کے تمام تھانوں کو سی سی ٹی وی سے کور کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی تھیں۔

ان رہنما خطوط میں کہا گیا تھا کہ ایک تھانے کو 13 کیمروں سے کور ہونا چاہیے، لیکن پھر بھی ملک میں کئی تھانے ایسے ہیں جہاں ایک بھی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں ہے۔

پولیس اسٹیشنوں کو سی سی ٹی وی کیمروں سے کور کرنے کے لیے ریاستیں اپنا بجٹ مختص کرتی ہیں اور مرکزی فنڈکا بھی استعمال کرتی ہیں۔ اس کے باوجود، ‘انڈیا جسٹس رپورٹ (آئی جے آر) 2022’ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری 2022 تک ملک کے چار میں سے ایک تھانے میں ایک بھی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں لگایا گیا تھا۔

آئی جے آر کی آر ٹی آئی میں آدھے سے زیادہ صوبوں نے گول کردیا جواب

‘انڈیا جسٹس رپورٹ’ کی جانب سےتمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے آرٹی آئی  کے تحت تھانوں میں سی سی ٹی وی سے متعلق میں پوچھے گئے تمام سوالوں کا جواب آدھے سے بھی کم ریاستوں نے دیا۔

مدھیہ پردیش پولیس نے جواب دیا کہ ریاست کے تھانوں میں کل 3436 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔ تاہم، یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے تھانوں میں کم از کم ایک سی سی ٹی وی کیمرہ ہے۔

لیکن وزارت داخلہ کی ‘ڈیٹا آن پولس آرگنائزیشنز’ کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 1 جنوری 2023 تک مدھیہ پردیش کے 1350 تھانوں میں سے 1136 تھانوں میں یعنی 84 فیصد تھانوں میں کم از کم ایک سی سی ٹی وی کیمرہ نصب تھا۔

تھانے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی اہمیت

پولیس حراست میں ہونے والی اموات کے معاملے میں سب سے آگے رہنے والے گجرات کی بات کریں، تو  وزارت داخلہ کی ‘ڈیٹا آن پولیس آرگنائزیشنز’ رپورٹ کے مطابق، یہاں صرف 69 فیصد پولیس اسٹیشن سی سی ٹی وی کیمروں سے کور ہیں اور مہاراشٹر میں 82 فیصد تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔

یکم جنوری 2023 تک گجرات کے 957 تھانوں میں سے 662 اور مہاراشٹر کے 1320 تھانوں میں سے 1082 میں کم از کم ایک سی سی ٹی وی کیمرہ نصب تھا۔

ایسے کئی واقعات ہیں، جو تھانے میں لگے سی سی ٹی وی کی اہمیت کو ثابت کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف حراست  میں ملزمان بلکہ پولیس اہلکاروں کے لیے بھی ضروری ہے۔

پچھلے دنوں 22 جولائی 2024 کو گجرات ہائی کورٹ کی جسٹس گیتا گوپی نے ایک ضمانت کےمعاملے پر سماعت کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں تھانے میں سی سی ٹی وی کیمروں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تھانوں میں سی سی ٹی وی ہونے سے پولیس اور متاثرہ فریق کے درمیان الزام تراشیوں کی حقیقت  کوجاننا آسان ہو جاتا ہے۔

پولیس پر اکثر حراست میں غیر انسانی اور غیر قانونی طریقے اپنانے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ سی سی ٹی وی ہونے سے پولیس اسے اپنے دفاع کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔ شکایت کنندہ، ملزم یا گواہ کے ساتھ پولیس کا رویہ کس طرح کا ہے، یہاں تک کہ تھانے کی اندرونی صورتحال بھی سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ سے سمجھی جا سکتی ہے۔

مختلف ریاستوں میں پیش آنے والے یہ چھ واقعات بتاتے ہیں کہ پولیس حراست میں ہونے والی اموات کے معاملات کتنے سنگین ہیں اور ان کے لیے سی سی ٹی وی کاکورڈ ہونا کتنا ضروری ہے؛

پہلا؛ مہاراشٹر کے ممبئی پولیس ہیڈ کوارٹر میں 1 مئی 2024 کو ایک ملزم کی پولیس حراست میں موت ہو گئی۔ ملزم پر فلم اداکار سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ کا الزام تھا۔ پولیس نے اسے خودکشی قرار دیا۔

دوسرا؛ آندھرا پردیش کے ناندیال ضلع کے متدور پولیس اسٹیشن میں 20 جولائی 2024 کو پولیس حراست میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی۔ اسے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا تھا۔

تیسرا؛  چھتیس گڑھ کے کوربا ضلع میں 19 جولائی 2024 کو  ڈکیتی کے ایک ملزم کی پولیس حراست میں موت ہو گئی۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ متاثرہ کے پاؤں میں گولی کے نشان پائے گئے ہیں۔

چوتھا؛ اروناچل پردیش کے چانگلانگ ضلع میں 19 جولائی 2024 کو ایک 47 سالہ خاتون کی پولیس حراست میں موت ہوگئی۔ خاتون کو ایک روز قبل حراست میں لیا گیا تھا۔

پانچواں؛   گجرات کے راجکوٹ میں 14 اپریل 2024 کو پولیس نے ایک نوجوان کو حراست میں لیا اور اسے دو گھنٹے بعد چھوڑ دیا۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ حراست میں تشدد کے باعث اس کی جان چلی گئی۔

چھٹا؛  اتر پردیش  کے نوئیڈا میں پولیس نے مئی 2024 میں ایک بیکری سپروائزر کو ریپ کے الزام میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا تھا، جو 24 گھنٹے کے اندر ہی پولیس بیرک میں لٹکا ہوا پایا گیا۔ اہل خانہ نے اس کا ذمہ دار پولیس کو ٹھہرایا۔

این ایچ آر سی کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں حراست میں اموات کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 20-2019 میں 112، 2020-21 میں 100، 2021-22 میں 175 اور 2022-23 میں 164 اموات کے معاملے سامنے آئے۔ حراست میں اموات یا پولیس تشدد کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا اقدام بہت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ہر ریاست میں پولیس حراست میں تشدد کی صورتحال ایک جیسی ہے۔ اسی سال جنوری میں سپریم کورٹ نے گجرات پولیس سے کچھ نوجوانوں کو باندھ کرپیٹنے پر سوال کیا کہ پولیس نے کس حق سے ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا۔

وہیں،  تمل ناڈو کے توتوکوڈی ضلع کے ساتھنکلم میں 2020 میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں پولیس نے باپ بیٹے جےراج اور بینکس کو حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے دونوں کی موت ہوگئی۔ جانچ میں تعاون نہ کرنے پر مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ نے پورے تھانے کو ضلع کلکٹر کے کنٹرول میں دے دیا تھا۔ یہ اپنے آپ میں ایک منفرد کیس تھا۔

ہندوستان تشدد (ٹارچر)کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کا حصہ ہے۔ اس کے باوجود نہ تو پولیس اور نہ ہی معاشرے میں پولیس تشدد کے بارے میں اتنی بیداری  ہے جیسی  دوسرے ممالک میں ہے۔

(نینیکا سنگھل اوربھارت سنگھ، انڈیا جسٹس رپورٹ سے وابستہ ہیں۔)

Next Article

ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے حوالے سے یو این ہیومن رائٹس کمیٹی کا اظہار تشویش

کمیٹی کے خدشات میں سے ایک یہ ہے کہ ہندوستان کے قومی انسانی حقوق کمیشن کو 2023 سے قومی انسانی حقوق کے اداروں کے عالمی اتحاد نے زمرہ ‘اے’ میں جگہ نہیں دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک انسانی حقوق کے شعبے میں اچھا کام نہیں کر رہا اس لیے اسے اس درجہ بندی سے محروم رکھا گیا ہے۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: شوم بسو)

(علامتی تصویر بہ شکریہ: شوم بسو)

نئی دہلی: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق  کی کمیٹی (یو این ایچ آر سی) نے ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ ہندوستان کا رویہ انٹرنیشنل کنونشن آن سول اینڈ پالیٹکل رائٹ (آئی سی سی پی آر) کے معاہدے کے مطابق نہیں ہے۔ آئی سی سی پی آر کی نگرانی کرنے والے ماہرین کےادارہ  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے جمعرات (25 جولائی) کو ہندوستان کی جانب سے معاہدے کی تعمیل پر اپنی رپورٹ جاری کی ہے۔

ہندوستان کو اب تک تین بار آئی سی سی پی آر کے جائزے سے گزرنا پڑا ہے، آخری جائزہ 1997 میں لیا گیا تھا۔ ہندوستان نے 1979 میں آئی سی سی پی آر میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ چوتھا جائزہ تقریباً دو ہفتے قبل لیا گیا۔ ہندوستانی  وفد کی قیادت اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی اور سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کی۔ 15 اور 16 جولائی کو دو دنوں تک، ہندوستانی وفد نے یو این ایچ آر سی کے ساتھ بات چیت کی۔

وزارت خارجہ کے پریس نوٹ میں کہا گیا تھا ، ‘بات چیت کے دوران کمیٹی کے اراکین نے ہندوستان کی روایات اور اخلاقیات کی تعریف کی، جوتکثیریت، عدم تشدد اور تنوع جیسے اصولوں کا مجموعہ  ہے۔’

جائزہ میٹنگ کے دس دن بعد25 جولائی کو یو این ایچ آر سی نے ہندوستان کے نفاذ کے بارے میں اپنے نتائج کو نشان زد کرتے ہوئے رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ میں حکومت ہند کی طرف سے کچھ قانون سازی کی پیش رفت کو تسلیم کیا گیا ہے، لیکن رپورٹ بنیادی طور پر ‘تشویش کے اہم معاملوں’ اور ‘سفارشات’ پر مرکوز ہے۔

جن خدشات کو اجاگر کیا گیا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہندوستان کے قومی انسانی حقوق کمیشن کو 2023 سے قومی انسانی حقوق کے اداروں کے عالمی اتحاد سے زمرہ ‘اے’ میں جگہ نہیں دی گئی  ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک انسانی حقوق کے شعبے میں اچھا کام نہیں کر رہا ہے اور اس وجہ سے اسے اس  درجہ بندی سے محروم رکھا گیا  ہے۔

رپورٹ کے آخر میں کمیٹی کا تبصرہ ہے کہ کمیٹی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات میں پولیس افسران کی شمولیت کے بارے میں فکر مند ہے۔ اس سے ہیومن رائٹس کمیشن کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔ کمیٹی کو مسلح افواج کی جانب سے مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے کم اختیارات پر بھی تشویش ہے۔

رپورٹ کے ایک بڑے حصے میں ہندوستان  میں اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس میں لکھا گیا ہے، ‘کمیٹی مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد جیسے کہ مئی 2023 سے منی پور میں ہونے والے واقعات اور 2002 میں گجرات میں ہوئے فسادات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ماورائے عدالت ہلاکتوں سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں جوابدہی کی کمی۔‘

اس کے علاوہ رپورٹ میں ‘2022 کے رام نومی جلوس کے دوران فسادات کے بعد مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور گھروں کو مسمار کرنے، مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف گئو رکشکوں کے تشدد اور لنچنگ کے واقعات’ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں خصوصی طور پر گئو رکشکوں کے تشدد اور لنچنگ کو غیر قانونی اعلان کرتے ہوئے  قانون بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

کمیٹی نے مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے استعمال اور سیاستدانوں کی ہیٹ اسپیچ  اور اقلیتوں کے خلاف عوامی تشدد کو ہوا دینے والی خبروں کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کو اجاگر کیا۔

رپورٹ میں تارکین وطن کے خلاف ہیٹ اسپیچ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جو تیزی سے پرتشدد ہوتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی تقاریر، جن میں میانمار کے روہنگیا بھی شامل ہیں، جنہیں عوامی سطح پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جارہا ہے۔

کمیٹی نے آرمڈ فورسز (خصوصی اختیارات) ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) اور انسداد دہشت گردی قانون کی بعض دفعات کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدے کی پاسداری نہیں کرتے۔ اس میں اس بات پر  روشنی ڈالی گئی ہے کہ منی پور، جموں و کشمیر اور آسام جیسے ’ڈسٹربڈ ایریاز‘میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے طویل نفاذ کے نتیجے میں انسانی حقوق کی وسیع اور سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

کمیٹی نے ہندوستان سے گزارش کی  کہ وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ان علاقوں میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اور دیگر حفاظتی اقدامات عارضی، متناسب اور عدالتی جائزہ  کے تابع ہوں۔ مزید برآں، اس نے ہندوستان  سے ان علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں ذمہ داری قبول کرنے اورسچائی سے پردہ اٹھانے کے لیے ایک سسٹم  قائم کرنے کی اپیل کی۔