نیٹ-یو جی: ری-ٹیسٹ سے پہلے ناگپور کے طالبعلم کو ابو ظہبی کا اگزام سینٹر ملا، تنازعہ کے بعد اصلاح

نیٹ-یو جی کے ری -ٹیسٹ سے پہلے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے ناگپور کے ایک امیدوار کو متحدہ عرب امارات کے ابو ظہبی میں اگزام سینٹر الاٹ کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔ اس  کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر امتحان کے نظام پر سوال اٹھنے لگے۔ تاہم، این ٹی اے نے کہا ہے کہ اس غلطی کو فوراً ٹھیک کر لیا گیا ہے۔

نیٹ-یو جی کے ری -ٹیسٹ سے پہلے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے ناگپور کے ایک امیدوار کو متحدہ عرب امارات کے ابو ظہبی میں اگزام سینٹر الاٹ کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔ اس  کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر امتحان کے نظام پر سوال اٹھنے لگے۔ تاہم، این ٹی اے نے کہا ہے کہ اس غلطی کو فوراً ٹھیک کر لیا گیا ہے۔

تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی:پیپر لیک کی تمام خبروں کے بعد رد ہوئی نیٹ-یو جی 2026 کا امتحان 21 جون کو دوبارہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں امتحان سے پہلے ہی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے کام کرنے  کے طریقے پر ایک بار ایک طالبعلم کے ایڈمٹ کارڈ میں گڑبڑی کو لے کر سوال اٹھ رہے ہیں۔

دکن ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق، ناگپور کے ایک طالبعلم نے جب نیٹ-یو جی ری ٹیسٹ کے لیے اپنا ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ کیا، تو اس میں متحدہ عرب امارات کے ابو ظہبی میں واقع ایک اگزام سینٹر کا نام درج تھا۔ اس کے بعد طالبعلم اور اس کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے، کیونکہ ان کے پاس نہ تو پاسپورٹ تھا اور نہ ہی بیرون ملک جا کر امتحان دینے کے وسائل یا انتظامات موجود تھے۔

اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امتحان کے نظام پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طالبعلم جو گزشتہ ایک ماہ سے امتحان کی تیاری کر رہا تھا، اسے آخری وقت میں پتہ چلا کہ اس کا اگزام سینٹر بیرون ملک ہے۔

راہل گاندھی نے لکھا،’نہ پاسپورٹ ہے، نہ خاندان کے پاس بیرون ملک بھیجنے کے پیسے اور نہ ہی اب وقت بچا ہے۔ وہ پوری رات روتا رہا اور امتحان دینے سے بھی منع کر رہا ہے۔ کیا اس ذہنی دباؤ کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟ آخر ایسا ہوا کیسے؟ کل کسی بھی طالبعلم کو مرکز تک نہ پہنچ پانے کی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ این ٹی اے دراصل ملک کے بچوں اور ان کے والدین کے صبر کا امتحان لے رہی ہے۔ جو سسٹم ایک بچے کو اس کے اپنے شہر میں امتحان کا مرکز نہیں دے سکتا اور الٹا اسے بیرون ملک بھیج سکتا ہے، اسے امتحان منعقد کرانے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’ کوٹا میں بھی میں نے یہی کہا تھا کہ یہ اب تعلیمی نظام نہیں رہا۔ یہ ایک پوری نسل کے پیسے، وقت اور ذہنی سکون کی قیمت وصول کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنا بند کیجیے۔ وہ ایک حساس، ذمہ دار اور جوابدہ تعلیمی نظام کے حقدار ہیں، اور ہم انہیں یہ دلوا کر رہیں گے۔‘

این ٹی اے نے غلطی ٹھیک کی

وہیں،معاملہ سامنے آنے کے بعد این ٹی اے نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا۔ ایجنسی نے طالبعلم کے خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ ایڈمٹ کارڈ میں اصلاح کر کے جلد ہی نیا اگزام سینٹر الاٹ کیا جائے گا اور ترمیم شدہ ایڈمٹ کارڈ جاری کیا جائے گا۔

اس حوالے سے این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھشیک سنگھ نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ مسئلہ سامنے آتے ہی اسے درست کر دیا گیا اور معاملہ حل کر لیا گیا ہے۔

سنگھ نےبتایا کہ ایجنسی اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ناگپور کے امیدوار کو ابو ظہبی میں  مرکز کیسے الاٹ ہو گیا۔

انہوں نے مزید بتایا،’شہر کی جانکاری دینے والی پرچیاں 7 جون کو جاری کی گئی تھیں، جبکہ ایڈمٹ کارڈ 14 جون کو جاری کیے گئے تھے۔ این ٹی اے نے امیدوار سے رابطہ کر لیا ہے اور غلط الاٹمنٹ کی وجوہات کی جانچ شروع کر دی ہے۔‘

سنگھ کے مطابق، ایک ممکنہ وجہ جس کی جانچ کی جا رہی ہے، یہ بھی ہو سکتی ہے کہ  کیاامیدوار کے اکاؤنٹ کی جانکاری (کریڈینشل) لیک ہو گئی تھی۔

انہوں نے کہا،’کچھ امیدوار اپنے اکاؤنٹ کے پاس ورڈ محفوظ نہیں رکھتے، جس کے باعث بعض اوقات اس طرح کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات میں وقت لگے گا، لیکن ایجنسی کی پہلی ترجیح یہ تھی کہ طالبعلم دوبارہ ہونے والے امتحان سے محروم نہ رہ جائے اور اس میں شرکت کر سکے۔ اس معاملے کی جانچ بھی ساتھ ساتھ جاری رہے گی۔

غور طلب ہے کہ سوشل میڈیا پر اس معاملے کے طول پکڑنے کے بعد یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے داخلہ امتحانات میں سے ایک میں ایسی غلطی کیسے ہو سکتی ہے۔

اس واقعہ کے بعد ایجنسی نے امیدواروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی لاگ ان معلومات محفوظ رکھیں اور اگر سٹی انٹی میشن سلپ یا ایڈمٹ کارڈ میں کسی بھی طرح کی گڑبڑی نظر آئے تو فوراًر اطلاع دیں۔