مظفرنگر فسادات سے جڑے ایک معاملے میں شواہد کے فقدان میں 12 ملزم بری

10:28 AM May 31, 2019 | دی وائر اسٹاف

الزام تھا کہ مظفرنگر فسادات کے دوران 7 ستمبر 2013 کو ضلع‎ کے لساڑھ گاؤں کے گھروں میں آگ لگا دی گئی تھی اور لوٹ پاٹ کی گئی تھی۔

نئی دہلی: اتر پردیش کے مظفرنگر میں 2013 میں ہوئے فساد کے ایک معاملے میں مقامی عدالت نے شواہد کے فقدان میں 12 لوگوں کو بری کر دیا ہے۔ایڈیشنل سیشن جج سنجیو کمار تیواری نے منگل کو فساد معاملے میں آئی پی سی کی دفعہ 395 (ڈکیتی) اور 436 (آگ زنی) سے ملزمین کو بری کر دیا۔استغاثہ کے مطابق، ایس آئی ٹی نے 13 لوگوں کے خلاف فردجرم دائر کیا تھا۔ معاملے کے زیر التوا رہنے کے دوران ایک آدمی کی موت ہو گئی تھی۔سماعت کے دوران، شکایت گزار محمد سلیمان سمیت تین گواہ مُکر گئے اور انہوں نے استغاثہ کا ساتھ نہیں دیا۔الزام تھا کہ 7 ستمبر 2013 کو ضلع کے لساڑھ گاؤں میں فسادات کے دوران بھیڑ نے گھروں کو آگ لگا دی تھی اور لوٹ پاٹ کی تھی۔

امر اجالا کے مطابق 7 ستمبر، 2013 کو ننگلا مندوڑ کی مہاپنچایت سے لوٹ رہے لوگوں پر حملے کے بعد ضلع میں فساد بھڑکا تھا۔لساڑھ باشندہ محمد سلیمان نے 16 ستمبر 2013 کو پھُگان تھانے میں آگ زنی اور ڈکیتی کا معاملہ درج کرایا تھا۔ اس نے گاؤں کے ہی نریندر عرف لالہ دہن، دھرمیندر عرف کالا، بجیندر، راجیندر، انج، امت، برمہا، سریندر، کرشنا، نیشو، شوکیندر، بٹو عرف ارون کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔شکایت میں الزام لگایا تھا کہ سات ستمبر 2013 کی شام ملزم ہتھیاروں سے لیس ہوکر ان کے گھر میں گھسے اور رشتہ داروں سے مارپیٹ کی، تقریباً ڈیڑھ لاکھ کی نقدی، زیورات، دیگر سامان لوٹ لیا اور مکان میں آگ لگا دی۔

شواہد کے فقدان میں ان تمام ملزمین کو بری کر دیا گیا۔ ان کے علاوہ اس مقدمہ میں گٹھوالا کھاپ‌کے مکھیا بابا ہرکشن کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ایس آئی ٹی نے جانچ‌کے دوران بابا ہری کشن کا نام نکال دیا تھا اور 13 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ دی تھی۔ 13ویں ملزم رشی دیو کے مقدمہ کی سماعت کے دوران موت ہو گئی تھی۔واضح  ہو کہ اگست 2013 میں جانسٹھ کوتوالی کے کوال گاؤں میں دو بھائیوں سچن اور گورو کے قتل کے بعد ایک پنچایت کے بعد ضلع میں فساد بھڑکا تھا۔مظفرنگر میں 2013 میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں کم سے کم 60 لوگوں کی موت ہو گئی تھی جبکہ 40 ہزار سے زیادہ لوگ نقل مکانی کو مجبور ہوئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ فسادات کے تقریباً 20 معاملوں میں ایم ایل اے اور رکن پارلیامان بھی ملزمین کی فہرست میں ہیں۔گزشتہ سال جون مہینے میں مظفرنگر فسادات سے جڑے ایک معاملے کے تعلق سے عدالت میں پیش نہیں ہونے پر سابق مرکزی وزیر اور رکن پارلیامان سنجیو بالیان، وشو ہندو پریشد رہنما سادھوی پراچی، بی جے پی ایم ایل اے امیش ملک اور دو دیگر کے خلاف مقامی عدالت نے غیرضمانتی وارنٹ جاری کئے تھے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)