واقعہ رودرپور کا ہے۔ پولیس کے مطابق ریشم باڑی علاقے کے رہنے والے شاہد نے جگت پورہ میں واقع اٹریا مندر کے پاس خالی زمین پر نماز ادا کی تھی، جس کے بعد مبینہ طور پر ان پر لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا اور انہیں مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
نئی دہلی: اتراکھنڈ کے رودرپور میں ایک مندر کے قریب خالی زمین پر نماز پڑھنے کے بعد ایک بزرگ مسلم شخص پر مبینہ طور پر لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا اور انہیں مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
اس واقعے کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ ویڈیو میں ملزم کو اس شخص کو ڈنڈوں سے پیٹتے اور گالیاں دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی
پی ٹی آئی نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ ریشم باڑی علاقے کے رہنے والے شاہد نے رمضان کے جاری مہینے میں جگت پورہ میں واقع اٹریا مندر کے پاس نماز ادا کی تھی۔ شاہد نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے مندر کے قریب کام کر رہے تھے اور واضح کیا کہ جس جگہ انہوں نے نماز پڑھی، وہ مندر سے کافی فاصلے پر ہے۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مسلم کمیونٹی کے افراد شاہد کے ساتھ مقامی تھانے پہنچے اور شکایت درج کرائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزمان میں سے ایک قتل کے معاملے میں سزا یافتہ ہے اور فی الحال پیرول پر باہر ہے۔
دوسری جانب، مندر کے منتظم اروند شرما نے کہا کہ مندر کی زمین پر کسی دوسرے مذہب سے متعلق سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، چاہے ان کے خلاف مقدمہ ہی کیوں نہ درج کیا جائے۔
بتایا گیا ہے کہ کشیدگی کے دوران پولیس موقع پر پہنچی اور دونوں برادریوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ پولیس نے بتایا کہ شاہد کو میڈیکل جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور شکایت کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سٹی کونسلرپرویز قریشی نے اس واقعے کو ناقابل قبول قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ‘یہ معاملہ بے حد گمبھیر ہے۔ کسی شخص کے ساتھ مار پیٹ کرنا ناقابل قبول ہے۔ اگر کسی کو اعتراض تھا تو انتظامیہ کو اطلاع دینی چاہیے تھی۔ ہم غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔’
کانگریس رہنما صوفیہ ناز نے اس واقعہ کو سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ‘ریاست میں لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مذہب کے نام پر تشدد اور زبردستی نعرے لگوانا آئین کی روح کے خلاف ہے۔ انتظامیہ کو کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ شخص کو انصاف دلانا چاہیے۔’