وزارت دفاع میں دو لاکھ سے زیادہ عہدے خالی: مرکزی وزیر

04:12 PM Feb 04, 2020 | دی وائر اسٹاف

وزیر مملکت برائے دفاع شریپد نایک نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ جموں علاقے میں لائن آف کنٹرول پر 30 مئی 2019 سے 20 جنوری 2020 تک سیز فائر کی خلاف ورزی کے 2335 واقعات ہوئے ہیں۔ وہیں، سیاچن علاقے میں برف باری اور برفانی تودے گرنے کی وجہ سے سال 2019 میں 6فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

شریپد یسو نایک(فوٹو: پی آئی بی)

نئی دہلی: حکومت نے سوموار کو قبول کیا کہ وزارت دفاع میں دو لاکھ سے زیادہ عہدے خالی ہیں۔ وزیر مملکت برائے دفاع شریپد یسو نایک نے راجیہ سبھا کوایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی۔انہوں نے بتایا کہ وزارت دفاع میں239740 عہدے خالی پڑے ہیں جن میں سے 3782 عہدے گروپ اے کے34289 عہدے گروپ بی کے اور 201669 دیگر عہدے ہیں۔

نایک نے بتایا کہ فوج میں افسروں کے 6867 عہدے اور جی سی او اور اوآر کے 36517 عہدے خالی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بحریہ میں افسروں کے 1500 عہدے اوربحریہ فوجی کے 15590 عہدے خالی ہیں۔نایک نے بتایا کہ ایئر فورس میں افسروں کے 425 عہدے اور ایئر فورس کے 10425 عہدے خالی ہیں۔

 وزیر مملکت نے بتایا کہ اس کمی کو دور کرنے کےلئے کئی کوشش کی جا رہی ہیں۔

لائن آف کنٹرول پر گزشتہ آٹھ مہینے میں سیز فائر کی خلاف ورزی کے2335 واقعات

حکومت نے سوموار کو بتایا کہ جموں علاقے میں لائن آف کنٹرول پر 30مئی 2019 سے 20 جنوری 2020 تک سیز فائر کی خلاف ورزی کے 2335 واقعات ہوئے ہیں۔وزیر مملکت برائے دفاع شریپد یسو نایک نے راجیہ سبھا کو ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی۔انہوں نے بتایا کہ 30 مئی 2019 سے 20 جنوری 2020 تک جموں علاقےمیں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کے 2335 واقعات ہوئے ہیں جن میں آٹھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

نایک نے بتایا کہ جموں علاقے میں ہندوستان-کے بین الاقوامی سرحدپر 30 مئی 2019 سے 15 جنوری 2020 تک سرحد پر گولی باری کے 177 واقعات ہوئے۔وزیر مملکت برائے دفاع نے بتایا کہ ایسے واقعات سے نپٹنے کے لئےمسلح افواج کی ضرورت پورا کرنے کی خاطر کافی بجٹ کے اہتمام کئے جاتے ہیں۔

سیاچن میں برف باری، برفانی تودے گرنے کی وجہ سے سال 2019 میں چھ فوجی اہلکار زخمی

حکومت نے سوموار کو بتایا کہ سیاچن علاقے میں برف باری اور برفانی تودے گرنے کی وجہ سے سال 2019 میں 6 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ وزیر مملکت برائےدفاع شریپد یسو نایک نے راجیہ سبھا کو ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی۔انہوں نے بتایا کہ سیاچن علاقے میں برف باری اور برفانی تودے گرنےکی وجہ سے سال 2019 میں 6 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ لیکن اس سال 24 جنوری 2020 تک ایسا کوئی حادثہ نہیں ہوا ہے۔

نایک نے بتایا کہ دیگر پہاڑی علاقوں میں برف باری اور برفانی تودےگرنے کی وجہ سے 2019 میں فوج کے 11 جوان ہلاک ہوئے۔ اس طرح کے واقعات میں دیگرپہاڑی علاقوں میں 24 جنوری 2020 تک فوج کے 6 جوان ہلاک ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مہلوکین کے رشتہ داروں  کے لئے طےشدہ فائدوں کی اکتوبر 2019 تک ہوئے حادثات کے لئے ادائیگی کی جا چکی ہے۔

نومبر اور دسمبر میں ہوئے حادثات کے لئے منافع کی جزوی ادائیگی کی گئی ہے اور جنوری 2020 میں ہوئے اس طرح کے حادثات کے لئے ادائیگی کا عمل چل رہا ہے۔ایک دیگر سوال کے تحریری جواب میں نایک نے بتایا کہ بلیٹ پروف جیکٹس کی کمی کی وجہ سے کسی بھی فوجی کے ہلاک ہونے کی خبر نہیں ہے۔

(خبررساں ایجنسی  بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)