میزورم: شراب بندی سے متعلق بل  کو ملی کابینہ کی منظوری

ایم این ایف نے الیکشن سے پہلے حلومت بننے پر مکمل طور پر شراب بندی کا وعدہ کیا تھا۔ 20 مارچ سے شروع ہونے والے بجٹ سیشن میں پیش ہوگا بل۔

ایم این ایف نے الیکشن سے پہلے حلومت بننے پر  مکمل طور پر شراب بندی کا وعدہ کیا تھا۔ 20 مارچ سے شروع ہونے والے بجٹ سیشن میں پیش ہوگا  بل۔

(فوٹو بشکریہ : اے این آئی)

(فوٹو بشکریہ : اے این آئی)

نئی دہلی:میزورم کابینہ نے ریاست میں مجوزہ شراب بندی سے متعلق  قانون کو منظوری دے دی ہے۔ افسروں نے سنیچر کو یہ جانکاری دی۔افسر نے بتایا کہ جمعہ کو وزیر اعلیٰ زورام تھانگا کی صدارت میں کابینہ کی میٹنگ میں میزورم liquor prohibition bill2019 کو منظوری دی گئی۔ افسر نے بتایا کہ 20 مارچ سے شروع ہونے والے بجٹ سیشن کے دوران اس بل  کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

میزو نیشنل فرنٹ (ایم این ایف )پارٹی نے گزشتہ سال نومبر میں اسمبلی انتخابات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آتی ہے تو وہ میزورم میں مکمل طور پر شراب بندی نافذ کرے گی۔تب دی وائر سے بات کرتے ہوئے زورام تھانگا نے کہا تھا کہ گزشتہ دو تین سالوں میں 500 کے قریب پولیس والوں نے شراب کی وجہ سے اپنی جان گنوائی ۔

شراب کی وجہ سے ہی ریاست میں 6 سے 7 ہزار لوگوں کی موت ہوئی ہے جو میزورم جیسی چھوٹی سی ریاست کو دیکھتے ہوئے بہت زیادہ ہے۔ان سب کی وجہ روک ہٹنے کے بعد سرکاری دکانوں میں ملنے والی خراب کوالٹی کی شراب ہے۔غور طلب ہے کہ میزورم میں مکمل طور پر شراب بندی سے متعلق قانون نافذ ہونے کے بعد سے ریاست میں 1997 سے لے کر جنوری 2015 تک مکمل شراب بندی تھی۔

 لال تھانہاولا کی پچھلی کانگریس حکومت نے مارچ 2015 سے ریاست میں شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی تھی۔ الیکشن سے پہلے دی وائر سے بات کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعلیٰ لال تھانہاولا نے کہا تھا کہ شراب کی فروخت اور پینے پر لگی پابندی نے شراب سے آزاد سماج بنانے میں مدد نہیں کی،اس نے صرف کالا بازاری کو بڑھانے کا کام کیا تھا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)