منوج جھا کے خطاب پر آئے ردعمل سے پتہ چلتا ہے کہ ’اونچی ذات‘ کے لوگ احساس برتری سے نکلنا نہیں چاہتے

منوج جھا کے ایک بیان پر جس طرح کے ردعمل سامنے آئے ہیں، ان سے اونچی ذات اور اشرافیہ کمیونٹی کے پرتشدد مزاج کا پتہ چلتا ہے۔

منوج جھا کے ایک بیان پر جس طرح کے ردعمل سامنے آئے ہیں، ان سے اونچی ذات اور اشرافیہ کمیونٹی کے پرتشدد مزاج کا پتہ چلتا ہے۔

آر جے ڈی ایم پی منوج جھا راجیہ سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پراپنے خطاب کے دوران ۔ (اسکرین گریب بہ شکریہ: سنسد ٹی وی)

آر جے ڈی ایم پی منوج جھا راجیہ سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پراپنے خطاب کے دوران ۔ (اسکرین گریب بہ شکریہ: سنسد ٹی وی)

جب سیاست اور ادب کا امتزاج  ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے، اس کاایک نمونہ بہار سے راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی ) کے ایم پی پروفیسر منوج جھا پر ہونے والے حملوں میں نظر آتا ہے۔ ان کی زبان کھینچ لینے سے لے کر ان کی گردن کاٹ لینے تک کے ارادے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ انہیں ان کی کاسٹ بھی یاد دلائی جارہی ہے۔ یہ ان کے نام سے ظاہر ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ صرف نام کے برہمن ہیں،نقلی برہمن ۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کےڈی این اے کی جانچ  کروا لینے سے اصلیت معلوم ہوجائے گی۔

اس طرح  کی دھمکی دینے والوں کا کردار یامزاج  ان کی زبان سے ہی معلوم ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر ڈی این اے سے کاسٹ کی خصوصیت کا تعین کیا جانے لگے  تو ذات پات کا تصور ہی  ختم  ہو جائے گا۔ ان کا کیا ہوگا جو خود کو نسلوں سے برہمن مانتے  آرہے ہیں، اور اگر ان کے ڈی این اے اور غیر برہمنوں کے ڈی این اے میں مماثلت نکل آئے تو؟

سماجی عقائد کی تصدیق سائنس کے ذریعےکرنے کی کوشش کے اپنے خطرات ہیں۔ لیکن منوج جھا پر حملے  سے کچھ اور سوال بھی پیدا ہوتے  ہیں۔ اس سے پہلےیہ جان لیں کہ آخرمنوج جھا پر اس غصے اور قہر کی وجہ کیا ہے۔ اور کون  لوگ ناراض ہیں؟

منوج جی پر حملہ کرنے والے خود کو کھشتریہ کہتے ہیں یا راجپوت۔ کئی جگہوں پر انہیں ٹھاکر بھی کہا جاتا ہے۔ وہ سب منوج جی سے اس لیےخفاہیں کہ انہوں نے پارلیامنٹ میں خواتین ریزرویشن پر بحث کے دوران اوم پرکاش والمیکی کی نظم ‘ٹھاکر کا کنواں’ پڑھی تھی۔ اس نظم کے ذریعے وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ ہر قدرتی اور سماجی وسائل ‘ٹھاکروں’ کے قبضے میں ہےیا وہ ان کے ہیں اور باقی لوگوں  کے پاس کچھ  بھی نہیں ہے۔ مختصر سی نظم ہے؛

چولہا مٹی کا

مٹی تالاب کی

تالاب ٹھاکر کا

بھوک روٹی کی

روٹی باجرے کی

باجرا کھیت کا

کھیت ٹھاکر کا

بیل ٹھاکر کا

ہل ٹھاکر کا

ہل کی موٹھ پرہتھیلی اپنی

فصل ٹھاکر کی

کنواں ٹھاکر کا

پانی ٹھاکر کا

کھیت کھلیان ٹھاکر کا

گلی محلےٹھاکر کے

پھر اپنا کیا؟

گاؤں؟

شہر؟

دیش؟

نظم سادہ سی  ہے۔ اس کی تشریح دقت طلب نہیں ہے۔ اس نظم کا ٹھاکر کون ہے؟ کیا وہ صرف راجپوت ہے؟ یا وہ برہمن بھی ہو سکتا ہے؟ یا بھومیہاریا اونچی ذات کا کوئی اور؟ صرف ٹھاکر کہنے سے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ مجھے یادآتاہے ایک بارمؤرخ رام شرن شرما سے ملنے آئے ایک شخص نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنی کمیونٹی ٹھاکر بتلائی، تو شرما جی نے پوچھا؛ کون والا ٹھاکر ؟ رامیشور ٹھاکر والایا کرپوری ٹھاکر والا؟ اس نظم کا ٹھاکر رامیشور ٹھاکر والا ہے، یہ کہنے کی ضرورت نہیں۔

نظم میں جو سوال پوچھ رہا ہے، وہ بھی اگر ٹھاکر ہو تو وہ کرپوری ٹھاکروالا ہی ہوگا۔ نظم ایک دلت شاعر کی ہے، اس لیے اس میں جو سوال ہے، اس میں ایک  گہری سماجی شکایت ہے یا کوئی الزام ہے، یہ  بھی  بہ آسانی معلوم ہو جاتا ہے۔

دلت شاعر کی یہ نظم ہندی کے ہی  لیکن اونچی ذات کےافسانہ نگار پریم چند کی کہانی ’ٹھاکر کا کنواں‘ کو یاد کرتی ہے۔ اس کہانی میں بھی ایک گہری شکایت ہے۔ گنگی کے ہاتھ سے بالٹی چھوٹ  کر پانی میں گر جانے پر جو آواز  پیدا ہوتی ہے ،وہ شکایت ہی ہے۔ اس ٹھاکرسے جس کا وہ  کنواں ہے، جس کی وجہ سے پانی بھی اسی کا ہے، پیاس بھلے ہی ہماری ہو۔ اسے ہم بجھا نہیں سکتے۔

نظم  پڑھی گئی تھی خواتین کو مقننہ میں ریزرویشن دینے کے سیاق میں۔ منوج جھا وسائل پر یکطرفہ قبضے کے بارے میں  بات کر رہے تھے۔ کیوں پسماندہ خواتین کو ریزرویشن ملنا چاہیے،یہ بھی سوال ہے۔

نظم پڑھتے ہوئے منوج جھا کتنے محتاط تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  پڑھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ ٹھاکر مجھ میں بھی ہے، اس پارلیامنٹ میں ہے اور ہر جگہ ہے۔ اسے مارنا ہوگا۔مارنے  کا مطلب خون خرابہ نہیں ہے، کسی ٹھاکر کو مارنا نہیں ہے، بلکہ نام نہاد اونچی ذات اور اس کی وجہ سے سماج میں بیٹھے ہوئےٹھاکرپن کا خاتمہ ہے۔

یہ کہنا منوج جھا کوضروری لگا،اس سے آج  کےہمارے سماج، بالخصوص ’اونچی ذات‘ کے سماج کے ردعمل کی ذہنی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔ تمل ناڈو کے رہنما ادے ندھی اسٹالن کے سناتن دھرم کی تباہی والےبیان کو  جس طرح مسخ کرکے مشتہر کیا گیا  کہ وہ سناتنی ہندوؤں کے قتل عام کی اپیل کر رہے ہیں۔اس کے بعد یہ احتیاط ضروری تھی، لیکن اس احتیاط کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔

’اونچی ذاتوں‘ میں زیادہ حساسیت ہے یا اس کا بھی دکھاوا ہے، یہ باربار ظاہر ہوتا رہا ہے۔ ادھر، پچھلے 10 سالوں سے برہمن اپنے برہمن ہونے، راجپوت اپنےراجپوت ہونے، بھومیہار ہونے پرجس طرح سےفخر کرنےلگے ہیں، اس سےہم سمجھ سکتے ہیں کہ ‘اونچی ذاتیں’ اپنی مادی اور ثقافتی بالادستی کو کسی بھی طرح ترک نہیں کرنا چاہتی ہیں۔

جس طرح داخلوں یا تقرریوں میں جنرل کیٹیگری میں وہ پچھڑےیا دلت طبقے کے کسی بھی  فرد کو دیکھتے ہی مشتعل ہو جاتے ہیں، اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صلاحیت کامطالبہ بھی دکھاوا ہے، وہ اپنے سے زیادہ نمبر لانے والے کو اوپرنہیں رہنے دینا چاہتے۔ بار بار انہیں قانون کی یاد دلانی پڑتی  ہے۔

جمہوریت نے معاشرے میں مساوات کے جس اصول کو ممکن بنایا ہے اس نے معاشرے، معیشت اور سیاست پر ان کی روایتی گرفت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ جمہوریت نے عدم تشدد کو برقرار رکھا ہے۔ ورنہ جو ناانصافی  ان کی طرف سے سینکڑوں سالوں سے ہوتی آئی ہے، اس کے خلاف کسی بھی طرح  کی بغاوت جائز ہوتی۔ اس لیے وہ اس تبدیلی کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

منوج جھا کے ایک بیان پر جس طرح کاپرتشدد ردعمل سامنے آیا ہے، اس  سے اس اونچی ذات کے لوگوں اور اشرافیہ طبقے کےپرتشدد مزاج کوسمجھا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر کی طرف سے تشدد کی دھمکی نے ایک بار پھر اس پارٹی کے اندر کےتشدد کو بے نقاب کر دیا ہے۔

لیکن یہ اچھی بات ہے کہ منوج جھا کی پارٹی اور ان کی اتحادی جنتا دل (یو) نے ان کی حمایت کی ہے۔ بہتر ہو گا کہ  اگر ’اعلیٰ ذات‘ کے دانشور اور اشرافیہ بھی اس سوال پر  اپنامنہ کھولیں۔

اوم پرکاش والمیکی ہوں یا دوسرے دلت ادیب، سب نے جگہ جگہ بتایا ہے کہ انہیں ‘اونچی ذات’ میں ایسے لوگ ملے جو برابری کے حق میں تھے۔ جنہوں نے  ان کا ہاتھ پکڑا، ساتھ چلے۔ جس کی وجہ سے انہیں اپنے معاشرے کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ منوج جھا بھی اسی روایت کے علمبردار ہیں۔ متھلا کے ہیں تو ان کے قریب ترین پیش رو تو ہری موہن جھا ہوں گے۔ کیا آج کے بہاری ہری موہن جھا کو بھی نہیں پڑھتے؟ آج کے برہمن نرالا کویا پانڈے بیچن شرما ‘اُگر’ کو نہیں جانتے؟

منوج جھا اشرافیہ سے خطاب کر رہے ہیں۔ ادب پڑھنے کی دعوت دے ر ہے ہیں۔ انہیں گالیاں دینے اور دھمکیاں دینے کے بجائے کتاب اٹھا لینے سے شایدان  لیڈر کی کچھ قدر ہو!

(اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔)