منی پور: این پی پی نے بی جے پی حکومت سے ناطہ توڑا، نائب وزیر اعلیٰ سمیت چار ایم ایل اے کا استعفیٰ

منی پور میں بی جے پی کے ساتھ گٹھ بندھن میں شامل نیشنل پیپلس پارٹی کے رہنما اورنائب وزیر اعلیٰ وائی جائے کمار سنگھ سمیت چار وزراء کے استعفیٰ بعد سرکار خطرے میں آ گئی ہے۔ کمار کا کہنا ہے کہ بی جے پی اپنے ہی اتحادیوں پر حملہ کرتی رہتی ہے، ہم ایسے سلوک کو کیسے قبول کر سکتے ہیں۔

منی پور میں بی جے پی کے ساتھ گٹھ بندھن میں شامل نیشنل پیپلس پارٹی کے رہنما اورنائب وزیر اعلیٰ وائی جائے کمار سنگھ سمیت چار وزراء کے استعفیٰ بعد سرکار خطرے میں آ گئی ہے۔ کمار کا کہنا ہے کہ بی جے پی اپنے ہی اتحادیوں پر حملہ کرتی رہتی ہے، ہم ایسے سلوک کو کیسے قبول  کر سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

نئی دہلی: منی پور کے نائب وزیر اعلیٰ وائی جائےکمار سنگھ سمیت نیشنل پیپلس پارٹی(این پی پی) کے چار وزراء نے بدھ کو ریاست کی بی جے پی قیادت والی سرکار سے استعفیٰ دے دیا۔سنگھ کے علاوہ این کائشی، لیتپاؤ ہاؤکپ اور ایل جینت کمار سنگھ نے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کو اپنا استعفیٰ سونپا۔سنگھ نے صحافیوں سے کہا، ‘ہم نے وزیر اعلیٰ کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا ہے۔’ استعفیٰ دینے والے باقی تین بی جے پی کے، ایک آل انڈیا ترنمول کانگریس کے اور ایک آزاد ایم ایل اے ہیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما اوکرام ابوبی سنگھ گورنر نجمہ ہپت اللہ سے اسمبلی کاخصوصی سیشن بلاکر این بیرین سرکار کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز لانے کی اپیل کریں گے۔وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے خلاف کل طاقت اب 28 ہے، جس میں 20 کانگریس سے، 4 این پی پی، 2 بی جے پی سے (جنہوں نے دن میں پارٹی چھوڑی)، ایک اےآئی ٹی سی اور ایک آزاد ممبر ہے۔

سبھاس چندر، جو بی جے پی کے تین ایم ایل اے میں سے ایک ہیں، نے بدھ کو منی پور اسمبلی  کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔سات کانگریسی ایم ایل اے، جو پہلے بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے، کو اسپیکر ٹربیونل اور منی پور کی ہائی کورٹ میں ہندوستانی آئین  کی دسویں شیڈول کے تحت دل بدل مخالف معاملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بی جے پی کی قیادت  والی سرکار میں شامل ایک کانگریسی ایم ایل اے کو حال ہی میں منی پور اسمبلی  کی رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اسمبلی میں 59 ممبر رہ گئے۔قابل ذکر ہے کہ2017 میں منی پور میں اسمبلی انتخاب ہوئے تھے، تب 60 رکنی اسمبلی  میں بی جے پی نے 21 سیٹیں جیتی تھیں اور 28 سیٹوں کے ساتھ کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی تھی۔

حالانکہ اس کے فوراً بعد ہی ایک کانگریس ایم ایل اےبی جے پی میں شامل ہو گئے۔ پھر بی جے پی کو ایک ٹی ایم سی ایم ایل اے کے ساتھ چار این پی پی اور ناگالینڈ میں بی جے پی کی اتحادی  ناگا پیپلس فرنٹ (این پی ایف) کے چار ایم ایل اے کا ساتھ ملا، جس کے بعد نارتھ ایسٹ کی کسی بھی ریاست میں پہلی بار بی جے پی کی سرکار بنی۔

بدھ کو تین بی جے پی اور این پی پی ایم ایل اے کے ساتھ، ٹی ایم سی اور جیریبم سے ایک آزاد ایم ایل اے نے اپنی حمایت واپس لی ہے۔اینڈرواسمبلی سیٹ کے ایم ایل اے شیام کمار سنگھ، جو کانگریس سے بی جے پی میں گئے تھے، کے نااہل قرار دیے جانےکے بعد منی پور اسمبلی میں اس وقت 59 ایم ایل اے ہیں۔

این بیرین سرکار کے لیے مشکلیں مارچ سے ہی شروع ہو گئی تھیں، جب پارٹی کے اندر سے ہی انہیں عہدے سے ہٹائے جانے کی کوشش کی  جانے لگی تھی۔ اس کا حل مرکز کےبی جے پی رہنماؤں  کی دخل اندازی کے بعد ہی ہو سکا تھا۔اس کے بعد 9 اپریل کو وزیر اعلیٰ کے ذریعے نائب وزیر اعلیٰ سنگھ سے ان کے تمام چارج واپس لے لیے گئے۔الزام تھا کہ انہوں نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہوئے لاک ڈاؤن کے دوران وزیر اعلیٰ این بیرین کے ریاست میں اشیائے خوردنی کی سپلائی کو لےکر کیے وعدے کو ‘جھوٹا’ بتایا تھا۔

اب سنگھ نے انڈین ایکسپریس کو بتایا، ‘وزیر اعلیٰ نے سب کو پانچ کیلو چاول دینے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ لاک ڈاؤن میں کوئی کمی نہیں ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ میں نے یہی بات اٹھائی… لیکن کچھ ہی دن بعد انہوں نے مجھ سے سارے چارج لے لیے۔ بی جے پی رہنماؤں نے ہمیں سرکار سے استعفیٰ دینے کو کہا۔’

انہوں نے آگے کہا، ‘ابھی کچھ وقت پہلے بیرین نے ہمیں کہا کہ راجیہ سبھا انتخاب کے بعد این پی پی کے سبھی وزراء کو کابینہ سے ہٹا دیا جائےگا۔ بی جے پی اپنے ہی اتحادیوں پر حملہ کرتی رہتی ہے۔ ہم ایسے سلوک  کو کیسے قبول کر سکتے ہیں۔’اتفاق سے کمار سنگھ کانگریس کے اوکرام ابوبی سنگھ کی مدت  کارمیں منی پور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل رہے ہیں اور ان کے قریبی مانے جاتے ہیں۔

وہیں، اب ابوبی سنگھ کا دعویٰ ہے کہ کانگریس کے پاس 30 ایم ایل اے کی حمایت ہے، جس میں 20 خود ان کے ہیں۔انتخاب کے بعد پارٹی بدلنے والے کانگریس کے ایک ایم ایل اے کے علاوہ سات ایسے ایم ایل اے بھی تھے، جنہوں نے کانگریس میں رہتے ہوئے این بیرین کو حمایت دی تھی۔

ابوبی سنگھ نے اس اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا، ‘اسمبلی میں سرکاری طور پر تو وہ کانگریس کے ایم ایل اے ہیں۔ معاملہ عدالت میں ہے یا تو وہ نااہل ثابت ہوں گے یا وہ کانگریس کے ایم ایل اے ہیں۔ دونوں ہی معاملوں میں وہ بی جے پی کے ایم ایل اے تو نہیں ہی کہلائیں گے۔’انہوں نے آگے کہا کہ نئے ایم ایل اے کی حمایت کے بعد کانگریس ریاست میں سرکار بنانے کا دعویٰ پیش کرےگی۔

ابوبی سنگھ کا کہنا ہے، ‘سماجی دوری کو دھیان رکھتے ہوئے اسمبلی  کا خصوصی سیشن بلانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ہم نے اپنی مدت کار میں 100 سیٹ والی اسمبلی بنوائی تھی، اور اب (اسمبلی میں ممنوعہ سات ایم ایل اے کو چھوڑکر)52 ایم ایل اے ہیں، جو اصل میں ووٹ کر سکتے ہیں۔ اگر بی جے پی کو اپنی تعداد کو لےکر یقین ہے، تب بھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے، لیکن انہیں یہ ثابت کرنے دیجیے۔’

ادھر تین ایم ایل اے کے پارٹی چھوڑنے کے بعد بی جے پی کے پاس اب 19 ایم ایل اے ہیں۔ ساتھ ہی انہیں ایک ایل جے پی اور چار این پی ایف ایم ایل کی حمایت حاصل ہے۔رابطہ کیے جانے پر ایک سینئر بی جے پی رہنما نے اس اخبار سے کہا، ‘جہاں تک تعداد کی بات ہے، تو کچھ مشکل ضرور ہے لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ کوئی خطرہ ہے۔’

بتا دیں کہ اس بیچ منی پور میں 19 جون کو ایک راجیہ سبھا سیٹ کے لیے الیکشن ہوگا۔ دونوں بی جے پی اور کانگریس نے ایوان بالاکی واحد سیٹ کے لیے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)