مہاراشٹر: بی جے پی نے سی اے اے مخالف رخ کو لے کر لوکل باڈی کے 2 رہنماؤں کو کیا برخاست

01:56 PM Mar 05, 2020 | دی وائر اسٹاف

گزشتہ 28 فروری کو مہاراشٹر کے پربھنی ضلعے میں   بی جے پی  مقتدرہ  سیلو نگر پریشد نے شہریت ترمیم  قانون کے نفاذ اوراین آر سی  کے خلاف اتفاق رائے  سے ایک تجویز پا س کی تھی۔

ممبئی میں سی اے اے کی مخالفت کرتے لوگ/ فوٹو: رائٹرس

نئی دہلی:مہاراشٹر بی جے پی  نے سٹی کاؤنسلر کے چیئرپرسن اور ایک دیگر لوکل باڈی کے ڈپٹی چیف  کو برخاست کر دیا ہے جنہوں نے شہریت  ترمیم  قانون کے خلاف حال ہی میں تجویز  پاس  کئے تھے۔ نگر پریشد میں بی جے پی اقتدار میں  ہے۔بی جے پی ترجمان  کیشو اپادھیائے نے بدھ کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر سسپنشن لیٹر پوسٹ کئے۔ حالانکہ، اس میں سسپنڈ کیے جانے کے وقت  کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔

خطوط کے مطابق، پربھنی واقع سیلو نگر پریشد کے چیئرپرسن ونود بوراڈے اور پالم نگر پریشد کے ڈپٹی چیف بالاساہیب روکڑے کو پارٹی نے برخاست  کر دیا ہے۔بی جے پی کے ریاستی صدر  چندر کانت پاٹل نے خط میں کہا کہ دونوں پارٹی رہنماؤں  نے شہریت ترمیم  قانون کے خلاف ووٹ کرکے ڈسپلن کی کمی  دکھائی ہے، اس لئے انہیں پارٹی سے برخاست  کیا گیا ہے۔

بتا دیں کہ، گزشتہ 28 فروری کو مہاراشٹر کے پربھنی ضلعے میں   بی جے پی  مقتدرہ  سیلو نگر پریشد نے شہریت ترمیم  قانون کے نفاذ اوراین آر سی  کے خلاف اتفاق رائے  سے ایک تجویز پا س کی تھی۔پریشد کے صدرونود بوراڈے نے سوموار کو بتایا کہ نگر پریشد میں 27 کاؤنسلر ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘تجویز  28 فروری کو بنا کسی مخالفت کے اکثریت  سے پاس کیا گیا۔’ انہوں نے کہا کہ مقامی عوامی نمائندے ایسے قدم کے حق میں تھے۔

بوراڈے نے کہا کہ انہوں نے تجویز   کے پاس ہونے کے دو دن پہلے ایک بیٹھک بلائی تھی جس کی مانگ این سی پی، کانگریس کے ممبروں  اور مسلم کمیونٹی  کے سات کاؤنسلر نے کی تھی۔سی اے اے پچھلے سال دسمبر میں پارلیامنٹ میں پاس ہوا تھا۔ اس میں 31 دسمبر، 2014 سے پہلے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آکر ہندوستان  میں بسے غیر مسلم مہاجرین  کو ہندوستانی شہریت دینے کا اہتمام  ہے۔

اس نئے شہریت قانون کے خلاف تب سے ہی ملک  کے کئی حصوں میں مخالفت  جاری ہے جبکہ مرکز میں حکمراں بی جے پی واضح  کر چکی ہے کہ اس سے کسی کی شہریت نہیں جائے گی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)