ایل پی جی بحران: ہوٹلوں اور ریستوراں میں بلا تعطل گیس فراہمی کے لیے ہائی کورٹ پہنچی بنگلورو ہوٹلز ایسوسی ایشن

کرناٹک ہائی کورٹ نے بنگلورو ہوٹلز ایسوسی ایشن اور چار دیگر کی جانب سے دائر درخواست پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے کمرشل گیس سلنڈروں کی فراہمی کے حوالے سے جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق پورے ریاست میں روزانہ صرف ایک ہزار کمرشل ایل پی جی سلنڈر فراہم کیے جائیں گے، جو معمول کی فراہمی کے 5 فیصد سے بھی کم ہیں۔

کرناٹک ہائی کورٹ نے بنگلورو ہوٹلز ایسوسی ایشن اور چار دیگر کی جانب سے دائر درخواست پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے کمرشل گیس سلنڈروں کی فراہمی کے حوالے سے جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق پورے ریاست میں روزانہ صرف ایک ہزار کمرشل ایل پی جی سلنڈر فراہم کیے جائیں گے، جو معمول کی فراہمی کے 5 فیصد سے بھی کم ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل (17 مارچ) کو ہوٹلوں کی تنظیم بنگلورو ہوٹلز ایسوسی ایشن (بی ایچ اے) اور چار دیگر کی درخواست پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ بی ایچ اے کی درخواست میں بنگلورو کے ہوٹلوں اور ریستورانوں کو کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بار اینڈ بنچ کے مطابق، جسٹس سچن شنکر مگدم نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سوموار تک کمرشل ایل پی جی اسٹاک کی دستیابی، سپلائی کے نظام اور اختیار کردہ تقسیم کے طریقۂ کار سے متعلق متعلقہ اعداد و شمار کے ساتھ اپنا جواب پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے متعلقہ محکموں اور تقسیم کار ایجنسیوں سے موجودہ کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کے اسٹاک، ان کی الاٹمنٹ، سپلائی کی صورتحال اور سپلائی میں رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی وضاحت طلب کی ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل کے ستیش نے عدالت کو بتایا کہ بنگلورو میں تقریباً 40,000 ہوٹل اور ریستوران ہیں، جہاں تقریباً 6,00,000 افراد کام کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی اداروں نے اپنے مینو محدود کر دیے ہیں اور کام کم کر دیا ہے، جبکہ کچھ نے عارضی طور پر اپنا کاروبار بند کر دیا ہے، جس کے باعث وہاں کام کرنے والے افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعض ہوٹلوں نے گیس بحران کے خدشے کے پیش نظر سبزیاں، گوشت، انڈے اور پھل جیسی جلد خراب ہونے والی اشیاء کی خریداری روک دی ہے، جس سے اس کاروبار کے مزید متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

ایڈووکیٹ ستیش نے بتایا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث قدرتی گیس کی فراہمی میں خلل کا جائزہ لینے کے بعد حکومت نے نیچرل گیس (سپلائی) آرڈر 2026 جاری کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 9 مارچ کے فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ آپریشنل دستیابی کے تحت صنعتی اور کمرشل صارفین کو صرف 80 فیصد سپلائی دی جائے گی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق پورے ریاست میں روزانہ صرف ایک ہزار کمرشل ایل پی جی سلنڈر فراہم کیے جائیں گے، جو معمول کی سپلائی کے 5 فیصد سے بھی کم ہیں۔

اس پر مرکزی حکومت کے وکیل نے کہا کہ یہ صورتحال غیر متوقع تھی اور وہ اس سلسلے میں ہدایات حاصل کریں گے، کیونکہ کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی ایک پالیسی فیصلہ ہے۔