تشدد سے متاثرہ منی پور میں اثر و رسوخ رکھنے والی تنظیم کُکی انپی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں جاری ایس آئی آر کا عمل قابل قبول نہیں ہے۔ تنظیم کے مطابق، یہ عمل غیر جانبداری، سب کو ساتھ لے کر چلنے اور انتظامی ذمہ داری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اندرونی طور پر بے گھر آبادی کے ایک بڑے اور کمزور طبقے کی شمولیت کو یقینی بنائے بغیر کسی بھی اہم انتخابی اور انتظامی عمل کو آگے بڑھانا جمہوری نمائندگی کے اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔
منی پور میں تشدد کے خلاف ایک ریلی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: تشدد سے متاثرہ منی پور کی اثر و رسوخ رکھنے والی کُکی تنظیم نے ’موجودہ حالات‘ میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کی مخالفت کی ہے اور ریاست میں تصادم کے باعث بے گھر ہونے والے ہزاروں لوگوں کی صورتحال پر تشویش کااظہار کیا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات (4 جون) کو جاری ایک بیان میں کُکی انپی منی پور نے مطالبہ کیا ہےکہ ’تسلی بخش انتظام‘ کیے جائیں تاکہ ’یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی بے گھر شخص اس عمل سے باہر نہ رہے۔‘
منی پور میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہو گیا ہے اور اس وقت بلاک لیول کے افسران گھر گھر جا کر معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ 5 جولائی کو ایک مسودہ فہرست جاری کی جائے گی اور اعتراضات اور دعوے کے عمل کے بعد 6 ستمبر کو حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔
کُکی انپی منی پور نے اپنے بیان میں کہا، ’موجودہ حالات میں منی پور میں جاری ایس آئی آر کا عمل قابل قبول نہیں ہے۔ یہ غیر جانبداری، سب کو ساتھ لے کر چلنے اور انتظامی ذمہ داری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ کُکی انپی منی پور کو توقع تھی کہ حکومت سب سے پہلے تقریباً 59,000 کُکی-زو بے گھر لوگوں کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب اور عملی انتظامات کرے گی، جو ابھی تک بے گھر ہیں اور اس عمل میں شامل ہونے کے لیے اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ پا رہے ہیں۔‘
تنظیم نے کہا کہ آبادی کے ایک بڑے اور کمزور طبقے کی شمولیت کو یقینی بنائے بغیر اس قدر اہم انتخابی اور انتظامی عمل کو آگے بڑھانا جمہوری نمائندگی کے اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیاہے، ’اس لیے یہ بے حد ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ضلع انتظامیہ مل کر ایسے قابل رسائی اور جامع نظام بنائیں، جن کے توسط سے تمام متاثرہ بے گھر لوگ ٹھیک سے رجسٹر ہو سکیں اور اس نظرثانی کے عمل میں حصہ لے سکیں۔‘
تنظیم نے مزید کہا کہ ایسے انتظامات کے بغیر ایس آئی آر کو جاری رکھنا نہ صرف غیر منصفانہ ہوگا، بلکہ پورے عمل کی قانونی حیثیت اور ساکھ پر بھی سوال اٹھائے گا۔ تنظیم نے زور دیا کہ متعلقہ حکام کواس بات کو یقینی بنانے کے لیے تسلی بخش انتظام کرنے ہوں گے تا کہ کوئی بھی بے گھر شخص اس عمل سے محروم نہ رہ جائے۔
واضح ہو کہ منی پور میں مئی 2023 سے جاری نسلی تشدد میں اب تک کم از کم 260 سے زیادہ لوگوں کی جان جا چکی ہے اور تقریباً 60,000 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ یہ تشدد سب سے پہلے میتیئی اور کُکی برادریوں کے درمیان شروع ہوا تھا اور اب تقریباً تمام گروہ اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ میتیئی برادری زیادہ تر امپھال وادی کے میدانی علاقوں میں رہتی ہے، جبکہ کُکی پہاڑی علاقوں میں آباد ہیں۔ تشدد شروع ہونے کے بعد دونوں برادریاں اپنے اپنے علاقوں میں محدود ہو گئی ہیں۔