خالد جاوید کے ہاں مسئلہ یہ نہیں کہ وہ موت پر لکھ رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح کی موت اور ایک ہی طرح کے ’تعفن‘ پر لکھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: موت کی پانچویں کتاب کا پیش لفظ
خالد جاوید کے ہاں مسئلہ یہ نہیں کہ وہ موت پر لکھ رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح کی موت اور ایک ہی طرح کے ’تعفن‘ پر لکھ رہے ہیں۔ کیا موت کے پاس ان کے لیے کوئی نیا ذائقہ نہیں بچا؟ اگر موت تکثیریت کی حامل ہے، تو خالد جاوید کے ہر ناول میں اس کا’رنگ، بو اور ذائقہ‘ایک جیسا کیوں ہے؟ تکثیریت کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہمیں موت کے مختلف روپ نظر آتے-کبھی وہ ایک مابعد الطبیعیاتی سکون ہوتی، کبھی وہ ایک کلینیکل خاموشی ہوتی، کبھی وہ ایک کائناتی رقص ہوتی۔ لیکن خالد جاوید کے ہاں موت ہمیشہ’گوشت، سڑاند، فضلہ، بدبو اور لجلجے پن‘کے ایک ہی مونو لیتھک (یک سنگی) استعارے میں قید ہے۔ جب آپ کے پاس موت کو بیان کرنے کے لیے حسیات کا دائرہ ایک ہی ہو، تو اسے’تکثیریت‘کہنا لغت کی توہین ہے۔ اس عجزبیانی کو’لگاتار نئی دنیاؤں کی تلاش کا عمل ‘ کہنا بھی درست نہیں ہے۔چونکہ تلاش اسے کہتے ہیں جہاں ’دریافت‘ہو۔ اگر ایک سیاح دنیا کے پانچ براعظموں کا سفر کرے اور ہر جگہ اسے صرف’ایک ہی طرح کا کچرا کنڈی‘نظر آئے، تو قصور براعظموں کی تکثیریت کا نہیں، بلکہ سیاح کی ’نظر‘کا ہے جو اس کچرا کنڈی سے آگے دیکھنے سے معذور ہے۔ خالد جاوید’موت کی ہر کتاب‘میں ایک نئی دنیا دریافت نہیں کر رہے، بلکہ وہ ہر بار ایک ہی دنیا کا نقشہ تھوڑے سے’ہندسوں‘کی تبدیلی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ، یہ کہنا کہ موت مونو لیتھک (یک سنگی) نہیں ہے، بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ’محبت مونو لیتھک نہیں ہے‘، لیکن اگر کوئی شاعر اپنی ہر غزل میں صرف’محبوب کی زلف‘کا تذکرہ کرے تو کیا ہم اسے ’محبت کی تکثیریت‘کا نام دیں گے یا شاعر کے ’تخلیقی بانجھ پن‘کا؟ خالد جاوید کے ہاں موت کی تکثیریت نہیں، بلکہ’واحد متکلم کی اکتا دینے والی خود کلامی‘کا غلبہ ہے۔ اوراگر کوئی اسے ’تخلیقی تسلسل‘ کہتا ہے تو پھر مجھے یہاں یہ بھی بتانا ہوگا کہ تخلیقی تسلسل وہ ہوتا ہے جہاں فنکار کا شعور ارتقا پائے۔ میلان کنڈیراکے ہاں بھی وجودی کرائسس کا تسلسل ہے، لیکن ‘دی ان بیئربل لائٹ نیس آف بیئنگ’اور ‘ایمورٹیلٹی’میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہاں موضوع کا تسلسل تو ہے، لیکن بیانیے اور اسلوب کی ’تکرار ‘نہیں ہے۔ خالد جاوید کے ہاں’وجودی کرائسس‘اب ایک’فارمولا‘بن چکا ہے۔ رضوان صاحب کا یہ دعویٰ کہ’اسلوب کا تعلق تخلیق کار سے ہوتا ہے، تخلیق سے نہیں‘، ناول نگاری کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ جیسا کہ میں نے برسوں پہلے اپنے اداریے میں لکھا تھا، ایک سچا ناول نگار یہ دیکھتا ہے کہ اس کا نیا ناول اس سے کس اسلوب کا تقاضا کر رہا ہے۔یاد کیجیے، آپ کے پاس اثبات کا شمارہ نمبر32 موجود ہو تو اس کا اداریہ پھر پڑھ ڈالیے، میں نے تقریباً چار سال پہلے کہا تھا ؛
کیا یہی کام خالد جاوید نہیں کررہے ہیں؟ آپ تخلیق نگاری کے لیے اسلوب پر اتنا زور کیوں دے رہے ہیں، کیا آپ کسی تخلیق نگار کی ہمہ جہتی کو مفلوج کرکے اس کے پاؤں میں بیڑیاں پہنانا چاہتے ہیں؟ دستوئیفسکی کو دیکھیے؛ ’جرم و سزا’ سے ‘برادرز کارامازوف’ تک اس کا موضوع انسانی روح کی گہرائی ہے، لیکن ہر ناول اپنی بنت، ڈھانچے اور اسلوب میں ایک الگ کائنات پیش کرتا ہے۔ اگر وہ بھی ہر بار ’موت کی پہلی کتاب‘، ’دوسری کتاب‘لکھتا رہتا تو آج وہ عالمی ادب کا امام نہ ہوتا۔ خالد جاوید کے ہاں’تکرار‘اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب ان کا ناول پڑھتے ہوئے قاری کو یہ تجسس نہیں رہتا کہ’آگے کیا ہوگا‘، بلکہ اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ’آگے وہی ہوگا جو پچھلے ناول میں ہوا تھا۔‘ مختصر یہ کہ، اسلوب ایک سواری ہے، منزل نہیں۔ اگر سواری شاندار ہو لیکن وہ آپ کو ہر بار اسی پرانے اڈے پر لا کر کھڑا کر دے، تو اس سواری کی قیمت مٹی کے برابر ہے۔
ممکن ہے کہ یہ اسلوب برسوں کی ریاضت کے بعد پیدا کیا گیا ہو، ممکن ہے کہ اس اسلوب کو وضع کرنے میں ناول نگار نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ جھونک دیا ہو ، لہٰذا ایک صاحب اسلوب ناول نگار خوفزدہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی بھر کی کمائی کہیں لٹا نہ دے، اس لیے وہ تادم مرگ اس اسلوب سے چمٹا رہتا ہے، اس کے اندر نئی راہوں کو تلاش کرنے کی وہ فطری صلاحیت مفقود ہوجاتی ہے جو گمنام جزیروں کی بازیافت کرسکتی تھی۔ پھر ایسا تن آسان ناول نگار یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا نیا ناول اس سے کس اسلوب کا تقاضا کررہا ہے، وہ تو بہرحال اس کی انگلی پکڑ کر اپنی چال چلانا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اکیس ایک سو بائیس: وقت، موت اور جہنم کا سفر
خالد جاوید کا اسلوب اب ان کے خیالات کو مہمیز نہیں کر رہا، بلکہ ان کے خیالات کو’مفلوج‘کر رہا ہے۔یاد کیجیے، گیبرئیل گارسیا مارکیز نے جب اپنی زندگی کے آخری برسوں میں کچھ ایسی تحریریں لکھیں جن میں ان کے پچھلے شاہکاروں کا عکس (یا تکرار) تھا، تو عالمی نقادوں نے بڑی بے رحمی سے کہا تھا کہ’مارکیز اب خود اپنی پیروڈی کر رہے ہیں‘۔ جب مارکیز جیسے دیو کو تکرار پر معافی نہیں ملی،تو آپ کیوں امید کرتے ہیں کہ خالد جاوید کو بخش دیا جائے گا؟ ممکن ہے کہ کچھ قارئین معترض ہوں (سوشل میڈیا پر ہو بھی چکے ہیں کہ) میں بین الاقوامی ادب اور ادیبوں کے حوالے دے کر انھیں ’ڈرانے‘ کی کوشش کر رہا ہوں۔اگرچہ خالد جاوید کی پوری فکری بنیاد مغربی یا عالمی ادب پر ایستادہ ہے۔ ان کے مضامین ہی دیکھ لیجیے کہ کس طرح فراٹے سے وہ کسی بھی موضوع پر عالمی ادب کو اپنا قبلہ و کعبہ بناتے ہیں۔ میرے خیال سے یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے، کیوں کہ افکار کی سطح پر ہم جب کسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر ہماری گلی اور محلہ نہیں بلکہ پوری دنیا ہوتی ہے۔ ادب تو سرحدوں کو توڑتا ہے، اسے کسی پنجرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ اور پھر خالد جاوید کے تعلق سے تو یہ بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی ادیب ہیں، لہٰذا کم از کم ہمیں ان کے معاملے میں بین الاقوامی ادبی معیار سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ رضوان الحق صاحب نے اسلوب کے تعلق سے نیر مسعود، انتظار حسین اور شمس الرحمٰن فاروقی کا حوالہ خالد جاوید کے دفاع میں پیش کیا ہے۔ ان کا یہ موقف کہ بڑے ادیب کا اسلوب نہیں بدلتا، تاریخی اور منطقی دونوں اعتبار سے یہاں بھی غلط ہے۔ کیا رضوان صاحب بتائیں گے کہ انتظار حسین کے ’بستی‘ اور ’آگے سمندر ہے‘ کا اسلوب ایک جیسا ہے؟ کیا عبداللہ حسین کا ’اداس نسلیں‘ اور ’باگھ‘ کا اسلوب ایک جیسا ہے؟ کیا شمس الرحمٰن فاروقی کے ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ اور ’سوار اور دوسرے افسانے‘ کا اسلوب ایک جیسا ہے؟ کیا قرۃ العین حیدر کا ’آگ کا دریا‘ اور ’چاندنی بیگم‘ کے اسلوب میں کوئی فرق نہیں؟ مختصر یہ کہ بڑا ادیب کبھی اپنے پاؤں میں اسلوب کی بیڑیاں نہیں ڈالتا، بلکہ وہ نیا ناول لکھتے ہوئے نہتا ہوتا ہے، اسے پہلے پہل خود پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے نئے ناول کے تقاضے کیا ہیں، اس کے چیلنجز کیا ہیں، اور اس کے تخلیقی اوزار کیا ہوں گے؟ اس کے برعکس خالد جاوید کی تکرار اور یکسانیت کا عالم یہ ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح سے کہانی شروع کرتے ہیں اور وہی پرانے اوزار استعمال کرتے ہوئے انجام تک بخیر و عافیت پہنچ جاتے ہیں۔ بڑا ادیب ہر نئی تخلیق میں خود کو ’دریافت‘ کرتا ہے، جب کہ خالد جاوید ہر ناول میں خود کی ’بازیافت‘ کرتے ہیں۔ ’دریافت‘ اور ’بازیافت‘ کے اس فرق کو جب آپ سمجھ لیں گے تو مجھے یقین ہے کہ آپ ’اسلوب‘ اور ’تکرار‘ کا فرق بھی سمجھ جائیں گے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ رضوان الحق صاحب کی یہ تحریر خالد جاوید کے فن کاتجزیہ کرنے کے بجائے ان کی ایک ایسی ’دیومالائی تصویر‘ بنانے کی کوشش ہے جو حقیقت سے بعید ہے۔ وقت، موت اور وجود کے نام پر جو ’فلسفیانہ بھنگ‘ اس ناول میں گھولی گئی ہے، اس کا جواب صرف یہ ہے کہ؛ ادب فلسفے کا لغت نہیں ہوتا، بلکہ انسانی لمس کا گواہ ہوتا ہے۔ اور افسوس کہ اس ناول میں فلسفہ تو بہت ہے، مگر وہ انسانی لمس مفقود ہے جو اسے ایک زندہ جاوید تخلیق بنا سکے۔