کرناٹک: حجاب پر پابندی کا اثر، مسلم لڑکیوں نے کہا – اکیلے کالج جانے سے ڈر لگتا ہے

پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کرناٹک میں مسلم طالبات کے درمیان حجاب بین کے فیصلے کے اثرات پر ایک اسٹڈی کی ہے ، جس میں متعدد طالبات نے بتایاکہ انہیں کالج بدل کر مسلم اداروں میں داخلہ لیناپڑا، دوسری کمیونٹی کی طالبات کے ساتھ گفت وشنید محدود ہوگئی ، اور انہیں علیحدگی اور افسردگی کے احساس سے گزرنا پڑا۔

پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کرناٹک میں مسلم طالبات کے درمیان حجاب بین کے فیصلے کے اثرات پر ایک اسٹڈی  کی ہے ، جس میں متعدد طالبات نے بتایاکہ انہیں کالج بدل کر مسلم اداروں میں داخلہ لیناپڑا، دوسری کمیونٹی کی طالبات کے ساتھ گفت وشنید محدود ہوگئی ، اور انہیں علیحدگی اور افسردگی کے احساس سے گزرنا پڑا۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: کرناٹک حکومت کی جانب  سے حجاب پہننے پر عائد پابندی،جس کو بعد میں ہائی کورٹ نے بھی اپنے فیصلےمیں برقرار رکھا تھا، اب  یہ فیصلہ طلبا کے درمیان سماجی تفریق پیدا کر  رہا ہے اور اس  کو مزید بڑھاوا دے رہا ہے، جس سے ممکنہ طور پرتعلیم کا دائرہ محدود ہونے اورگھیٹوز جیسی صورت حال کے پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ یہ باتیں پیپلز یونین فار سول لبرٹیز (پی یو سی ایل) کی ایک اسٹڈی میں کہی گئی ہیں۔

اس پابندی سے متاثرہ طالبات سے بات کرنے کے بعد پی یو سی ایل نے اپنی اسٹڈی میں کہا  ہےکہ حجاب پہننے والی بعض طالبات کومسلمانوں کے زیر انتظام چلنے والے  اداروں میں شفٹ ہونے کو مجبور ہونا پڑا ہے، جس کے باعث دوسری کمیونٹی کی طالبات کے ساتھ ان کی بات چیت محدود ہو گئی  ہے،اور اسی  وجہ سے ان میں علیحدگی  اور افسردگی کا احساس گھر کر چکا ہے۔

غور طلب  ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مسلم خواتین کا حجاب پہننا اسلام کے لازمی مذہبی طریقوں کا حصہ نہیں ہے اور یہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی آزادی کے حق کے تحت محفوظ نہیں ہے۔

حتیٰ کہ اس مہینے کے شروع میں سپریم کورٹ کے ایک جج نے حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے پوچھا تھاکہ کیا پہننے کے حق میں ‘کپڑے اتارنے کا حق’ بھی شامل ہو گا؟

تاہم، پی یو سی ایل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے نے خواتین کو اپنی پسند سے حجاب پہننے کے حق سے محروم کر دیا ہے۔ دی وائر نے اس سے قبل اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ حجاب کی وجہ سے کئی مسلم خواتین کو ان کے کام  کرنے کی جگہ پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فیصلے کے بعد بڑی تعداد میں مسلم طالبات امتحانات میں شریک نہیں ہو سکیں۔ ایسے ہی ایک معاملے میں حجاب کیس کے دو درخواست گزاروں کو بورڈ کے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اس حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عبوری فیصلے کے بعد اس سال امتحانات سے محروم  کی جانے والی اکثر حجاب پہننے والی طالبات کے لیے ہائی کورٹ کا فیصلہ ان کی پڑھائی اورمستقبل کے منصوبوں میں رکاوٹ بن کر سامنے آیا ہے۔ (واضح ہو کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق، ہندوستان میں مسلم خواتین کی شرح خواندگی،خصوصاً دیہی علاقوں میں دیگر مذہبی برادریوں کے مقابلے سب سے کم ہے۔)

رپورٹ میں طالبات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انہیں کلاس رومز کے اندر اور باہر بھی حفاظتی خدشات کا سامنا ہے (جس میں سماجی بائیکاٹ اور یہاں تک کہ ریپ  کا خوف  بھی شامل ہے) لیکن کالج انتظامیہ اس معاملے کا نوٹس نہیں لے رہی ہے۔

مسلم طالبات کی  ہراسانی کے ان گنت واقعات

پی  یو سی ایل کرناٹک نے ریشم بنام ریاست کرناٹک معاملے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے زمینی اثرات کو سمجھنے کے لیے ایک مطالعہ کیا۔

پی یو سی ایل کی ایک ٹیم نے دیہی ہاسن ضلع کے ایک گاؤں، منگلور شہر، اُلال، ہڈے، کرناٹک، اُڈپی اور رائچور شہروں کا دورہ کیا اور طالبات سے ملاقات کی، جنہوں نے حجاب پر پابندی کے بعد اپنے تجربات اور خدشات کے بارے میں بتایا۔

ٹیم نے مقامی کالج انتظامیہ کے ارکان ، سرکاری حکام، مقامی پولیس اور مسلم سول سوسائٹی گروپوں سے بھی بات کی۔

پی یو سی ایل سے بات کرنے والی طالبات نے کہا کہ کلاس میں حجاب پہننا آئین کے ذریعے ضمانت یافتہ بنیادی حق ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ اسے تسلیم کیا جائے۔ وہ حجاب پہننے کے اپنے حق کو اپنے فیصلہ لینے  کی طاقت سے جوڑ کر دیکھتی ہیں۔

انہوں نے ٹیم کو یہ بھی بتایا کہ ان کی فوری تشویش امتحان میں شریک ہونے، اپنی تعلیم کودوبارہ شروع کرنے اور مزید تعلیم کی منصوبہ بندی کے بارے میں ہے۔

رائچور میں طالبات نے پی یو سی ایل کو بتایا کہ وہ ان طالبات کو جانتی ہیں، جنہیں عبوری فیصلے کے فوراً بعد پورا دن گیٹ کے باہر کھڑا رکھا گیا تھا۔ (حکم میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی طالبہ اس وقت تک ‘مذہبی لباس’ پہننے پر اصرار نہ کرے، جب تک  کہ عدالت اس معاملے پر اپنا فیصلہ نہیں سنا دیتی۔)

رپورٹ میں بی ایڈ کی ایک طالبہ کا ذکر ہے کہ جب وہ نصاب کے حصے کے طور پر دسویں جماعت تک کی طالبات کو پڑھانے کے لیے اسکول گئی تو ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد انہیں حجاب پہننے کی وجہ سے کلاس لینے سے روک دیا گیا۔

رازداری کی شرط پر طالبہ نے پی یو اسی ایل کو بتایا کہ اس سے ان کے نمبرات متاثر ہوئے ۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں چھٹی لینے کے لیے بھی کہا گیااور وعدہ کیا گیا کہ اس سے ان کی حاضری متاثر نہیں ہوگی۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

رائچور کی دیگر طالبات نے پی یو سی ایل کو بتایا کہ ‘دائیں بازو کی قوتوں کے ذریعے تعلیمی اداروں میں احتیاط سے پیدا کی گئی دشمنی’ نے انہیں اور خاص طور پر مسلم خواتین کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب وہ کالج جانے سے ڈرتی ہیں کیونکہ حکام ان کو مناسب سکیورٹی نہیں دیتے ہیں۔ طالبات نے کہا کہ وہ کالج جانے سے پہلے ایک دوسرے کو فون کرتی ہیں اور گروپ میں داخل ہوتی ہیں کیونکہ کیمپس میں اکیلے جانا بہت خوفناک لگتا ہے۔

ایک طالبہ نے بتایا،  کالج جانے کے لیے میرے اندر خوداعتمادی نہیں بچی ہے اور میں اپنے بھائی کو ساتھ لے کر جاتی ہوں۔ کالج کے باہر مجھے دوسرے لڑکوں سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ہمارے کالج کے نہیں ہیں۔ اس سے پہلے میں کلاس کی مانیٹر ہوا کرتی تھی اور طالبات کے مسائل لے کر پرنسپل کے پاس جاتی تھی۔ آج کل میں خاموش سی ہو گئی  ہوں اور دوسرے طالبات سے بات نہیں کرتی۔ میں کالج بدلنا چاہتی ہوں، مجھے یہاں آزادی محسوس نہیں ہوتی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کالج کے متعصب ماحول کی وجہ سے  ان کی خود اعتمادی پر گہرا اثر پڑا ہے اور اسی وجہ سے ان کی حاضری کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی بھی خراب ہوگئی ہے۔

ہاسن کی ایک اور طالبہ نے کہا، سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ ہماری حاضری متاثر ہوئی ہے۔ پرنسپل نے ہمیں کہنا شروع کر دیا ہے کہ حجاب پہننے والی مسلمان لڑکیاں  گھر جائیں اور پڑھائی بندکر دیں۔ انہوں نے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ  اگر تم حجاب نہیں  اتارتی  تو انتظار کرو اور دیکھو کیا ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں بہت سی طالبات دوسرے آپشنز کے بارے میں سوچ رہی ہیں، لیکن بہت سی طالبات کے لیے (مالی حالت کی وجہ سے) آپشنز محدود ہیں۔

ہاسن گاؤں کی ایک اور طالبہ نے کہا، ‘میں اپنی پڑھائی کا دوسرا سال  دہرا رہی ہوں کیونکہ میں ہار نہیں مانوں گی۔ کالج سے ٹرانسفر لینا میرے لیے آپشن نہیں ہے کیونکہ میں اپنا مضمون تبدیل نہیں کر رہی ۔ اور پرائیویٹ اور اقلیتی ادارے بہت مہنگے ہیں جن کے بارے میں ہم جیسے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔

کیمپس کے باہر درپیش مسائل پرکرناٹک کے جنوبی کنڑ ضلع کی کچھ قانون کی  طالبات نے بتایا کہ انہیں حجاب پہن کر عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

اسی ضلع کی ایک اور طالبہ نے کہا کہ کیمپس میں دائیں بازو کی سیاست کا غلبہ ہے، جس کی وجہ سے ان کے کیمپس میں کچھ مسلم پروفیسر بھی طالبات کی حمایت نہیں کرتے۔

اُڈپی کی ایک طالبہ نے کہا کہ وہ مسلمانوں میں خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے کیونکہ ضرورت پڑنے پر  کوئی اور ان کی مدد کے لیے نہیں آتا۔

کالج کیمپس میں سیکورٹی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئےجنوبی کنڑ میں کچھ طالبات نے لڑکیوں سے ہتھیار لے جانے کو کہا ہے تاکہ وہ غیر محفوظ نہ رہیں۔ دراصل طالبات نے پرنسپل کو اطلاع دی تھی کہ کیمپس میں کچھ طالبعلموں نے ان کے ساتھ لڑائی شروع کر دی تھی۔

تاہم، پرنسپل نے اس معاملے میں ان کی مداخلت کی درخواست کو قبول کرنے سے بھی انکار کردیا۔ اور، جب طالبات نے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ (ایچ او ڈی) سے رابطہ کیا تو پرنسپل نے ایچ او ڈی سے کہا کہ وہ ایسی درخواستوں پر غور نہ کریں اور سکیورٹی گارڈز سے کہا کہ وہ لڑکیوں کو کیمپس سے باہر نکالیں۔

کچھ طالبات نے کالج  میں ہڈیز پہن کرآنا شروع کر دیا ہے، جس پر ٹیچرز نے ان سے انتہائی غیر مہذب لہجے میں کہا کہ ، ‘شو چل رہا ہے کیا؟’

درحقیقت لڑکیوں کو کہا گیا کہ ‘تم سوچ بدلو گی تو زمانہ بدلے گا’، ‘زمانےکے ساتھ چلو’، ‘تم بولڈ بنو’، اور یہ کہا گیا کہ حجاب پہننا پسماندگی  کی علامت ہے۔

ایک اور واقعہ میں ایک لیکچرر نے کلاس سے کہا کہ اگر حجاب پہننے والی طالبات  کلاس میں بیٹھی رہیں گی  تو وہ لیکچر نہیں دیں گے اور اس کا اثر تمام طالبعلموں پر پڑے گا۔

کیا مقامی حکام نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کی؟

جب جنوبی کنڑ اور اڈپی اضلاع میں طلبا، والدین اور مسلم تنظیموں نے اس معاملے پر سرکاری افسران سے رابطہ کیا تو انہیں کالج ڈیولپمنٹ کونسلز یا سی ڈی سی سے بات کرنے کو کہا گیا۔

پی یو سی ایل کی اسٹڈی کے مطابق، سی ڈی سی کے پاس اول تو کوئی قانونی اختیارات نہیں تھے، لیکن عبوری فیصلے کے بعد اسے قانونی اختیارات دیے گئے، لیکن اس کے پاس احتساب کا مناسب نظام نہیں ہے۔ مزید برآں، ایسا لگتا ہے کہ سی ڈی سی میں کوئی مسلم نمائندہ نہیں تھا۔

پی یو سی ایل ٹیم نے پولیس، عدالتوں اور بیوروکریٹس سے بات کرتے ہوئے پایا کہ وہ ‘حجاب پر پابندی’ کے نفاذ کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں۔ کیمپس میں میڈیا کے ذریعے طالبات کو ہراساں کرنے سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزی،  اختلاف رائے کے حق کوکم کرنے، دیگر طالبعلموں اور باہر کے لوگوں کے ذریعے طالبات کو ہراساں کرنے،بھگوا شال پہنے مظاہرین کے ذریعے مخالفانہ ماحول پیدا کرنے اور ہیٹ اسپیچ غیرہ پر ان کی کوئی توجہ نہیں ہے۔

لہذا، پی یو سی ایل نے اپنی رپورٹ میں حکومت کرناٹک سے کہا ہے کہ وہ کالجوں کے اندر سیکولر اور غیر امتیازی تعلیمی ماحول کو مضبوط کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے، جہاں طلبا کو اپنے عقیدے اوراپنی پہچان کی پوری طرح سے اظہار کی اجازت ہو۔

اس نے حکومت سے مزید کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس طرح کے چونکا دینے والے واقعات دوبارہ نہ ہوں اور طالبات کو فوری طور پر کلاس میں جانے کی اجازت دی جائے۔

اس نے ہیومن رائٹس کمیشن اور اقلیتی کمیشن سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ متعلقہ کالجوں کے پرنسپلوں کے خلاف طالبات کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے سلسلے میں  شکایت درج کریں اور جلد از جلد کارروائی شروع کریں۔

(اس  رپورٹ  کوانگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔)