
نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے منگل (1 اپریل) کو 2020 کے شمال- مشرقی دہلی فسادات کے معاملے میں دہلی کے وزیر قانون کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیاہے۔
خبروں کے مطابق، یہ حکم ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھو چورسیا نے یمنا وہار کے رہائشی محمد الیاس کی جانب سے دائر درخواست کے جواب میں دیا ہے۔
لائیو لاء کے مطابق ، عدالت نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے مواد سے پتہ چلتا ہے کہ مشرا متعلقہ علاقے میں موجود تھے اور’ساری چیزیں اس کی تصدیق کر رہی تھیں۔’
محمد الیاس نے دسمبر 2024 میں عدالت سے رجوع کیا تھا اور فسادات میں مشرا اور دیگر چھ افراد کے کردار کی تحقیقات کی مانگ کی تھی۔ 2020 کے فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
اس سال مارچ میں دہلی پولیس نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کے کردار کی پہلے ہی چھان بین ہو چکی ہے اور کوئی سنگین الزام سامنے نہیں آیا تھا۔
معلوم ہو کہ کپل مشرا اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی دہلی حکومت میں قانون اور انصاف کے وزیر ہیں۔
دی ہندو کی خبر کے مطابق ، الیاس نے اپنی درخواست میں کپل مشرا، مصطفی آباد کے ایم ایل اے اور ڈپٹی اسپیکر موہن سنگھ بشٹ، اس وقت کے ڈی سی پی (نارتھ ایسٹ)، دیال پور تھانہ کے اس وقت کے ایس ایچ او اور بی جے پی کے سابق ایم ایل اے جگدیش پردھان پر فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا ۔
الیاس نے دعویٰ کیا تھا کہ 23 فروری 2020 کو اس نے مشرا اور دیگر کو کردم پوری میں ایک سڑک کو بلاک کرتے اور سڑک پر ٹھیلوں کو تباہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سابق (نارتھ ایسٹ) ڈی سی پی اور کچھ دیگر افسران مشرا کے ساتھ کھڑے تھے، جب انہوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کو دھمکی دی تھی۔
الیاس نے اپنی درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا ہےکہ انہوں نے دیال پور کے سابق ایس ایچ او اور دیگر کو شمال -مشرقی دہلی میں مساجد میں توڑ پھوڑ کرتے دیکھا تھا۔
غورطلب ہے کہ 2020 کے دہلی فسادات کے سلسلے میں پولیس نے عمر خالد، گلفشاں فاطمہ اور شرجیل امام سمیت کئی طلبہ رہنماؤں اور کارکنوں کو فسادات کی سازش کرنے والوں کے طور پر نامزد کیا ہے۔
تاہم، اس معاملے میں دہلی اقلیتی کمیشن کی طرف سے تشکیل دی گئی 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کہا تھا کہ دہلی میں تشدد ‘منصوبہ بند تھااور ہدف بنا کرکیا گیا’ تھا اور اس کے لیےکمیٹی نے کپل مشرا کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ 23 فروری 2020 کو موج پور میں کپل مشرا کی مختصر تقریر کے فوراً بعد مختلف علاقوں میں تشدد پھوٹ پڑا، جس میں انہوں نےکھلے طور پر شمال -مشرقی دہلی کے جعفرآباد میں مظاہرین کو زبردستی ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
مشرا کی اشتعال انگیز تقریر
بتادیں کہ دہلی میں دنگا بھڑکنے سے ایک دن پہلے 23 فروری کو کپل مشرا نے ایک ویڈیو ٹوئٹ کیا تھا، جس میں وہ موج پور ٹریفک سگنل کے پاس سی اے اےکی حمایت میں جمع ہوئی بھیڑ کوخطاب کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس دوران ان کے ساتھ شمال مشرقی دہلی کے ڈی ایس پی ویدپرکاش سوریہ بھی کھڑے ہیں۔
مشراکہتے ہیں،‘وہ(مظاہرین)دہلی میں کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں، اس لیے انہوں نے سڑکیں بند کر دی ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہاں فسادات جیسے حالات پیدا کر دیے ہیں۔ ہم نے کوئی پتھراؤ نہیں کیا۔ ہمارے سامنے ڈی ایس پی کھڑے ہیں اور آپ کی طرف سے میں ان کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہندوستان میں رہنے تک ہم علاقے کو پرامن چھوڑ رہے ہیں۔ اگر تب تک سڑکیں خالی نہیں ہوئیں تو ہم آپ کی(پولیس)بھی نہیں سنیں گے۔ ہمیں سڑکوں پر اترنا پڑےگا۔’
نئی دہلی: شمال -مشرقی ریاست منی پور میں نسلی تشدد کے 23 ماہ بعد اور ریاست میں صدر راج نافذ ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد بدھ (3 اپریل) کورات 2 بجے لوک سبھا میں منی پور میں صدر راج کے اعلان کے قانونی قرارداد پر بحث شروع ہوئی۔
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے 12 گھنٹے کی بحث کے بعد وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کی منظوری کے بعداس مسئلے کو اٹھایا۔ اس وقت گھڑی میں دو بج رہے تھے۔
معلوم ہو کہ یہ بحث تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی، جس میں ارکان پارلیامنٹ نے عجلت میں تقریریں کیں۔
اپوزیشن ارکان نے اتنی دیر سے بحث شروع کرنے پر احتجاج کیا، لیکن اسپیکر برلا نے اس موضوع پر بحث جاری رکھی۔ یہ بحث تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی، جس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تقریباً 10 منٹ تک اپنا جواب دیا۔
واضح ہوکہ آرٹیکل 356 کے مطابق صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ پارلیامنٹ کا موجودہ بجٹ اجلاس 4 اپریل کو ختم ہو رہا ہے۔
‘اپنا کام نہیں کیا’
کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ششی تھرور نے یہ کہہ کر بحث شروع کی کہ تاخیر کی وجہ سے وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ‘کبھی نہ ہونے سے دیر بہترہے’۔
انہوں نے کہا، ‘مجھے یہ کہنا ضروری ہے کہ کبھی نہ ہونے سے دیر بہتر ہے۔ ہم سب نے منی پور کی ہولناکی دیکھی ہے۔ 2023 میں شروع ہونے کے بعد سے بدامنی آہستہ آہستہ بڑھی ہے، جو صدر راج کے نفاذ سے 21 ماہ تک جاری ہے۔ اس دوران ہم نے کم از کم 200 افراد کو ہلاک، 6.5 لاکھ گولہ بارود لوٹتے، 70000 سے زائد افراد کو بے گھر اور ہزاروں کو ریلیف کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہوتے دیکھا ہے۔ اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واضح طور پر امن و امان برقرار رکھنے کے ذمہ دار لوگوں نے اپنا کام نہیں کیا ہے۔’
تھرور نے کہا کہ منی پور میں صدر راج کے نفاذ کا یہ 11واں واقعہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال ملک وقوم کے ضمیر پر دھبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً دو سال تک اس معاملے میں’کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی’ اور صدر راج صرف وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد لگایا گیا۔
اپنے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ریاست میں تشدد کی وجہ ‘فساد یا دہشت گردی’ نہیں تھی۔ منی پور ہائی کورٹ کی 2023 کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘یہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی تشریح کی وجہ سے دو گروپوں کے درمیان نسلی تشدد تھا۔’
انہوں نے ریاستی حکومت کو میتیئی برادری کو درج فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کرنے کے لیے کہا۔
‘اپوزیشن کے دور اقتدار کا کیا؟’
امت شاہ نے کہا کہ وہ نسلی تشدد کی فہرست نہیں بنانا چاہتے جو اپوزیشن کے دور حکومت یا بی جے پی کے دور میں ہوئے تھے، لیکن پھر انہوں نے 1993 سے شروع ہونے والے تشدد کے تین واقعات کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا، ‘ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے دور میں کوئی واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نے اسے کنٹرول کیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدجن 260 افراد کی بدقسمتی سےموت ہوئی، ان میں سے 80 فیصد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پہلے ایک مہینے کے دوران مارے گئے۔ جبکہ تشدد کے تین واقعات، پانچ سال اور چھ ماہ تک ، یو پی اے کی مخلوط حکومتوں کے دوران پیش آئے۔’
شاہ نے کہا کہ صدر راج کے نفاذ کے بعد تمام برادریوں کے درمیان میٹنگ ہوئی ہیں اور اس معاملے پر ‘سیاست’ نہیں کی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا، ‘منی پور میں گزشتہ چار ماہ سے کوئی تشدد نہیں ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ صورتحال تسلی بخش ہے لیکن یہ کنٹرول میں ہے۔ میں صدر راج کی منظوری لینے آیا ہوں۔ کانگریس کے پاس عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے اتنے ارکان پارلیامنٹ نہیں ہیں۔ پہلے صدر راج اس لیے نہیں لگایا گیا کیونکہ ہمارے وزیر اعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا نہیں تھا۔ جب ہمارے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دے دیا اور کوئی دوسری پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ حکومت امن چاہتی ہے اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی ہے۔’
‘ایمانداری سے بولنے کا وقت’
بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ لال جی ورما نے کہا کہ اپوزیشن کے مسلسل مطالبے کے باوجود بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے منی پور میں صدر راج نافذ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا، ‘جب صدر راج لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تو بی جے پی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اقلیتوں کو ڈرایا اور صدر راج نافذ نہیں کیا۔ جس طرح وقف بل اقلیتوں کو ڈرانے کے لیے لایا گیا، اسی طرح منی پور میں بھی اقلیتوں کو ڈرایا گیا اور تشدد کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر صدر راج کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم اس تجویز کے ساتھ ہیں، لیکن حکومت کو معمول کے حالات کو یقینی بنانا چاہیے اور لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا موقع دینا چاہیے۔’
ڈی ایم کے ایم پی کنیموزی نے کہا کہ منی پور میں امن قائم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے اور منی پور میں ایک منتخب حکومت کی واپسی ہونی چاہیے جو امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی۔ نیز، ایک ایسی حکومت ہونی چاہیے جو لوگوں کو ایک ساتھ لائے نہ کہ ان کے درمیان تفرقہ بازی کی سیاست کرے۔
کنیموزی نے مزید کہا، ‘یہ وقت ہے کہ آپ ایماندار بنیں اور اس ملک کے لوگوں کو جواب دیں۔’
(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں )
نئی دہلی: لوک سبھا میں 12 گھنٹے سے زیادہ چلی بحث کے بعد بدھ (2 اپریل) کو ایوان نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کو پاس کر دیا، اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔
معلوم ہو کہ اس بل پر دن بھر ایوان میں بحث ہوئی اور آدھی رات کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ کیونکہ یہ بل حکومت کی جانب سے جمعرات 3 اپریل (آج) کو ہی راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے اور حکومت اسے 4 اپریل کو ختم ہونے والے بجٹ اجلاس میں منظور کروا لینا چاہتی ہے۔
بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات اور خدشات کا جواب دینے کی کوشش کی، جبکہ اس بل کو اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پیش کیا۔
شاہ نے اپوزیشن پر ‘ووٹ بینک کی سیاست’ کا الزام لگاتے ہوئےاورغیر مسلموں کو وقف میں شامل کرنے حکومت کی جانب سے مذہبی معاملات میں مداخلت کے بارے میں مسلمانوں کو گمراہ کرکے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے کی بات کہی۔
وہیں، متحدہ اپوزیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت پر اس ‘غیر آئینی’ بل کے ذریعے مسلمانوں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔
پارلیامنٹ میں بی جے پی کی سابق حلیف وائی ایس آر سی پی نے بھی اس بل کی مخالفت کی۔ بی جے پی کے دو اہم اتحادیوں – جے ڈی (یو) اور ٹی ڈی پی – نے بل کی حمایت کی۔ تاہم، تیلگودیشم پارٹی نے بھی ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو وقف بورڈ کے ڈھانچے کا فیصلہ کرنے میں لچک دی جانی چاہیے۔
متعلقہ وزیر کے بجائے وزیر داخلہ نےتقریر کی
واضح ہو کہ بلوں پر عام طور پر بحث کے اختتام پر متعلقہ وزیر کی جانب سے وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن بحث کے دوران امت شاہ نے اپنی 47 منٹ کی تقریر میں قانون کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جن پر اپوزیشن پارٹیوں نے تنقید کی۔ اس میں وقف اداروں میں غیر مسلموں کی شمولیت بھی شامل ہے۔
شاہ نے کہا، ‘کوئی بھی غیر اسلامی رکن وقف کا حصہ نہیں ہوگا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نہ تومتولی اور نہ ہی وقف کا کوئی رکن غیر مسلم ہوگا۔ مذہبی ادارے کے مینجمنٹ کے لیے کسی غیر مسلم کو مقرر کرنے کی کوئی شق نہیں ہے اور نہ ہی ہم ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔’
انہوں نے مزید کہا، ‘جو لوگ مساوات اور مذہبی معاملات میں مداخلت کے لیکچر دے رہے ہیں، تو ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ 1955 تک کوئی وقف کونسل یا وقف بورڈ نہیں تھا۔ یہ خیال کہ اس ایکٹ کا مقصد ہمارے مسلمان بھائیوں کے مذہبی طریقوں اور ان کی عطیہ کردہ جائیداد میں مداخلت کرنا ہے۔ یہ اقلیتوں کو گمراہ کرنے اور انہیں ڈرانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ووٹ بینک کو مضبوط کیا جا سکے۔ غیر مسلموں کو صرف وقف بورڈ یا کونسل میں ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کام کیا ہے؟ ان کا کام مذہبی معاملات نہیں ہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ انتظامیہ قانون کے مطابق چل رہی ہے یا نہیں۔’
بل کا نام ‘امید’ رکھا گیا
غور کریں کہ اس بل نے وقف ایکٹ، 1995 کا نام بدل کر انٹیگریٹڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ (امید) رکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد وقف املاک کے مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کی اہلیت کو بڑھانا ہے۔
سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے پر بھی اس پر تنقید کی گئی ہے۔ یہ مسلم خواتین کی نمائندگی اور غیر مسلموں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بوہرا اور آغاخانیوں کے لیے علیحدہ ‘اوقاف بورڈ’ کے قیام کا بھی اہتمام کرتا ہے۔
اس بل میں دفعہ 40 کو خصوصی طور پر ہٹا دیا گیا ہے، جو وقف بورڈ کو یہ فیصلہ کرنے کے اختیارات سے متعلق ہے کہ آیا کوئی جائیداد وقف جائیداد ہے یا نہیں۔
شاہ نے کہا، ‘ایک اور غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ بل پچھلی تاریخ کے ساتھ لاگو کیا جائے گا۔ جب آپ اس ایوان میں بول رہے ہیں تو آپ کو ذمہ داری سے بات کرنی چاہیے۔ بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بل کی منظوری کے بعد حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہوگا۔ لہذا، کوئی پچھلی تاریخ سےلاگو ہونے والاقانون نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔’
بل پر شاہ کے ذریعہ اٹھائے گئے مسائل کے جواب میں رجیجو نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کے ذریعہ پیش کردہ بل پر پہلے سے دی گئی وضاحتوں کو دہرانا نہیں چاہتے ہیں اور اس کے بجائے سیاسی ردعمل دینے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ‘اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ بل غیر آئینی ہے، تو ہمیں بتائیں کہ کیوں؟ میں نے عدالت کا تبصرہ پڑھا ہے کہ وقف املاک کا انتظام قانونی ہے۔ اگر یہ غیر آئینی تھا تو کسی عدالت نے اسے ردکیوں نہیں کیا؟ ہمیں ‘آئینی’ اور ‘غیر آئینی’ الفاظ کو اتنے ہلکے ڈھنگ سے نہیں لینا چاہیے۔’
رجیجو نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت پر ہندوستان کو اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ بنانے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ہندوستان اقلیتوں کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ محفوظ ہے۔
رجیجو نے کہا، ‘کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ میرا تعلق اقلیتی برادری سے ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان میں اقلیتیں کہیں اور کے مقابلے زیادہ محفوظ ہیں۔’
اپوزیشن نے بل کو غیر آئینی قرار دیا
بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور ایوان میں ڈپٹی لیڈر گورو گگوئی نے اپوزیشن کے لیے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے چار مقاصد ہیں – ‘آئین کو کمزور کرنا، ہندوستان کی اقلیتی برادریوں کو بدنام کرنا، ہندوستانی سماج کو تقسیم کرنا، اقلیتی برادریوں کو حقوق سے محروم کرنا’۔
گگوئی نے حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ بل کو متعارف کرانے سے پہلے وسیع غوروخوض پر لوگوں کو’گمراہ’ کر رہی ہے اور کہا کہ اقلیتی امور کی کمیٹی نے 2023 میں پانچ میٹنگ کی تھی، لیکن اس کی کسی بھی تجویز میں وقف بل پر بحث نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا، ‘میں وزیر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان میٹنگوں کے منٹس پیش کریں۔ اس بل پر ایک بھی اجلاس میں بحث یا بات نہیں کی گئی۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر وزارت نے نومبر 2023 تک نئے بل کے بارے میں سوچا بھی نہیں تو کیا یہ بل وزارت نے بنایا یا کسی اور محکمے نے؟ یہ بل کہاں سے آیا؟’
اس پر اپوزیشن ارکان کو آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کا ذکر کرتے ہوئے ‘ناگپور’ کہتے ہوئے سنا گیا۔
گگوئی نے کہا کہ یہ بل خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ وہ پہلے ہی 1995 کے ایکٹ میں شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے قانون میں خواتین کی نمائندگی کی حد دو تک طے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ‘مذہبی سرٹیفکیٹ دکھانے’ کے بارے میں بات کرتا ہے، جو قانون میں ‘وقف’ کی تعریف کرنے والے اس حصے کا حوالہ دیتا ہے جو کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل کر نے والے اور ایسی جائیداد کا مالکانہ حق رکھنے والے کسی بھی شخص کے ذریعے وقف یا بندوبستی طور پر بیان کرتا ہے۔
گگوئی نے کہا، ‘کیا وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے اس طرح کے سرٹیفکیٹ طلب کریں گے، یہ پوچھیں گے کہ کیا آپ نے پانچ سال تک مذہب کی پیروی کی ہے؟ حکومت ایسے سرٹیفکیٹ کیوں مانگ رہی ہے؟’
‘مرکزی حکومت نے خود کو ریاستی فہرست میں شامل کا اختیارات دے دیے ہیں’
ٹی ایم سی کے رکن پارلیامنٹ کلیان بنرجی نے بھی اس بل کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ یہ ‘مسلمانوں کے اپنے مذہبی امور کو خود سنبھالنے کے اپنے مذہبی فریضے کو ادا کرنے کے حق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یہ بل آئین کے آرٹیکل 26 کے خلاف ہے۔’
واضح ہوکہ اس سے قبل اس بل میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ اگر کوئی سوال ہے کہ کوئی جائیداد حکومت کی ہے یا نہیں تو اسے کلکٹر کے پاس بھیج دیا جائے گا جس کے پاس اس بات کا تعین کرنے کا اختیار ہوگا کہ آیا ایسی جائیداد سرکاری ملکیت ہے یا نہیں اور وہ اپنی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گا۔ تاہم، مشترکہ پارلیامانی کمیٹی کی سفارش پر اسے تبدیل کر کے ضلع کلکٹر سے اوپر کی سطح کے افسر میں بدل دیا گیا ہے۔
بنرجی نے کہا، ‘ریاست اپنے معاملےکا خود فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟ ریاست فیصلہ کرے گی کہ یہ میری ملکیت ہے اور اس کی پابند ہوگی۔ زمین کی ملکیت کا فیصلہ سول عدالت ہی کر سکتی ہے۔ جو اختیار دیا گیا ہے وہ ریاستی فہرست کے تحت ہے اور پارلیامنٹ کو اس پر قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے۔’
‘آپ کو یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟’
سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ ‘وقف بل بی جے پی کے لیے واٹر لو ثابت ہوگا۔’
انہوں نے کہا، ‘اگرچہ اب بہت سے لوگ اس سے متفق ہیں، لیکن وہ اندرونی طور پر اس کے خلاف ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی چال ہے کیونکہ ان کے ووٹ تقسیم ہوئے ہیں، وہ اسے مسلمانوں میں بھی تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس بل کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔’
اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیامنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 26 کی خلاف ورزی کرتا ہے اور کہا کہ یہ حکومت کو متنازعہ املاک کو اس وقت تک کنٹرول کرنے کی اجازت دیتا ہے جب تک کہ اسے عدالت کے ذریعہ حل نہیں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ‘وزیر داخلہ نے کہا کہ بورڈ اور کونسل اسلام سے مختلف ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک غیر آئینی ادارہ بنائیں۔’
انہوں نے مزید کہا، ‘یہ قانون آرٹیکل 26 سے لیا گیا ہے۔ آرٹیکل 26 اے، بی، سی، ڈی میں کہا گیا ہے کہ مذہبی فرقے اپنے معاملات خود چلا سکتے ہیں اور اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کا انتظام کر سکتے ہیں۔ اگر ہندو، بدھ اور سکھ یہ کر سکتے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ آرٹیکل 26 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔’
اویسی نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ 17000 تجاوزات ہوئی ہیں۔ 2014 میں غیر مجاز تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک بل پیش کیا گیا تھا۔ پھر آپ نے اسے 2024 میں کیوں واپس لے لیا؟
ڈی ایم کے ایم پی اے راجہ نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ جس پارٹی کے پاس ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے وہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کا دعویٰ کررہی ہے۔
معلوم ہو کہ اگست میں پہلی بار پارلیامنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اس بل کی جانچ کرنے والی مشترکہ پارلیامانی کمیٹی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، لیکن پینل کے چیئرمین بی جے پی رکن پارلیامنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ کمیٹی کی تمام سفارشات کو قبول کر لیا گیا ہے۔
کمیٹی نے اپوزیشن ارکان پارلیامنٹ کی طرف سے دی گئی 44 ترمیمی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا، جبکہ این ڈی اے کیمپ کی 14 تجاویز کو قبول کر لیاگیا تھا۔
(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں ۔ )
وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ ہری دوار، دہرادون، نینی تال اور ادھم سنگھ نگر اضلاع میں 15 مقامات کے نام تبدیل کیے جائیں گے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے سوموار (31 مارچ) کو ایک اعلان میں کہا کہ ہری دوار، دہرادون، نینی تال اور ادھم سنگھ نگر اضلاع میں 15 مقامات کے نام ‘عوامی جذبات اور ہندوستانی ثقافت اور ورثے’ کو ذہن میں رکھتے ہوئے تبدیل کیے جائیں گے۔
دھامی نے کہا کہ اس قدم کا مقصد ان عظیم ہستیوں کا اعزاز دے کر لوگوں کو تحریک دینا ہے جنہوں نے ‘ہندوستانی ثقافت کے تحفظ’ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ہری دوار ضلع میں اورنگزیب پور کا نام بدل کر شیواجی نگر، غازی والی کا نام بدل کر آریہ نگر، چاند پور کا نام بدل کر جیوتی با پھولے نگر، محمد پور جٹ کا نام بدل کر موہن پور جاٹ، خان پور کرسلی کا نام تبدیل کر کے امبیڈکر نگر،اندریش پور کا نام نند نگر، خان پور کا نام شری کرشن پور کااور اکبر پور فاضل پور کا نام وجئے نگر رکھا جائے گا۔
دہرادون ضلع میں میانوالہ کا نام بدل کر رام جی والا، پیر والا کا نام بدل کر کیسری نگر، چاند پور خورد کا نام بدل کر پرتھوی راج نگر اور عبداللہ نگر کا نام تبدیل کر کے دکش نگر رکھا جائے گا۔
نینی تال ضلع میں نوابی روڈ کا نام اٹل مارگ رکھا جائے گا اور پن چکی سے آئی ٹی آئی تک کی سڑک کا نام گرو گولوالکر مارگ رکھا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی اودھم سنگھ نگر ضلع میں سلطان پور پٹی میونسپل کونسل کا نام بدل کر کوشلیہ پوری کر دیا جائے گا۔
हरिद्वार जनपद का औरंगज़ेबपुर अब शिवाजी नगर के नाम से जाना जाएगा…
जनभावनाओं के अनुरूप हरिद्वार, देहरादून, नैनीताल और उद्धम सिंह नगर जनपदों में स्थित विभिन्न स्थानों के नाम परिवर्तित किए गए हैं। pic.twitter.com/4Vp5pEocmI
— Pushkar Singh Dhami (@pushkardhami) March 31, 2025
حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس اقدام کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے ۔
پارٹی کے ریاستی میڈیا انچارج منویر چوہان نے کہا، ‘بھارتیہ جنتا پارٹی اس فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ یہ فیصلہ ایک طرف تو ہندوستانی ثقافت کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنے والی شخصیات کو اعزاز سے نواز کر لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے گا تو دوسری طرف غیر ملکی حملہ آوروں کے مظالم سے بھی آگاہ کرے گا۔ ‘
وہیں، اپوزیشن کانگریس نے کہا کہ وہ نہ تو اس قدم کی حمایت میں ہے اور نہ ہی اس کے خلاف ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے کہا ، ‘نام بدلنا بی جے پی کا ایجنڈہ بن گیا ہے کیونکہ ان کے پاس دکھانے کے لیے کوئی حقیقی کام نہیں ہے۔ وہ گزشتہ ساڑھے آٹھ سالوں میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور عوام ان سے سوال کر رہے ہیں۔ عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے نام بدلنے کا یہ تماشہ کررہے ہیں۔’
(فائل فوٹو/پی ٹی آئی)
نئی دہلی: تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے مرکزی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا پر تنقید کی ہے کیونکہ بینکوں کو اب مفت حد سے زیادہ اے ٹی ایم کیش نکالنے پر چارجز بڑھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسٹالن کا خیال ہے کہ اس قدم سے غریبوں کے لیے بینکنگ کی سہولیات بیکار ہو جائیں گی۔
اسٹالن نے ایکس پر پوسٹ کیاہے؛’مرکزی حکومت نے سب سے کہا کہ وہ بینک اکاؤنٹ کھولیں۔ پھر نوٹ بندی آئی اور اس کے ساتھ ہی ڈیجیٹل انڈیا کو فروغ دیا گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ ڈیجیٹل لین دین پر چارجز، کم بیلنس پر جرمانہ اور اب آر بی آئی نے بینکوں کو ماہانہ حد کے بعد اے ٹی ایم سے نقد رقم نکالنے پر 23 روپے تک چارج لگانے کی اجازت دی ہے۔’
ڈی ایم کے سربراہ نے مزید لکھا، ‘یہ لوگوں کو ضرورت سے زیادہ نقد رقم نکالنے پر مجبور کرے گا اور خاص طور پر غریبوں کے لیے بینکنگ کی سہولیات بیکار ہو جائیں گی۔’
اسٹالن نے دعویٰ کیا ہے کہ آر بی آئی کے اس اقدام سے سب سے زیادہ نقصان منریگا (مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ) کے مستفیدین اور تمل ناڈو حکومت کی کالینگر مگلیر ارمائی تگئی اسکیم کے مستفیدین کو ہوگا۔
‘یہ ڈیجیٹلائزیشن نہیں ہے، یہ ادارہ جاتی استحصال ہے۔ غریب لوگ کارڈ سوائپ کریں گے، اور امیر لوگ مسکرائیں گے۔’
The Union Government urged everyone to open bank accounts. Then came demonetisation, pitching #DigitalIndia.
What followed? Charges on digital transactions, penalties for low balances and now the RBI has allowed banks to charge up to Rs. 23 for ATM withdrawals beyond monthly… https://t.co/Bv0AWMEEa9
— M.K.Stalin (@mkstalin) March 30, 2025
آر بی آئی نے کیا فیصلہ لیا ہے؟
آر بی آئی نے اے ٹی ایم ٹرانزیکشن چارجز کو 21 روپے سے بڑھا کر 23 روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو یکم مئی 2025 سے لاگو ہوں گے۔ اس کے علاوہ، آر بی آئی نے کہا ہے کہ اے ٹی ایم انٹرچینج فیس — جو ایک بینک دوسرے بینک کو اے ٹی ایم خدمات فراہم کرنے کے لیے ادا کرتا ہے —اے ٹی ایم نیٹ ورک کے ذریعے کیا جائے گا۔ آر بی آئی کے مطابق، صارفین اپنے بینک کے اے ٹی ایم سے ہر ماہ پانچ مفت لین دین (مالی اور غیر مالی دونوں) کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، وہ دوسرے بینکوں کے اے ٹی ایم سے بھی مفت ٹرانزیکشن کر سکتے ہیں- میٹرو شہروں میں تین اور غیر میٹرو شہروں میں پانچ۔ آر بی آئی نے کہا کہ’فری ٹرانزیکشن کی حد کے بعد صارف سے زیادہ سے زیادہ 23 روپے فی لین دین فیس وصول کی جا سکتی ہے۔ اس کا اطلاق یکم مئی 2025 سے ہوگا۔’
دلچسپ بات یہ ہے کہ آر بی آئی نے کہا کہ اے ٹی ایم انٹرچینج فیس کا فیصلہ اے ٹی ایم نیٹ ورک کرے گا۔ 2021 میں، آر بی آئی نے مالیاتی لین دین پر انٹرچینج فیس کو 15 روپے سے بڑھا کر 17 روپے اور غیر مالیاتی لین دین پر 5 روپے سے بڑھا کر 6 روپے کر دیا ہے۔ اسے 1 اگست 2021 سے لاگو کیا گیا تھا۔ ہندوستان کا اے ٹی ایم نیٹ ورک، جو بینکنگ انفراسٹرکچر کا ایک اہم حصہ ہے، بنیادی طور پر نیشنل فنانشل سوئچ (این ایف ایس)کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ یہ نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی ) کے زیر انتظام ہے۔
آر بی آئی نے چارجز میں اضافہ کیوں کیا؟
آر بی آئی کے مطابق، اے ٹی ایم ٹرانزیکشن کے لیے انٹرچینج فیس کی شرح آخری بار اگست 2012 میں تبدیل کی گئی تھی، جبکہ صارفین پر لگائے جانے والے چارجز میں آخری بار اگست 2014 میں نظر ثانی کی گئی تھی۔ اس لیے ان چارجز میں تبدیلی کو لمبا وقت ہوگیا تھا۔ آر بی آئی نے کہا کہ یہ اضافہ ‘اے ٹی ایم کی تنصیب اور ان کی دیکھ بھال کی بڑھتی ہوئی لاگت کے ساتھ ساتھ تمام اسٹیک ہولڈرز کی توقعات اور صارفین کی سہولت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت کے پیش نظر کیا گیا ہے’۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) اے ٹی ایم سے نقد رقم نکالنے کےتوسط سے اچھا منافع کما رہا ہے، جبکہ دیگر پبلک سیکٹر بینک (پی ایس یو) اس شعبے میں نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ایس بی آئی کے پاس ملک بھر میں تقریباً 65000 اے ٹی ایم کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے، جس سے اس نے مارچ 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال میں اے ٹی ایم کیش نکالنے سے 331 کروڑ روپے کا منافع کمایا۔ حکومت نے یہ معلومات پارلیامنٹ میں دی۔
تاہم، اسی مدت کے دوران دیگر پبلک سیکٹر بینکوں کو مجموعی طور پر 925 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ بینک آف بڑودہ کو 212 کروڑ روپے اور یونین بینک کو 203 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق ، پچھلے پانچ سالوں میں ایس بی آئی نے اے ٹی ایم کیش نکالنے سے 2043 کروڑ روپے کا بہت بڑا منافع کمایا، جبکہ اس عرصے کے دوران پبلک سیکٹر کے نو بینکوں کو مجموعی طور پر 3738 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ اس مدت کے دوران صرف دو دیگر پی ایس یو بینکوں – پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) اور کینرا بینک نے منافع کمایا۔ پی این بی نے 90.33 کروڑ روپے کا منافع کمایا اور کینرا بینک نے 31.42 کروڑ روپے کا منافع کمایا۔
ایس بی آئی کی کامیابی کی بنیادی وجہ اس کا بہت بڑااے ٹی ایم نیٹ ورک اور منظم فیس پالیسی ہے۔ اسی وقت، دیگر پی ایس یو بینک کم ہوتے لین دین اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ بینکنگ کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں ان بینکوں کو آپریشن جاری رکھنے اور مالی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اپنی اے ٹی ایم حکمت عملی پر دوبارہ کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔