اندور: اسکول میں ہندو اور مسلم طلبہ کے لیے الگ الگ سالانہ تقریبات  

اندور کے انٹرنیشنل اسکول آف بامبے میں مذہبی بنیاد پر ہندو اور مسلم طلبہ کے درمیان امتیازی سلوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں دونوں برادری کے طلبہ کے لیے الگ الگ سالانہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا، جس کے حوالے سے والدین میں ناراضگی دیکھی گئی۔ انہوں نے اسکول پر پہلے بھی مذہب کی بنیاد پر امتیاز برتنے کے الزامات لگائے ہیں۔

اندور کے انٹرنیشنل اسکول آف بامبے میں مذہبی بنیاد پر ہندو اور مسلم طلبہ کے درمیان امتیازی سلوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں دونوں برادری کے طلبہ کے لیے الگ الگ سالانہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا، جس کے حوالے سے والدین میں ناراضگی دیکھی گئی۔ انہوں نے اسکول پر پہلے بھی مذہب کی بنیاد پر امتیاز برتنے کے الزامات لگائے ہیں۔

تصویر بہ شکریہ: سوشل میڈیا

نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے اندور میں واقع ایک پرائیویٹ اسکول میں ہندو اور مسلم طلبہ کے درمیان امتیازی سلوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں مذہبی بنیاد پر دونوں برادری کے طلبہ کے لیے الگ الگ سالانہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا، جس کو لے کر والدین نے سخت اعتراض کیا ہے۔

نیوز پورٹل نیوز لانڈری کی رپورٹ کے مطابق، مسلم طلبہ کے والدین  اور گارجین نے اس اسکول میں حال ہی میں منعقد سالانہ پروگرام سے قطع نظر بھی مبینہ مذہبی بنیادوں پر امتیاز کے دیگر معاملات کو اجاگر کیا ہے۔

یہ معاملہ انٹرنیشنل اسکول آف بامبے کا ہے، جہاں اس ماہ کے آغاز میں 2 اور 3 فروری کو دوالگ الگ  برادریوں ہندو اور مسلم طلبہ کے لیے الگ الگ سالانہ تقریبات منعقد کی گئیں۔

مسلم والدین نے نیوز لانڈری کو بتایا کہ تقریب کے مقام پر پہنچنے کے بعد ہی انہیں پتہ چلا کہ یہ پروگرام صرف مسلم طلبہ کے لیے تھا اور اس بارے میں انہیں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

اس سلسلے میں میر گلریز علی، جن کا بیٹا اسی اسکول میں دسویں جماعت میں کا طالبعلم ہے، نے بتایا؛’وہاں صرف مسلم طلبہ اور ان کے گارجین موجود تھے۔ اسٹاف محدود تھا اورانہوں نے کسی مہمان خصوصی کو بھی مدعو نہیں کیا تھا۔ اگلے ہی دن انہوں نے ہندو طلبہ کے لیے ایک الگ پروگرام منعقد کیا، جس میں تمام اسٹاف موجود تھے اور ایک مہمان خصوصی کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔’

انہوں نے مزید کہا؛’اسکول انتظامیہ نے شب برات کا بہانہ بنا کر اس معاملے کو ٹالنے کی کوشش کی۔ وہ یہ پروگرام کسی اور تاریخ پر بھی منعقد کر سکتے تھے… پہلے وہ امتیاز کرتے ہیں اور پھر ایسے احمقانہ بہانے بناتے ہیں۔ میں نے کسی بھی اسکول میں ایسا کبھی نہیں سنا۔’

اس معاملے پر مقامی کانگریس کونسلر روبینہ خان نے اسکول انتظامیہ سے ملاقات کی اور بتایا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ اسکول میں کلاسز کے اندر بھی مسلم اور ہندو طلبہ کے لیے الگ الگ بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

وہیں، اس معاملے پر اسکول کے ایڈمیشن آفیسر جوائے جوزف نے کہا؛’ہم نے سالانہ تقریب دو مختلف دنوں میں منعقد کی، کیونکہ 3 فروری کو شب برات تھی۔ ہمیں لگا کہ مسلم طلبہ اس دن تقریب میں شرکت نہیں کر سکیں گے، اس لیے ہم نے ان کے لیے 2 فروری کو الگ تقریب منعقد کی۔ ہم ہر سال ایک مقررہ تاریخ پر سالانہ تقریب منعقد کرتے ہیں، اسی لیے ہم نے اسے آگے نہیں بڑھایا۔’

تاہم، طلبہ کے والدین اور رشتہ داروں نے الزام لگایا ہے کہ اسکول ماضی میں بھی امتیازی سلوک کرتا رہا ہے۔

سید قاسم علی، جن کے بھتیجے اسی اسکول میں پڑھتے ہیں، نے اس سلسلے میں وزیراعلیٰ ہیلپ لائن کے ذریعے شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھی اسکول نے اسی طرح کا امتیازی رویہ اختیار کیا تھا۔

قاسم علی نے اسکول کی سالانہ میگزین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے اس میں مسلم طلبہ کے صرف  نام (فرسٹ نیم) بغیر سر نیم کے شائع کیے تھے، جبکہ ہندو طلبہ کے مکمل نام شائع کیے گئے تھے۔ والدین کے سخت احتجاج کے بعد اسکول کو اس میں تبدیلی کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔