غیر ملکی حملہ آوروں کے گناہوں کو ہندوستانی مسلمانوں کے ’سر کا بوجھ‘ نہیں  بنانا چاہیے: نقوی

09:08 PM Sep 19, 2022 | دی وائر اسٹاف

اتر پردیش حکومت کی جانب سےصوبے میں غیرتسلیم شدہ مدرسوں کے سروے کرانے کے فیصلے پر بی جے پی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ تمام مدرسوں  پر شک نہیں کرنا چاہیے، لیکن سروے کو لے کر ہنگامہ کھڑا کرنا بذات خود ایک سوال بن جاتا ہے۔

(فوٹو : پی آئی بی)

نئی دہلی: سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے جمعہ کو لکھنؤ میں کہا کہ غیر ملکی حملہ آوروں کے ‘گناہوں کی گٹھری’ کو  ہندوستانی مسلمانوں کے ‘سروں  کا بوجھ’ نہیں بنانا چاہیے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر نقوی جمعہ کو لکھنؤ کے وشویشوریا ہال میں اتر پردیش بی جے پی اقلیتی مورچہ کے تین روزہ تربیتی پروگرام کے اختتام پر لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، نقوی نے کہا کہ انسانیت کے خلاف ظلم وستم کی گھناؤنی تاریخ کبھی کسی ہندوستانی کمیونٹی کے ڈی این اے کا حصہ نہیں ہو سکتی۔ لیکن جب لوگ غیر ملکی حملہ آوروں کی سفاکیت کو نشان زد کی کوشش کرتے ہیں تو وہ دراصل ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے میں مذموم عناصر کی مدد کر تے ہیں۔

بی جے پی لیڈر نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ ‘اسلام فوبیا’ کے جھوٹے اور من گھڑت دلائل اور پروپیگنڈے کے ذریعے ہندوستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، لیکن اس طرح  سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ان سازشوں سے ہوشیار رہنا ہوگا جو ہندوستان کی انفرادیت اور شاندار ثقافتی ورثے کو بدنام کرنا چاہتی ہیں۔

نقوی نے کہا کہ بی جے پی نےاپیزمنٹ کے ‘سیاسی فریب’ کو  ‘انکلوسیو امپاورمنٹ’  کے زور پر منہدم کر دیا ہے۔ اسی کا ثبوت ہے کہ  آج ایم وائی (مودی-یوگی) فیکٹر کا مطلب انکلوسیو ڈیولپمنٹ اور امپاورمنٹ ہے۔

نقوی نے کہا کہ سیکولرازم کچھ لوگوں کے لیے ووٹ سے متعلق سوداد (ڈیل) ہے، لیکن ہمارے لیے یہ انکلوسیو ڈیولپمنٹ  کا مسودہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے دوران لائی گئی مثبت تبدیلیوں سے بے چین لوگ ملک کے اتحاد اور ہم آہنگی کے تانے بانے کو توڑنے کی سازش میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ان عناصر کو شکست دینے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا جو معاشرے میں تصادم اور تنازعہ  پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

یہاں جاری ایک بیان میں نقوی نے یہ بھی کہا کہ ہمیں تمام مدرسوں پر شک نہیں کرنا چاہیے، لیکن سروے کو لے کر ہنگامہ کھڑا کرنا بذات خود ایک سوال بن جاتا ہے۔ نقوی نے سوال کیا کہ جب کچھ چھپانے کو نہیں ہے تو چلانا کیوں؟

معلوم ہو کہ 31 اگست کو اتر پردیش حکومت نے بنیادی سہولیات کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے ریاست میں غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔

 اتر پردیش کے وزیر مملکت برائے اقلیتی بہبود دانش آزاد انصاری نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت نے مدارس میں طلبا کو بنیادی سہولیات کی  فراہمی کے لیے قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال کی ضرورت کے مطابق ریاست کے  تمام غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسے جلد شروع کیا جائے گا۔

ریاست کے وزیر مملکت برائے اقلیتی بہبود دانش آزاد انصاری نے کہا تھا کہ سروے میں مدرسہ کا نام، اسے چلانے والے ادارے کا نام، مدرسہ کسی پرائیویٹ عمارت میں چل رہا ہے یا کرائے کی عمارت میں اس کی جانکاری، اس میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد، پینے کے پانی، فرنیچر، بجلی کی فراہمی اور بیت الخلاء کے انتظامات، اساتذہ کی تعداد، مدرسہ میں نافذ نصاب، مدرسہ کی آمدنی کا ذریعہ اور کسی غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ مدرسہ کے الحاق سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی۔

اس کے بعد جمعیۃ علماء ہند نے مدارس کا سروے کرانے کے ریاستی حکومت کے قدم کو اس تعلیمی نظام کو بے معنی قرار دینے کی  کوشش بتایا ہے۔

 جمعیۃ (ایم ایم) کے سربراہ مولانا محمود مدنی نے الزام لگایاکہ حکومتیں مخالفانہ رویہ اپنا کر لوگوں میں انتشار اور بدامنی پیدا کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ برادریوں کے درمیان دیوارکھڑی  کرتی ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

اس کے ساتھ ہی بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ نجی مدارس کو چلانے میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور سروے کے بہانے مسلم کمیونٹی کو’دہشت زدہ’ کر رہی ہے۔

مایاوتی نے کہا تھا کہ بی جے پی حکومت کی یوپی میں مدارس پر ٹیڑھی نظر ہے۔ مدارس کے سروے کے نام پر لوگوں کے چندوں پر چلنے والے پرائیویٹ مدارس میں مداخلت کی نامناسب کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری امداد سے چلنے والے مدارس اور سرکاری اسکولوں کی ابتر حالت کو بہتر بنانے پر توجہ دے۔

واضح ہو کہ اس سے قبل مئی 2022 میں اتر پردیش کے تمام مدارس میں قومی ترانہ ‘جن گن من’ گانے کو  لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے رجسٹرار ایس این پانڈے نے اس سلسلے میں تمام ضلع اقلیتی بہبود افسران کو حکم جاری کیا تھا۔

 جنوری 2018 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اتر پردیش مدرسہ بورڈ کے ویب پورٹل پر اپنی تفصیلات نہیں دینے والے تقریباً 2300 مدارس کی منظوری  ختم ہونے کو ہے۔ ریاست کے محکمہ اقلیتی بہبود نے ایسے مدارس کو فرضی قرار دیا ہے۔

تب ریاست کے اقلیتی بہبود کے وزیر چودھری لکشمی نارائن نے بتایا تھا کہ ریاست میں 19108 مدارس  ریاستی مدرسہ بورڈ سے تسلیم شدہ تھے، جن میں سے 16808 مدارس نے اپنی تفصیلات پورٹل پر ڈال دی ہیں۔ تقریباً 2300 مدارس نے اپنی تفصیلات نہیں دی تھیں، جنہیں حکومت  نے فرضی قرار دیا تھا۔

 (خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)