لال قلعہ سے وزیر اعظم کا خطاب: وندے ماترم، دماغی نکسل اور 2047 تک  ہونے والی ترقی کا خواب

ملک کے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ جنگلوں میں ہتھیاربند نکسلیوں کے خلاف کامیابی ملی ہے، لیکن ’ذہنی نکسل‘ اب بھی تشدد اور بدامنی کا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ کانگریس نے اس کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم جنہیں ’اربن نکسل‘ یا اب ’دماغی نکسل‘ کہتے ہیں، حکومت بعد میں انہی کے اٹھائے گئے مسائل یا مطالبات پر اقدامات کرتی ہے۔

ملک کے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ جنگلوں میں ہتھیاربند نکسلیوں کے خلاف کامیابی ملی ہے، لیکن ’ذہنی نکسل‘ اب بھی تشدد اور بدامنی کا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ کانگریس نے اس کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم جنہیں ’اربن نکسل‘ یا اب ’دماغی نکسل‘ کہتے ہیں، حکومت بعد میں انہی کے اٹھائے گئے مسائل یا مطالبات پر اقدامات کرتی ہے۔

یوم آزادی کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی۔ تصویر: ایکس/ بی جے پی 4 انڈیا

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر (15 اگست) کو یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے قوم سے خطاب کیا۔ یہ مسلسل 13ویں بار تھا، جب انہوں نے یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے ملک سے خطاب کیا۔ اس بار ان کی تقریر تقریباً 75 منٹ لمبی تھی، جو گزشتہ چار برسوں میں ان کی سب سے مختصر اور اب تک کی چوتھی سب سے مختصر تقریر تھی۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے قومی گیت ’وندے ماترم‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا،’یہ ایک تاریخی دن ہے۔ آزادی کے بعد یہ وہ وقت ہے جب لال قلعہ کی فصیل سے ’وندے ماترم‘ کی گونج سنائی دی ہے۔‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے مزید کہا،’آج ہم سب 80واں یوم آزادی منا رہے ہیں۔ آج ہر دل کی دھڑکن ’وندے ماترم‘ سے گونج رہی ہے۔ آج ہر گھر میں ترنگا لہرا رہا ہے اور ہر دل میں ترنگا بسا ہوا ہے۔ قوم جوش و جذبے کے ساتھ نئے عزم لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔‘

اپنے خطاب میں انہوں نے ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سمیت کئی مجاہدین آزادی اور قوم کے معماروں کا ذکر کیا۔

پی ایم مودی نے سردار ولبھ بھائی پٹیل، ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی اور پنڈت جواہر لال نہرو کے نام لیتے ہوئے کہا کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، پنڈت نہرو، سردار پٹیل، بھگت سنگھ، سکھ دیو، راج گرو، ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی، بھگوان برسا منڈا اور جیوتی با پھولے کے خوابوں سے تحریک لے کر ملک کو آگے بڑھنا چاہیے۔

اس دوران وزیر اعظم نے اپنی حکومت کے 12سالہ دور اقتدار کی حصولیابیاں شمار کروائیں۔ انہوں نے نوجوانوں، خواتین، کسانوں، غریبوں اور متوسط طبقے کو مرکز میں رکھتے ہوئے 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کو دہرایا۔

وزیر اعظم نے ہندوستان کی مینوفیکچرنگ اور ٹیکسٹائل صنعت سے لے کر دفاع، ریلوے، رابطہ کاری، ادویہ سازی اور اسٹارٹ اَپ کے شعبے تک کی کامیابیاں بیان کیں۔ انہوں نے کورونا وبا اور حالیہ جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان مسائل کے باوجود ان کی حکومت نے ملک کی ضروریات پوری کیں۔

انہوں نے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33فیصد ریزرویشن دینے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے تعاون کی اپیل کی۔ اس کے ساتھ ہی ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے ’شکتی کی سپت دھارا‘ کا وژن بھی پیش کیا۔

نکسل ازم ختم، لیکن ’دماغی نکسل‘ ایک چیلنج

پی ایم مودی نے کہا کہ نکسل ازم اور ماؤ ازم نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل تباہ کیا اور والدین کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ چار دہائیوں تک ملک کے ایک بڑے حصے اور بڑی آبادی کو بندوق کی نوک پر دباکر رکھا گیا اور اس دوران 3,500 سے زائد پولیس اہلکار اور سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ 2014 میں ان کی حکومت نے ملک کو نکسل ازم سے آزاد کرنے کا عزم کیا تھا اور آج نکسل اور ماؤ نواز تشدد اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ جن علاقوں میں کبھی نکسلیوں کی گولیاں چلتی تھیں، وہاں اب ترقی، اعتماد اور کوششوں کا ترنگا لہرا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگلوں میں ہتھیار بند نکسلیوں کے خلاف کامیابی ملی ہے، لیکن ’دماغی نکسل‘اب بھی موقع کی تلاش میں ہیں اور تشدد و بدامنی کا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کی شناخت کرنا اور انہیں الگ تھلگ کرنا ضروری ہے۔

مغربی ایشیا کا بحران اور کسان

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12برسوں میں ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کورونا وبا نے پوری دنیا کے نظام کو متاثر کیا، جس کے بعد روس-یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا کے تنازعہ نے نئی مشکلات پیدا کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران کچھ لوگوں نے ویکسین کی کمی اور بڑی تعداد میں لوگوں کی اموات کا خدشہ ظاہر کرکے خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح مغربی ایشیا کے بحران کے دوران پیٹرول، گیس اور کھاد کی قلت کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے گئے۔

پی ایم نے کہا کہ ان تمام بحرانوں کے باوجود ہندوستان نے شہریوں کی ضروریات پوری کیں اور آج ملک میں گیس، پیٹرول اور یوریا دستیاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں یوریا کی قیمت تقریباً 3,000 روپے فی بوری تک پہنچ گئی ہے، لیکن ہندوستان اپنے کسانوں کو یہ تقریباً 300 روپے میں فراہم کر رہا ہے۔ اسی طرح ڈی اے پی کی عالمی قیمت بڑھنے کے باوجود کسانوں کو یہ کم قیمت پر دستیاب کرائی جا رہی ہے۔

ریفارم ایکسپریس‘ اور ’شکتی کی سپت دھارا

پی ایم مودی نے کہا کہ 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کا ہدف مضبوط بنیاد پر قائم ہے اور اب ملک رک نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 25 سال انتہائی اہم ہیں اور ملک کو اپنے ورک کلچر اور کام کی رفتار میں تبدیلی لانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جو کام گزشتہ پانچ دہائیوں میں نہیں ہو سکے، انہیں اگلے پانچ سالوں میں مکمل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے مسلسل اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسے ’ریفارم ایکسپریس‘ کی سمت میں آگے بڑھنے سے تعبیر کیا۔

پی ایم مودی نے ترقی یافتہ ہندوستان  کی تعمیر کے لیے ’شکتی کی سپت دھارا‘ کا عزم پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی نوجوان طاقت کی صلاحیت کو ہندوستان کی ترقی سے جوڑا جائے گا۔

انہوں نے مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو چھوٹے چھوٹے پرزوں سے لے کر بڑی مشینری تک کی پیداوار بڑھانی ہوگی۔ ڈیزائن سے لے کر مینوفیکچرنگ تک پوری ویلیو چین میں ہندوستان کو دنیا کا قابل اعتماد مرکز بننا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لاگت، معیار اور پیداوار کی سطح پر ہندوستان کو عالمی معیار پر پورا اترنا ہوگا۔ ’زیرو ڈیفیکٹ‘ کو ہندوستانی مینوفیکچرنگ کی شناخت بنانے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے صنعتکاروں سے معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا بڑا کردار ہوگا اور اس کا سب سے بڑا فائدہ بھی نوجوانوں کو ہی ملے گا۔ پی ایم مودی نے بتایا کہ ملک میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپ ہیں اور نوجوانوں کے خوابوں کو پر دینے کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا انوویشن فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا، اسکل انڈیا، کھیلو انڈیا اور نئی تعلیمی پالیسی جیسی اسکیموں سے نوجوانوں کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے ایک سال میں ایک کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت(اے آئی) کی تربیت دی جائے گی۔

پی ایم مودی نے مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ 2036 کے اولمپکس میں ہندوستان ان کھیلوں کی کیٹیگریز میں بھی حصہ لینے کا ہدف رکھے گا جن میں ملک اب تک شامل نہیں ہوا ہے۔ اس کے لیے 5 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کی صلاحیت تلاش کرنے کے لیے ’ٹیلنٹ ہنٹ‘ مہم چلائی جائے گی۔

خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کی اپیل

پی ایم مودی نے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کا ذکر کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ خواتین کو پارلیامنٹ اور قانون ساز اسمبلیوں میں 33 فیصد نمائندگی دینے کے لیے تعاون کریں۔

انہوں نے لال قلعہ سے ترنگے کے نیچے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کے احترام اور ان کی سیاسی شمولیت بڑھانے کی سمت میں آگے آئیں۔

کانگریس کا ردعمل

وزیراعظم کی تقریر پر اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس رہنما جئے رام رمیش نے وزیراعظم نریندر مودی کے ’دماغی نکسل‘ والے تبصرے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم کی جانب سے اپنے سیاسی مخالفین کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ پر سوال اٹھایا۔

جئے رام رمیش نے کہا، ’وزیراعظم پہلے اپنے مخالفین کو ’اربن نکسل‘ کہتے تھے اور اب انہیں ’دماغی نکسل‘ کہہ رہے ہیں۔‘

انہوں نے اسے وزیراعظم کے ’فریسٹریشن‘ کی علامت قرار دیا۔

کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ وزیراعظم جن لوگوں کو ’اربن نکسل‘ یا اب ’دماغی نکسل‘ کہتے ہیں، ان کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل یا مطالبات پر حکومت بعد میں اقدامات کرتی ہے۔

جئے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں وزیراعظم کے لیے ’ماسٹر ایبیوزر اِن اینٹائر پالیٹکل سائنس‘ جیسے تبصرے بھی کیے۔

غور طلب  ہے کہ نئی دہلی کے تاریخی لال قلعہ پر سرکاری تقریب میں اس بار 80 سالہ روایت میں پہلی مرتبہ تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ نوبیل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کے لکھے قومی ترانے ’جن گن من‘ سے پہلے قومی گیت ’وندے ماترم‘ گایا گیا۔

معلوم ہو کہ حال ہی میں نریندر مودی حکومت نے قانون میں ترمیم کرکے ’وندے ماترم‘ کو ’جن گن من‘ کے برابر درجہ دیا ہے۔ اس سے پہلے قومی ترانہ سرکاری اور ریاستی تقریبات میں بجایا جاتا تھا، جبکہ قومی گیت بنیادی طور پر ثقافتی پروگراموں تک محدود تھا۔

یومِ آزادی کی تقریب کی ذمہ داری سنبھالنے والی وزارت دفاع نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ ’وندے ماترم‘ کے 150ویں سال کو یادگار بنانے کے لیے پہلی مرتبہ اسے خصوصی اعزاز دیا جائے گا۔