تصویروں کی زبانی: دہلی تشدد کے دوران مصطفیٰ آباد واقع مسجد میں آگ لگائی گئی تھی

مسجد کے بغل میں اسکول میں بھی آگ لگائی گئی تھی ، جہاں عمارت کے اندر بچے موجود تھے ۔ گھنٹوں بعد ان کو باہر نکالا گیا ۔

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔

نئی دہلی: نارتھ-ایسٹ دہلی مصطفیٰ آباد کے قریب برج پوری پلیا واقع فاروقیہ مسجد کو مبینہ طور پر ہندوتوا ماب کے ذریعے منگل کو شام 4 بجے آگ لگائی گئی تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے یہ جانکاری دی ۔ انہوں نے بتایا کہ  بغل میں واقع ارون ماڈرن ہائر سکینڈری اسکول میں بھی آگ لگائی گئی تھی ۔

مقامی لوگوں نے دی وائر کو بتایا کہ ، اس وقت مسجد اور اسکول کے اندر بچے تھے جس کو ماب نے بند کردیا اور کسی کو وہاں سے باہر نہیں جانے دیا۔حالاں کی مقامی لوگوں نے پیچھے کے دروازے سے ان کو کسی طرح سے وہاں سے نکالا ۔ اس دوران ایک بچے نے ماب کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد خود کو باتھ روم میں بند کر لیا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ ، وہاں چونکہ دیر رات تک گولی چلتی رہی اس لیے 10 بجے رات سے پہلے  اس بچے کو وہاں سے نکالا نہیں جاسکا تھا۔

فاروقیہ مسجد کا مین گیٹ، فوٹو : دی وائر

فاروقیہ مسجد کا مین گیٹ، فوٹو : دی وائر

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔

مبینہ طورپرفاروقیہ مسجد میں ہندوتوا ماب کے ذریعے آگ لگائی گئی تھی ۔