آندھرا پردیش پولیس نے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان پر طنز کرنے کے الزام میں ایک اسٹینڈ اپ کامیڈین انودیپ کٹیکلا کو اتر پردیش کے پریاگ راج سے حراست میں لیا ہے۔ کامیڈین کا ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد جن سینا پارٹی کے جوائنٹ سکریٹری باڈے وینکٹ کرشنا نے کاکیناڈا آئی ٹاؤن تھانے میں معاملہ درج کروایا تھا۔

پون کلیان ، پس منظر میں انودیپ کٹیکلا۔ فوٹو: ویڈیو اسکرین گریب
نئی دہلی: آندھرا پردیش پولیس نے منگل (14 اپریل) کو مبینہ طور پر نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان کا مذاق اڑانے کے معاملے میں اسٹینڈ اپ کامیڈین انودیپ کٹیکلا کو اتر پردیش کے پریاگ راج سے حراست میں لے لیا۔
انودیپ کٹیکلا پر الزام ہے کہ ان کے آن لائن ویڈیو میں آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان کی توہین طنزیہ انداز میں کی گئی ہے۔ انہیں منگل کی شام تقریباً 7 بجے حراست میں لیا گیا۔
اس معاملے میں ایف آئی آر کی کاپی کا جائزہ لینے والے ایک وکیل نے واضح کیا کہ پولیس کی کارروائی باضابطہ گرفتاری نہیں بلکہ حراست ہے۔
پولیس اہلکاروں نے کٹیکلا کو اپنے موبائل فون کے استعمال کی اجازت دے دی ہے اور ’دی وائر‘فی الحال ان سے رابطے میں ہے۔
کٹیکلا کے خلاف 11 اپریل کو دوپہر 1:15 بجے انسپکٹر منڈلا ناگا درگاراؤ کی جانب سے کاکیناڈا فرسٹ ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر (نمبر 62/2026) درج کی گئی۔ یہ معاملہ جگناتھ پورم کے کینال روڈ کے رہائشی 51 سالہ وینکٹ کرشنا کی تحریری شکایت کے بعد درج کیا گیا۔
شکایت کنندہ نے بتایا کہ وہ 2014 سے جن سینا پارٹی کے کارکن اور 2022 سے مشرقی گوداوری ضلع میں پارٹی کے جوائنٹ سکریٹری کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
پون کلیان کی پارٹی جن سینا پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد کا حصہ ہے۔
دی وائر کو موصولہ ایف آئی آر کے مطابق، شکایت کنندہ نے 11 اپریل کو صبح 10 بجے یوٹیوب چینل ’انودیپ کٹیکلا آفیشیل‘پر 29.57 سیکنڈ کا ایک ویڈیو دیکھا۔
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس ویڈیو میں پون کلیان اور ان کے خاندان کے افراد کو نشانہ بنایا گیا، طنزیہ اور نازیبا زبان استعمال کر کے ان کے وقار کو مجروح کیاگیا ہے، اور امن وامان میں خلل ڈالنے اور دشمنی بھڑکانے کے لیے غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں۔
ایف آئی آر اور قانونی الزامات
ایف آئی آر میں کٹیکلا پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) اور انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی) ایکٹ 2000 کی مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بی این ایس کے تحت ان پر دفعہ 356(2) کے تحت مجرمانہ ہتک عزت کا الزام ہے، جو کسی شخص کے وقار کو مجروح کرنے کے ارادے سے جان بوجھ کر جھوٹا بیان دینے پر سزا دیتی ہے؛ دفعہ 353(2) کے تحت عوامی فساد کو بڑھاوا دینے والے بیانات کا الزام ہے، جو گروہوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کے لیے غلط معلومات پھیلانے سے متعلق ہے؛ اور دفعہ 79 کے تحت کسی عورت کے وقار کو مجروح کرنے کے ارادے سے کسی بھی لفظ، اشارے یا عمل کا الزام ہے۔
اس کے علاوہ پولیس نے آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 67 بھی لگائی ہے، جو الکٹرانک شکل میں فحش مواد کی اشاعت یا ترسیل پر پابندی عائد کرتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آئی آئی ٹی بامبے سے گریجویٹ اور حیدرآباد میں قائم ’سلی ساؤتھ کامیڈی کلب‘کے بانی کٹیکلا نے حال ہی میں’دی ٹالی ووڈ روسٹ شو‘کے نام سے ایک پروگرام پیش کیا تھا۔
اس پروگرام میں انہوں نے تیلگو سنیما کے اُن اداکاروں پر تبصرہ کیا، جنہیں انہوں نے’میگا فیملی‘کہا، جس کی قیادت اداکار چرنجیوی کر رہے ہیں، جو پون کلیان کے بڑے بھائی اور اداکار رام چرن کے والد ہیں۔
وائرل ویڈیو میں کٹیکلا نے پون کلیان کی شادیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’میں نے پون کلیان سے ایک بات سیکھی ہے، وہ ہے بیوی کو طلاق دینا۔ تمام مردوں کو یہ سیکھنا چاہیے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پون کلیان کی حال ہی میں طلاق یافتہ بھتیجی نہاریکا کونیڈیلا ان سے مشورہ لے سکتی ہیں، اور یہ بھی کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ کے طلاق کے معاملات خوشگوار معلوم ہوتے ہیں اور ان میں بدسلوکی کے کوئی الزامات نہیں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی (وائی ایس آر سی پی) کے سیاسی حریف اکثر سوشل میڈیا پر کلیان کا مذاق اڑانے کے لیے اس کامیڈین کے ویڈیو کا استعمال کرتے ہیں۔
کٹیکلا نے رام چرن کو’ناری وادی‘بھی کہا کیونکہ اُن کی اہلیہ اُپاسنا کامینینی کوننڈیلا -جو اپولو ہسپتالز میں کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی کی نائب صدر ہیں- مبینہ طور پر اُن سے زیادہ دولت مند ہیں۔
اس سے قبل’دی نیوز منٹ‘سے بات کرتے ہوئے کٹیکلا نے بتایا کہ وہ تیلگو زبان کے ایک عورت مخالف اور نازیبا لفظ کو، جو روایتی طور پر اُس مرد کی توہین کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اپنی بیوی کی کمائی پر جیتا ہے، ایک فیمنسٹ تعریف میں بدلنے کی کوشش کر رہے تھے، جو مرد کے اعتماد کو ظاہر کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے سیٹ میں اداکار بالاکرشنا کے مداحوں، کلیان اور مہیش بابو کے مداحوں کی رقابت اور ان کے اپنے بڑھتے ہوئے وزن پر بھی لطیفے شامل تھے، جس کا انہوں نے مزاحیہ انداز میں کریڈٹ 2006 کی فلم ’راکھی ‘ میں اداکار جونیئر این ٹی آر کی موجودگی کو دیا۔
وائرل ویڈیو اور احتجاج
اس ویڈیو کے معاملے پر کٹیکلا نے معافی بھی مانگی، تاہم معاملہ طول پکڑ گیا۔ 11 اپریل کو ان اداکاروں کے ایک مداح سندیپ دھن پالا مبینہ طور پر ایک گروہ کے ساتھ حیدرآباد کے’دی اسٹریٹ کامیڈی کلب‘پہنچے۔ کٹیکلا کی غیر موجودگی کے باوجود اس گروپ نے مبینہ طور پر عورت مخالف گالیاں دیں، ایک کامیڈین بھگت انوکانتی کو دھمکایا اور کٹیکلا کا فون نمبر مانگا، جس کے بعد کلب کے مالک نے انہیں وہاں سے جانے کےلیے راضی کیا۔
جے ایس پی رہنما سندیپ پنچکارلا، جو بھیملی کے پارٹی انچارج ہیں، نے معافی کا مطالبہ کیا اور قانونی کارروائی کی دھمکی دی۔
دی وائر نے پنچکارلا سے اس بارے میں تبصرے کے لیے رابطہ کیا، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
جے ایس پی کے ایک اور رہنما کرن رائل، جن پر فی الحال ایک خاتون کی جانب سے زبردستی وصولی اور دھمکی دینے کے الگ الگ الزامات ہیں، نے کٹیکلا کو دھمکی دی اور ایک مثال قائم کرنے کے لیے انہیں جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا۔
کلیان اور رام چرن دونوں نے ہی اپنے حامیوں کو روکنے کے لیے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
آرٹ کی دنیا کا ردعمل
آرٹ کی دنیا کے اراکین نے اس پولیس کارروائی پر تنقید کی ہے۔
حیدرآباد کی بصری فنکار تبیتا پرسی نے دی وائر کو بتایا،’اگر ان کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ ہم کسی سیاستدان یا مشہور شخصیت کا مذاق نہیں اڑا سکتے، تو کیا ہمیں اب یا ہمیشہ کے لیے اختلاف کرنے اور کھل کر تنقید کرنے کی اجازت ہے؟ ظاہر ہے، انٹرنیٹ پر ایک کامیڈین ان کے لیے آسان ہدف ہے جسے وہ مثال کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ انودیپ کو کامیڈی کا بے حساب شوق ہے اور وہ ہمیشہ سماجی مسائل پر بات کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ سسٹم کی مضحکہ خیز نوعیت پر بات کرنا چاہتے تھے۔ وہ ایک ابھرتے ہوئے کامیڈین ہیں جو اپنی کامیڈی کی زبان تیار کر رہے ہیں اور سامعین کے لیے مؤثر انداز تلاش کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ اس ہنگامے کے بعد بھی انہیں مشق کا موقع ملے گا۔‘
حیدرآباد کے اسٹینڈ اپ کامیڈین وویک مرلی دھرن نے دی وائر سے بات کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا،’میں کاکیناڈا پولیس کو ان کی ہمت، بہادری، ایمانداری اور لگن پر سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے پریاگ راج تک جا کر ایک شخص کو لطیفہ سنانے کے لیےگرفتار کیا۔ انہی کی بدولت طاقتور لوگ رات کو سکون سے سوپاتے ہیں، بغیر اس خوف کے کہ اُن کا مذاق اڑایا جائے گا۔‘
تاریخی پیٹرن
غور طلب ہے کہ یہ گرفتاری ہندوستان میں سیاسی یا مذہبی طنز پر کامیڈینز کے خلاف قانونی کارروائی کے ایک وسیع تاریخی رجحان سے میل کھاتی ہے۔
کاکیناڈا کے خلاف سرکاری مشینری جنوری 2021 میں اندور میں منور فاروقی کی گرفتاری کی یاد دلاتی ہے، جنہیں ایک سیاستدان کے بیٹے کی شکایت پر ایک ماہ تک جیل میں رہنا پڑا تھا، وہ بھی شو شروع ہونے سے پہلے۔
اسی طرح کنال کامرا، جنہیں 2020 میں سپریم کورٹ سے متعلق ایک ٹوئٹ پر توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا، کو 2025 کی شروعات میں ممبئی کے ہیبیٹیٹ کامیڈی کلب میں ایک ایف آئی آر اور توڑ پھوڑ کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا مذاق اڑایا تھا، حالانکہ انہوں نے اپنے شو میں شندے کا نام نہیں لیا تھا۔
دیگر فنکاروں نے بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا کیا؛ ویر داس کے خلاف 2021 میں اُن کے’آئی کم فرام ٹو انڈیاز‘مونو لاگ کے لیے پولیس میں شکایت درج کی گئی تھی؛ سمیہ رینا کے خلاف 2025 میں آسام میں اُن کے یوٹیوب شو’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘کے سلسلے میں فحاشی کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ، اگریما جوشوآ کو 2020 میں چھترپتی شیواجی مہاراج سے متعلق ایک کوئورا تھریڈ پر طنز کے باعث آن لائن بدسلوکی اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ ککو شاردا کو 2016 میں ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ کی نقل اتارنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔