مرکز نے جے این یو میں فیس اضافہ کے مسئلے  کے حل  کے لیےکمیٹی بنائی

اس کمیٹی کے رکن یوجی سی کے سابق چیئرمین پروفیسر وی ایس چوہان، اے آئی سی ٹی ای کے چیئرمین پروفیسر انل سہستربدھے اور یوجی سی کے سکریٹری پروفیسر رجنیش جین ہیں۔

اس کمیٹی  کے رکن  یوجی سی  کے سابق چیئرمین پروفیسر وی ایس چوہان، اے آئی سی ٹی ای کے چیئرمین پروفیسر انل سہستربدھے اور یوجی سی کے سکریٹری پروفیسر رجنیش جین ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: ایچ آرڈی نے سوموار کو تین رکنی  ایک کمیٹی بنائی ہے، جو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی(جے این یو)کی عام صورت حال کو بحال کرنے کے طریقوں پرمشورے دےگی۔اس کمیٹی  کے رکن یوجی سی کے سابق چیئرمین پروفیسر وی ایس چوہان، اے آئی سی ٹی ای کے چیئرمین پروفیسر انل سہستربدھے اور یوجی سی کے سکریٹری پروفیسر رجنیش جین ہیں۔

حکام نے بتایا کہ جے این یو پر ایچ آرڈی کی کمیٹی  طلبا اورانتظامیہ  سے بات چیت کرےگی اورتمام مسائل کے حل  کے لیے مشورے دےگی۔قابل ذکر ہے کہ یونیورسٹی کے طلبا اس ہاسٹل مسودہ کے خلاف تین ہفتے  سے مظاہرہ  کر رہے ہیں جس میں ہاسٹل کافیس بڑھانے، ڈریس کوڈ طے کرنے اور ہاسٹل میں آنے جانے کا وقت  طے کرنے کی بات کی گئی ہے۔

جے این یو طلبا یونین نے دوسری یونیورسٹیوں کے طلبا سے ہاسٹل فیس میں اضافہ اوراعلیٰ تعلیم  کو متاثرکرنے والے دوسرے مدعوں کے خلاف سوموار کو پارلیامنٹ تک نکالے جا رہے مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔اس  بیچ جے این یو کے وائس چانسلر جگدیش کمار نے مظاہرہ  کر رہے طلباسے گزشتہ  اتوار کو اپیل کی کہ وہ اپنی کلاسز میں لوٹ آئیں کیونکہ امتحانات نزدیک ہیں۔

یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ انہیں فکرمند گارجین اورطلبا کے ای میل آ رہے ہیں۔انہوں نےکہا، ‘اگرہم ابھی بھی ہڑتال پر اڑے رہے تو اس سے ہزاروں طلبا کے مستقبل پر اثر ہوگا۔ کل سے ایک نیا ہفتہ شروع ہوگا اور میں طلبا سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ کلاسز میں واپس آئیے اور اپنے تحقیقی کاموں کو آگے بڑھائیے۔ 12 دسمبر سے اگزام  شروع ہوں گے اور اگر آپ کلاسزمیں نہیں جا ئیں گے تو اس سے آپ کے مستقبل  کےمقاصد متاثر ہوں گے۔’

دریں اثنایونیورسٹی میں ہاسٹل فیس میں اضافے  کو لےکر جے این یو کے طلبانے  پارلیامنٹ ہاؤس  کی طرف پر امن  مارچ نکالا۔ لیکن پولیس کی طرف سے طلبا کو پارلیامنٹ  کی طرف بڑھنے سے روک دیا گیا۔

(خبررساں ایجنسی  بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)