بی جے پی کیسے جیتتی ہے…؟

مودی ایک ایسے قائد کے طو رپر سامنے لائے گئے جو پاکستان کو سبق دے سکتا تھا اور اعلیٰ ذات کی خواہشات کی تکمیل بھی کرسکتا تھا۔ قوم پرستی کے جذبے کو اس حد تک پروان چڑھایاگیاکہ’نوٹ بندی’ اور’جی ایس ٹی’ کے بداثرات نظر انداز کرکے لوگوں کے ووٹ بی جے پی کو گئے۔

مودی ایک ایسے قائد کے طو رپر سامنے لائے گئے جو پاکستان کو سبق دے سکتا تھا اور اعلیٰ ذات کی  خواہشات کی تکمیل بھی کرسکتا تھا۔ قوم پرستی کے جذبے کو اس حد تک پروان چڑھایاگیاکہ’نوٹ بندی’ اور’جی ایس ٹی’ کے بداثرات نظر انداز کرکے لوگوں کے ووٹ بی جے پی کو گئے۔

Modi_PTI

بی جے پی 2019 کا الیکشن بھی جیت گئی!

سوال یہ ہے کہ بی جے پی الیکشن کیوں اور کیسے جیتتی ہے…؟

اس سوال کے ساتھ مزید کئی سوال جڑے ہوئے ہیں، مثلاً اگر یہ مان لیاجائے کہ ملک میں 2014 سے ‘مودی کی ہوا’ چل رہی ہے تو یہ سوال  لازمی ہے مودی کی ہوا کیوں چل رہی ہے؟ اگر ایسی کوئی ہوا ہے تو ‘نوٹ بندی’ کا اس پر کوئی اثر کیوں نہیں ہوا؟ اگر یہ مان لیاجائے کہ بی جے پی کی کامیابی میں آر ایس ایس کا بڑا ہاتھ ہے تو یہ سوال اُٹھ کھڑا ہوگا کہ آر ایس ایس کس طرح سے بی جے پی کی مدد کرتی ہے؟ یہ سوال بھی سامنے آئے گا کہ کیا فرقہ وارانہ کشیدگی کے اثرات الیکشن کی ہار اورجیت پر پڑتے ہیں؟ مزید اگریہ مان لیا جائے کہ بی جے پی ناقابل تسخیر ہے تو یہ سوال پوچھا جائے گا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو بہاراسمبلی الیکشن میں اسے کیوں شکست ہوئی تھی؟ کیو ں ایم پی اور راجستھان اس کے ہاتھ سے نکل گئے؟ اوریہ کہ آئندہ بی جے پی کی کامیابی کا انحصار کن باتوں پر ہے؟

2017 میں ایک انگریزی کتاب- ہاؤ دی بی جے پی ونس؟(?How the BJP Wins)بی جے پی کیسے جیتتی ہے؟منظر عام پر آئی تھی، کتاب اترپردیش کے اسمبلی الیکشن کے بعد لکھی  گئی تھی، او راس میں بہار اسمبلی الیکشن کا تفصیلی حوالہ بھی شامل تھا۔ اس کتاب میں کسی سے اپنی’وفاداری’ کا اظہار کیے بغیر غیر جانبداری کے ساتھ مصنف پرشانت جھا نے مذکورہ سوالوں کے جواب دینے کی ایماندارانہ کوشش کی ہے او راپنی اس کوشش میں وہ یقیناً کامیاب رہے ہیں۔ پرشانت جھا ایک صحافی ہیں، وہ آج کے نیپال پر ایک کتاب لکھ چکے ہیں، یہ ان کی دوسری کتاب ہے، اس کے لیے جہاں انہو ں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے ‘رازداروں’ سے بات کی ہے وہیں عام لوگوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں او رملک بھر کا سفر کرکے بی جے پی کے عروج اور زوال کی بنیادی وجوہات کا کھوج بھی لگایا ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے جو سوال قائم کیا ہے یعنی-بی جے پی کیسے جیتتی ہے؟ اس کا جواب دینے سے کہیں بھی بھٹکتی نہیں ہے اور غیرجانبداری سے ہندوستان کی سب سے طاقتور الیکشن مشین پر ایک نظر،(یہ کتاب کا ضمنی عنوان ہے) ڈال کر اس کے اندرون کو عیاں کردیتی ہے۔2019 کے الیکشن میں مودی او ربی جے پی کی جیت کے بعد پرشانت جھا نے کتاب میں جو کچھ لکھا ہے وہ ثابت ہوگیا ہے۔

پرشانت جھا نے اپنی کتاب کو آٹھ ابواب میں منقسم کیا ہے اس میں پہلا باب ‘تعارف’کا ہے یعنی اپنی ساری بات انہو ں نے سات ابواب میں کی ہے او رپوری کتاب کو 228 صفحات میں سمیٹ دیا ہے۔ کتاب کے مواد کا نچوڑتعارف کے باب میں کرایاگیا ہے اور اسی نچوڑکو آگے کے ابواب میں تفصیلی طور پر ، اعدادوشمار اور واقعات کے ذریعے بیان کیاگیا ہے۔ کتاب کا دوسرا باب -مودی ہوا(The Modi Hawa)کے عنوان سے ہے؛ چونکہ کتاب کا ڈھانچہ اترپردیش کے 2017 کے اسمبلی الیکشن پر کھڑا کیاگیا ہے اس لیے بات وہیں سے شروع کی گئی ہے۔ پرشانت جھا لکھتے ہیں؛

نہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی تھی،نہ ہی ریاستی لیڈر تھے، نہ ہی امیدوار تھے او رنہ ہی یہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ تھا۔  بی جے پی کے لیے اترپردیش کو صرف ایک شخص نے جیتا، وزیر اعظم نریندر مودی نے۔

پرشانت جھانے-مودی ہوا کا ذکر کرتے ہوئے یوپی کے شہروں، گلیوں، دیہاتوں میں مودی کی حمایت کرنے والوں سے یہ سوال بار بار دریافت کیا ہے کہ انہوں نے مودی کی حمایت کیوں کی؟ ان کے بقول اس سوال کا انہیں کوئی تشفی بخش جواب نہیں ملا؛

بس ایک شخص پر ان کا غیر معمولی اعتقاد تھا، اس کی نیت اور ا سکے ایمان پر اعتماد تھا۔

 لیکن یہ اعتقاد او ربھروسہ بڑی ہی احتیاط اور ہوشیاری سے بنائی گئی ساکھ اور ایک نئی امیج کا نتیجہ تھا۔2002 میں(گجرات کے مسلم کش فسادات اسی سال ہوئے تھے) مودی کو’ہندو ہردیہ سمراٹ’بنایاگیا پھر انتہائی ہوشیاری کے ساتھ مودی کی امیج ‘وکاس پرش’کی بنائی گئی اور2007 کے بعد اس امیج کو اُجاگر کیاگیا۔’گجرات ماڈل’ کا خوب ڈھول پیٹا گیا اور ان دونوں ہی’امیجوں’ کی بنیاد پر2014 کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے تاریخی کامیابی حاصل کی، پھر 2017 میں یوپی پر بھگوا جھنڈا لہرانے کی بنیاد بھی ان ہی دونوں’امیجوں’پر کھڑی ہوئی ۔ پرشانت جھا لکھتے ہیں؛

 اور اب تیسری بات ہوئی ہے: نریندر مودی آج غریبوں کے نیتا ہیں، اس کے ساتھ ہی ان کے دونو ں ہی پرانے اوتاربھی برقرار ہیں، اس طرح مودی نے ’سوٹ بوٹ کی سرکار‘ کے الزام کو مکمل طو رپر مسمار کردیا ہے۔

 اس باب میں پرشانت جھا مختلف حوالوں سے یہ بتاتے ہیں کہ جہاں ہندو لیڈر کے طو رپر اور’گجرات ماڈل’کے معمار کے طو رپر مودی کی ساکھ بنائی گئی وہیں گجرات پر13 برسوں کی حکومت کا تجربہ بھی مودی کے کام آیا جبکہ راہل گاندھی کو انتظامیہ کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ مودی ایک ایسے قائد کے طو رپر سامنے لائے گئے جو پاکستان کو سبق دے سکتا تھا اور اعلیٰ ذات کی  خواہشات کی تکمیل بھی کرسکتا تھا۔ قوم پرستی کے جذبے کو اس حد تک پروان چڑھایاگیاکہ’نوٹ بندی’ اور’جی ایس ٹی’ کے بداثرات نظر انداز کرکے لوگوں کے ووٹ بی جے پی کو گئے۔ انہیں یہ لگا کہ ‘کالا دھن’واپس آئے گا تو ان ہی کے کام آئے گا۔ لوگوں کے ذہنوں میں بی جے پی یہ بات بٹھانے میں کامیاب رہی کہ ‘بدعنوان دولت مند اسٹبلشمنٹ کے خلاف یہ  ایمانداری کی جنگ ہے’۔ بی جے پی نے’اجولا اسکیم’ ‘سوچھ بھارت’اور’جن دھن اکائونٹس’ کا فائدہ اُٹھایا، گاؤں، غریب اور کسان کا نعرہ لگایا گیا  نتیجہ یہ نکلا کہ راہل گاندھی کے تمام نعرے بے کار گئے۔

تیسرے باب ‘شاہ کا سنگٹھن’میں بی جے پی صدر کی یوپی میں بالخصوص اور دوسری ریاستوں میں بالعموم بی جے پی کی تنظیم سازی کی کوششوں کا ذکر کیاگیا ہے۔ امت شاہ ایک فرقہ پرست لیڈر تو ہوسکتے ہیں لیکن ان کے نظریے سے قطع نظر یہ بات بلامبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ انہوں نے جس طرح بی جے پی کو یوپی او رپھر دوسری ریاستوں میں اپنے قدموں پر کھڑا کیا وہ کانگریس یا کسی دوسری سیکولر پارٹی کا کوئی قائد نہیں کرسکا۔ ضلع اور تعلقہ کی سطح سے بوتھ کی سطح تک بی جے پی کو متحرک کرنا اور اس طرح سے کرنا کہ وہ لوگوں کو نظر آئے ایک بڑا کام تھا، ایک ایسا کام جس نے بی جے پی کو عام لوگوں کی روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنادیا او ران لوگوں میں بھی بی جے پی نے جڑیں پکڑلیں جو بی جے پی سے پہلے دور تھے۔ یہ انتہائی دلچسپ باب ہے۔

کتاب کا چوتھا باب’سوشل انجینئرنگ’بھی دلچسپ باب ہے، اس باب میں امت شاہ او رنریندر مودی کی ان ذاتوں کو بی جے پی کے د امن میں سمیٹنے کی کوششوں کا ذکر ہے جو سماج وادی پارٹی، بی ایس پی او رکانگریس سے اس لیے ناراض تھیں کہ ان کے بقول یادو برادری اور جاٹو برادری  اور مسلمانوں کو ساری مراعات حاصل تھیں اور وہ سماج وادی پارٹی ، بی ایس پی، اور ایس پی کو ووٹ دینے کے باوجود بھی محروم تھے۔ پچھڑو ں او رنچلے طبقات اور دلتوں کو بی جے پی نے کس ہوشیاری سے اپنے ساتھ ملایا اس کی تفصیلات بھی بے حد دلچسپ ہیں۔ کئی جگہ انہیں یہ احساس دلایاگیا کہ انہیں اعلیٰ ذات پر فوقیت دی جائے گی، ان میں جو بااثر تھے انہیں بی جے پی میں عہدے دیے او راسٹیج پر ساتھ بٹھایاگیاتاکہ یہ واضح پیغام جائے کہ بی جے پی ان کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ پرشانت جھا لکھتےتے ہیں کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ؛

امت شاہ نے دھیرے دھیرے پارٹی کو کم مراعات یافتہ افراد کی پارٹی میں تبدیل کیا، ساتھ ہی ان کی حمایت بھی حاصل رکھی جو مراعات یافتہ تھے۔

وہ مزید لکھتے ہیں؛

بی جے پی نے اوبی سی کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دے کر تمام ذاتوں کو پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر ‘ہندو ایکتا’ کی ڈور میں باندھ دیا۔

پانچویں باب میں اس سوال کا جواب دیاگیا ہے کہ آر ایس ایس کس طرح سے الیکشن میں بی جے پی کی مدد کرتی ہے؟ جھا لکھتے ہیں؛

زیادہ تر انتخابی مقابلوں میں بی جے پی کو سنگھ کی مدد حاصل رہی ہے لیکن آر ایس ایس نے اپنے پورے تنظیمی ڈھانچے ،ذرائع ،افراد او رسنگٹھن کو متحرک کرکے جس بڑے پیمانے پر 2014 میں بی جے پی کی مدد کی، ویسی پہلے کبھی نہیں کی تھی۔

 سنگھ کس طرح سے مدد کرتی ہے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ مزید لکھتے ہیں؛

سنگھ کا کام بظاہر سیدھا سادا ہے، گھروں سے رائے دہندگان کو نکال کر بوتھوں تک پہنچانا، لیکن اس آسان کام کےلیے، جو سیاسی نتائج کو تبدیل کرسکتا ہے، صحیح رائے دہندگان کو شناخت کرکے، ان تک ذاتی طور پر پہنچنے ، انہیں قائل کرنے، سازگار  سیاسی ماحول تیار کرنے، تنظیمی مدد کرنے، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں پارٹی کمزور ہو، او رطلباء ، مزدوروں، خواتین اور قبائلیوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر تنظیمی کام کرکے ان کے نیٹ ورک کو متحرک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

 اور آر ایس ایس یہ کام بغیر سامنے آئے کرتی چلی آئی ہے۔2014 اور2017 میں اس نے یہ کام بڑے پیمانے پر کیا۔ لیکن صرف امیج ، ساکھ ، مضبوط تنظیمی ڈھانچے، سوشل انجینئرنگ یا آر ایس ایس کی بڑے پیمانے پر مدد سے ہی کوئی الیکشن نہیں جیتا جاسکتا۔پرشانت جھا کے مطابق الیکشن جیتنے کےلیے’ہندو مسلم عناد’بی جے پی کےلیے ایک اہم عنصر ہمیشہ رہا ہے۔

کتاب کا چھٹا باب-دی ایچ ایم ،چناؤیعنی ہندو مسلم چناؤ کے عنوان سے ہے۔ پرشانت جھا نے اس باب میں پوری تفصیل کے ساتھ بی جے پی کی ان حرکتوں سے پردہ اُٹھایا ہے جو وہ ہندوؤں او رمسلمانوں میں فرقہ وارانہ تناؤ پیدا کرنے کےلیے ‘جائز’ سمجھ کر کرتی چلی آئی ہے۔ اور 2019 میں بھی کیا ہے۔ پرشانت جھا لکھتے ہیں کہ اپنے اس مقصد کےلیے بی جے پی’پروپیگنڈے’ اور ‘جھوٹ’کا سہارا لیتی چلی آئی ہے؛

وہ مسلم مخالف فسادات میں ملوث رہی ہے او راس کے نتیجے میں جو غصہ اور تشویش پیدا ہوئی ہے اس کا فائدہ اُٹھا تی رہی ہے ۔ بی جے پی چھوٹے پیمانے پر لیکن نا ختم ہونے والی کشیدگی پیدا کرتی او رپہلے سے پائی جانے والی کشیدگی کو مزید ہوا دیتی ہے تاکہ دوستوں، پڑوسیوں، دیہاتوں اور ورکروں میں مذہبی بنیاد پر دراڑ پیدا ہوجائے۔

 ا س طرح بقول مصنف بی جے پی کی جھولی میں ووٹ بھی آگرتے ہیں او راسے’ہندو سماج کو متحد’کرنے کا موقع بھی حاصل ہوجاتا ہے۔ جھا مظفر نگرفسادات کی مثال دیتے ہیں، یہ فسادات جھوٹے پروپیگنڈے کا نتیجہ تھے۔ جھوٹے ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے تھے او ربی جے پی کو یہ سب کرنے میں کسی طرح کی شرم نہیں محسوس ہوئی تھی۔ ہندو مسلم عناد کو ہوا دینے میں بی جے پی کا یہ پروپیگنڈہ خوب کام آیا کہ اس ملک میں وہ سیاسی پارٹیاں جو خود کو سیکولر کہتی ہیں مسلمانوں کی منہ بھرائی کرتی چلی آرہی ہیں اور ہندوؤں کو نظر انداز…یہ وہ پروپیگنڈہ تھا جس نے بہت سارے ہندوؤں، کو مسلمانوں کے خلاف اُکسایا او راس کے نتیجے میں بی جے پی کو سیاسی فائدہ حاصل ہوا۔ ایک پروپیگنڈہ ہندوؤ ں کے غیر محفوظ ہونے کا بھی تھا مثال کیرانہ کی لے لیں۔ یہ جھوٹ پھیلایاگیا کہ مسلمانوں کے ظلم سے تنگ آکر ہندو کیرانہ چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہورہے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کومسلم نواز پارٹی کے طور پر پیش کیاگیا ، بی جے پی نے خود کو ’ہندوؤں کا محافظ قرار دیا۔لوجہادکے نعرےنے بھی ہندوؤں کےغیر محفوظ ہونے کے احساس میں شدت پیدا کی او ربقول پرشانت جھا بی جے پی سارے جھوٹے پروپیگنڈے ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ کرتی رہی۔ 2017 میں بی جے پی  ہندوؤں کو یہ احساس دلانے میں کامیاب تھی کہ یوپی کو مسلمانوں یعنی دہشت گردوں سے بچانے کےلیے ہندوئوں کو جاگنا اور بی جے پی کو ووٹ دینا ہوگا۔

 لیکن پرشانت جھا اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اگر اپوزیشن اپنے کارڈ صحیح طو رپر کھیلے تو ہندو کارڈ بی جے پی کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے، جیسے کہ 2015 میں بہار میں ہوا، بی جے پی وہاں لالو اور نتیش گٹھ بندھن کے مقابلے ہاری تھی۔

کتاب کے باقی کے دو  ابواب میں سے ایک باب میں اس سوال کا جواب دینے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے کہ نارتھ ایسٹ میں بشمول کشمیر بی جے پی کے قدم کیسے جمے۔ دوسرے باب میں اس سوال کا جواب دیاگیا ہے کہ بی جے پی کا مستقبل کیا ہے؟ جہاں تک نارتھ ایسٹ کا سوال ہے جھا بتاتے ہیں کہ بی جے پی نے دوسری سیاسی پارٹیوں کے اہم لیڈروں کو اپنے ساتھ ملانے کےلیے ہر طرح کے حربے آزمائے اور انہیں ساتھ ملا کر سیاسی فوائد اُٹھائے ۔ اس نے مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کو کمزور کرنے کےلیے یہی کھیل کھیلا۔ جہاں تک بی جے پی بی کے مستقبل کا سوال ہے جھا بتاتے ہیں؛

آج بی جے پی حاوی ہے تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ناقابل تسخیر نہیں ہے، بلاشبہ گزشتہ تین برسوں کے دوران کئی جگہ وہ ہاری ہے او راس کی بہت ساری کمزوریاں سامنے آئی ہیں۔

 وہ مزید لکھتے ہیں کہ بی جے پی کی ہار اور جیت کا انحصار کانگریس اور علاقائی سیاسی پارٹیوں کے اتحاد اور سیکولر وسماجی انصاف کی ان جگہوں پر جنہیں وہ خالی چھوڑ چکی ہیں پھرقابض ہونے پر ہے ۔ بصورت دیگر بی جے پی جیتتی رہے گی اور مودی وزیر اعظم کی گدی پر بیٹھے رہیں گے۔ بی جے پی کی تازہ جیت یہ ثابت کرتی ہے کہ کانگریس اور علاقائی سیاسی پارٹیوں نے گزشتہ ہار سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔

(مضمون نگار ممبئی اردو نیوز کے ایڈیٹر ہیں)