بی جے پی اور نرسنہانند سے وابستہ ہندوتوا لیڈر نے ایک مسلمان کو ٹرین میں پیٹا

01:47 PM Oct 26, 2021 | علی شان جعفری/ تانیہ رائے

معاملے کا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے،جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدت پسند ہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند کی پیروکار مدھو شرما مسلمان شخص کا بال پکڑ کر کھینچ رہی ہیں اور انہیں تھپڑ مار رہی ہیں۔دھکا دینے کاالزام لگاتے ہوئے انہوں نے اس کو پاؤں  چھونے کے لیے بھی مجبور کیا۔

ویڈیوگریب۔

نئی دہلی: ہندوتوا لیڈر مدھو شرما،جنہیں ان کے قریبی ماں مدھرا کہتے ہیں،کےٹرین میں ایک مسلمان کو پیٹنے اور زبردستی ان کا پاؤں چھونے کے لیے مجبور کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ٹرین کے کوچ میں چڑھتے وقت اس شخص  نے انہیں دھکا دیا تھا۔

اس واقعہ کے ویڈیومیں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ مدھو شرما مسلمان شخص کا بال پکڑ کر کھینچ رہی ہیں اور انہیں تھپڑ مار رہی ہیں۔

انہوں نے جان لینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا،‘میں تمہیں مار ڈالوں گی۔ پیر چھوؤ میرا۔’

تقریباً41 سیکنڈ کےاس ویڈیو میں شرما نے اس کو کئی بار تھپڑ مارا اور ویڈیو بناتے وقت انہیں ٹوپی پہننے کے لیے مجبور کیا۔ مسلمان شخص کوبس اتنا ہی کہتےسنا جا سکتا ہےکہ ، ‘میں نے تو دیکھا بھی نہیں۔’

اس ویڈیو کو مدھو شرما نے اپنے فیس بک پیج پر گزشتہ سوموار کو ڈالا تھا، جسے رائٹ ونگ اور ہندوتواگروپوں  کے ذریعے خوب شیئر کیا جا رہا ہے۔ فیس بک نے اس ویڈیو کو‘حساس مواد’ کےخانے میں ڈالا ہے، لیکن ابھی اس کولےکر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

شرمانےاس ویڈیو کےکیپشن میں لکھا ہے،‘آپ سب کی ‘ماں مدھرا’ایک جہادی سپولے کو سفر کے دوران جم کر کوٹتے ہوئے، کیونکہ وہ گیلری سے نکلتے ہوئے ماں مدھرا کے کندھے کو ٹھیس لگاتے ہوئے نکل گیا تھا۔ بس، پھر کیا تھا! بھگتنا تو تھا ہی اسے۔’

مدھو شرما شدت پسند رائٹ ونگ اورسخت  ہندوتوالیڈریتی نرسنہانند کی پیروکار ہیں، جنہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوؤں کا ‘جہادی دشمن’قرار دیا ہے۔

دی وائر نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں بتایا تھا کہ کس طرح نرسنہانند کی ہیٹ اسپیچ کی وجہ سے فروری 2020 میں شمال-مشرقی  دہلی میں بھیانک دنگے بھڑکے تھے۔

نرسنہاننداوران کے نام نہاد شاگردوں  کو باقاعدگی سے مسلمانوں کے خلاف پرتشدد اور بھڑکاؤ بیان بازی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

مدھو شرما کئی بی جے پی رہنماؤں جیسے کپل شرما، اشونی مہاجن اور کرنی سینا کے لیڈر سورج پال امو کے ساتھ بھی دیکھی گئی ہیں۔ مرکزی وزیر پیوش گوئل انہیں ٹوئٹر پر فالو بھی کرتے ہیں۔

شرما کے اس ویڈیو کو سندیپ وششٹھ نے بھی شیئر کیاہے، جو ایک دوسری رائٹ ونگ تنظیم  رودر سینا کے قومی کنوینر ہیں۔

انہوں نے لکھا،‘آج ویرانگنا مدھو شرما (راشٹریہ دھرم پر بھاری رودرسینا)بہن کا ویڈیو دیکھ کر من خوش ہو گیا۔ بہت سندر بہن جی، آپ کے اس جرأت مندانہ کام کے لیے رودرسینا پریوار آپ کی تعریف کرتا ہے اور آپ کے روشن مستقبل  کی تمنا تمام رودرسینک کرتے ہے۔’

اس کو لےکر جب دی وائر نے سندیپ وششٹھ سے سوال کیا تو انہوں نے عجیب سی دلیل دیتے ہوئے کہا، ‘جب مسلمان ہماری(ہندو)بہنوں کا ریپ  کرتے ہیں، تو ہم یہی کریں گے۔ انہوں نے صحیح کیا ہے۔’

مدھو شرما پچھلے مہینے سات ستمبر کو رودر سینا میں شامل ہوئی تھیں۔جب وششٹھ سےشرما سے بات کرنے کے لیے ان کا نمبر مانگا گیا تو انہوں نے کہا، ‘ہم بہنوں کا نمبر نہیں دیتے۔’

اس معاملے کو لےکر ویسٹرن ریلوے کے ایک ڈویژنل ریلوے منیجر(ڈی آرایم)کے اوایس ڈی نے دی وائر سے کہا،‘چونکہ یہ ابھی بھی صاف نہیں ہے کہ یہ واقعہ کس ٹرین میں پیش آیا اور ہمیں ابھی تک ویڈیو نہیں ملا ہے، اس لیے ہم اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے ہیں۔اگر آپ ٹرین اور اس کے مقام کے بارے میں جانکاری دے سکیں تو اس مخصوص حلقہ کے افسر اس سلسلے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں کہ کوئی معاملہ درج کیا گیا ہے یا نہیں۔’

معلوم ہو کہ نرسنہانند اور ان کے پیروکارآئے دن مسلمانوں پر اس طرح کے حملےکرتے ہیں۔

اس سال مارچ میں غازی آباد کا ڈاسنہ مندر اس وقت تنازعہ  میں آیا تھا، جب مندر میں پانی پینے گئے 14 سال کے ایک مسلم لڑکے کی وہاں کام کرنے والے شرنگی نندن یادو نام کےایک شخص نے بے رحمی  سے پٹائی کی تھی۔ اس شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔ حالانکہ بعد میں نرسنہانند نے ملزم کی حمایت کی تھی۔

دی وائر نے پہلےبھی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ نرسنہانند نے میڈیاکو ایک بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دارالعلوم دیوبند جیسے کچھ چنندہ تعلیمی  اداروں کے طالبعلم ہندوستان کےآئین کےلیےسچی عقیدت  اوراحترام کا جذبہ نہیں رکھ سکتے اور ہندوستان کی سالمیت اور یکجہتی کو بنائے نہیں رکھ سکتے۔

اس کے علاوہ دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پیغمبرمحمد کے خلاف نازیباتبصرہ کرنےپرمذہبی جذبات کو مجروح کرنے کےالزام میں نرسنہانند کے خلاف اس سال اپریل میں بھی معاملہ درج کیا گیا تھا۔

(اس رپورٹ  انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں)