مغربی بنگال: درگا پوجا پنڈال میں اذان کی ریکارڈنگ بجنے سے تنازعہ، معاملہ درج

02:07 PM Oct 08, 2019 | دی وائر اسٹاف

درگا پوجا پنڈال میں مبینہ طور پراذان کی ریکارڈنگ بجائی گئی تھی ۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہاں مذہبی ہم آہنگی کو بڑھاوا دینے کے لیے پنڈال میں مندر، مسجد اور چرچ تینوں کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

عللامتی تصویر، فوٹو: دی وائر

نئی دہلی : مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتہ میں ایک درگا پوجا پنڈال میں مبینہ طور پر اذان کی ریکارڈنگ بجنے کے بعد تنازعہ ہو گیا ہے۔ اس معاملے کو وہاں کے ایک  وکیل  شانتنو  سنگھانے سیاسی بتاتے ہوئے  آرگنائزر سمیت دس لوگوں کے خلاف ایک مقدمہ درج کرایا ہے۔رپورٹ کے مطابق، انہوں نے  ہندو دھرم کی توہین اور امن وسکون میں خلل ڈالنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، سنگھا کی  مقامی پولیس میں درج شکایت کہتی ہے کہ ، یہ لوگ درگا پوجا پنڈال میں اذان کی اجازت دے کر مغربی بنگال کی امن و آشتی کو خراب کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات میرے علم میں اس وقت آئی جب وشو ہندو پریشد نے مجھے اس کا ویڈیو فارورڈ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ،ویڈ یو میں صاف ہے کہ پوجا پنڈال میں اذان کی ریکارڈنگ بجائی جارہی ہے اور ہندو مذہب کی توہین کی جارہی ہے۔یہ سب معاشرے کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ ان افراد نے جان بوجھ کرمذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے  مقدس درگا پوجا پنڈال میں اذان کی اجازت د ی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کولکاتہ کے بیلی گھاٹا 33 پلی درگا پوجا پنڈال میں اذان کی ریکارڈنگ بجائی گئی تھی ۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہاں مذہبی ہم آہنگی کو بڑھاوا دینے کے لیے پنڈال میں مندر، مسجد اور چرچ تینوں کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ہمارا اس بار کا تھیم ہی ہے کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں ،اکیلے نہیں ہیں ۔ اسی وجہ سے اذان کے ساتھ ساتھ منتر جاپ اور چرچ کی گھنٹی کی آواز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

آرگنائزر نے کہا کہ ، اس معاملے کو غیر ضروری طو رپر سیاسی رنگ دیا جارہا ہے۔منتظمین کا کہنا ہے کہ ، ہمارا مقصد یہ دکھا نا ہے کہ انسانیت تمام مذاہب سے اوپر ہے۔

وہیں وکیل شانتنو سنگھا نے کہا کہ ، کوئی بھی مسلمان ہر پانچ منٹ میں اذان کی آواز کو لے کر اس کی تعریف نہیں کرے گا ۔ یہ پوری طرح سے سیاسی معاملہ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ، مجھے بتائیے پوجا پنڈال میں اذان سے مذہبی ہم ہنگی کو بڑھاوا دینے میں کیسے مدد ملے گی ۔ میں نے ایک فرد کے طور پر یہ شکایت درج کی ہے۔اگر مسجد سے گیتا کا پاٹھ کیا جاتا ہے تو مجھے دکھ ہو گا ۔ اسی طرح مجھے درگا پوجا پنڈال میں اذان سے دکھ ہے۔