ایک سو دو سالہ ڈورے سوامی کو دینا پڑ رہا ہے مجاہد آزادی ہو نے کا ثبوت، بی جے پی نے اٹھایا تھا سوال

12:35 PM Mar 10, 2020 | دی وائر اسٹاف

کرناٹک کے بیجاپورسے بی جے پی ایم ایل اے بی پی یتنال نے مجاہد آزادی  ایچ ایس ڈورے سوامی کو فرضی مجاہد آزادی  بتاتے ہوئے ان سے تحریک آزادی  میں شامل ہونے کے ثبوت مانگے تھے۔

مجاہد آزادی ، ایچ ایس ڈورے سوامی ، فوٹو بہ شکریہ ؛ وکی پیڈیا

نئی دہلی: کرناٹک کے بیجاپور سے بی جےپی ایم ایل اے بی پی یتنال کے ذریعے مجاہد آزادی  ایچ ایس ڈورےسوامی کو فرضی مجاہد آزادی  اور پاکستانی ایجنٹ کہے جانے پر تنازعہ  بڑھ گیا ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، یتنال نے ڈورےسوامی سے کہا ہے کہ وہ ثبوت پیش کریں کہ تحریک آزادی  میں ان کا رول  رہا ہے۔ یتنال کے اس بیان کی مرکزی وزپرہلاد جوشی سمیت کئی بی جےپی رہنماؤں نے حمایت کی تھی۔

گزشتہ  منگل کو کانگریس نے بی جےپی کے اس بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے 1971 کا ایک دستاویز جاری کیا ہے، جس پر بنگلور سینٹرل جیل کے سینئر سپرنٹنڈنٹ کے دستخط ہیں۔1971 کے اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ 25 سال کے غیر شادی شدہ  نوجوان ڈورےسوامی بنگلور کی سینٹرل جیل میں 18 دسمبر 1942 سے بند تھے اور انہیں آٹھ دسمبر 1943 کو رہا کیا گیا۔

بی جےپی رہنماؤں نے 19 سال کی طالبہ امولیا لیونا کے رابطے میں رہنے پر بھی ڈورےسوامی پر کئی الزام  لگائے ہیں۔بتا دیں کہ بنگلور میں شہریت قانون اور این آرسی کے خلاف ایک ریلی میں امولیا پر مبینہ  طور پر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کو لےکر سیڈیشن  کا معاملہ درج ہے۔بی جےپی نے ایک تصویر کی بنیاد پر ڈورےسوامی پر الزام  لگائے ہیں، جس میں انہیں کو پا میں امولیا کے گھر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مؤرخ رام چندر گہاڈورےسوامی کے خلاف اس پورے پروپیگنڈہ  کو چونکانے والا اور قابل مذمت بتاتے ہوئے کہتے ہیں، ‘وہ ہماری  ریاست کا شعور ہیں۔ وہ بہت ہی مہذب  اور ایماندار شخص ہیں۔ وہ کئی سماجی اور ماحولیاتی تحریکات کا حصہ رہے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ کسانوں اور غریبوں  کی آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے کئی خراب زمینی سودوں کو لےکر کانگریس سرکار کی بھی تنقید کی ہے لیکن جو مجھے سب سے زیادہ  حیران  کرتا ہے وہ وزیر اعلیٰ بی ایس یدورپا کی چپی ہے، جو جانتے ہیں کہ ڈورےسوامی کس طرح کے شخص ہیں۔’

اس پورے معاملےپرڈورےسوامی کہتے ہیں،‘میری 60 سال کی  عوامی زندگی  رہی ہے۔ ہمارے نظریات کو لے کرالگ رائے  ہو سکتی ہیں لیکن میرے بی جےپی اور آر ایس ایس میں بھی دوست ہیں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ بی جے پی کبھی مجھ پر اس طرح حملہ کرےگی۔’

یہ مانتے ہوئے کہ وہ وزیر اعظم  نریندر مودی کے نقاد ہیں، انہوں نے کہا، ‘میں نے ہر سرکار کی تنقید کی ہے۔ یہ ایک شہری  کی ترجیحات ہیں۔ ایمرجنسی  کے دوران میں نے اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو خط لکھتے ہوئے کہا تھا کہ آپ جمہوریت کے نام پر حکومت کر رہی ہیں لیکن تاناشاہ کی طرح سلوک کر رہی ہیں۔ اگر یہ جاری رہا تو میں گھر گھر جاکر لوگوں کو بتاؤں گا کہ آپ تاناشاہ ہیں۔’

اس وقت ڈورےسوامی کو لگاتار چار مہینے تک جیل میں رکھا گیا اور مجسٹریٹ کے ذریعے ان کے معاملے کو خارج کرنے کے بعد انہیں رہا کیا گیا تھا۔ مجسٹریٹ نے کہا تھا، ‘ان کے پاس وزیر اعظم کی تنقید  کرنے کا ہر اختیار ہے۔’بنگلور کے ایک اسکول میں علم کیمیا اورعلم ریاضی کے ٹیچر رہے ڈورےسوامی جون 1942 میں مہاتما گاندھی کی اپیل  پر تحریک آزادی سے جڑے تھے۔

وہ کہتے ہیں، ‘ہم سرکاری دفتروں میں پوسٹ باکس کے پاس چھوٹے چھوٹے ٹائم بم رکھتے تھے۔ اس کا مطلب لوگوں کو مارنا نہیں تھا۔ بس ان سے دستاویز جل جاتے تھے، جس سے سرکار کے بیچ ابلاغ ٹھپ ہو جاتا تھا۔ کبھی کبھی ہم چوہوں کی پونچھ میں بم باندھ دیتے تھے اور ان چوہوں کو ریکارڈ روم میں پھینک دیتے تھے۔’

ڈورےسوامی کو آگ زنی کے لیے بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ جب 1943 میں رہا ہوئے تو وہ تحریک آزادی  میں شامل ہو گئے۔تب سے ڈورےسوامی کئی تحریکوں کا حصہ رہے، پھر چاہے وہ بے زمین  کسانوں کے حقوق  کے لیے شمالی کرناٹک میں کیگاایٹم  سازش کے خلاف احتجاج ہی کیوں نہ ہو۔کارکن  ایس آر ہیری مٹھ کہتے ہیں،‘ڈورےسوامی جیسے گاندھیائی امیج والے انسان کو پاکستانی ایجنٹ کہنا اور ان پر تشدد بھڑ کانے کا الزام لگانامضحکہ خیز ہے۔’

2014 میں ڈورےسوامی اور صحافی گوری لنکیش اس ایک سول سوسائٹی پلیٹ فارم کا حصہ رہے، جس کے تحت سرینڈر کر چکے نکسلیوں کو مین اسٹریم  میں لایا گیا۔ڈورےسوامی کہتے ہیں، ‘ہم چاہتے ہیں کہ نکسلی جمہوری نظام سے جڑے لیکن یہ لوگ مجھے نکسلی کہتے ہیں۔’

ڈورےسوامی کہتے ہیں، ‘میں فکرمند نہیں ہوں۔ میرے دوست کہتے ہیں کہ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے تاکہ وہ میری آواز دبا سکیں۔ لیکن آئین  ہماری حفاظت کر رہا ہے۔ لوگ یہاں ہیں۔ لوگ مجھے جانتے ہیں۔ میری زندگی ایک شیشے کی طرح ہے۔ یقیناً، لوگ میرا ساتھ دیں گے۔ غریبوں کو کھانا، روزگار،تعلیم  چاہیے اس لیے میں ابھی بھی لڑ رہا ہوں۔’