پانچ سال پہلے کے مقابلے اب فریشر کے لیے پہلی نوکری حاصل کرنا زیادہ دشوار: رپورٹ

آن لائن جاب سرچ پورٹل ’انڈیڈ‘کی’فریشر ہائرنگ رپورٹ‘کا حوالہ دیتے ہوئے فنانشل ایکسپریس نے بتایا ہے کہ پانچ سال پہلے کے مقابلے  اب فریشر کے لیے نوکری کی دنیا میں قدم رکھنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ سروے میں شامل 72 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ انٹری لیول نوکریوں کے لیے بھی تجربے کی شرط رکھی جاتی ہے، جبکہ 61 فیصد لوگوں کو درخواست دینے کے بعد شاید ہی کوئی جواب موصول ہوتا ہے۔

آن لائن جاب سرچ پورٹل ’انڈیڈ‘کی’فریشر ہائرنگ رپورٹ‘کا حوالہ دیتے ہوئے فنانشل ایکسپریس نے بتایا ہے کہ پانچ سال پہلے کے مقابلے  اب فریشر کے لیے نوکری کی دنیا میں قدم رکھنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ سروے میں شامل 72 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ انٹری لیول نوکریوں کے لیے بھی تجربے کی شرط رکھی جاتی ہے، جبکہ 61 فیصد لوگوں کو درخواست دینے کے بعد شاید ہی کوئی جواب موصول ہوتا ہے۔

علامتی تصویر،تصویر بہ شکریہ: ڈیوڈ مارک / پکسابے

نئی دہلی: فریشر، یعنی نوکری کی شروعات کرنے کے خواہشمند افرادکو ان دنوں  نوکری تلاش کرنے میں خاصی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا   ہے۔

نوکری کی تلاش میں مدد کرنے کے مقصد سے بنائے گئے آن لائن جاب سرچ پورٹل ’انڈیڈ‘کی’فریشر ہائرنگ رپورٹ‘کا حوالہ دیتے ہوئے فنانشل ایکسپریس نے بتایا کہ پانچ سال پہلے کے مقابلے اب فریشر کے لیے نوکری کی دنیا میں قدم رکھنا زیادہ دشوارہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، نوکری کے خواہش مند ہر 10 میں سے 7 نوجوان کو اپنی پہلی ملازمت حاصل کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔وہیں، 3 سے 5 سال پہلے کے مقابلے اب فریشر کے لیے انٹرن شپ کے مواقع بھی کم ہیں۔

سروے میں شامل 72 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ انٹری لیول کی نوکریوں کے لیے بھی تجربے کی شرط رکھی جاتی ہے، جبکہ 61 فیصد لوگوں کو درخواست دینے کے بعد شاید ہی کوئی جواب ملتا ہے۔

اس رپورٹ کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ سیکھنے اور طویل مدتی کیریئر اہداف پر توجہ دینے کی خواہش کے باوجود نوکری کے خواہشمند  نوجوانوں کو اپنے مقاصد اور عزائم کے مطابق رول کے بجائے اپنی ضروریات کو ترجیح دینی پڑتی ہے۔

سروے میں شامل لوگوں  میں سے صرف 14 فیصد نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ ان کی پہلی نوکری ان کی پسندکے رول، کمپنی اور لوکیشن کے مطابق ہوگی۔

اخبار کے مطابق، سروے میں شامل لوگوں میں سے ایک بڑے حصے (43 فیصد) نے کہا کہ مالی دباؤ اور مواقع کی کمی ان کے کیریئر سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

یہ رپورٹ  اس بات پر زور دیتی ہے کہ موجودہ دور میں ایسے مواقع کی کمی ہے جن کے ذریعے امیدوار جاب مارکیٹ میں آنے سے پہلے عملی تجربہ حاصل کر سکیں۔

سروے میں شامل صرف 20 فیصد لوگوں نے کہا کہ انہیں اپنی تعلیم کے دوران پیڈانٹرن شپ کا موقع ملا، جبکہ 18 فیصد نے بتایا کہ انہیں انٹرن شپ، پروجیکٹ، پلیسمنٹ یا فری لانس کام کا کوئی موقع نہیں ملا۔

وہیں، لگ بھگ آدھے لوگوں (49 فیصد) نے کہا کہ ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی شناخت بنانا تھا، جبکہ 61 فیصد نے بتایا کہ ملازمت کے لیے درخواست دینے کے بعد انہیں شاید ہی یا کبھی کبھی ہی کوئی جواب ملتا ہے۔

اس رپورٹ میں ایک تشویشناک پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً 64 فیصد لوگوں نے کہا کہ بار بار اپلائی کرنے  اور ریجیکٹ ہونے سے ان کی خوداعتمادی اور حوصلے پر منفی اثر  پڑا ہے، جبکہ صرف 20 فیصد لوگوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے وہ اپنے منتخب کردہ کیریئر کے راستے پر صحیح سمت میں گامزن ہیں۔

انڈیڈ میں ٹیلنٹ اسٹریٹجی ایڈوائزر روہن سلویسٹر نے اخبار کو بتایا کہ یہ دورطویل اور غیر یقینی میں بدلتا جا رہا ہے، جس میں لگاتار نوکریوں کے لیے درخواست دینا، دیر سے جواب ملنا اور سمجھوتہ کرنے کا بڑھتا دباؤ شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو امپلائر شروعات کے لیے راستے بناتے ہیں، صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور نوجوان امیدواروں کو نوکری کے دوران سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں، وہ طویل مدت میں بہتر اور زیادہ باصلاحیت افرادی قوت تیار کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔