خصوصی رپورٹ: مرکزی حکومت جس ڈیٹا بیس کی بنیاد پر لاک ڈاؤن میں ڈھیل دے رہی ہے وہ ناقص ہے

08:46 PM May 17, 2020 | مردلا چاری / نتن سیٹھی

وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ 17 اپریل تک ان کی سرکار لوگوں کو بتا دےگی کہ لاک ڈاؤن  کی تیسری توسیع  کیسی ہوگی اور کچھ اضلاع میں کتنی چھوٹ دی جائے گی۔ اہم بات یہ ہےکہ یہ فیصلہ بھی آئی سی ایم آر کے ناقص ڈیٹا بیس کی روشنی میں لیا جائے گا۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

آرٹیکل 14 کو جو دستاویز دستیاب ہوئے ہیں، ان کے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ چار میں سے دو پیمانے جن کی بنیاد پر مرکز یہ فیصلہ لیتی ہے کہ کووڈ-19 کی صورت حال کتنی شدید ہے اور لاک ڈاؤن میں کتنی چھوٹ دی جائے، وہ ناقص ڈیٹا بیس (جس کو آئی سی ایم آر محفوظ کر رہا ہے)پر مبنی ہیں۔

گزشتہ 14 مئی کو ہندوستان میں کووڈ-19 کا پہلا معاملہ آئے ہوے 107 دن پورے ہو چکے تھے۔ اور 14 مئی کو مرکزی حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ اب تک کل معاملوں کی تعداد 78000 ہو چکی ہے۔ لیکن آئی سی ایم آر کے ڈیٹا بیس (جس کوسرکار نے واحد اور صحیح ذریعہ قرار دیا ہے)میں کئی خامیاں ہیں۔ مثلاً اس کے اندراج غیر تصدیق شدہ ہیں۔ اس میں متعدد نام جعلی اور غلط  ہیں۔

گزشتہ 29 اپریل کو آئی سی ایم آر کے ڈیٹا بیس (جس کو مرکز استعمال کرتی ہے) نے کووڈ-19 کے  5024 مختلف ایکٹو معاملےریکارڈ کئے۔ لیکن این سی ڈی سی (نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول)کے ڈیٹا بیس (جس کو ریاستیں استعمال کرتی ہیں) اور مندرجہ بالا آئی سی ایم آر کے ڈیٹا بیس میں، صرف پانچ ریاست اور تین یونین ٹریٹریز کےمعاملوں کی تعداد میں مما ثلت تھیں۔ ان کے علاوہ بقیہ تمام ریاستوں کے معاملوں کی تعداد میں تضاد تھے۔

ریاستوں کی شکایات موصول ہونے پر، آئی سی ایم آر نے بار بار ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقہ کار اور پرو ٹو کال میں تصحیح کی ہے۔ پچھلے 60 دنوں میں ڈیٹا کلیکٹنگ فارم میں دس بار ترمیم کی گئی۔ لیکن مرکزی حکومت (جو لاک ڈاؤن کے حوالے سے سارے فیصلے خود لیتی ہے)کا کہنا ہے کہ صرف آئی سی ایم آر کا ڈیٹا ہی قابل قبول ہو گا۔

گزشتہ 29 اپریل کو آئی سی ایم آر نے ریاستوں کو ایک پاور پوائنٹ پریزنٹیشن بھیجا (جس کا آرٹیکل 14 نے تجزیہ کیا ہے)اور انہیں یہ ہدایت دی کہ وہ تین دن کے اندر اندر 33014 ریکارڈ کی تصدیق کریں۔انہیں یہ بھی کہا گیا کہ وہ ان کے ڈیٹا بیس (جو ملک کے 739 اضلاع سے ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے)کی دیگر خامیوں کو دور کریں۔

آئی سی ایم آر کے ریاستوں کے نام ہدایات ملاحظہ کریں؛

دو مئی شام 6 بجے سے پہلے تک، کووڈ انڈیا پورٹل پر پازیٹو معاملوں کی تعداد، مریضوں کےموبائل نمبر، پتہ، پن کوڈ کی تصدیق کریں اور انہیں اپڈیٹ کریں۔ ان کے تعین کے حوالے سے ریاست اور ضلع کے جو مسائل ہیں انہیں جلد از جلد سلجھا لیا جائے۔ وہ معاملے جن کی رپورٹنگ نہیں ہو پائی ہے ان کی بھی اور جعلی معاملوں کی بھی نشاندہی کریں۔ ان کے بارے میں ای میل کے ذریعے اطلاع کریں۔

آئی سی ایم آر ریاستوں سے یہ کہہ رہا تھا کہ وہ اس کے ڈیٹا بیس میں 29 اپریل تک درج کئے گئے 33014  معاملوں کی تصدیق کرے اور جعلی معاملات کی نشاندہی کرے۔

فروری سے ہی، جب پہلی بار اس کی تشکیل ہوئی تھی، آئی سی ایم آر کا کووڈ-19 ڈیٹا بیس یہ آگاہ کرتا رہا ہے کہ پینڈمک سے نپٹنے کے لئے  مرکزی حکومت کی حکمت عملی کیا ہے، خاص طور پر یہ فیصلہ کرنے میں کہ 739 اضلاع میں سے کہاں لاک ڈاؤن کی پابندی میں ڈھیل دی جانی ہے۔


یہ بھی پڑھیں:خصوصی رپورٹ: مودی حکومت نہیں مان رہی سائنسدانوں کی بات، حالات ہو رہے ہیں بدتر


 ریاستوں کو بھیجے گئے پریزنٹیشن کے مطابق ، گزشتہ 1 مئی کو جب مرکزی حکومت نے دوسری بار لاک ڈاؤن میں 17 مئی تک کے لئے توسیع کی تھی، تب بھی آئی سی ایم آر کا ڈیٹا بیس قابل اعتبار نہیں تھا۔

پروٹوکال اور پروسس کی مسلسل نظر ثانی

 آرٹیکل 14 نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان ہونے والی خط و کتابت اور دیگر دستاویز کا تجزیہ کیا ہے۔ ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مارچ اور اپریل میں اور مئی کے پہلے ہفتے تک، آئی سی ایم آر کے پاس ملک بھر سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا کوئی اسٹینڈرڈ پرو ٹوکال/طریقہ کار نہیں تھا۔

آئی سی ایم آر نے بار بار اس میں نظر ثانی کی اور اس کو نئے سرے سے تیار کیا۔ بعض اوقات اس سے کنفیوژن بھی پیدا ہوا، اورنتیجتاً ریاستوں اور لیبارٹریوں میں فرنٹ لائن میڈیکل اور انتظامی عملے پر اضافی بوجھ  پڑا۔

تمل نا ڈو کے ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ کے کولانڈاسوامی(جو گزشتہ 30 اپریل کو سبکدوش ہو گئے)نے کہا؛

گائیڈ لائنز مسلسل آ رہے ہیں، اور ان میں بار بار ترمیم ہو رہی ہیں۔ اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔ مفہوم بھی بدل رہے ہیں۔

گزشتہ 3 مئی کو، کسی مشرقی ریاست کے ایک اعلی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر آرٹیکل 14 سے کہا کہ؛

آئی سی ایم آر کے ڈیٹا بیس میں جعلی نام، غلط اور غیر واضح فون نمبراور پتہ درج ہیں۔

 آفیسر نے ہم سے یہ گزارش کی ہے کہ ریاست کا نام بھی نہ بتا یا جائے۔کسی مغربی ریاست میں، کووڈ-19 ڈیٹا مینجمنٹ کے انچارج کی حیثیت سے مامور ایک آفیسر نے ہم سے یہ بتا یا کہ ؛

 کبھی کبھی ایسا بھی ہو تا ہے کہ ایک آدمی کسی ایک ضلع میں پازیٹو پا یا گیا، لیکن وہ کسی دوسرے ضلع سے آیا، اور پھر یہ کہ اصل میں وہ کسی تیسرے ضلع سے تعلق رکھتا ہے۔  ان تضادات کی تصدیق صرف ریاستی ایجنسیاں ہی کر سکتی ہیں۔ لیکن، ابھی تک آئی سی ایم آر کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار نہیں ہے جس کے ذریعے وہ ریاست اور ضلع انتظامیہ کو اس کی تصدیق اور اسے درست کرنے کی اجازت دے۔

اس آفیسر نے بھی ہم سے گزارش کی ہے کہ ان کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔ انہیں ڈر ہے کہ مرکزی حکومت ان کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی کر سکتی ہے۔


یہ بھی پڑھیں:کیا اپنی ناکامی چھپانے کے لیے مودی حکومت نے لاک ڈاؤن کا سہارا لیا؟


آرٹیکل 14 نے ہندوستان کے وزیر صحت ہرش وردھن، ہیلتھ سکریٹری پریتی سدان، آئی سی ایم آر کے ڈا ئریکٹر جنرل بلرام بھارگو، اور آئی سی ایم آر کے چیف آف ایپی ڈیمولوجی گنگا کھیڑکرکو ای میل کیا ہے۔ ان دو ڈیٹا بیس میں جو تضاد ہیں، اس حوالے سے ہم نے ان کا رد عمل مانگا ہے۔

 سکریٹری (جو وزارت صحت کی ہیڈ ہیں)نے ہمارے ای میل کو وزارت کے دیگر لوگوں اور آئی سی ایم آر کو فاروارڈ کیا۔  بھارگونے ای میل کا جواب دیا، مگر بس اتنا کہا کہ،

معاملہ وزارت صحت سے متعلق ہے، نہ کہ آئی سی ایم آر سے۔

  ہم نے بھارگو کو الگ سے ای میل کیا اور خالص آئی سی ایم آر سے متعلق سوال پوچھے،مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اگر ہمیں کوئی جواب موصول ہوتا ہے، تو ہم اس اسٹوری کو اپڈیٹ کر دیں گے۔

دو ڈیٹا بیس کی کہانی

جنوری 2020 میں جب کووڈ-19 کا معاملہ سامنے آیا، اس کے بعد سے ہی آئی سی ایم آر نے بیماریوں کی نگرانی کا کام شروع کیا۔  اس سے پہلے تک، بیماریوں کے پھیلا ؤ کا ڈیٹا بیس برقراررکھنے کی ذمہ داری صرف این سی ڈی سی (وزارت صحت کا ایک اور حصہ)کی ہوتی تھی۔ یہ کام وہ آئی ڈی ایس پی(انٹی گریٹیڈ ڈیزیز سرولانس پروگرام)کے ذریعے کرتی ہے۔

آئی ڈی ایس پی کا ڈیٹا بیس دیہاتوں، قصبوں، ضلعوں اور ریاستوں کے افسران اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی مدد سے تیار کیا جا تا ہے۔ کسی بھی بیماری اور وبا ئی مرض کے پھیلاؤ کی نگرانی کرنے یا ان سے نپٹنے کے لئے، ریاستی حکومتیں عام طور پر انہی ڈیٹا بیس پر انحصار  کرتی ہیں۔

لیکن جب کووڈ-19 پھیلنا شروع ہوا، تو مرکزی حکومت نے بیماری کے اعدادو شمار جمع کرنے کے لئے آئی سی ایم آر سے رابطہ کیا۔ لہذا آئی سی ایم آر نے اپنا متوازی ڈیٹا بیس تشکیل کیا، اور ان لیبا رٹری سے براہ راست ڈیٹا حاصل کرنا شروع کیا جو کووڈ-19 کے ٹیسٹ کر رہے تھے۔ ان لیبارٹری کو ریاستی حکومتوں کو بھی پازیٹو معاملوں کے بارے میں جانکاری دینی ہوتی تھی۔

 دوسری طرف این سی ڈی سی نے ریاستی حکومت کے عملے پر مشتمل اپنے نیٹ ورک کے ذریعے کووڈ -19 کے معاملوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا جاری رکھا۔ ریاستی حکومتوں نے کووڈ-19 کو ٹریک کرنے کے لئے اسی ڈیٹا بیس پر انحصار کیا۔ اس ڈیٹا بیس کی مدد سے، ریاستی حکومتوں کے لئے نہ صرف معاملوں کی تصدیق کرنا آسان ہے بلکہ کانٹیکٹ ٹریسنگ اورفوری فیصلہ لینے میں بھی یہ زیادہ مددگار ہے۔

مشرقی ریاست سے تعلق رکھنے والے اس افسر نے (جن کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں) ہم سے بتا یا کہ؛

ہمارے پاس ہر ضلع میں آئی ڈی ایس پی نیٹ ورک موجود ہے۔ ہمارے پاس ڈسٹرکٹ سرولانس آفیسرز اور ایپی ڈیمولوجسٹز ہیں۔ یہ ایسا نیٹ ورک ہے، جو مستقل طور پر کام کرتا ہے اور ہم ہمیشہ اس کا استعمال  کرتے رہے ہیں۔

ماہرین نے یہ بتا یا کہ آئی ڈی ایس پی نیٹ ورک میں اسٹاف کی کمی ہے۔ لہذا 7 اپریل 2020 کو آئی سی ایم آر نے ریاستی حکومتوں سے یہ گزارش کہ کہ آئی ڈی ایس پی کے اہم عہدوں پر بحالی کی جائے۔ لیکن یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ آئی ڈی ایس پی ریاستی حکومتوں کو جواب دہ ہے۔ اور ان کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا پروٹوکال بہت منظم ہے۔ یہ فرسٹ ہینڈ ڈیٹا کا استعمال کرتا ہے۔

دوسری طرف، آئی سی ایم آر کا ڈیٹا بیس (برائے کووڈ -19) سیکنڈ ہینڈ ڈیٹا پر منحصر ہے، جسے لیبارٹریوں سے اکٹھا کیا جا تا ہے۔ کووڈ-19 پینڈمک کے دوران دونوں ڈیٹا بیس میں کبھی بھی مماثلت نہیں پائی گئی ہے۔

مثال کے طور پر( اوپر ذکر کئے گئے پریزنٹیشن کے مطابق)، 29 اپریل تک ، آئی سی ایم آر نے تریپورہ میں این سی ڈی سی کے مقابلے  88 فیصد زیادہ معاملےریکارڈ کیے ۔ مہاراشٹر میں ، جس میں کسی بھی دوسری ریاست کے مقابلے میں زیادہ ایکٹو معاملے ہیں ، این سی ڈی سی نے آئی سی ایم آر کے 10096 کے مقابلے، 1678 کم معاملات ریکارڈ کیے تھے۔ دہلی میں، آئی سی ایم آر نے 2830 معاملوں ریکارڈ کیے تھے، جو این سی ڈی سی کے ڈیٹا بیس سے 484 کم تھے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا، آئی سی ایم آر اور این سی ڈی سی  ڈیٹا بیس میں صرف پانچ ریاستوں اور تین یونین ٹریٹریز کے ریکارڈ میں مماثلت پائی گئی۔

ڈیزائن میں نقص ہے

اپریل کے وسط تک ، ڈیٹا بیس میں تضادات (یہاں اور یہاں)کے حوالے سے کئی میڈیا نے رپورٹنگ کی۔اس کا جوب دیتے ہوے، مرکزی وزارت صحت کے افسران نے یہ کہا کہ جب ریاستوں سے مسلسل آرہی معلومات کو مرکزی ڈیٹا بیس میں اپڈیٹ کرنا ہوتا ہے، تو اس طرح کی چوک ہو جانا ایک عام بات ہے۔

متعدد دستاویز اور مواصلات جن کا آرٹیکل 14 نے تجزیہ کیا ہے، ان سے یہ معلوم پڑتا ہے کہ جو خامیاں تھیں وہ بنیادی تھیں۔


یہ بھی پڑھیں:مودی حکومت نے لاک ڈاؤن کے اعلان سے پہلے اپنے سائنسدانوں کی بات کیوں نہیں سنی؟


29 اپریل سے قبل، آئی سی ایم آر نے ریاستی حکومتوں کو ایک سے زیادہ بار گزارش کی اور ان سے کہا کہ وہ ڈیٹا بیسوں میں موافقت قائم کریں۔ لیکن ریاستی حکام کا یہ دعوی ہے کہ آئی سی ایم آر نے اعدادو شمار کو اپڈیٹ کرنے کے لیے ان کی متعدد درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

میرے پاس وہ سارے ای میل محفوظ ہیں جنہیں میں ڈیٹا کو درست کرنے کے لئے آئی سی ایم آر کو لکھ رہا ہوں ، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے یہ پایا کہ وہ لوگ جہ دہلی اور پنجاب میں رہتے ہیں، ان کا نام ہماری ریاست کے زمرے میں درج کر دیا گیا ہے، کیونکہ ا نہوں نے موجودہ پتہ کے بجائے ا پنا مستقل پتہ لکھوا دیا تھا۔

 یہ بات مشرقی ریاست کے اس افسر نے بتائی، جن کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔

اگر آئی سی ایم آر نے ٹیسٹنگ لیبا رٹریز سے اعدادوشمار اکٹھا کیا ہے، توہ پھر یہ خامی کیوں؟

 مندرجہ بالا آفیسر نے ہم سے یہ بھی بتا یا کہ؛

آئی سی ایم آر نےبراہ راست لیب سے ڈیٹا منگوایا اور انہوں نے ہم سے اس کی تصدیق کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ اپنا پورا پتہ نہیں بتا تے ہیں۔ اس کی وجہ ڈر بھی ہو سکتی ہے اور لاپرواہی بھی۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ فیلڈ اسٹاف غلطی کر بیٹھتا ہے اور صحیح پتہ اور تفصیل درج نہیں کرتا ہے۔

مغربی ریاست کے آفیسر (جن کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں)نے یہ بتا یا کہ اگر ریاستی حکومت چاہے تو وہ زمین پر نامکمل اعدادو شمار کی تصدیق کر سکتی ہے۔ لیکن آئی سی ایم آر کے ڈیٹا بیس نے معلومات کی تصدیق کئے بغیر، انہیں شائع کر دیا۔ کچھ لوگوں کے گھر کے پتہ کی جگہ پر بخارکلینک یا ہاسپٹل کا ایڈریس لکھا ہوا ہے۔ اور کسی ایک شخص کے دوبارہ ٹیسٹ ہونے پر اسے دو الگ الگ شخص کے طور پر درج کر لیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی بتا یا کہ گزشتہ 29 اپریل کے ہدایات کے جاری ہونے تک، آئی سی ایم آر نے ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ کو اس کے ڈیٹا بیس کو درست کرنے اور تصدیق کرنے کی اجا زت نہیں دی تھی۔

آرٹیکل 14 نے ان بنیادی فارم کے متعدد ورزن کا تجزیہ کیا ہے، جسے آئی سی ایم آر نے ریاستی حکومتوں اور لیب کو کووڈ-19 کے ٹیسٹنگ ڈیٹا کے لئے استعمال کرنے کا حکم دیا تھا۔ گزشتہ  دو مہینوں میں کم از کم 10 ورزن تیار کئے گئے۔ کسی میں معمولی ترمیم کی گئی تو کسی میں خاصی تبدیلی لائی گئی۔

مرکز اور ریاست کے متعدد آفیسران نے آئی سی ایم آر کی قابلیت پر سوال اٹھا یا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی سی ایم آر اس طرح کے اعدادوشمار کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے، کیونکہ این سی ڈی سی کے بر عکس  یہ بنیادی طور پر ایک تحقیقی ادارہ ہے۔ لہذا گزشتہ دو مہینے میں، اس نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا اپنا طریقہ کار وضع کیا۔  دلچسپ بات ہے کہ آئی سی ایم آر بیماریوں کے پیٹرن کا مطالعہ/تجزیہ کرنے کے لئے ہمیشہ این سی ڈی سی کے ڈیٹا کا استعمال کرتا رہا ہے۔

 مشرقی ریاست کے آفیسر نے ہمیں یہ بتایا کہ؛

یہ سب اس مغالطہ سے شروع ہوا کہ بیماری پر قابو پانے کا سب سے اہم طریقہ ٹیسٹ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی سی ایم آر کو نوڈل ایجنسی بنا یا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہےکہ آئی سی ایم آر وہ ادارہ ہے جس کے سبھی سائنس دان لیب میں کام کرتے ہیں، جبکہ این سی ڈی سی کا کام فیلڈ میں جا کر بیماری سے نپٹنا ہے۔

 ناقص ڈیٹا بیس کے اثرات

گرچہ آئی سی ایم آراپنے طریقہ کار کی خامیوں کو دور کر کے اس کو اسٹینڈرڈ بنانے کی کوشش کرتا رہا، لیکن اپریل کا وسط آتے آتے ریاستوں نے مرکز کو اس کی شکایت کر دی۔ مرکز نے جواب میں بس یہ کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں اس مسئلہ پر غور کرےگی۔

گزشتہ 29 اپریل کو جب آئی سی ایم آر نے ریاستی حکومتوں کو ڈیٹا بیس میں موافقت لانے کا حکم دیا اور انہیں اس کام کے لئے 5 دنوں کا وقت دیا، تو اس بار انہوں نے یہ بھی ساتھ میں درج کر دیا کہ اس تاریخ کے بعد سے آئی سی ایم آر کا سینٹرل ڈیٹا بیس ‘مریضوں کے ڈیٹا کا واحد اور صحیح ذریعہ’کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

جیسا کہ ہم نے اس سیریز کے پہلے حصہ میں رپورٹ کیا ہے کہ 15 اپریل کو ہندوستان نے پہلی بار کل 739 اضلاع کی درجہ بندی ریڈ، آرینج اور گرین زون میں کر دی تھی۔ اب یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ یہ کام حکومت نے آئی سی ایم آر کے ڈیٹا بیس سے لئے گئے معلومات کی بنیاد پر ہی کیا تھا۔

ایک مئی کو مرکز نے پھر اسی ڈیٹا بیس کا استعمال کر کے ریڈ زون والے اضلاع میں لاک ڈاؤن کے تحت پابندیوں میں توسیع کر دی؛ یہ وہ اضلاع تھے جہاں اس وقت تک سب سے زیادہ معاملے پائے گئے تھے۔ کون علاقہ ریڈ زون ہوگا، اس کےمعیار میں ترمیم کر دی گئی تھی۔ مرکز نے یہ اعلان کیا کہ وبا کی شدت کو سمجھنے کے لئے وہ چار پیمانوں کا استعمال کرےگی۔ ان میں سے دو پیمانے (کیسوں کی تعداد اور وہ رفتار جس سے معاملوں دو گنا ہو رہے تھے) آئی سی ایم آر کے ناقص ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کئے گئے تھے۔

آئی سی ایم آر نے ریاستوں کو ایک نیا ایپلی کیشن (آر ٹی- پی سی آر)، جسے اس نے اپریل کے آخری ہفتہ میں لانچ کیا تھا، استعمال کرنے کا حکم جاری کیا، اور ان سے کہا کہ وہ ان کا استعمال کرکے ڈیٹا بیس کو اپڈیٹ کریں۔

تین ریاستوں کے افسران نے ہمیں بتا یا کہ درمیان میں اچانک سے مندرجہ بالا نئی حکمت عملی (اعدادوشمار کا دستی اندراج کی بجائے ایپلی کیشن کے ذریعے دستاویز تیار کرنا) اپنانے کی وجہ سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے کام میں اور پیچیدگی پیدا ہو گئی۔ اس سے ریاستوں پر غیر ضروری بوجھ پڑا۔

ریاستی عہدیداروں ، لیبارٹریوں اور ڈاکٹروں کے مابین ہونے والی بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے وہ  الجھن کا شکار ہیں۔ وہ تشویش میں مبتلا ہیں۔  مثال کے طور پر دو ریاستوں میں ، ڈاکٹروں اور فرنٹ لائن ورکرز نے پوچھا کہ وہ بوجھل حفاظتی پوشاک پہنے ہوئے فون پر ایپ کا استعمال کیسے کریں گے۔ صرف اتنا ہی نہیں، ایپ لانچ کرنے کے بعد، آئی سی ایم آر نے ایپ میں پرانے اعداد و شمارشامل کرنے کے طریقے میں ترمیم کردیا۔

یہ اچھی بات ہے کہ آخر کار  آئی سی ایم آر نے ریاستوں کو اس کے ڈیٹا کی تصدیق کرنے اور اگر ضرورت ہو تو اس کو درست کرنے کی اجازت  دے دی ہے۔ یہ کام پہلے دن ہی ہو نا چاہیے تھا۔ اس وقت تک ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقوں کو پوری طرح سے معیاری ہو جا نا چاہیے تھا۔ اس اسٹیج پر آکر ہمارا ڈیٹا پوری طرح سے قابل اعتماد ہو جانا چاہئے تھا۔

 یہ بات ہمیں ریاستی حکومت کے ایک افسر نے بتائی۔

گزشتہ 10 مئی کو، کم از کم تین ریاستوں نے آئی سی ایم آر کے تمام ڈیٹا کی نہ تصدیق  کی اور نہ اس کو درست کیا تھا۔ آرٹیکل 14 آزادانہ طور پر یہ تصدیق نہیں کر پا یا کہ آیا دیگر ریاستوں نے یہ کر لیا ہے۔ مذکورہ آفیسر نے کہا ؛

 ہم سمجھتے ہیں کہ اعدادو شمار کا قابل اعتماد ہونا بہت اہم ہے۔ لیکن اسٹاف کی پروٹو کال کے حساب سے بار بار تربیت کرنا اور مسلسل فارم بھرنے کا عمل  بہت کٹھن ہے۔

اپنے 12 مئی کے ملک کے نام خطاب میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ کہا ہے کہ 17 اپریل تک ان کی سرکار لوگوں کو بتا دےگی کہ لاک ڈاؤن  کی تیسری توسیع  کیسی ہوگی اور کچھ اضلاع میں کتنی چھوٹ دی جائے گی۔اہم بات یہ ہےکہ یہ فیصلہ بھی آئی سی ایم آر کے ڈیٹا بیس کی روشنی میں لیا جائے گا۔

اس مضمون کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے۔

(مضمون نگار آزاد صحافی ہیں اور دی رپورٹرزکلیکٹو کے ممبر ہیں۔)(انگریزی سے ترجمہ،سید کاشف)