کسانوں کا مظاہرہ: نہرو ہارے تھے، اب مودی کی باری ہے

04:41 PM Jan 06, 2021 | وقار احمد ندوی

یہ کھیت اور پیٹ کی لڑائی ہے جو سڑکوِں پر لڑی جا رہی ہے۔ قیادت پنجاب ضرور کر رہا ہے لیکن اس میں پورے بھارت کے کسان شامل ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی کو جمہوری ریاست عزیز ہے تو انہیں اب کی بار جمہور کے سامنے ہارنا ہی ہوگا، ہمیشہ جیت کی بے لگام خواہش کبھی کبھی بڑی تکلیف دہ دائمی ہار پر منتج ہوتی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

سکھوں نے  جواہر لال نہرو کو ہرایا تھا، مودی کو بھی ہارنا ہی ہوگا۔ آزادی کے بعد انڈین یونین گورنمنٹ کے خلاف سکھوں کی موجودہ اجتماعی مزاحمتی تحریک، پہلی نہیں دوسری بڑی تحریک ہے۔ ماسٹر تارا سنگھ کی قیادت میں پہلی لڑائی سکھوں نے پنجاب صوبہ بنانے کے لیے لڑی تھی۔

اگست1961 میں ماسٹر تارا سنگھ تا مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اور 48 دن گزر جانے کے بعد جواہر لال نہرو نے ان کے مطالبہ پر سنجیدہ غور وفکر کی یقین دہانی کروائی تو انہوں نے ہڑتال ختم کی۔ اس کے بعد ہریانہ وہماچل پردیش کی پنجاب سے علیحدہ حد بندی اور ہریانہ وپنجاب کے مشترکہ دار الحکومت چنڈی گڑھ کے قیام اور اسے مرکزی حکومت کے زیر انتظام قرار دیے جانے وغیرہ امور میں لگ بھگ چھ سال گزر گئے۔

اس طرح تقریباً19 سال مسلسل لڑتے رہنے کے بعد ایک نومبر 1966 کو اندرا گاندھی کے دور حکومت میں سکھوں کے خواب نے تعبیر پائی اور صوبہ پنجاب وجود میں آیا۔

آج پھر سکھ سڑکوں پر ہیں، البتہ لڑائی زمین کی نہیں بلکہ زمینی پیداوار پر تصرف کی ہے۔ پنجاب اور ہریانہ جغرافیائی طور پر ہندوستان کے صرف 3.3 فیصدی زمینی رقبہ پر مشتمل ہے لیکن ان دونوں صوبوں کی زمینی خوردنی پیداوار کم وبیش ہندوستان کی کُل پیداوار کا 30 فیصد ہے، جس میں گندم، چاول، دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی چیزیں خاص طور شامل ہیں۔

پنجاب اور ہریانہ کے کسان، جن کی غالب اکثریت سکھ ہے، اس تحریک کی قیادت کر رہے ہیں اور ان کے لیے اطمینان کی بات یہ ہے کہ انہیں ہندوستان کے دیگر صوبہ جات کے کسانوں کی حمایت حاصل ہے کیوں کہ ان سب کے مفادات اس سے وابستہ ہیں۔ اگر دیگر صوبہ جات سے انہیں حمایت نہ بھی ملی ہوتی تب بھی وہ اپنی تحریک کو تا دیر باقی رکھنے اور اسے نتیجہ خیز بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کے گودام اناج سے بھرے ہوئے ہیں، ان کے آل واولاد امریکہ، کناڈا، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں بڑی تعداد میں ملازمت اور تجارت کرتے ہیں، ان کے پاس نہ تو افرادی قوت کی کمی ہے اور نہ ہی وہ پست حوصلہ ہیں۔ نسبتاً چھوٹی، سمٹی ہوئی، اجتماعی طور پر منظم اور تعلیم یافتہ برادری ہے۔ اقتدار کے ایوانوں اور گلیاروں میں، خاص کر مسلح افواج میں ان کے افراد نے اچھی شناخت اور پکڑ بنا رکھی ہے۔

وطن کی تعمیر وترقی اور اس کے دفاع میں ان کی حصہ داری و قربانی کو آسانی سے ہی نہیں، بہ مشکل بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ تحریک کو کسی بھی زاویے سے باغی خالصتانی تحریک سمجھنا یا سمجھانا انتہائی سنگین غلطی ہوگی۔ یہ نہ تو مذہبی علیحدگی پسندوں کی تحریک ہے اور نہ ہی گولڈن ٹیمپل سے اس کی قیادت کی جا رہی ہے۔

یہ کھیت اور پیٹ کی لڑائی ہے جو سڑکوِں پر لڑی جا رہی ہے۔ قیادت پنجاب ضرور کر رہا ہے لیکن اس میں پورے بھارت کے کسان شامل ہیں۔

سال 2019میں یہی سردیوں کا موسم تھا جب مسلمان این آر سی اور سی اے اے کے متنازعہ قوانین کے خلاف سڑکوں پر تھے۔ سکھ برادری اور بہت سے ہندو بھی ان کے شانہ بہ شانہ تھے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی ان کے ملک گیر احتجاجات پر خاطر خواہ توجہ دی تھی۔

مسلمان اجتماعی، علمی، فکری، معاشی اور سیاسی طور پر قیادت سے محروم پراگندہ قوم ہیں۔ تلاش معاش میں شب وروز الجھی ہوئی بھوکی ننگی مسلم برادری کے لوگوں کے پاس اتنا ہی وقت تھا کہ وہ احتجاج میں حصہ لیں یا روزگار کریں۔ ایوان حکومت وامور مملکت کے سیاہ وسفید میں ان کا حصہ ہی کیا ہے! اس کے باوجود انہوں نے اور خاص کر ان کی خواتین نے پر امن احتجاج کی شاندار تاریخ رقم کر ڈالی۔ لیکن حکومت کا رویہ انتہائی مایوس کن رہا تھا۔

کورونا کی وجہ سے احتجاجات ختم ہوئے اور تا حال مذکورہ قوانین نفاذ کے لیے حتمی تشکیل کے انتظار میں ہیں۔ این آر سی اور سی اے اےکے سلسلہ میں ارباب اقتدار کا آمرانہ رویہ گو کہ ہم جیسوں کے لیے نا قابلِ قبول تھا، لیکن اس کی توضیح خود ان کے لیے قابلِ فہم تھی۔ لہذا انہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک طبقہ کو اپنا ہم خیال بھی بنا لیا تھا، یہاں تک کہ کچھ مسلمان بھی ان کے ہم زبان ہو گئے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ “غریبوں کے سائے بھی ان کے نہیں ہوتے اور امیروں کے پرائے بھی اپنے ہوتے ہیں”۔

لہذا حکومت نے ان کو ہلکے میں لیا اور کسی حد تک کامیاب ہوتی نظر بھی آ رہی ہے۔ وہ اسی تجربہ کو سکھوں کے ساتھ بھی دہرانا اور آزمانا چاہتی ہے۔ لیکن اس بار اسے منہ کی کھانی پڑ سکتی ہے۔ سکھوں کا موجودہ احتجاج اپنی شکل وصورت اور طریقہ کار کی نوعیت سے بڑی حد تک گزشتہ سال کے احتجاجات سے ملتا جلتا نظر آتا ہے۔ ہم اسے بجا طور پر اس کا تسلسل بھی کہہ سکتے ہیں۔ گویا یہ”شاہین باغ 2″ہے۔ بے لگام آمریت کا وہی انداز ہے اور سرفروش عوام کی وہی آواز ہے۔

بین الاقوامی قدیم وجدید تاریخ کا مطالعہ اور حالات و واقعات کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ عام طور پر سیاست میں ہوسِ اقتدار کا مقام بلند تر ہے۔ سیاست داں  اپنی ناک کے سامنے سے گزرنے والے نفع ونقصان پر نظر رکھتے ہیں۔ بیشتر ان کا ذہن بھدا اور وہ تاریخ سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس آئیڈیلزم نہیں ہوتی ہے، صرف بگڑی ہوئی زندگیاں اور زہریلے دماغ ہوتے ہیں۔ عدالتوں سے اپنی خواہشات کے مطابق فیصلے صادر کرواتے ہیں، حال کچھ ایسا ہوتا ہے کہ منصفوں کا قلم جائز یا نا جائز سزائیں تو لکھ دیتا ہے، فیصلے تو دے دیتا ہے، انصاف نہیں لکھ پاتا۔

ہم ہندوستانی، تیسری دنیا کی وہ بد قسمت نسل ہیں جس کے اعلیٰ دماغ سرکاری وغیر سرکاری ملازمتوں میں یا بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ وامریکہ چلے جاتے ہیں اور حکومت کرنے کے لیے اکثر ان کو چھوڑ دیتے ہیں جن کے پاس سوائے اقتدار بھوگنے کے کوئی واضح تصور اور نصب العین نہیں ہوتا۔ ہاں! کبھی کبھار دانشور بھی میسر آ جاتے ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی بنیاد کے دو ہی اصول ہیں، جسمانی وافرادی طاقت یا دلیل پر مبنی گفت وشنید۔ جو سیاسی نظام انبوہ کی طاقت پر یقین رکھتا ہے، جائز مطالبات پر مبنی عوامی احتجاج کے مقابلے زر خرید احتجاجی انبوہ کا سہارا لینے کی بیہودہ رسم جاری کرتا ہے اسے خبر نہیں ہوتی ہے کہ اجتماعی سیاسی بند وبست کی نوعیت نچلی سطح پر افراد کے رویے تشکیل دیتی ہے۔

اگر آج حکومت جمہور کے ساتھ مکالمے سے انکاری ہو کر لنگوٹ کستی ہوئی میدان میں اترے گی تو کل فرد اور سماج باہم دگر اسی طرح ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔ جمہوریت کی ساخت و پرداخت بہر صورت مکالمہ سے ہی ممکن اور افہام وتفہیم ہی میں مضمر ہے۔ آمرانہ اقتدار میں اصلاح نہیں ہوتی ہے، ایک اینٹ نکلتی ہے تو پورا محل زمیں بوس ہو جاتا ہے۔ عصائے سلیمانی کو دیمک لگ جاتا ہے۔

 وزیر اعظم نریندر مودی کو جمہوری ریاست عزیز ہے تو انہیں اب کی بار جمہور کے سامنے ہارنا ہی ہوگا، ہمیشہ جیت کی بے لگام خواہش کبھی کبھی بڑی تکلیف دہ دائمی ہار پر منتج ہوتی ہے۔ اور اس میں عجب کیا ہے! ان سے پہلے نہرو بھی متعدد ہار چکے ہیں۔ اور در حقیقت جائز عوامی مطالبہ کی جیت ہی عوامی قائد کی حقیقی فتح ہوتی ہے۔ سچے جمہوری معاشرے میں کبھی بھی صرف ایک یا دو رائیں ہی درست نہیں ہوتیں، تیسری اور چوتھی رائے کی درستگی کے امکانات بھی روشن ہوتے ہیں۔