یوپی:  کسانوں کو مظاہرہ میں جانے سے روکنے کے لیے انتظامیہ نے بھیجا نوٹس، ہائی کورٹ نے جواب مانگا

دہلی میں ٹریکٹر پریڈ سے پہلے اتر پردیش کے سیتاپور ضلع میں کئی کسانوں کو نوٹس جاری کرکے 50 ہزار سے لےکر 10 لاکھ تک کا بانڈ بھرنے کو کہا گیا تھا۔ انتظامیہ نے اس قدم کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا کہ امن وامان کو قائم رکھنے کے لیے ایسا کیا گیا تھا۔

دہلی میں ٹریکٹر پریڈ سے پہلے اتر پردیش کے سیتاپور ضلع میں کئی کسانوں کو نوٹس جاری کرکے 50 ہزار سے لےکر 10 لاکھ تک کا بانڈ بھرنے کو کہا گیا تھا۔ انتظامیہ نے اس قدم کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا کہ امن وامان کو قائم رکھنے کے لیے ایسا کیا گیا تھا۔

الہ آباد ہائی کورٹ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

الہ آباد ہائی کورٹ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش انتظامیہ کو نوٹس جاری کرکے کہا ہے کہ وہ یہ بتائے کہ کس بنیاد پر سیتاپور کے کسانوں، جن کے پاس ٹریکٹر ہے سے 50000 روپے سے لےکر 10 لاکھ تک کے بانڈ جمع کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔اس کے علاوہ عدالت نے سیتاپور کے ڈی ایم سے بھی اس سلسلے میں جانکاری دینے کے لیے کہا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، کارکن ارندھتی دھرو نے ایک پی آئی ایل  دائر کرکے کہا ہے کہ کسانوں کو مظاہرہ میں شامل ہونے سے روکنے کے سیتاپورضلع انتظامیہ نے گزشتہ19 جنوری کو نوٹس جاری کر انہیں بانڈ بھرنے کو کہا اور ان کے گھروں کو گھیر لیا تھا۔

اس کو لےکرگزشتہ25 جنوری کو جاری اپنے آرڈر میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے پوچھا کہ انتظامیہ نے کس بنیاد پر اتنے بھاری بھرکم بانڈ جمع کرنے کو کہا ہے۔ اس معاملے کی اگلی شنوائی اب دو فروری کو ہوگی۔خاص بات یہ ہے کہ ایس ڈی ایم (ماہولی) پنکج راٹھوڑ نے اس قدم کو صحیح ٹھہرایا ہے اور کہا کہ اگر وہ ایسے قدم نہ اٹھاتے تو سیتاپور میں بھی دہلی جیسی حالت ہو جاتی۔

رپورٹ کے مطابق، سیتاپور کے لگ بھگ 35 کسانوں کے دہلی کی سرحدوں پر چل رہے مظاہرہ میں شامل ہونے کی جانکاری ملی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع کے مشریکھ علاقے میں13 جنوری کو ایک مظاہرہ کیا گیا تھا۔

پساون پولیس تھانے کے تحت آنے والے کسانوں کو ایس ڈی ایم راٹھوڑ کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا،‘یہ نوٹس میں لایا گیا ہے کہ گاؤں ستناپور میں مندرجہ ذیل لوگوں (10 افراد)کے بیچ زرعی  قوانین  پرمظاہرہ  کو لےکر تنازعہ ہوا تھا۔ اس وجہ سے کشیدگی کی حالت بنی ہے۔ اس کی وجہ سے لوگ کسی بھی وقت  بدامنی پیداکر سکتے ہیں۔ اسے دھیان میں رکھتے ہوئے مخالفین  کو روکنا ضروری ہے۔’

اس کو لےکر جسٹس رمیش سنہا اور راجیو سنگھ کی بنچ نے اپنے آرڈر میں کہا کہ عرضی گزار نے بتایا ہے کہ یہ نوٹس نہ صرف بے بنیاد ہیں، بلکہ یہ ان کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، کیونکہ کسانوں کو ان کے گھروں سے نکلنے نہیں دیا اور پولیس انہیں گھیر کر کھڑی تھی۔

عرضی کے مطابق، نوٹس میں کسانوں سے 50000 روپے سے لےکر10 لاکھ روپے تک کے بانڈ اور دو سکیورٹی (شیورٹی)جمع کرنے کو کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم  نہ صرف بہت زیادہ ہے، بلکہ اسے محض مقامی پولیس والوں کی رپورٹ کی بنیاد پر جاری کیا گیا اور کسانوں کو اپنی بات رکھنے کا کوئی موقع نہیں دیا گیا۔

ماہولی ایس ڈی ایم کی جانب سےجاری نوٹس میں21 جنوری کو صبح 10 بجے تک حاضر ہونے کے لیے چارخواتین  سمیت 10 کسانوں کوہدایت  دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں یہ بتانے کے لیے کہا گیا کہ کیوں ان سے دس لاکھ روپے کے بانڈ پردستخط نہیں کرایا جانا چاہیے تاکہ امن و امان قائم رہے۔

حالانکہ جن کسانوں کو یہ نوٹس ملا ہے، انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی بات رکھنے کا کوئی موقع نہیں دیا گیا اورحکام  نے نوٹس دکھاکر واپس لے لیا۔

ضلع کے سنگتن کسان مزدور تنظیم سے جڑے کمل کشور نے کہا، ‘ہمارے گھروں پر ہمیں نوٹس دیے گئے تھے۔ کچھ لوگوں کو حکام کی جانب سے صرف نوٹس دکھائے گئے جو کہ انہوں نے پھر واپس لے لیا۔ ہم نے جو اپنے فون سے فوٹو کھینچا ہے، وہی ہمارے پاس ہیں۔’

وہیں انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کسانوں کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا تھا اور انہیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کس بنیاد پر ان پر یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔

کارکن ارندھتی دھرو، جو نیشنل الائنس آف پیپلز موومینٹس کی نیشنل کنوینر بھی ہیں، نے کہا کہ انہیں ایس کےایم ایس کے ذریعے اس مدعے کا پتہ چلا۔ انہوں نے کہا، ‘ہم باغ پت جیسے دیگرا ضلاع کے کسانوں کو بھیجے گئے ایسے نوٹس بھی جمع  کر رہے ہیں۔ اگلی شنوائی کے دوران انہیں عدالت میں پیش کیا جائےگا۔’