دیوتاؤں کی توہین کے الزام میں لکھنؤ یونیورسٹی کے پروفیسر کے ساتھ اے بی وی پی  نے بدسلوکی کی

09:31 PM May 11, 2022 | دی وائر اسٹاف

ایک آن لائن مباحثہ کے دوران لکھنؤ یونیورسٹی میں ہندی کے پروفیسر روی کانت چندن نے کاشی وشوناتھ مندر-گیان واپی مسجد تنازعہ پر ایک کتاب کا حوالہ دیا تھا، جس میں ان مبینہ حالات کو بیان کیا گیا ہے جن کے تحت متنازعہ مقام پر مندر کو منہدم کرکے مسجد بنائی  گئی تھی۔ اس سلسلے میں پولیس نے پروفیسر کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

لکھنؤ یونیورسٹی میں تنازعہ کے دوران (سرخ دائرے میں) پروفیسر روی کانت چندن۔ (تصویر بہ شکریہ: Twitter/@Akshay_Svar)

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی اسٹوڈنٹ  ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے لوگوں  نے منگل  (10 مئی) کو لکھنؤ یونیورسٹی میں ہندی کے ایک پروفیسر کو ان کے تبصرے پر دھمکی دی اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔ یہ تبصرہ انہوں نے وارانسی میں کاشی وشوناتھ مندر-گیان واپی مسجد کے حوالے سے جاری تنازعہ پر کیا تھا۔

واضح ہو کہ یونیورسٹی کے پروفیسر روی کانت چندن کے ہندی نیوز پلیٹ فارم ‘ستیہ ہندی’ کی طرف سے منعقد ایک آن لائن مباحثے کے دوران کیے گئے تبصروں پر ہندوتوا تنظیم نےاپنا غصہ ظاہر کیا تھا۔

روی کانت چندن نے بحث کے دوران آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے مجاہد آزادی  اور سیاسی رہنما پٹابھی سیتارمیا کی کتاب ‘فیدرز اینڈ اسٹونز’ سے ایک کہانی کا حوالہ دیا تھا، جس میں ان مبینہ حالات کو بیان کیا گیا ہے جن کے تحت متنازعہ مقام پر مندر کومنہدم  کیا گیا تھا اور  وہاں  مسجد بنائی گئی تھی۔

سال 1946 میں شائع ہوئی ‘فیدرز اینڈ اسٹونز’  سیتارمیا کی لکھی ہوئی جیل  ڈائری ہے۔

بتادیں کہ احمد نگر کی قید کے دوران انہوں  نے اسے ‘مزاح، عقل اور حکمت کی کتاب’ کے طور پر بیان کیا تھا۔

تاہم، اس بحث کا ایک ترمیم شدہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس میں کتاب کے بارے میں روی کانت چندن کی طرف سے دی گئی یہ جانکاری غائب کر دی گئی ہے۔

کتاب ‘فیدرز اینڈا سٹونز’ کا صفحہ نمبر 177-178 (پدما پبلی کیشنز، بمبئی، 1946)

جیسے ہی یہ کلپ وائرل ہوا، مختلف ہندو تنظیموں نے ان کے تبصرے پر اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پروفیسرنے، جو ایک دلت ہیں، ہندو دیوتاؤں کی توہین کی ہے۔ اس غصے کے نتیجے میں بالآخر اے بی وی پی کے لوگوں  اور دیگر نے یونیورسٹی کیمپس پر حملہ بول دیا، اس کے بعد اشتعال انگیز نعرے لگائے اور انہیں دھمکیاں دیں۔

اس کے بعد انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو سامنے آیا جس میں ایک مشتعل بھیڑ 2020 کے دہلی فسادات کے لیے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کی طرف سے لگائے گئے  ‘دیش کے غداروں کو… گولی مارو سا*** کو’ کا نعرہ لگاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پولیس نے تشدد کی اپیل  کرنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ خود پروفیسر کے خلاف کارروائی کی ہے۔

یونیورسٹی کے ایک طالبعلم امن دوبے کی شکایت پر پروفیسر چندن کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ پروفیسر کے تبصروں سے یونیورسٹی کیمپس میں ہندو طلبہ کے جذبات مجروح ہوئے  ہیں اور انہوں نے کیمپس میں طلبہ پر حملہ کرنے کے لیے باہر سے غنڈوں کو بلایا تھا۔

این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی حکام اور لکھنؤ پولیس کی مداخلت کے بعد بھیڑ کو پروفیسر سےدور کیا گیا۔

پروفیسر  چندن نے اے بی وی پی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے اپنا ایک ویڈیو بھی اپ لوڈ کیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ گیان واپی مسجد کے معاملے پر بحث کے دوران انہوں نے کتاب ‘ فیدرز اینڈ اسٹونز’ سے مذکورہ کہانی سنائی۔

ویڈیو میں وہ کہتے ہیں، وائرل ویڈیو میں کتاب اور مصنف کے حوالے سے دیا گیا میرا حوالہ ہٹا دیا گیا اور کہا گیا کہ میں نے ہندو مذہب کی توہین کی، جو کہ میرا ارادہ  نہیں تھا۔ میں صرف کہانی بیان کر رہا تھا اور میں نے یہ بھی بتایا کہ یہ ایک کہانی تھی،حقیقت نہیں۔

اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ کس طرح اے بی وی پی کے لوگوں  اور دیگر نے یونیورسٹی میں پریشانی پیدا کی۔

اے بی وی پی کے  ساتھ بات چیت پر پروفیسر نے کہا، میں نے ان سے مکمل ویڈیو دیکھنے کو کہا، تاکہ ان کی غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔ میں نے اس کے بارے میں فیس بک پر بھی پوسٹ کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا، میں ایک دلت ہوں اور بابا صاحب امبیڈکر، ان کے خیالات اور نظریات کا پیروکار ہوں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک دلت ہوں، اس لیے میری آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ہندوستان کے لیے جو آدرش امبیڈکر قائم کرنا چاہتے تھے، اس کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وشو ویدک سناتن سنگھ کے عہدیدار جتیندر سنگھ ویسین کی قیادت میں راکھی سنگھ اور دیگر نے اگست 2021 میں عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں گیان واپی مسجد کی مغربی دیوارکے پاس واقع شرنگار گوری کے باقاعدہ درشن ،پوجا اور دیگر دیوی دیوتاؤں کے کے تحفظ کی مانگ کی گئی تھی۔

اس کے ساتھ ہی گیان واپی مسجد کمپلیکس میں واقع تمام مندروں اور دیوی دیوتاؤں کی اصل پوزیشن جاننے کے لیے عدالت سے سروے کرانے کی درخواست کی گئی تھی۔

عدالت نے حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ 10 مئی سے پہلے اس جگہ کا ایک ویڈیو سروے ریکارڈکریں۔ جبکہ مسجد کمیٹی نے یہاں ویڈیو گرافی کے فیصلے پر اعتراض کیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے مقامی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی مسجد کمیٹی کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔

تاہم، پروفیسر چندن کے ساتھ پیش آئے اس واقعہ کے بعد ماہرین تعلیم کے ایک گروپ نے اے بی وی پی کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا اور مطالبہ کیا کہ ہجوم خلاف کارروائی کی جائے۔

بیان کے مطابق، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مجرموں کو فوراً  گرفتار کیا جائے۔ بحث اور اختلاف کی فضا جو ایک تعلیمی ادارے کے لیے ضروری ہے اور جمہوری معاشرے کے لیے بھی ضروری ہے، اسے فوراً  بحال کیا جائے۔ ڈاکٹر روی کانت اور ان کے خاندان کو تمام ضروری سکیورٹی فراہم کی جائے۔

بیان میں اس واقعے کو ‘عدم رواداری اور اکثریتی فرقہ پرستی اور تشدد کی ایک مثال قرار دیا گیا ہے،  جو پورے ملک بالخصوص  بی جے پی مقتدرہ  ریاستوں کا ‘آدرش ‘  بنتا جا رہا ہے۔

ان ماہرین تعلیم میں روپ ریکھا ورما، پروفیسر چمن لال، وندنا مشرا، رمیش دکشٹ، مدھو گرگ، اطہر حسین، لال بہادر سنگھ، ندیم حسنین، رام دت ترپاٹھی، پربھات پٹنایک، اسعد زیدی،سدھارتھ کلہنس وغیرہ شامل ہیں۔

اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔