فروری 2020 کے دہلی فسادات کے پس پردہ مبینہ ‘بڑی سازش’ کے معاملے میں پچھلے پانچ سالوں سے جیل میں بند گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم خان اور شفا الرحمان کو بدھ کی شام رہا کر دیا گیا۔
گلفشاں فاطمہ بدھ کو تہاڑ جیل سے رہا ہونے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: فروری 2020 کے دہلی فسادات کے پس پردہ مبینہ ‘بڑی سازش’ کے معاملے میں پچھلے پانچ سالوں سے جیل میں بند کچھ سماجی کارکنوں کو دہلی پولیس نے بدھ (7 جنوری) کی شام کو رہا کر دیا۔
سوشل میڈیا پر رہاکیے گئے گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم خان اور شفا الرحمان کی تصویریں اور ویڈیوسامنے آئے ہیں، جن میں وہ جیل سے باہر نکلتے ہوئے، دوستوں اور اہل خانہ سے گلے ملتے ہوئے اور استقبال کے دوران جذباتی ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے ش ان کارکنوں اور سماجی کارکن شاداب احمد کو رواں ہفتے ضمانت دی ہے۔ عدالت یہ فیصلہ متنازعہ رہا کیونکہ اسی فیصلے میں عدالت نے شریک ملزمان عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہیں دی۔
ان تصویروں اور ویڈیو میں سالوں بعد آزادی ملنے پر خاندان اور دوستوں کے درمیان جشن اور جذباتی ملاقاتوں کے مناظر قیدہیں۔
دہلی کی تہاڑ جیل سے رہا ہوکر باہر آتیں سماجی کارکن گلفشاں فاطمہ، جنہیں فروری 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مبینہ ‘بڑی سازش’ کیس میں یو اے پی اےکے تحت پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں رکھا گیا تھا ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
سماجی کارکن گلفشاں فاطمہ تہاڑ جیل سے رہا ہونے کے بعد اپنی والدہ سے گلے ملتی ہوئیں۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
گلفشاں تہاڑ جیل سے رہائی کے بعد۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
جیل سے باہر آنے کے بعد اپنے خیر خواہوں کے درمیان گلفشاں۔