دہلی: شمشان گھاٹ سے متصل شہید بھگت سنگھ کیمپ کے لوگ دھوئیں اور بدبو میں رہنے کو مجبور

07:57 PM Apr 29, 2021 | دی وائر اسٹاف

پچھم پوری شمشان گھاٹ کےقریب شہید بھگت سنگھ کیمپ میں تقریباً900 جھگیاں ہیں، جن میں1500 لوگ رہتے ہیں۔ یہاں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے ایک دن میں تین چارلا شوں کی آخری رسومات کی ادائیگی  کی جاتی تھی، لیکن اب 200-250 لاشوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ ان لوگوں کو اس سے کووڈ 19کے پھیلنے کا بھی خطرہ  ستا رہا ہے۔

دہلی کا ایک شمشان۔ (فوٹو رائٹرس)

نئی دہلی: ویسٹ  دہلی کے شہید بھگت سنگھ کیمپ میں رہنے والے لوگ اپنے گھربار چھوڑکر گاؤں واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں اور اس کی وجہ نزدیک کےشمشان گھاٹ پر بڑی تعدادمیں لاشوں کی آخری رسومات کی ادائیگی ہے، جس سے علاقے میں دھواں چھا جاتا ہے اور بدبو کا ماحول ہوتا ہے۔

جھگی کالونی کے لوگوں کو اس سے کووڈ 19 مہاماری کے پھیلنے کا بھی خطرہ ستا رہا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ شمشان گھاٹ کے اتنے نزدیک رہنا کبھی بھی آسان نہیں تھا، جہاں پہلے ایک دن میں تین چار لاشوں  کی آخری رسومات کی ادائیگی کی جاتی تھی، وہیں اب تقریباً200-250لاشوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔

علاقے میں رہنے والی سروج کہتی ہیں کہ ان کی آنکھ لاشوں کے جلنے کی مہک  سے کھلتی ہے اور وہ  رات میں اسی حالت میں سوتی ہیں۔جھگی کالونی میں تقریباً900 جھگیاں ہیں، جن میں1500 لوگ رہتے ہیں، جو پچھم پوری شمشان گھاٹ سے چند میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

کوڑا اٹھانے والی38سالہ سروج نے سے کہا، ‘یہ بہت ڈراونی حالت  ہے۔ ہم ایمبولینس کو آتے جاتے دیکھتے رہتے ہیں اور رات ہو یا دن ہو، بدبو اور دھواں لگاتار بنا رہتا ہے۔’وہ کہتی ہیں کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی رہتا ہے اور 24 گھنٹے اور ساتوں دن شمشان گھاٹ پر چتاؤں کے جلنے سے نہ ذہنی  سکون میسر ہے اور نہ نیند آتی ہے۔

گزشتہ 14 اپریل کی رات کو سلم کالونی میں آگ لگ گئی تھی، جس میں کوئی ہلاک  تو نہیں ہوا تھا، لیکن 30 جھگیاں جل گئی تھیں۔ اس سے سروج اور ان کے پڑوسی نجات پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔سروج کا آدھا گھر بھی اس آگ میں جل گیا تھا اور وہ اس درد سے نکل ہی رہی تھیں کہ کووڈ 19 کوقابو کرنے کے لیے لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔

سروج کی پڑوسی ککولی دیوی کہتی ہیں کہ 22 اپریل کو تقریباً 300 لاش کی آخری رسومات کی ادائیگی  کی گئی  ہے۔گزشتہ دو دنوں میں 200-250 لاشوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کی گئی ہے۔ حالانکہ اس کا کوئی سرکاری اعداد وشمار نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں،‘ہم نے ایک ٹرک کیا ہے اور ہم یہ جگہ چھوڑکر (اتر پردیش کے) مہراج گنج ضلع میں اپنے گاؤں لوٹ جائیں گے۔ کم از کم ہم موت کے ہر وقت کے احساس سے تو بچ جائیں گے۔’انہوں نے کہا، ‘ہر کوئی گھر میں بند ہے۔ ہم پنکھے بھی نہیں چلا سکتے ہیں، کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہوا سے کورونا وائرس نہ لگ جائے۔ یہ ماحول بالخصوص بچوں کے لیے خوفناک ہے۔’

اتر پردیش اور بہار کے کئی دوسرے لوگ بھی اپنے گاؤں واپس جانے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ کئی لوگ تو پہلے ہی جا چکے ہیں۔ کئی لوگوں  نے کہا کہ پہلے اتنی بری حالت نہیں تھی، کیونکہ پہلے آخری رسومات کی ادائیگی شمشان گھاٹ کے آخری  چھوڑ پر ہوتی تھی، لیکن دہلی میں کورونا وائرس کی وجہ سے مہلوکین کی تعدادا بڑھنے کے بعد پورے کیمپس  کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب لوگوں نے اس کی مخالفت کی تو حکام  نے بتایا کہ ایسا کرنے کا سرکار کا حکم ہے۔سروج تین بچوں سمیت سات رکنی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں اور وہ بھی اتر پردیش کے اپنے گاؤں واپس جانے کا ارادہ  بنا رہی ہیں۔ انفیکشن کے معاملے بڑھنے کی وجہ سے ان کا کوڑا اٹھانے کا کام چھوٹ گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘کچھ دن تو ہم صرف پانی پیتے ہیں تو کچھ دن این جی او کے ذریعے کھانا مل جاتا ہے۔ حالات بے حد خوفناک ہیں۔’شمشان گھاٹ کے نزدیک رہنے کی وجہ سے کچھ لوگوں کا گھریلوخادمہ کا کام بھی چھوٹ گیا ہے، جو وہ  نزدیک کے پچھم وہار کالونی میں کرتی تھیں۔

گھریلوملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 16سالہ لڑکی نے بتایا کہ ان کے مالک نے ان سے کام پر نہیں آنے کو کہا ہے، کیونکہ وہ شمشان گھاٹ کے پاس رہتی ہیں۔

خبررساں  ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے کہا، ‘انہیں ڈر ہے کہ ہم کورونا وائرس لا سکتے ہیں۔ اس لیے ہم گاؤں لوٹنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں پیسے خرچ کرنے پڑیں گے۔ ہمیں گاؤں جانے کے لیے2000-2500 روپے کی ضرورت ہوگی۔ ہم یہ خرچ کیسےبرداشت  کر سکتے ہیں؟’

ایک اور12سالہ لڑکی نے کہا کہ کچھ کے پاس اپنے گاؤں لوٹنے کا اختیار ہے، لیکن اس کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کی فیملی یہاں پر دہائیوں  سے رہ رہی ہے۔پچھم وہار میں جزوقتی گھریلو ملازمت کرنے والے ایک نوجوان  نے  کہا، ‘ہم کہاں جا ئیں گے؟ اگر ہم یہ چھوڑ دیتے ہیں، تو ہم کیا کمائیں گے؟ پہلے سے ہی ہماری کمائی اس کو رونا مہاماری میں بہت کم ہو گئی ہے۔’

بچوں کے حقوق  کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم چائلڈہڈ انہانسمنٹ تھرو ٹریننگ اینڈ ایکشن(سی ایچ ای این اے)کے ایک سماجی کارکن وجئے کمار نے کہا کہ کئی بچے نشہ آور اشیاکااستعمال کرتے ہیں اور یہ لاشوں کو لے جانے میں مدد کرنے کے لیے شمشان کے مزدوروں  کے ذریعےگھسیٹے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘انہیں کوئی حفاظتی آلات نہیں دیا جاتا اور انہیں پیسے کالالچ دیا جا رہا ہے جتنی زیادہ لا شوں کو وہ لے جا رہے ہیں، اتنا ہی زیادہ پیسہ دیا جاتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہت جوکھم بھرا ہے۔’سی ایچ ای این اے کے ڈائریکٹر سنجے گپتا اس کے طویل مدتی اثرات  کو لے کرفکرمند ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘پہلے سے ہی مشکل زندگی  جی رہے بچے کووڈ 19مریضوں  کی لاشوں کو دن رات جلاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ان کی ذہنی صحت  اور سوچ پر گہری چھاپ چھوڑےگا۔’

گپتا نے کہا، ‘اس ڈر کے ساتھ بچوں سمیت اپنے پورے پریوار کے ساتھ یہاں سے نکلنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ کمیونٹی کے لوگ بھی اس آخری رسومات کی ادائیگی کے عمل میں شامل ہیں، جو کورونا پھیلانے کا ایک ایکٹو ذریعہ ہو سکتا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ یہ لوگوں کے آگے آنے اور بچوں کی مدد کرنے کاوقت ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو شہروں کے اندر لاشوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کرنے کے بجائے کہیں باہر سرحدی علاقوں  میں انتظام  کرنا چاہیے۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)