دہلی: حفاظتی آلات کے فقدان میں مبینہ طور پر ہندو راؤ ہاسپٹل سے چار ڈاکٹروں نے استعفیٰ دیا

حالانکہ ہاسپٹل انتظامیہ نے کہا ہے استعفیٰ منظور نہیں کیا جائےگا اور ڈاکٹروں اور نرسوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائےگی۔

حالانکہ ہاسپٹل انتظامیہ  نے کہا ہے استعفیٰ منظور نہیں کیا جائےگا اور ڈاکٹروں اور نرسوں کے خلاف مناسب  کارروائی کی جائےگی۔

پٹنہ میڈیکل کالج اور ہاسپٹل میں بنے آئسولیشن وارڈ میں ایک مریض۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

پٹنہ میڈیکل کالج اور ہاسپٹل میں بنے آئسولیشن وارڈ میں ایک مریض۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:نارتھ  دہلی میونسپل کارپوریشن(این ڈی ایم سی)کے زیر اہتمام چلنے والے  ہندو راؤہاسپٹل میں کانٹریکٹ پر اپنی خدمات دے رہے چار ڈاکٹروں نےمبینہ طورپرپی پی ای مہیا نہیں کرانے کی وجہ سےاستعفیٰ دے دیا ہے۔ حالانکہ ہاسپٹل انتظامیہ  نے ڈاکٹروں کی مانگوں کو سننے کے بجائے ان پر کارروائی کی بات کی ہے۔

ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ہاسپٹل انتظامیہ نے کہا ہے استعفیٰ منظور نہیں کیا جائےگا اور ڈاکٹروں اور نرسوں کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔ہندو راؤ ہاسپٹل انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک آفس آرڈر میں کہا گیا، ‘کووڈ 19 وبا کو دھیان میں رکھتے ہوئے ڈاکٹروں اور نرسوں کا استعفیٰ منظور نہیں کیا جا ئے گا اور ان کے ناموں کو تادیبی  کارروائی کے لیے دہلی میڈیکل کاؤنسل آفس اور نرسل کاؤنسل آف انڈیا کے آفس میں بھیجا جائےگا۔’

حالانکہ این ڈی ایم سی کمشنر ورشا جوشی نے کہا کہ یہ آرڈر ایڈیشنل کمشنر اور کمشنر کی صلاح کے بنا جاری کیا گیا تھا اور اس ‘خلاف ورزی ’ کو لےکر کارروائی کی جائےگی۔

انہوں نے ٹوئٹ کر کےکہا، ‘کوئی بھی کام نہ کرنے کا خواہش مندا سٹاف اگر استعفیٰ دینا چاہتا ہے تو کر سکتا ہے، خاص طور پروبا میں۔ کچھ ڈاکٹروں نے چھوڑنے کی خواہش  ظاہر کی ہے اور ان کی درخواست پرجمعرات  کوغور کیا جائےگا اور مستقبل میں ان کے کانٹریکٹ کوری نیو نہیں کیا جائےگا۔’

جوشی نے آگے کہا، ‘مینوفیکچرر سے سیدھے اور پی پی ای کٹس منگائے جا رہے ہیں، ہم ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے جس سے ہمارے اسٹاف کو خطرہ  ہو۔’ ورشا جوشی نے کچھ تصویریں بھی شیئر کی ہیں جس میں ڈاکٹر پی پی ای کے ساتھ کام کرتے دکھ رہے تھے۔

این ڈی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین جئےپرکاش نے کہا کہ ان  ڈاکٹروں  پچھلے سال کانٹریکٹ پر ہاسپٹل میں کام کرنا شروع کیا تھا اور گزشتہ  بدھ کو استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کہا، ‘حالانکہ کسی نرس نے ابھی تک استعفیٰ نہیں دیا ہے۔’